حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ قَالَ يَحْيَى: فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُجْرَى عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17436]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، راجع ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، راجع ما قبله