يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَوْ قَالَ: تَكْفُرُوا وَلَكِنْ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4042، م: 2296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4042، م: 2296