إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ:" أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ" ، حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ گزشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17437]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ