حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَالُ الْكِتَابِ؟ قَالَ:" يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا"، فَقِيلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ:" أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتاب سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے، پھر کسی نے پوچھا کہ دودھ سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ کچھ لوگ دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17318]
حکم دارالسلام
حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن روى عنه هذا الحديث ابن المقريء، وراويته عنه صالحة، وهو متابع أيضا
الحكم: حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن روى عنه هذا الحديث ابن المقريء، وراويته عنه صالحة، وهو متابع أيضا