هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ، قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ"، قَالَ قَبَاثٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَتَغَنُّوا بِهِ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي عُقُلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17394]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد جيد