أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً، فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً، فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تمیمہ (تعویذ) لٹکائے، اللہ اس کے ارادے کو تام (مکمل) نہ فرمائے اور جو ودعہ (سمندر پار سے لائی جانے والی سفید چیز جو نظر بد کے اندیشے سے بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہے) لٹکائے، اللہ اسے سکون عطاء نہ فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17404]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن عبيد، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن عبيد، وقد توبع