سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبَا سَعْيدٍ الْأَعْمَى ، عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْيدٍ الْأَعْمَى ، يُحَدِّثُ عَطَاءً، قَالَ: رَحَلَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: دُلُّونِي، فَأَتَى عُقْبَةَ ، فَقَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَأَتَى رَاحِلَتَهُ فَرَكِبَ وَرَجَعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17391]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد