بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
يوسف
سورۃ يوسف — 111 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 12
الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا، ل، ر یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
الرٰ، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، را۔ یہ ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
الر۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کر دینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اسلیئے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18786:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کوئی واقعہ بھی بیان ہو جاتا تو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» [ 39-الزمر: 23 ] ‏‏‏‏ اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:150/12:حسن] ‏‏‏‏ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18788:مرسل] ‏‏‏‏ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔

اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بے نیاز کر دینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کر دیں جس میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر خدمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضب ناک ہو گئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ [مسند احمد:338/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بنو قریِضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے؟ اب عمر رضی اللہ عنہما کی نگاہ پڑی تو آپ رضی اللہ عنہما کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر تم میں خود موسیٰ علیہ السلام ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہو جاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو یعلیٰ میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المؤمنین میرا کیا قصور ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورت کی «الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ» [ 12-یوسف: 1-3 ] ‏‏‏‏ تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیر المؤمنین میرا قصور کیا ہے آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جا کر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لیے ہوئے حضور علیہ السلام کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہو گئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا ہے اور منبرنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔

گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے۔ [الضیاء المقدسی فی المختارۃ:24/1:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک روای عبدالرحمٰن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کر لیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔

میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا یہ کام پسند آ گیا۔ لا کر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رُوّاں رُوّاں کھڑا ہو گیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہو جائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جا کر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کر دیں۔ [مراسیل ابی داؤد:455:ضعیف] ‏‏‏‏ مراسیل ابی داؤد میں بھی عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔
یہ سورت مکی ہے، مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمانوں پر جس طرح اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، آپ اس سے نہایت غم زدہ رہتے تھے۔ بعض اوقات اللہ کے حکم سے انھیں یہ بھی فرماتے کہ تم اگر میری بات نہیں مانتے تو تمھاری مرضی مگر اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمھارے درمیان ہے، فرمایا: «{ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى}» ‏‏‏‏ [ الشوریٰ: ۲۳ ] ”کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر وہ محبت جو قرابت کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا تو خیال رکھو۔“ ایسے ہی کسی موقع پر سورۂ یوسف نازل ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا بے حد سامان موجود ہے کہ دشمن خواہ جس حد تک چلا جائے، اپنے بھائی اور عزیز حسد میں انصاف اور انسانیت کی تمام حدیں پار کر جائیں، پھر بھی ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، اس لیے آپ بے فکر رہیں۔ اس سورت میں کمال درجے کا غم، پھر اسی درجے یا اس سے بڑھ کر خوشی، انتہائی درجے کی بے بسی اور پھر کمال درجے کا اقتدار۔ نابینا کر دینے والی جدائی اور آنکھیں روشن کر دینے والی ملاقات کی خوش خبری، انتہائی درجے کی ہوس اور دعوتِ گناہ اور اس کے مقابلے میں حد درجے کی پاک دامنی، بے انتہا ظلم اور کمال درجے کی معافی، غرض عجیب و غریب واقعات اور مضامین ہیں جو غمگین بھی کرتے ہیں اور خوش بھی۔ اہل ِعلم فرماتے ہیں اور تجربے سے بھی ثابت ہے کہ اس سورت کو اس کے معانی کا خیال کرکے پڑھنے والا غمگین اور ناامید شخص بھی خوش ہو جاتا ہے اور اللہ کی رحمت کی امید کا چراغ اس کے دل میں روشن ہو جاتا ہے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنھما اکثر صبح کی نماز میں سورۂ یوسف کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں، میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی ہچکیوں کے ساتھ رونے کی آواز سنی جب کہ میں صفوں کے آخر میں تھا، وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے: «{ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَ حُزْنِيْۤ اِلَى اللّٰهِ }» [ یوسف: ۸۶ ] ”(یعقوب علیہ السلام نے کہا) میں تو اپنی ظاہر ہونے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں۔“ [بخاری، قبل الحدیث:۷۱۶] اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دل کی تسلی کا بہت سا سامان موجود ہے کہ جس طرح کنویں میں پھینکنے والے بھائی یوسف علیہ السلام کے تقویٰ اور صبر کے نتیجے میں اللہ غالب کے نظر نہ آنے والے اسباب کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن ان کے سامنے جھک کر معافی کے خواستگار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اعزہ و اقارب بھی اسی طرح ایک دن آپ کے سامنے عاجزی سے کھڑے ہوں گے اور صاف لفظوں میں آپ کی برتری تسلیم کریں گے، فرمایا: «{ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـِٕيْنَ }» [ یوسف: ۹۱ ] ”انھوں نے (یوسف علیہ السلام سے) کہا، اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا اللہ نے تجھے ہم پر فوقیت بخشی ہے اور بلاشبہ ہم واقعی خطا کار تھے۔“ (آیت 1){الٓرٰتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ:” الٓرٰ “} کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔ {” الْمُبِيْنِ “ ” أَبَانَ يُبِيْنُ“} باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے: «{ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ }» [ البقرۃ: ۱۶۸ ] ”بے شک وہ تمھارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔“ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ {” الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ “} یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم (اہل عرب) اس کو اچھی طرح سمجھ سکو
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کر دینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اسلیئے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18786:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کوئی واقعہ بھی بیان ہو جاتا تو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» [ 39-الزمر: 23 ] ‏‏‏‏ اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:150/12:حسن] ‏‏‏‏ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18788:مرسل] ‏‏‏‏ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔

اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بے نیاز کر دینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کر دیں جس میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر خدمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضب ناک ہو گئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ [مسند احمد:338/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بنو قریِضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے؟ اب عمر رضی اللہ عنہما کی نگاہ پڑی تو آپ رضی اللہ عنہما کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر تم میں خود موسیٰ علیہ السلام ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہو جاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو یعلیٰ میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المؤمنین میرا کیا قصور ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورت کی «الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ» [ 12-یوسف: 1-3 ] ‏‏‏‏ تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیر المؤمنین میرا قصور کیا ہے آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جا کر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لیے ہوئے حضور علیہ السلام کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہو گئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا ہے اور منبرنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔

گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے۔ [الضیاء المقدسی فی المختارۃ:24/1:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک روای عبدالرحمٰن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کر لیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔

میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا یہ کام پسند آ گیا۔ لا کر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رُوّاں رُوّاں کھڑا ہو گیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہو جائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جا کر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کر دیں۔ [مراسیل ابی داؤد:455:ضعیف] ‏‏‏‏ مراسیل ابی داؤد میں بھی عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
2۔ 1 آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد، لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لئے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی، جس قوم کی ہدایت کے لئے اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چونکہ عرب تھے، اس لئے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف الکتاب (قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا اور مکہ، جہاں اس کا آغاز ہوا، دنیا کا اشرف ترین مقام ہے اور جس مہینے میں نزول کی ابتدا ہوئی وہ بھی اشرف ترین مہینہ۔ رمضان ہے۔
(آیت 2) ➊ {اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا …:” اَنْزَلْنٰهُ “} میں {” هٗ “} ضمیر {” الْكِتٰبِ “} کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لیے ہے، دوسروں کے لیے نازل نہیں کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہو گی اور فطری طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے، چنانچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لیے عربوں سے، جو اس کے اولین مخاطب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمھاری اپنی زبان میں نازل کی ہے، کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کر سکو۔ یہ کتاب عربی قرآن ہے، قرآن کا معنی پڑھنا ہے، بمعنی اسم مفعول، یعنی یہ ایسی کتاب ہے جو اتنی پڑھی جانے والی ہے کہ سراسر اس کا وجود ہی پڑھا جانا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔ ➋ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «{ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ }» اس لیے کہ لغت عرب تمام زبانوں سے زیادہ فصیح، سب سے واضح اور وسیع ہے، انسانی نفس میں آنے والے احساسات و جذبات اور مضامین و معانی کو سب سے زیادہ اور بہتر ادا کرنے والی ہے، اس لیے یہ تمام کتابوں سے اشرف (زیادہ بلندی اور شرف رکھنے والی) کتاب ہے۔ یہ کتاب تمام زبانوں سے زیادہ باشرف زبان میں، تمام رسولوں سے زیادہ شرف رکھنے والے رسول پر، تمام فرشتوں سے زیادہ شرف رکھنے والے فرشتے کی سفارت کے ذریعے سے اتری اور زمین کے تمام قطعوں اور علاقوں سے زیادہ باشرف علاقے مکہ میں، سال کے سب سے باشرف مہینے رمضان اور اس کے سب سے باشرف وقت لیلۃ القدر میں اتری۔ سو اس کا باشرف ہونا اور سب کتابوں سے اشرف ہونا ہر لحاظ سے کامل ہے۔“ مختصر سی تفصیل اس کی یہ ہے کہ کئی زبانوں کے حروف تہجی پچاس(۵۰) سے لے کر اسی(۸۰) تک ہیں، جب کہ عربی زبان کے حروف تہجی کل انتیس(۲۹) ہیں، جنھیں سیکھنا آسان ہے۔ سیکھنے میں نہایت آسان ہونے کے باوجود اپنا مقصد اور دل کی بات ادا کرنے کے لیے اس زبان کی وسعت دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے، مثلاً اکثر زبانوں میں فعل کے صیغوں میں فاعل مذکر یا مؤنث کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں، مثلاً وہ گیا، وہ گئی، دونوں کے لیے فارسی میں ”رفت“ اور انگریزی میں ” went“ ہے۔ ان زبانوں میں مذکر و مؤنث کی وضاحت کے لیے الگ الفاظ لانا پڑیں گے، نہ ہی ان زبانوں میں تثنیہ اور جمع کی وضاحت فعل کے لفظ سے ہوتی ہے، اس کے لیے بھی الگ الفاظ کی ضرورت ہے۔ غرض عربی زبان کی خوبیاں ایک مستقل مضمون ہے، جس پر اہل علم کی کتابیں موجود ہیں۔ عرب قوم پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے اور ہر وقت تقریباً حالت سفر میں رہنے کی وجہ سے نہایت جفاکش اور خود دار قوم تھی اور وہ ہمیشہ غیروں کی غلامی سے آزاد رہی تھی، اگرچہ ان میں بے شمار خرابیاں اور گمراہیاں موجود تھیں، مثلاً بت پرستی، شرک، ظلم و ستم، باہمی لڑائی، چوری، ڈاکے، جوا، شراب نوشی اور زنا وغیرہ، ان میں عام تھے، اس کے باوجود وہ بہت سی خوبیوں کی حامل بھی تھی، مثلاً غیرت، قبائلی زندگی کی وجہ سے حمیت اور دفاع کا جذبہ، کسی صورت غلامی قبول نہ کرنا، ایفائے عہد، سخاوت، صدق، ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کمال درجے کا حافظہ۔ غرض وہ قوم بہت سی خوبیوں کی بھی حامل تھی، اپنی زبان کی خوبی، وسعت اور حسن ادا کی وجہ سے اپنے آپ کو عرب (اپنے مطلب کا واضح اظہار کرنے والے) اور دوسری تمام اقوام کو عجم (گونگے) قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار مصلحتوں کے ساتھ ساتھ ان خوبیوں کی بنا پر بھی تمام اقوام عالم تک اپنا دین پہنچانے کے لیے عربوں کا انتخاب فرمایا، کیونکہ آخری نبی کا قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ قرآن مجید اپنی دوسری بے شمار خوبیوں کے ساتھ ادائے مطلب کے حسن میں بھی لاجواب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں اتارا اور چیلنج کر دیا کہ اس جیسی کتاب لاؤ، پھر دس سورتیں لانے کا اور آخر میں صرف تین آیات کی چھوٹی سی سورت کی مثال پیش کرنے کا چیلنج کیا، جس کا جواب آج تک نہ عرب دے سکے، نہ عجم اور نہ قیامت تک دے سکیں گے۔
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَ اِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزو ں سے) تم بالکل ہی بے خبر تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے
احمد رضا خان بریلوی
ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ہم اس قرآن کے ذریعہ سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے ایک بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے پہلے آپ غافلوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کر دینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اسلیئے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18786:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کوئی واقعہ بھی بیان ہو جاتا تو؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» [ 39-الزمر: 23 ] ‏‏‏‏ اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:150/12:حسن] ‏‏‏‏ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ» اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:18788:مرسل] ‏‏‏‏ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔

اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بے نیاز کر دینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کر دیں جس میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر خدمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضب ناک ہو گئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ [مسند احمد:338/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بنو قریِضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے؟ اب عمر رضی اللہ عنہما کی نگاہ پڑی تو آپ رضی اللہ عنہما کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر تم میں خود موسیٰ علیہ السلام ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہو جاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف] ‏‏‏‏

ابو یعلیٰ میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المؤمنین میرا کیا قصور ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورت کی «الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ» [ 12-یوسف: 1-3 ] ‏‏‏‏ تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیر المؤمنین میرا قصور کیا ہے آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جا کر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لیے ہوئے حضور علیہ السلام کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہو گئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا ہے اور منبرنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔

گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے۔ [الضیاء المقدسی فی المختارۃ:24/1:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک روای عبدالرحمٰن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کر لیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔

میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا یہ کام پسند آ گیا۔ لا کر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رُوّاں رُوّاں کھڑا ہو گیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہو جائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جا کر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کر دیں۔ [مراسیل ابی داؤد:455:ضعیف] ‏‏‏‏ مراسیل ابی داؤد میں بھی عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
3۔ 1 قصص، یہ مصدر ہے معنی ہیں کسی چیز کے پیچھے لگنا مطلب دلچسپ واقعہ ہے قصہ، محض کہانی یا طبع زاد افسانے کو نہیں کہا جاتا بلکہ ماضی میں گزر جانے والے واقعے کے بیان کو قصہ کہا جاتا ہے۔ یہ گویا ماضی کا واقعی اور حقیقی بیان ہے اور اس واقع میں حسد وعناد کا انجام، تائید الٰہی کی کرشمہ سازیاں، نفس امارہ کی شورشیں اور سرکشیوں کا نتیجہ اور دیگر انسانی عوارض و حوارث کا نہایت دلچسپ بیان اور عبرت انگیز پہلو ہیں، اس لئے اس قرآن نے احسن القصص (بہترین بیان) سے تعبیر کیا ہے۔ 3۔ 2 قرآن کریم کے ان الفاظ سے بھی واضح ہے نبی کریم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیخبر قرار نہ دیتا، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں کیونکہ آپ پر وحی کے ذریعے سے ہی سچا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ آپ نہ کسی کے شاگرد تھے، کہ کسی استاد سے سیکھ کر بیان فرما دیتے، نہ کسی اور سے ہی ایسا تعلق تھا کہ جس سے سن کر تاریخ کا یہ واقعہ اپنے اہم جزئیات کے ساتھ آپ نشر کردیتے۔ یہ یقیناً اللہ تعالیٰ ہی نے وحی کے ذریعے سے آپ پر نازل فرمایا ہے جیسا کہ اس مقام پر صراحت کی گئی ہے۔
(آیت 3) ➊ { نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ:الْقَصَصِ”قَصَّ يَقُصُّ“} کا مصدر ہے، قصہ کی جمع نہیں۔ (دیکھیے {جواب اهل العلم}، ص: ۱ تا ۲۰) قصہ کی جمع قصص قاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ فرمایا: «{ نَحْنُ نَقُصُّ }» ”ہم بیان کرتے ہیں“ اللہ تعالیٰ جہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ لاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام ایک الگ صفت کا تقاضا کرتا ہے، مثلاً بیان کرنا صفت کلام کا تقاضا کرتا ہے، زمین و آسمان بنانا صفت خلق کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں جس میں تمام صفات کمال موجود ہوں اور وہ اپنے آپ کو ”ہم“ کہنے کا صحیح حق رکھتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنی اس حیثیت کااظہار کرتے ہوئے اپنے لیے ”ہم“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جہاں وہ واحد کا لفظ استعمال کریں، مثلاً: «{ اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا }» [ طٰہٰ: ۱۴ ] وہ اپنی توحید کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، کیونکہ اسی کی ذات واحد، احد، لا شریک لہ ہے۔ اس سورت میں چونکہ اللہ کے اپنی مرضی کے ہر کام پر غالب ہونے کا اظہار کرنے والی بہت سی صفات مذکور ہیں، اس لیے {” نَحْنُ “} (ہم) سے بات شروع کی ہے۔ ➋ {بِمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ:} یعنی یہ قرآن وحی کرنے کے ذریعے سے ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سورۂ یوسف قرآن کی تمام سورتوں سے احسن ہے، بلکہ قرآن سارا ہی احسن القصص، یعنی تمام بیانوں سے بہتر بیان ہے، جس میں یہ سورت بھی شامل ہے۔ ➌ { وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ:} یہ {” اِنْ “} دراصل {”اِنَّكَ“} تھا، تخفیف کے لیے کاف کو حذف کر دیا اور {”اِنَّ“} کو {” اِنْ “} کر دیا۔ اس کی دلیل {” لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ “} پر آنے والا لام ہے اور یہ عربی کا مسلمہ قاعدہ ہے، اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ {” اِنْ “} اور لام کے ساتھ تاکید اس لیے کی ہے کہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ آپ یہ سب کچھ پہلے ہی جانتے تھے، جیسا کہ ہمارے کئی نادان بھائی کہتے ہیں، بلکہ دوسری جگہ فرمایا: «{ تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا }» [ھود: ۴۹ ] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ➍ { لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ:} یعنی آپ کو اس سے پہلے اس کی کچھ خبر نہ تھی، آپ اُمّی تھے، نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ ایسے شخص پر ایسی بے مثال کتاب کا نزول کہ بڑے بڑے باخبر لوگ اس اُمّی کے شاگرد بن جائیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے اور آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے، جتنی وحی ہوتی وہ معلوم ہو جاتا، باقی خبر عالم الغیب کے پاس رہتی جو کسی کے بتائے بغیر سب کچھ جاننے والا ہے، عالم الغیب کہتے ہی ایسی ہستی کو ہیں اور وہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ یوسف نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جان میں نے گیاره ستاروں کو اور سورج چاند کو دیکھا کہ وه سب مجھے سجده کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کو یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کو دیکھا ہے کہ میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں (جھک رہے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! بے شک میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے انھیں دیکھا کہ مجھے سجدہ کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین قصہ یوسف علیہ السلام ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ“ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ [صحیح بخاری:3390] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کر لی ہو [صحیح بخاری:3374] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی۔

آیت میں ہے «وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا» [ 12-یوسف: 100 ] ‏‏‏‏ جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئیے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے۔ آپ خاموش رہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتا دوں تو تو مسلمان ہو جائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں۔ جریان، طارق۔ ذیال، ذوالکتفین۔ قابل۔ وثاب۔ عمودان۔ فلیق۔ مصبح۔ فروح۔ فرغ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں [ مسند بزار،2220:ضعیف جدا ] ‏‏‏‏ یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلیٰ بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ ابو یعلیٰ میں یہ بھی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا۔‏‏‏‏“ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں۔
4۔ 1 یعنی اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے سامنے یوسف ؑ کا قصہ بیان کرو، جب اس نے اپنے باپ کو کہا باپ حضرت یعقوب ؑ تھے، جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے اور حدیث میں بھی یہ نسب بیان کیا گیا ہے۔ (یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم)۔ اور حدیث میں نسب بیان کیا گیا ہے۔ الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (مسند احمد جلد 2، ص 96) 4۔ 2 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف ؑ کے بھائی ہیں جو گیارہ تھے چاند سورج سے مراد ماں اور باپ ہیں اور خواب کی تعبیر چالیس یا اسی سال کے بعد اس وقت سامنے آئی جب یہ سارے بھائی اپنے والدین سمیت مصر گئے اور وہاں حضرت یوسف ؑ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے، جیسا کہ یہ تفصیل سورت کے آخر میں آئے گی۔
(آیت 4) ➊ {اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ:} یوسف علیہ السلام کے باپ یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیھم السلام تھے اور یہ چاروں نبی تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا: [ اَلْكَرِيْمُ ابْنُ الْكَرِيْمِ ابْنِ الْكَرِيْمِ بْنِ الْكَرِيْمِ يُوْسُفُ بْنُ يَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ ] [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏ویتم نعمتہ علیک…» : ۴۶۸۸، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ”کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیھم السلام ہیں۔“ ➋ { يٰۤاَبَتِ:} یہ اصل میں{ ”يَا أَبِيْ“ } تھا ”اے میرے باپ!“ یاء حذف کرکے اس کی جگہ تائے تانیث لائی گئی اور باء کا کسرہ اس کی طرف منتقل کر دیا۔ یہ اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے، جیسے اردو میں ”ابا“ کو ”ابو“ کہہ دیتے ہیں۔
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جواب میں اس کے باپ نے کہا، "بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وه تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں، شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا وہ تیرے ساتھ کوئی چا ل چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ (ع) نے کہا اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کہیں وہ (تمہیں تکلیف پہنچانے کے لئے) کوئی سازش نہ کرنے لگ جائیں بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تیرے لیے تدبیر کریں گے، کوئی بری تدبیر۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یعقوب علیہ السلام کی تعبیر اور ہدایات ٭٭

حضرت یوسف کا یہ خواب سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر یعقوب علیہ السلام نے تاکید کر دی کہ اسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اور بھائی آپ کے سامنے پست ہونگے یہاں تک کہ وہ آپ کی عزت و تعظیم کے لیے آپ کے سامنے اپنی بہت ہی لاچاری اور عاجزی ظاہر کریں اس لیے بہت ہی ممکن ہے کہ اس خواب کو سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر شیطان کے بہکاوے میں آ کر ابھی سے وہ تمہاری دشمنی میں لگ جائیں۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نامعقول طریق کار کرنے لگ جائیں اور کسی حیلے سے تجھے پست کرنے کی فکر میں لگ جائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں تم لوگ کوئی اچھا خواب دیکھو تو خیر اسے بیان کر دو اور جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو جس کروٹ پر ہو وہ کروٹ بدل دے اور بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ اس صورت میں اسے وہ خواب کوئی نقصان نہ دے گا۔ [صحیح بخاری:6995] ‏‏‏‏ مسند احمد وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خواب کی تعبیر جب تک نہ لی جائے وہ گویا پرند کے پاؤں پر ہے۔ ہاں جب اس کی تعبیر بیان ہو گئی پھر وہ ہو جاتا ہے۔ [سنن ابوداود:5020،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی سے یہ حکم بھی لیا جا سکتا ہے۔ کہ نعمت کو چھپانا چاہیئے۔ جب تک کہ وہ ازخود اچھی طرح حاصل نہ ہو جائے اور ظاہر نہ ہو جائے، جیسے کہ ایک حدیث میں ہے۔ ضرورتوں کے پورا کرنے پر ان کی چھپانے سے بھی مدد لیا کرو کیونکہ ہر وہ شخص جسے کوئی نعمت ملے لوگ اس کے حسد کے درپے ہو جاتے ہیں۔ [بیهقی فی شعب الایمان:6655:صحیح] ‏‏‏‏
5۔ 1 حضرت یعقوب ؑ نے خواب سے اندازہ لگا لیا کہ ان کا یہ بیٹا عظمت شان کا حامل ہوگا، اس لئے انھیں اندیشہ ہوا کہ یہ خواب سن کر اس کے دوسرے بھائی بھی اس کی عظمت کا اندازہ کر کے کہیں اسے نقصان نہ پہنچائیں، بنا بریں انہوں نے یہ خواب بیان کرنے سے منع فرمایا۔ 5۔ 2 یہ بھائیوں کے مکروفریب کی وجہ بیان فرما دی کہ شیطان چونکہ انسان کا ازلی دشمن ہے اس لئے وہ انسانوں کو بہکانے، گمراہ کرنے اور انھیں حسد و بغض میں مبتلا کرنے میں ہر وقت کوشاں اور تاک میں رہتا ہے۔ چناچہ یہ شیطان کے لئے بڑا اچھا موقع تھا کہ وہ حضرت یوسف ؑ کے خلاف بھائیوں کے دلوں میں حسد اور بغض کی آگ بھڑکا دے۔ جیسا کہ فی الواقع بعد میں اس نے ایسا ہی کیا اور حضرت یعقوب ؑ کا اندیشہ درست ثابت ہوا۔
(آیت 5) ➊ {قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ …: } یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے، سنتے ہی سمجھ لیں گے۔ گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ اور ایک ماں، یہ سب ان کی طرف محتاج ہوں گے، پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) اس وقت ان کی عمر کیا تھی، اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی۔ معالم میں ہے کہ بارہ سال تھی، کچھ لوگ بائبل کے حوالے سے سترہ سال بیان کرتے ہیں، مگر تعیین کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہو بھی تو اسے نہ ہم سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ویسے سترہ سالہ جواں جو صحرا میں پلا ہو، اس کے متعلق بھیڑیے کے کھا جانے کا خدشہ کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بچے تھے، مگر سمجھ بوجھ رکھتے تھے: {” يَرْتَعْ وَ يَلْعَبْ “} (چرے، کھائے پیے اور کھیلے) اور {” هٰذَا غُلٰمٌ “ } (یہ لڑکا ہے) اور {” اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا “} (یا ہم اسے بیٹا بنا لیں گے) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر عمر بتانے کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور بیان فرما دیتا۔ ”یوسف“ عربی زبان کا نام نہیں کہ اس کا اشتقاق عربی میں سے تلاش کیا جائے، بلکہ عبرانی یا اس زبان کا نام ہے جو یعقوب علیہ السلام استعمال کرتے تھے۔ اس خواب کی تعبیر کافی عرصہ بعد جا کر پوری ہوئی، بعض چالیس برس بتاتے ہیں، بعض کم و بیش، مگر بچپن سے جوانی کا عرصہ جو عزیز مصر کے گھر گزرا، پھر قید خانے کے سات یا نو سال، پھر خوش حالی کے سات سال، جس کے بعد قحط شروع ہوا اور بھائی مجبور ہو کر آئے اکیس بائیس سال سے کم عرصہ کسی صورت نہیں بنتا، زیادہ ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر ظاہر ہونے میں لمبی مدت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ ➋ {يٰبُنَيَّ: ”بُنَيَّ“اِبْنِيْ“} کی تصغیر ہے، محبت اور شفقت سے فرمایا، اے میرے چھوٹے سے بیٹے، یا اے میرے پیارے بیٹے۔ ➌ یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ تعبیر ظاہر تھی اور یعقوب علیہ السلام نے مختصراً بیان بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ تمھیں چنے گا اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا۔ قدرتی طور پر جس شخص کو نعمت ملتی ہے اس پر حسد ہوتا ہے اور شیطان بھی انسان کی اس کمزوری، یعنی حسد کو استعمال کرکے بھائیوں کے درمیان اور دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ }» [ بنی إسرائیل: ۵۳ ] ”بے شک شیطان ان (میرے بندوں) کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔“ اور یہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ قرب کا ذریعہ ہوتا ہے، جیسا کہ ایک لمبی حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے لشکر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھیجتا ہے: [ ثُمَّ يَجِيْئُ أَحَدُهُمْ فَيَقُوْلُ مَا تَرَكْتُهٗ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ] [ مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان…: 2813/67 ] ”پھر ان میں سے ایک شیطان آ کر(اپنی کار کردگی بیان کرتے ہوئے) کہتا ہے: ” میں نے اس آدمی کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی۔“ اس لیے بھائیوں کو خواب کا علم ہونے پر یوسف علیہ السلام کو ان کی کسی خفیہ تدبیر سے ڈرایا، ساتھ ہی {” اِنَّ “} کے ساتھ اس کی وجہ بیان فرمائی کہ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور یہی بات یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین اور بھائیوں کے مصر آنے کے موقع پر کہی تھی: «{ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ اِخْوَتِيْ }» [ یوسف: ۱۰۰ ] ”اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا تھا۔“ قرآن کے بیان کا تقاضا یہی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے والد ماجد کے کہنے کے مطابق وہ خواب بیان نہیں کیا، کیونکہ بھائیوں نے قتل کے مشورے کے وقت بھی خواب کا ذکر نہیں کیا اور یوسف علیہ السلام کی کمال اطاعت کا تقاضا بھی یہی ہے، مگر اسرائیلی روایات میں ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کو وہ خواب سنا دیا تھا اور اس پر کئی کہانیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس سے اسرائیلی روایات کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ➍ یہاں یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یعقوب نبی کا فرمان وحی پر مبنی تھا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے: [ اِسْتَعِيْنُوْا عَلٰی إِنْجَاحِ الْحَوَائِجِ بِالْكِتْمَانِ فَإِنَّ كُلَّ ذِيْ نِعْمَةٍ مَحْسُوْدٌ ] [ السلسلۃ الصحیحۃ: 436/3، ح: ۱۴۵۳ ] ”اپنی حاجتوں کو کامیاب کرنے میں چھپانے سے مدد لو، کیونکہ ہر نعمت والا محسود ہوتا ہے۔“ یعنی اس پر حسد کیا جاتا ہے۔ اس خواب میں بھی اتمام نعمت کی خوش خبری تھی، اسے کامیاب بنانے کے لیے اسے چھپانے کا حکم دیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ }» [الضحٰی: ۱۱ ] ”اور لیکن اپنے رب کی نعمت، پس (اسے) بیان کر۔“ اس حکم کو اور یعقوب علیہ السلام کے منع کرنے کے حکم کو کیسے جمع کریں گے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام پر ابھی نعمت مکمل ہونا باقی تھی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نعمت پوری ہو چکی تھی۔ ہمارے لیے بھی دونوں چیزوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ نعمت مکمل ہونے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ دوسرا جواب جو کتب تفسیر میں ہے، وہ یہ ہے کہ یہ آیت دلیل ہے کہ بعض اوقات نعمت کا اظہار نہ کرنا بلکہ اسے چھپانا جائز ہے، جیسا کہ اوپر سلسلہ صحیحہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے، چنانچہ جب نعمت کے ظاہر کرنے سے اپنے خلاف حسد وغیرہ کی بنا پر سازش یا نقصان کا خطرہ ہوتو اسے چھپائے اور اگر یہ خطرہ نہ ہو تو رب تعالیٰ کی نعمت بیان کرے۔ ➎ اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ اِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ] [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات: ۶۹۹۰ ] ”نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔“ لوگوں نے پوچھا: ”مبشرات (خوش خبریاں) کیا ہیں؟“ فرمایا: ”اچھے خواب۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَّ أَرْبَعِيْنَ جُزْءً مِنَ النُّبُوَّةِ ] [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا الصالحین: ۶۹۸۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”صالح آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں خواب دیکھا کرتا جو (پریشانی پیدا کرکے) مجھے بیمار کر دیتے، یہاں تک کہ میں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ اَلرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللّٰهِ، فَإِذَا رَأَی أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ إِلاَّ مَنْ يُّحِبُّ، وَ إِذَا رَأَی مَا يَكْرَهٗ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّهَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلاَثاً وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهٗ ] ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کے سوا اسے بیان نہ کرے جو محبت رکھتا ہو اور جب ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین دفعہ (بائیں طرف) تھوک دے اور وہ کسی کو بیان نہ کرے، تو وہ خواب اسے ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [ بخاری، التعبیر، باب اذا رأی ما یکرہ…:۷۰۴۴ ] ایک روایت میں یہ بھی ہے: [ وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِيْ كَانَ عَلَيْهِ ] کہ وہ اپنی کروٹ بدل لے۔ [ مسلم، الرؤیا، باب في کون الرؤیا من اللّٰہ…: ۲۲۶۲ ] اور یہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ہر قسم کے ضرر سے سلامتی کا سبب بنا دے، جیسا کہ صدقہ و خیرات مصیبتیں دور کرنے کے سبب بن جاتے ہیں۔ ➏ یعقوب علیہ السلام کے اپنے دوسرے بیٹوں کے متعلق خیال کے اظہار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی خاص اس موضوع پر کتاب میں ہے کہ قرآن، لغت اور واقعات کی دلالت یہی ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ نہ ہی قرآن یا حدیث میں ان کی نبوت کی طرف کوئی اشارہ موجود ہے۔(سید طنطاوی) البتہ بعد میں ان کی اولاد (اسباط) سے کئی انبیاء و رسل گزرے۔
وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ اَتَمَّہَا عَلٰۤی اَبَوَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ٪﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رب تجھے (اپنے کام کے لیے) منتخب کرے گا اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا اور تیرے اوپر اور آل یعقوبؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا رب علیم اور حکیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح تجھے تیرا پروردگار برگزیده کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی، جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم واسحاق کو بھی بھرپور اپنی نعمت دی، یقیناً تیرا رب بہت بڑے علم واﻻ اور زبردست حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں تعبیرِ خواب کا علم عطا فرمائے گا اور تم پر نیز یعقوب(ع) کے خانوادہ پر اسی طرح اپنی نعمت پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم و اسحاق پر اپنی نعمت پوری کر چکا ہے بے شک آپ کا پروردگار بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آل یعقوب پر پوری کرے گا، جیسے اس نے اس سے پہلے وہ تیرے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی۔ بے شک تیرا رب سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بشارت اور نصیحت ٭٭

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے لخت جگر یوسف علیہ السلام کو انہیں ملنے والے مرتبوں کی خبر دیتے ہیں کہ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی اسی طرح وہ تمہیں نبوت کا بلند مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دے گا یعنی نبوت۔ جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اور اسحاق علیہ السلام کو بھی عطا فرما چکا ہے جو تمہارے دادا اور پردادا تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے کہ نبوت کے لائق کون ہے؟
6۔ 1 یعنی جس طرح تجھے تیرے رب نے نہایت عظمت والا خواب دکھانے کے لئے چن لیا، اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدگی بھی عطا کرے گا اور خوابوں کی تعبیر سکھائے گا۔ تاویل الاحادیث کے اصل معنی باتوں کی تہہ تک پہنچنا ہے۔ یہاں خواب کی تعبیر مراد ہے۔ 6۔ 2 اس سے مراد نبوت ہے جو یوسف ؑ کو عطا کی گئی۔ یا وہ انعامات ہیں جن سے مصر میں یوسف ؑ نوازے گئے۔ 6۔ 3 اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے بھائی، ان کی اولاد وغیرہ ہیں، جو بعد میں انعامات الٰہی کے مستحق بنے۔
(آیت 6) ➊ { وَ كَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ: ”يَجْتَبِيْ“ ”جَبَي يَجْبِيْ“ } (ض) کے باب افتعال{ ” اِجْتِبَاءٌ“} کا فعل مضارع ہے، جس کا معنی جمع کرنا، کسی خوبی کی بنا پر چن لینا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کے {”اِجْتِبَاءٌ“} (چن لینے) سے مراد اسے اپنے ایسے فیض کے ساتھ خاص کر لینا ہے جس سے اس کو اپنی کسی کوشش کے بغیر مختلف قسم کی نعمتیں حاصل ہو جائیں، یہ چیز انبیاء کو حاصل ہوتی ہے یا انھیں جو ان کے قریب ہوں، مثلاً صدیقین، شہداء۔ (مفردات) بے شک اعلیٰ درجے کا اجتباء انبیاء، صدیقین اور شہداء کو حاصل ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے چننے کے بھی کئی درجے ہیں، جیسا کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح چنا کہ پتھر یا نباتات یا جانوروں کے بجائے انسان بنایا، پھر کافر نہیں بلکہ مسلمان بنایا، پھر کبیرہ گناہوں سے بچایا، پھر مشرک کلمہ گو کے بجائے موحد اور بدعتی کے بجائے متبع سنت بنایا، اگر علم کتاب کی نعمت بھی حاصل ہے تو آپ ان لوگوں میں جا ملے جن کے متعلق فرمایا: «{ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا }» [ فاطر: ۳۲ ] ”پھر اس کتاب کے وارث ہم نے وہ لوگ بنائے جنھیں ہم نے چن لیا۔“ اگر دعوت الی اللہ کی توفیق مل گئی تو مزید فیض مل گیا۔ غرض اصطفاء اور اجتباء کے کئی درجے ہیں اور جتنا حصہ مل جائے اس پر اللہ کا بے حد شکر ادا کرنا چاہیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ }» [ الأعراف: ۴۳ ] ”(جنتی کہیں گے) اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔“ یا اللہ! تو اپنے فضل سے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو جنت میں داخل ہو کر ان الفاظ میں تیرا شکر ادا کریں گے۔ (آمین) ➋ اس آیت میں {” وَ كَذٰلِكَ “} (اور اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ خواب دکھلایا، اور کسی کو اس طرح کا خواب نہیں دکھایا، اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے…۔ چننے سے مراد اعلیٰ درجے کا چننا ہے، جیسا کہ اوپر امام راغب سے نقل ہوا، یعنی نبوت و صدیقیت سے نوازے گا اور گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اعلیٰ مقام پر پہنچا کر تمھیں اپنے عہد کے سب بندوں پر فوقیت بخشے گا۔ ➌ {وَ يُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ:الْاَحَادِيْثِ”حَدِيْثٌ“} کی جمع ہے جس کا معنی بات ہے۔ {” تَاْوِيْلِ “} کا معنی بات کا صحیح مطلب سمجھنا اور اس کی تہ تک پہنچنا ہے، کیونکہ {” تَاْوِيْلِ”أَوْلٌ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی لوٹنا ہے اور تاویل کا معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقصد کی طرف لوٹانا ہے، یعنی جو اس سے مراد ہے۔ یہاں {” تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ “ } سے مراد بات سمجھنے کی تیز بصیرت اور کمال فہم کے ساتھ خوابوں کی تعبیر بھی ہے۔ ➍ {وَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ يَعْقُوْبَ …:} تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تمھارے (دو باپوں) دادا اور پردادا پر پوری کی، یعنی تمھیں نبوت و رسالت اور حکومت عطا فرمائے گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”({اَبَوَيْكَ} یعنی تیرے دونوں باپوں پر) ابراہیم اور اسحاق علیھما السلام کا نام لیا، اپنا نہ لیا عاجزی سے۔“ (موضح) آل یعقوب پر نعمت تمام کرنے کا مطلب وہ تمام نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل پر ہوئیں اور جن کا ذکر تفصیل سے قرآن مجید میں موجود ہے۔ ➎ {اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} کہ اس کے بندوں میں سے کون سرفرازی کے لائق ہے۔
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَ اِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے (غیب کی) بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں تھیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوسف علیہ السلام کے خاندان کا تعارف ٭٭

فی الواقع یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کر سکے اور نصیحتیں لے سکے۔ یوسف علیہ السلام کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین علیہ السلام تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقیناً یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ» [ 2-البقرہ: 136 ] ‏‏‏‏ میں سے لفظ «أَسْبَاطِ» پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہو گئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف علیہ السلام میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف «علیہ السلام» کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔

کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کر لینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بے وجہ، بے قصور صرف عداوت میں آ کر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف علیہ السلام کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہو گئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضیلت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بے زبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
7۔ 1 یعنی اس قصے میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور نبی کریم کی نبوت کی صداقت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں ان بھائیوں کے نام اور ان کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔
(آیت 7) ➊ {لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ …:} یہاں سے یوسف علیہ السلام کے قصے کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ {” اٰيٰتٌ “ ” آيَةٌ “} کی جمع ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ عبرتیں، نصیحتیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں جو اس واقعہ میں ذکر ہوئی ہیں، چونکہ وہ بہت سی ہیں اور بہت سے لوگوں سے متعلق ہیں، مثلاً ایک طرف بھائیوں کی نفرت، حسد، بدگمانی، اس زمانے کے لوگوں کے حالات، آزاد لوگوں کو غلام بنا لینا، ان کا اندازِ حکومت، ان کے قوانین، شیطان کا بہکانا، اپنوں کے ظلم، پیاروں سے جدائی، بے وطنی، غلامی کے صدمے، حسن کی وجہ سے آنے والی آزمائشیں، عزیز کی بیوی کے عشق کی شورش اور طغیانی اور یوسف علیہ السلام کی عفت کا امتحان، پھر قید خانے کی آزمائش ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کا اپنے کام پر غالب ہونے کا مظاہرہ ہے، یوسف علیہ السلام کا تمام دشمنوں، حاسدوں اور مخالفوں کی خواہش کے برعکس اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ کمالات علم و حکمت، اخلاص نیت، حسن عمل اور صبر و تقویٰ کی بدولت جیل اور غلامی سے نکل کر قرب شاہی اور حکومت کے وسیع اختیارات کا حصول ہے۔ جابر و ظالم بھائیوں کی ان کے سامنے بے بسی اور ان سے صدقے کے سوال پر مجبور ہونا ہے۔ پھر اس سارے عرصے میں یوسف علیہ السلام کا ہر زیادتی کرنے والے سے انتقام کے بجائے حسن سلوک، بے مثال صبر اورعفو و درگزر ہے اور آخر میں یوسف علیہ السلام کے خواب گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کے ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی تعبیر کا ظہور ہے اور اس تمام عظمت و رفعت کے باوجود یوسف علیہ السلام کا آخرت کی فکر میں اللہ تعالیٰ سے اسلام پر موت اور صالحین کے ساتھ ملانے کی دعا ہے۔ غرض ایک ایک بات اپنے اندر بہت سی نشانیاں اور عبرتیں رکھتی ہے۔ ➋ { لِلسَّآىِٕلِيْنَ:} یہ سوال کرنے والے کون تھے، اشرف الحواشی میں ہے: ”منقول ہے کہ قریش نے یہود کے اشارے پر امتحان کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کا وطن شام تھا تو بنی اسرائیل مصر میں کیسے آباد ہوگئے، حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں فرعون سے نجات حاصل کی؟ اس پر یہ سورت اتری اور فرمایا کہ سوال کرنے والوں کے لیے اس قصہ میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ انھوں نے ایک بھائی پر حسد کیا تو آخر کار اسی کے محتاج ہوئے، اسی طرح یہود حسد کر رہے ہیں اور قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا تو آخر کار آپ ہی کا عروج ہوا۔ (موضح) مگر یہ روایات اسرائیلی ہیں (اور مکہ میں یہود تھے بھی نہیں، نہ اہل مکہ کا ان سے خاص رابطہ تھا) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایسی کسی روایت کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل دوسری ایک دو روایات بحوالہ ابن جریر بیان کی ہیں کہ صحابہ کے سوال پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول یہ روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرنے والے راوی عمرو بن قیس نے انھیں پایا ہی نہیں۔ دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) بہر حال اگر اسرائیلی روایات کو معتبر مان لیا جائے تو نشانیوں سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیاں ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد یہودی یا کفار مکہ ہیں اور اگر ان کا اعتبار نہ کیا جائے تو آیات سے مراد وہ عبرتیں ہیں جو یوسف علیہ السلام کے قصے میں پائی جاتی ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صاحب معالم نے ان عبرتوں کو خوب تفصیل سے لکھا ہے۔“ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ اہلِ عرب کی بلاغت کا یہ ایک اسلوب ہے کہ وہ متوجہ کرنے کے لیے سائل کا ذکر کرتے ہیں۔ مراد اس بات کو سننے کا شوق دلانا ہوتا ہے، جیساکہ فرمایا: «{ وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِيْهَا وَ قَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِيْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِيْنَ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۱۰ ] ”اور اس نے اس میں اس کے اوپر سے گڑے ہوئے پہاڑ بنائے اور اس میں بہت برکت رکھی اور اس میں اس کی غذائیں اندازے کے ساتھ رکھیں، چار دن میں، اس حال میں کہ سوال کرنے والوں کے لیے برابر (جواب) ہے۔“ اور جیسا کہ سموئل نے کہا: {سَلِيْ إِنْ جَهِلْتِ النَّاسَ عَنَّا وَ عَنْهُمْ فَلَيْسَ سَوَاءً عَالِمٌ وَ جَهُوْلُ} ”اے مخاطبہ! اگر تجھے معلوم نہیں تو لوگوں سے ہمارے اور ان کے متعلق سوال کر لے، کیونکہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوتے۔ “ اور انیف بن زبان نے کہا ہے: {فَلَمَّا الْتَقَيْنَا بَيَّنَ السَّيْفُ بَيْنَنَا لِسَائِلَةٍ عَنَّا حَفِيٍّ سُؤَالُهَا } ”تو جب ہم آپس میں مقابل ہوئے تو تلوار نے ہمارے درمیان واضح فیصلہ کر دیا، اس سوال کرنے والی کے لیے جس کا سوال بہت اصرار کے ساتھ تھا۔“ عرب شاعر عموماً سوال کرنے والی عورتوں کا ذکر کرتے ہیں، یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس نے یہ انداز بدل کر سوال کرنے والیوں کے بجائے مردوں کو سوال کرنے والے قرار دے کر جواب دیا۔ ({التحرير والتنوير})
اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِۣ ۚ﴿ۖ۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا "یہ یوسفؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان با لکل ہی بہک گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب بولے کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جب انہوں (یوسف کے سوتیلے بھائیوں) نے آپس میں کہا کہ باوجودیکہ ہم پوری جماعت ہیں مگر یوسف اور اس کا (سگا) بھائی (بن یامین) ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں بے شک ہمارے باپ کھلی ہوئی غلطی پر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب انھوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔ بے شک ہمارا باپ یقینا کھلی غلطی میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوسف علیہ السلام کے خاندان کا تعارف ٭٭

فی الواقع یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کر سکے اور نصیحتیں لے سکے۔ یوسف علیہ السلام کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین علیہ السلام تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقیناً یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ» [ 2-البقرہ: 136 ] ‏‏‏‏ میں سے لفظ «أَسْبَاطِ» پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہو گئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف علیہ السلام میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف «علیہ السلام» کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔

کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کر لینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بے وجہ، بے قصور صرف عداوت میں آ کر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف علیہ السلام کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہو گئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضیلت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بے زبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
8۔ 1 ' اس کا بھائی ' سے مراد بنیامین ہے۔ 8۔ 2 یعنی ہم دس بھائی طاقتور جماعت اور اکثریت میں ہیں، جب کہ یوسف ؑ اور بنیامین (جن کی ماں الگ تھی) صرف دو ہیں، اس کے باوجود باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔ 8۔ 3 یہاں ضلال سے مراد غلطی ہے جو ان کے زعم کے مطابق باپ سے یوسف ؑ اور بنیامین سے زیادہ محبت کی صورت میں صادر ہوئی۔
(آیت 8) ➊ { اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ …:} یعنی انھوں نے آپس میں کہا۔ دراصل انھوں نے اپنے ظلم کے جواز کے لیے یوسف علیہ السلام کا یہ جرم تجویز کیا، ورنہ اگر یہ جرم تھا تو والد کا تھا جو انھوں نے والد کو بھی معاف نہیں کیا، اس کا ذکر آگے آ رہا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کہیں اشارہ بھی نہیں کہ اس میں یعقوب علیہ السلام کی کوئی غلطی تھی، اگر یہ غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام کو ضرور اس سے آگاہ کر دیتا، کیونکہ وہ نبی تھے۔ بعض مفسرین نے بھی یہ لکھ دیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ کو بیٹوں کے درمیان محبت میں بھی برابری رکھنی چاہیے، حالانکہ نہ ان حضرات نے خیال فرمایا، نہ برادران یوسف نے کہ والدین کے بعض اولاد کی طرف میلان کے کیا مراتب و اسباب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ چھوٹے بچے والدین کی شفقت اور محبت زیادہ حاصل کرتے ہیں، جو یوسف علیہ السلام کے بڑے بھائیوں میں سے ہر ایک اپنی اس عمر میں حاصل کر چکا تھا، پھر اولاد کی طبیعت کی سرکشی اور اطاعت ماں باپ کی محبت کھینچنے میں فرق کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح بیمار بچے اور پردیس میں رہنے والے بچے کی طرف والدین کی توجہ زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ اُس قدیم عرب نے کہا تھا جس سے پوچھا گیا کہ تمھیں اپنے بیٹوں میں سب سے پیارا کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ”چھوٹا، یہاں تک کہ بڑا ہو، غائب یہاں تک کہ آ جائے اور بیمار یہاں تک کہ تندرست ہو جائے۔“ (شعراوی) اس لیے شریعت نے اولاد کے درمیان عطیے میں برابری اور بیویوں کے درمیان عدل کا حکم دیا ہے، دلی میلان اور محبت نہ بندے کے اختیار میں ہے اور نہ اس کے کم و بیش ہونے میں ماں باپ کا کوئی جرم ہے، نہ اولاد کا۔ یوسف علیہ السلام کے چھوٹے بھائی کا جرم بھی یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے بھائی کا نام بتایا نہ بڑوں کا، کیونکہ یہ بات قرآن کے مقصود سے خاص تعلق نہیں رکھتی۔ اب اگر ہم اہلِ کتاب سے سن کر چھوٹے کا نام بنیامین لکھیں یا بڑوں کا نام لکھیں تو جس بات کو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، اس کا علم سے کیا تعلق ہے اور اس کا اعتبار ہی کیا ہے؟ علم یقین کا نام ہے، شک کا نہیں۔ ➋ {وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ:} یہ جملہ حالیہ ہے۔ لفظ {” عُصْبَةٌ “ } ایک قوی جماعت پر بولا جاتا ہے، جو عموماً دس سے لے کر چالیس پر مشتمل ہوں۔ یہ{”عَصْبٌ“} سے مشتق ہے جو بمعنی {”شَدٌّ“ } (باندھنا) ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قوت اور سہارا دیتا ہے، یعنی ہم تمام کام سنبھالنے والے اور وقت پر کام آنے والے ہیں، جب کہ یوسف اور اس کا بھائی کم عمر ہونے کی وجہ سے والد کے کسی کام نہیں آ سکتے اور ہم ایک قوی جتھا ہیں جو اس بدوی ماحول میں وقت پر کام آ سکتے ہیں۔ ➌ {اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ:} یہاں انھوں نے باپ کو بھی نہیں بخشا۔ {” ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ “} سے مراد رائے کی غلطی ہے جو دنیوی معاملات میں ہوتی ہے، یہاں ضلالت سے مراد دینی ضلالت یا عام گمراہی نہیں ہے، ایسا کہتے تو یہ لوگ کافر ہو جاتے۔ (قرطبی) بعض اوقات کسی خاص کام میں غلطی پر بھی یہ لفظ آ جاتا ہے، جیسا کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہونے کی وجہ بتائی، فرمایا: «{ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى }» [ البقرۃ: ۲۸۲ ] ”(اس لیے) کہ دونوں میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔“ دراصل وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ آئندہ کیے جانے والے سلوک میں اپنے آپ کو بے قصور باور کروا کر ساری غلطی والد کے ذمے ڈالنا چاہتے تھے، جنھوں نے اولاد کی محبت میں فرق کیا تھا۔
اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چلو یوسفؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا
احمد رضا خان بریلوی
یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا
علامہ محمد حسین نجفی
یوسف کو قتل کر دو یا کسی اور سرزمین پر پھینک دو۔ تاکہ تمہارے باپ کا رخ (توجہ) صرف تمہاری طرف ہو جائے اس کے بعد تم بھلے آدمی ہو جاؤگے (تمہارے سب کام بن جائیں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
یوسف کو قتل کر دو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو، تمھارے باپ کا چہرہ تمھارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوسف علیہ السلام کے خاندان کا تعارف ٭٭

فی الواقع یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کر سکے اور نصیحتیں لے سکے۔ یوسف علیہ السلام کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین علیہ السلام تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقیناً یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ» [ 2-البقرہ: 136 ] ‏‏‏‏ میں سے لفظ «أَسْبَاطِ» پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہو گئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف علیہ السلام میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف «علیہ السلام» کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔

کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کر لینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بے وجہ، بے قصور صرف عداوت میں آ کر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف علیہ السلام کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہو گئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضیلت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بے زبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
9۔ 1 اس سے مراد تائب ہوجانا ہے یعنی کنوئیں میں ڈال کر یا قتل کر کے اللہ سے اس گناہ کے لئے توبہ کرلیں گے۔
(آیت 9) ➊ { اقْتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا:} دیکھیے حسد انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے کہ آدمی صغیرہ گناہ کو کبیرہ اور کبیرہ کو صغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔یوسف علیہ السلام کا باپ کی نظر میں زیادہ محبوب ہونا بھائیوں کی نظر میں اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، ان کی نگاہ میں معمولی بن گیا۔ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے قصے میں بھی حسد نے ایک بے گناہ کا قتل قاتل کی نگاہ میں جائز بلکہ خوش نما بنا دیا۔ دوسری تجویز بھی کم خطرناک نہ تھی۔ {”طَرْحٌ“} کا معنی ہے دور پھینک دینا۔ {” اَرْضًا “} نکرہ ہے، یعنی اسے کسی نامعلوم زمین میں پھینک دو، تاکہ وہیں مر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے متعلق فرمایا: «{ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا }» ‏‏‏‏ [ الحشر: ۳ ] ” اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان (بنو نضیر) پر جلاوطن ہونا لکھ دیا تھا تو وہ یقینا انھیں دنیا میں سزا دیتا۔“ معلوم ہوا کہ جلاوطنی اور وہ بھی نامعلوم سرزمین میں، کم عذاب نہیں ہے۔ ➋ {يَخْلُ لَكُمْ …:” يَخْلُ “} اصل میں {”يَخْلُوْ“} تھا۔ {” اقْتُلُوْا “} (امر) کے جواب میں مجزوم ہونے کی وجہ سے اس کی واؤ اور {”تَكُوْنُوْنَ“ } کا نون گر گئے، یعنی یوسف کے قتل یا غائب کر دینے سے تمھارے والد صاحب کی توجہ صرف تمھارے لیے رہ جائے گی۔{ ” وَجْهُ “} کا معنی چہرہ ہے اور چہرے کے ساتھ ہی توجہ ہوتی ہے۔ والد کی محبت میں شریکِ غالب کا کانٹا نکلنے کی دیر ہے، وہ تمھارے ہی ہو جائیں گے۔ حسد نے انھیں ایسا اندھا کیا کہ یہ بھی نہ سوچا کہ اس بوڑھی جان پر کیا گزرے گی، انھیں یوسف علیہ السلام کی عداوت میں نہ باپ پر گزرنے والی حالت کا کوئی خیال آیا نہ یوسف پر رحم آیا۔ ➌ {وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ:} اتنے بڑے جرم پر ملامت کرنے والے ضمیر کو انھوں نے یہ تسلی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی کہ یوسف کا قصہ تمام کرکے تم نیک لوگ بن جانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی سنگ دلی کے باوجود انھیں اپنے مجرم ہونے کا احساس تھا۔ یہ شیطان کا بندے کو گناہ میں مبتلا کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے کہ گناہ کر لو، بعد میں توبہ کر لینا، لیکن شیطان کے اس وار سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیا خبر کہ اس کے بعد توبہ کا موقع ہی نہ ملے، پہلے ہی موت آ جائے، جس کا وقت کسی کو بتایا ہی نہیں گیا، تاکہ ہر شخص موت کے کسی بھی وقت آ جانے کے خیال سے گناہ سے باز رہے، فرمایا: «{ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ }» [ آل عمران: ۱۰۲ ] ” اور تم ہر گز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔“ پھر اس کی بھی کیا خبر کہ وقت ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے اس کی طرف سے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے۔ فرمایا: «{ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ }» [ الأنفال: ۲۴ ] ”اور جان لو کہ بے شک اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔“ ایک معنی {” وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ “} کا یہ بھی کیا گیا ہے کہ یوسف کے بعد تم درست معاملے والے لوگ بن جانا، یعنی والد کو راضی کر لینا اور آپس میں شیر و شکر ہو جانا۔ یہ معنی ہو تو بھی وہ دھوکے ہی میں مبتلا تھے۔ اپنے لخت جگر کو غائب کرنے والوں سے ظاہری صلح ہو بھی جائے تو ہر وقت غم سے بھرا ہوا دل پہلی حالت میں کیسے آ سکتا ہے۔
قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ وَ اَلۡقُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ یَلۡتَقِطۡہُ بَعۡضُ السَّیَّارَۃِ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس پر ان میں سے ایک بولا "یوسفؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے ایک نے کہا یوسف کو قتل تو نہ کرو بلکہ اسے کسی اندھے کنوئیں (کی تہ) میں ڈال آؤ کہ اسے کوئی (آتا جاتا) قافلہ اٹھا لے جائے اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یوں کرو
احمد رضا خان بریلوی
ان میں ایک کہنے والا بولا یوسف کو مارو نہیں اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے اگر تمہیں کرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان (برادرانِ یوسف) میں سے ایک نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو البتہ اگر کچھ کرنا ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو۔ مسافروں کا کوئی قافلہ اسے اٹھا لے جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دو، کوئی راہ چلتا قافلہ اسے اٹھا لے گا ، اگر تم کرنے ہی والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوسف علیہ السلام کے خاندان کا تعارف ٭٭

فی الواقع یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کر سکے اور نصیحتیں لے سکے۔ یوسف علیہ السلام کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین علیہ السلام تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقیناً یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ» [ 2-البقرہ: 136 ] ‏‏‏‏ میں سے لفظ «أَسْبَاطِ» پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہو گئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف علیہ السلام میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف «علیہ السلام» کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔

کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کر لینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بے وجہ، بے قصور صرف عداوت میں آ کر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف علیہ السلام کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہو گئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضیلت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بے زبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
10۔ 1 جب کنویں کو اور غَیَابَۃ اس کی تہ اور گہرائی کو کہتے ہیں، کنواں ویسے بھی گہرا ہی ہوتا ہے اور اس میں گری ہوئی چیز کسی کو نظر نہیں آتی۔ جب اس کے ساتھ کنویں کی گہرائی کا بھی ذکر کیا تو گویا مبالغے کا اظہار کیا۔ 10۔ 2 یعنی آنے جانے والے نو وارد مسافر، جب پانی کی تلاش میں کنوئیں پر آئیں گے تو ممکن ہے کسی کے علم میں آجائے کہ کنوئیں میں کوئی انسان گرا ہوا ہے اور وہ اسے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں۔ یہ تجویز ایک بھائی نے ازراہ شفقت پیش کی تھی۔ قتل کے مقابلے میں یہ تجویز واقعتا ہمدردی کے جذبات ہی کی حامل ہے۔ بھائیوں کی آتش حسد اتنی بھڑکی ہوئی تھی کہ یہ تجویز بھی اس نے ڈرتے ڈرتے ہی پیش کی کہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ کام اس طرح کرلو۔
(آیت 10){قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا يُوْسُفَ …:” غَيٰبَتِ “} کا معنی لغت میں ہے: {”غَيَابَةُ كُلِّ شَيْءٍ مَا سَتَرَكَ مِنْهُ “ } یعنی ہر چیز کی غیابت وہ ہے جو تمھیں اس سے پردے میں کر لے، یعنی اسے تم سے چھپا لے۔ اس لیے قبر کو بھی {”غَيَابَةٌ“} کہتے ہیں۔ {” الْجُبِّ “ } کا معنی کنواں، بہت پانی اور گہرائی والا کنواں یا مٹی کا کھودا ہوا کنواں جس میں پتھروں اور اینٹوں کی دیوار نہ بنائی گئی ہو، {”السَّيَّارَةِ “} قافلہ۔ (قاموس) ان بھائیوں میں سے ایک نے جو فطرتاً دوسروں سے بہتر اور رحم دل تھا، جب انھیں حد سے گزرتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ یہ کسی طرح ٹلنے والے نہیں، انھیں ایسا مشورہ دیا جسے وہ بھی قبول کر سکیں اور اسے یوسف کا طرف دار بھی قرار نہ دیں۔ وہ یہ تھا کہ یوسف کو قتل نہ کرو، قتل تو بہت ہی بڑا جرم ہے۔ (مفسرین فرماتے ہیں کہ یوسف کا نام اس نے ان کے دل میں نرمی، شفقت اور رحم ابھارنے کے لیے لیا، تاکہ وہ کچھ سوچیں کہ ہم کسے قتل کرنے جا رہے ہیں، یوسف کو؟ جو ہمارا بھائی ہے) اگر ضرور ہی کچھ کرنا ہے تو اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دو۔ اس سے تمھارا مقصد بھی پورا ہو جائے گا کہ کوئی قافلہ اسے اٹھا کر لے جائے گا، تم اپنے مقصد یعنی والد کی نگاہوں سے دورکرنے میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے اور ایک معصوم جان کے قتل سے بھی بچ جاؤ گے۔ {” قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ “} مطلب یہ کہ اگر قتل کا مشورہ دینے والے بھائی تھے تو یہ بھی ایک بھائی ہی تھا۔ یہ بات کس بھائی نے کہی تھی، قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہیں، کیونکہ ہدایت کے مقصد کے لیے اس کی ضرورت نہ تھی اور پہلی کتابوں کے سچ یا جھوٹ کا کچھ پتا نہیں کہ ان پر بھروسا کر کے کوئی نام بتایا جائے۔
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا لَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَ اِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا ابا! آخر آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ہم تو اس کے خیر خواه ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معامل ہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس قرارداد کے بعد) انہوں نے کہا اے ہمارے والد! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیرخواہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے ہمارے باپ! تجھے کیا ہے کہ تو یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا، حالانکہ بے شک ہم یقینا اس کے خیرخواہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق ٭٭

بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کر لیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کر لے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجودیکہ تھے یہ بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کر سکتا ہے۔؟ «يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ» کی دوسری قرآت «ترتع و نلعب» بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہو گا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بے فکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
11۔ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس سے قبل بھی برداران یوسف ؑ نے یوسف ؑ کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی ہوگی اور باپ نے انکار کردیا ہوگا۔
(آیت 12،11){ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا …:} اب یہ مرحلہ درپیش تھا کہ یوسف علیہ السلام کو ساتھ کیسے لے جائیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے جانے کی کوشش کر چکے تھے، مگر والد نے اجازت نہیں دی تھی اور یہ کہ والد کو پہلے بھی ان کے متعلق اعتبار نہ تھا کہ وہ یوسف کے خیر خواہ ہیں، یا انھیں کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔ اس مرتبہ دس کے دس بھائیوں نے منت، خوشامد اور دھونس دھاندلی کا ہر حربہ استعمال کرکے یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی۔ سب سے پہلے تو نہایت ادب اور منت کے ساتھ بات کی، ابتدا دیکھیے {” يٰۤاَبَانَا “} ”اے ہمارے باپ!“ اس سے قریب تر رشتہ کون سا ہو گا جو درمیان میں لا کر درخواست کی جائے اور دل نرم نہ ہو، پھر ساتھ ہی دھونس دیکھیے ”آپ کو کیا ہے کہ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد ہی نہیں کرتے “ (گویا سارا قصور ابا جی کا ہے) ”حالانکہ بے شک ہم یقینا اس کے خیر خواہ ہیں۔“ {” اِنَّا “} کے {” اِنَّ “} اور {” لَنٰصِحُوْنَ “} کے لام کے ساتھ خیر خواہی کا یقین دلانا ملاحظہ فرمائیں، اہل عرب کے ہاں اس میں قسم کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ پھر یوسف کی مزید خیر خواہی کا ذکر ہوتا ہے کہ کبھی باہر جنگل میں جا کر اسے سیر و تفریح کا موقع ہی نہیں ملا۔ کل آپ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں، جنگل کے پھل وغیرہ کھائے پیے گا، کھیلے کودے گا، خوش دل ہو گا۔ رہا جنگل اور صحرا میں وحشی جانوروں وغیرہ کا خطرہ تو اس کی فکر نہ کیجیے۔ ”بے شک“ ہم اس کی ”یقینا“ حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ وہی قسم کے مفہوم والے الفاظ ہیں جو انھوں نے اپنی خیر خواہی کا یقین دلاتے ہوئے کہے تھے کہ {” وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ “} اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا پیشہ جنگل میں بکریاں وغیرہ چرانا تھا۔
اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج د یجیے، کچھ چر چگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب کھائے پئے اور کھیلے، اس کی حفاﻇت کے ہم ذمہ دار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کچھ کھائے پیئے اور کھیلے کودے ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بے شک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق ٭٭

بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کر لیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کر لے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجودیکہ تھے یہ بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کر سکتا ہے۔؟ «يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ» کی دوسری قرآت «ترتع و نلعب» بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہو گا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بے فکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
12۔ 1 کھیل اور تفریح کا رجحان، انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اسی لئے جائز کھیل اور تفریح پر اللہ تعالیٰ نے کسی دور میں بھی پابندی عائد نہیں کی۔ اسلام میں بھی اجازت ہے لیکن مشروط۔ یعنی ایسے کھیل اور تفریح جائز جن میں شرع قباحت نہ ہو یا محرمات تک پہنچنے کا ذریعہ بنیں۔ چناچہ حضرت یعقوب ؑ نے بھی کھیل کود کی حد تک کوئی اعتراض نہیں کیا۔ البتہ یہ خدشہ ظاہر کیا کہ تم کھیل کود میں مدہوش ہوجاؤ اور اسے بھڑیا کھاجائے، کیونکہ کھلے میدانوں اور صحراؤں میں وہاں بھیڑیئے عام تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ اِنِّیۡ لَیَحۡزُنُنِیۡۤ اَنۡ تَذۡہَبُوۡا بِہٖ وَ اَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئۡبُ وَ اَنۡتُمۡ عَنۡہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے
احمد رضا خان بریلوی
بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس سے بے خبر رہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ (ع) نے کہا تمہارا اسے اپنے ہمراہ لے جانا مجھے غمگین کرتا ہے اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ تم غفلت کرو اور اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا بے شک میں، یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جائو اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انجانے خطرے کا اظہار ٭٭

نبی اللہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ یعقوب علیہ السلام کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ یوسف علیہ السلام کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ و سلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آ کر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ یعقوب علیہ السلام کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف علیہ السلام کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھا جائے؟ بالکل نا ممکن ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر تو ہم سب بے کار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) ➊ {قَالَ اِنِّيْ لَيَحْزُنُنِيْۤ …:} یعقوب علیہ السلام نے نہ بھیجنے کے لیے دو عذر پیش کیے، ایک تو نہایت تاکید کے الفاظ {”اِنَّ“ } اور ”لام تاکید“ کے ساتھ کہا کہ مجھے تمھارا اسے اپنے ساتھ لے جانا غمگین کرتا ہے۔ (حالانکہ یہی بات تو ان کے غصے کا باعث تھی) دوسرا یہ کہ مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ ساتھ ہی ان کے جذبات ٹھنڈے رکھنے کے لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ”اور تم بیٹھے رہو گے“ یہ کہا کہ ”تم اس سے غافل ہو گے۔“ گویا تم میرے غم اور خوف دونوں کا سامان کر رہے ہو۔ ➋ ان کو بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) یا یعقوب علیہ السلام کے منہ سے یہ بات نکلنا تھی کہ انھوں نے اسی کا بہانہ بنا لیا۔
قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے جواب دیا "اگر ہمارے ہوتے اسے بھڑ یے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی (زور آور) جماعت کی موجودگی میں بھی اگر اسے بھیڑیا کھا جائے تو ہم بالکل نکمے ہی ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ ہماری پوری جماعت (حفاظت کے لئے) موجود ہے تو پھر تو ہم گھاٹا اٹھانے والے (اور بالکل گئے گزرے) ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا واقعی اگر اسے بھیڑیا کھاجائے، حالانکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں تو بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انجانے خطرے کا اظہار ٭٭

نبی اللہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ یعقوب علیہ السلام کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ یوسف علیہ السلام کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ و سلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آ کر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ یعقوب علیہ السلام کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف علیہ السلام کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھا جائے؟ بالکل نا ممکن ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر تو ہم سب بے کار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
14۔ 1 یہ باپ کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اتنے بھائیوں کی موجودگی میں بھیڑیا یوسف ؑ کو کھاجائے۔
(آیت 14) ➊ {قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ …:} یعنی پھر ہماری قوت کس دن کام آئے گی، ہم دس مضبوط جوان ہیں۔ ➋ اب یعقوب علیہ السلام ان کے اصرار کے سامنے بے بس ہو گئے، کیونکہ اللہ کی تقدیر ہو کر رہنی تھی، جس کے واقع ہو کر رہنے میں کوئی احتیاط کام نہیں آ سکتی، پھر یوسف علیہ السلام کو خواب میں دکھائے جانے والے کمال و عروج کی منزل کے راستے پر بھی روانہ ہونا تھا اور اس راستے میں نہایت کٹھن گھاٹیوں سے گزرے بغیر چارہ ہی نہیں اور نہ ان بلند مقامات پر پہنچنے والوں کے لیے راستے میں کوئی قالین یا کہکشاں بچھی ہوتی ہے۔
فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس طرح اصرار کر کے جب وہ اُسے لے گئے اور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنویں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یوسفؑ کو وحی کی کہ "ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آرہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وه جانتے ہی نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اسے لے گئے اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب وہ (اصرار کرکے) اسے لے گئے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (چنانچہ ایسا ہی کیا)۔ اور ہم نے (اس وقت) اس (یوسف) کی طرف وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتاؤگے جبکہ انہیں اس کا شعور نہیں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ اسے لے گئے اور انھوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا، اس حال میں کہ وہ سوچتے نہ ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو گئے ٭٭

سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور یوسف علیہ السلام کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف علیہ السلام کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کر لے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کر دی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کر لیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آ کر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کر دیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو ایذائیں دینی شروع کر دیں برا بھلا کہنے لگے اور چانٹا چٹول سے بھی باز نہ رہے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے، اس کنویں کے پاس پہنچے اور ہاتھ پاؤں رسی سے جکڑ کر کنویں میں گرانا چاہا۔ آپ ایک ایک کے دامن سے چمٹتے ہیں اور ایک ایک سے رحم کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہر ایک جھڑک دیتا ہے اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا ہے مایوس ہو گئے سب نے مل کر مضبوط باندھا اور کنویں میں لٹکا دیا آپ علیہ السلام نے کنویں کا کنارا ہاتھ سے تھام لیا لیکن بھائیوں نے انگلیوں پر مار مار کر اسے بھی ہاتھ سے چھڑا لیا۔ آدھی دور آپ پہنچے ہوں گے کہ انہوں نے رسی کاٹ دی۔ آپ علیہ السلام تہ میں جا گرے، کنویں کے درمیان ایک پتھر تھا جس پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ عین اس مصیبت کے وقت عین اس سختی اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ کا دل مطمئن ہو جائے آپ علیہ السلام صبر و برداشت سے کام لیں اور انجام کا آپ کو علم ہو جائے۔ وحی میں فرمایا گیا کہ غمگین نہ ہو یہ نہ سمجھ کہ یہ مصیبت دور نہ ہو گی۔ سن اللہ تعالیٰ تجھے اس سختی کے بعد آسانی دے گا۔ اس تکلیف کے بعد راحت ملے گی۔ ان بھائیوں پر اللہ تجھے غلبہ دے گا

یہ گو تجھے پست کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تجھے بلند کرے۔ یہ جو کچھ آج تیرے ساتھ کر رہے ہیں وقت آئے گا کہ تو انہیں ان کے اس کرتوت کو یاد دلائے گا اور یہ ندامت سے سر جھکائے ہوئے ہوں گے اپنے قصور سن رہے ہوں گے۔ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ تو وہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب برادران یوسف، یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ علیہ السلام نے تو انہیں پہچان لیا لیکن یہ نہ پہچان سکے۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اسے انگلی سے ٹھونکا۔ آواز نکلی ہی تھی اس وقت آپ نے فرمایا لو یہ جام تو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہارے متعلق ہی کچھ خبر دے رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے تمھارا ایک یوسف نامی سوتیلا بھائی تھا۔ تم اسے باپ کے پاس سے لے گئے اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔ پھر اسے انگلی ماری اور ذرا سی دیر کان لگا کر فرمایا لو یہ کہہ رہا ہے کہ پھر تم اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر باپ کے پاس گئے اور وہاں جا کر ان سے کہہ دیا کہ تیرے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھا لیا۔ اب تو یہ حیران ہو گئے آپس میں کہنے لگے ہائے برا ہوا بھانڈا پھوٹ گیا اس جام نے تو تمام سچی سچی باتیں بادشاہ سے کہہ دیں۔ پس یہی ہے جو آپ کو کنویں میں وحی ہوئی کہ ان کے اس کے کرتوت کو تو انہیں ان کے بے شعوری میں جتائے گا۔
15۔ 1 قرآن کریم نہایت اختصار کے ساتھ واقعہ بیان کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق انہوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی تسلی اور حوصلے کے لئے وحی کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تیری حفاظت ہی نہیں کریں گے بلکہ ایسے بلند مقام پر تجھے فائز کریں گے کہ یہ بھائی بھیک مانگتے ہوئے تیری خدمت میں حاضر ہونگے اور پھر تو انھیں بتائے گا کہ تم نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ اس طرح سنگ دلانہ معاملہ کیا تھا، جسے سن کر وہ حیران اور پشیمان ہوجائیں گے۔ حضرت یوسف علیہ الاسلام اس وقت اگرچہ بچے تھے، لیکن جو بچے، نبوت پر سرفراز ہونے والے ہوں، ان پر بچپن میں بھی وحی آجاتی ہے جیسے حضرت عیسیٰ و یحیٰی وغیرہ (علیہم السلام) پر آئی۔
(آیت 15) ➊ {فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ …:” اَجْمَعُوْۤا “} باب افعال ہے، کسی کام کا مصمم عزم کر لینا، یعنی آخر وہ باپ کے کسی عذر کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خاموش ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے ہی گئے۔ اب یہاں قرآن کریم کا کمال اعجاز دیکھیے، فرمایا: ”پھر جب وہ اسے لے گئے اور طے کر لیا کہ اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دیں“ تو پھر کیا ہوا؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی نہیں فرمایا، تاکہ سننے والے خود ہی سمجھ لیں کہ قتل تک کا منصوبہ بنانے والے ان دس شیر جوانوں نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کنویں میں پھینکنے کے وقت اور اس سے پہلے کیا سلوک کیا ہو گا۔ قرآن اشارہ کرتا ہے، پھر سمجھنے والے پر چھوڑ دیتا ہے اور کچھ اس لیے بھی کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ان کا سلوک تصور میں تو آسکتا ہے، اسے الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہے، یا پھر بات اتنی لمبی ہو جائے گی جو قرآن کا طریقہ نہیں۔ مفسر آلوسی نے فرمایا: ”انھیں کنویں میں پھینکنے کی کیفیت اور اس وقت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے جو کچھ کہا اور جو کچھ انھوں نے اس سے کہا، اس کے متعلق کتبِ تفسیر میں بہت سی روایات ہیں جنھیں سن کر پتھر بھی پانی ہو جاتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کی سند پر اعتماد ہو سکتا ہو۔“ کیونکہ ان مفسرین میں سے کوئی چشم دید بیان کرنے والا ہے ہی نہیں اور وہ عالم الغیب جو سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے یہ بات ہمارے خود سوچنے کے لیے بلا تفصیل چھوڑ دی ہے۔ ➋ {وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ …:} یعنی اس مشکل وقت میں یوسف علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے تسلی دی گئی کہ ایک ایسا وقت ہر صورت آئے گا جب تم ان بھائیوں کو ان کا یہ کام بتاؤ گے، جب کہ طویل مدت اور آج اور اس وقت کے حالات کے فرق کی وجہ سے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ہم اسی بھائی سے پورا غلہ دینے اور صدقہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جسے ہم کنویں میں پھینک کر اس سے فارغ ہو چکے تھے۔ یہاں {” لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا “} (تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا) میں ”ان کے اس کام“ کے الفاظ میں بھی ان کے یوسف علیہ السلام کے ساتھ سلوک کی لمبی و دلخراش داستان دو تین لفظوں میں سمٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ➌ کچھ لوگ یعقوب علیہ السلام کے ان الفاظ سے کہ ”میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے گا“ ان کے لیے علمِ غیب ثابت کرتے ہیں، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں یوسف علیہ السلام پر گزرنے والی حالت، ان کی غلامی، عفت کی آزمائش، قید خانے کے سال، بادشاہ کے خواب کا قید سے نکلنے کا ذریعہ بننا، خوش حالی اور قحط کے سال، قید سے نکل کر قرب شاہی اور وزارتِ خزانہ کا حصول، یہ سب کچھ یعقوب علیہ السلام کو کیوں معلوم نہ ہو سکا؟ آنکھیں غم سے سفید کیوں ہو گئیں؟ کیا علم غیب یہی ہوتا ہے؟ ہا ں، پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ جتنی بات وحی کے ذریعے سے بتاتا ہے وہ انھیں معلوم ہو جاتی ہے، جیسے بشارت دینے والے کے مصر سے قمیص لے کر چلنے کے ساتھ ہی انھیں یوسف علیہ السلام کی خوشبو آنے لگی اور قمیص آنکھوں پر ڈالنے سے بینائی واپس آ گئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ یہ نہ یوسف علیہ السلام کے بس کی بات تھی اور نہ ان کے والد ماجد یعقوب علیہ السلام کے بس کی۔ اللہ تعالیٰ جتنی بات بتا دے وہ معلوم، باقی کی خبر نہیں، ایسا شخص عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ غیب کی کئی باتیں ہمیں بھی رسول کے بتانے سے معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہو گئے؟ نہیں، آسمان و زمین میں عالم الغیب صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے، جیسے فرمایا: «{ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ }» [ النمل: ۶۵ ] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“
وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عشا کے وقت (وه سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے
احمد رضا خان بریلوی
اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ شام کے وقت اپنے والد کے پاس روتے ہوئے آئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭

چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔

لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:2661] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ {وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً: } اتنا بڑا ظلم کرنے کے بعد انھیں دن کی روشنی میں باپ کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوئی، کیونکہ دن کے وقت چہرے کے اثرات، جسم کا اضطراب اور زبان کا لڑکھڑانا ہی سب کچھ ظاہر کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ عشاء کے وقت باپ کے پاس آئے۔ اکثر جرائم کے وقوع اور انھیں چھپانے کا ذریعہ رات کا اندھیرا ہی بنتا ہے، اس لیے ہم سب کو حکم ہوا کہ کہو: «{ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ }» [ الفلق: ۳ ] ”اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے (پناہ مانگتا ہوں)۔“ ➋ { يَبْكُوْنَ:} ”روتے ہوئے“ معلوم ہوا ہر رونے والا سچا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک عالم کا قول پڑھا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے رونے کے بعد سے ہمارا اعتبار رونے والوں سے اٹھ گیا ہے، اللہ جانے کون سچا رو رہا ہے اور کون جھوٹا۔ حسین رضی اللہ عنہ کی بہن زینب رضی اللہ عنھا نے کوفے والوں کو روتے پیٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر رو رہے ہیں تو وہ بے ساختہ کہنے لگیں کہ یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والے کون ہیں؟ (یعنی کیا وہ کوفہ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی؟ یہی تو قتل کرنے والے تھے)۔
قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَ لَوۡ کُنَّا صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑا پس اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات نہیں مانیں گے، گو ہم بالکل سچے ہی ہوں
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہا اے ہمارے والد! ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے بس ایک بھیڑیا آیا اور اسے کھا گیا۔ اور اگرچہ ہم سچے ہی ہوں مگر آپ تو ہماری بات کا یقین نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے ہمارے باپ! بے شک ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلتے چلے گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے کوئی بھیڑیا کھا گیا اور تو ہر گز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭

چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔

لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:2661] ‏‏‏‏
17۔ 1 یعنی اگر ہم آپ کے نزدیک معتبر اور اہل صدق ہوتے، تب بھی یوسف ؑ کے معاملے میں آپ ہماری بات کی تصدیق نہ کرتے، اب تو ویسے ہماری حیثیت متہم افراد کی سی ہے، اب آپ کس طرح ہماری بات کی تصدیق کریں گے؟
(آیت 17){ قَالُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ …: ” اِسْتِبَاقٌ“} باب افتعال کا مصدر ہے، آگے نکلنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ، وہ پیدل دوڑ میں آگے نکلنے کا ہو یا گھوڑوں پر ({اِسْتِبَاقُ الْخَيْلِ}) یا نشانہ بازی میں ({اِسْتِبَاقُ الرَّمْيِ}) یعنی ہم دوڑ کے مقابلے میں دور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ {” الذِّئْبُ “} کا الف لام تخصیص کے لیے نہیں، جنس کے لیے ہے، یعنی کوئی بھیڑیا اسے کھا گیا۔ ساتھ ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے والد پر چڑھائی کر دی کہ آپ تو ہم سے اس قدر بدظن ہیں کہ کسی صورت ہم پر اعتبارکرنے والے ہی نہیں، خواہ ہم بالکل سچے ہوں۔ مگر سننے والا یہ تو ضرور سوچتا ہے کہ بھیڑیا انھیں ہڈیوں سمیت کھا گیا اور ایک ذرہ بھی باقی نہیں چھوڑا جو ساتھ لے آتے، خصوصاً اس لیے کہ نہ وہ ان کا کچھ بچا کھچا جسم واپس لائے نہ یہ کہا کہ ہم نے اسے دفن کر دیا۔
وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اس (یوسف (ع)) کے کُرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ آپ (ع) نے کہا (یہ جھوٹ ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے (اپنے بچاؤ کیلئے) یہ بات گھڑ کر تمہیں خوشنما دکھا دی ہے (بہرحال اس سانحہ پر) صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس سلسلہ میں اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمھارے لیے تمھارے دلوں نے ایک کام مزین بنا دیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭

چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔

لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:2661] ‏‏‏‏
18۔ 1 کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف ؑ کی قمیص خون میں لت پت کرلی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف ؑ کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف ؑ کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بیخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔ 18۔ 1 منافقین نے جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔ واللہ لا اجدلی ولالکم مثلا الا ابا یوسف (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) اللہ کی قسم میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثال پاتی ہوں جس سے یوسف ؑ کے باپ یعقوب ؑ کو سابقہ پیش آیا تھا اور انہوں نے فصبر جمعیل کہہ کر صبر کا راستہ اختیار کیا تھا، یعنی میرے لیے بھی سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں۔
(آیت 18) ➊ {وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ …: } یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف علیہ السلام کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو {” كَذِبٍ “ } تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی {”مَكْذُوْبٌ“} ہے، جیسے {”خَلْقٌ“} بمعنی {”مَخْلُوْقٌ“} یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف علیہ السلام کا ہر گز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کر لے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتا رہی تھی اور فرمایا: {” بَلْ “} (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے، بھیڑیے نے یوسف کو ہرگز نہیں کھایا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمھارے دلوں نے تمھارے لیے کوئی بات خوشنما بنا دی جو تم کر گزرے ہو۔ اب وہ چونکہ کئی چیزیں ہو سکتی تھیں، اس لیے کسی کی تعیین نہیں فرمائی اور وہ یوسف کو کہیں پھینک آنا، اسے کسی جگہ لے جا کر بیچ آنا، اسے کہیں چھپا دینا وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مرنے کا یقین ہو جائے تو صبر آ جاتا ہے مگر جب خبر ہی نہ ہو کہ بیٹا اس وقت کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ تو یہ بہت ہی بڑی آزمائش اور ہر وقت دل میں سلگتی رہنے والی چنگاری ہوا کرتی ہے۔ ادھر خواب کے مطابق ابھی یوسف علیہ السلام پر اتمام نعمت ہونا تھا اور {” تَاْوِيْلَ الْاَحَادِيْثِ “} کی تعلیم بھی باقی تھی۔ سو کس طرح مان لیتے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ ➋ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ اس سورت میں یوسف علیہ السلام کی قمیص کا تین دفعہ ذکر ہے اور ہر دفعہ اس کا انوکھا ہی اثر ہے۔ ایک تو یہ خون آلود قمیص تھی جس کے نتیجے میں یعقوب علیہ السلام کی بینائی ختم ہو گئی، دوسرا یوسف علیہ السلام کو تہمتِ دست درازی سے ان کی قمیص دیکھ کر بری قرار دیا گیا اور تیسرا یوسف علیہ السلام کی قمیص کی خوشبو آنا اور یعقوب علیہ السلام پر اسے ڈالنے سے ان کی بینائی کا واپس آنا۔ سبحان اللہ! اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کمال نشانیاں ہیں۔ ➌ تفسیر {”التحرير والتنوير“} کے مصنف ابن عاشور لکھتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے قمیص کو خون آلود کرنے کی جعل سازی میں اور اسے چیر پھاڑ کر ایسی قمیص کی صورت میں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہو گی جس کے پہننے والے کو بھیڑیے نے کھا لیا ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار تھے کہ اتنی سی بات بھی ان میں سے کسی کے ذہن میں نہ آئی ہو، جب کہ وہ دس جوان تھے۔ سو بعض اہل تفسیر نے جو لکھا ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں نے آج کی طرح کا کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا جو اس بھیڑیے سے زیادہ حلیم (بردبار) ہو کہ میرے بیٹے کو کھا گیا اور اس کی قمیص نہیں پھاڑی، تو یہ قصہ گوئی کی ایک ظرافت ہے۔“ اگر قمیص کے سالم رہنے کی بات قرآن و حدیث یا کسی صحیح ذریعے سے آئی ہوتی تو میرے خیال کے مطابق ابن عاشور رحمہ اللہ اتنے واضح الفاظ میں اسے قصہ گو حضرات کی کارستانی قرار نہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، بالکل ممکن ہے اور جرم یقینا اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے مگر بات ثابت تو ہونی چاہیے۔ یہاں ان کے جھوٹے ہونے کے اور دلائل ہی میں کچھ کمی نہ تھی کہ ہم قمیص کا سالم رہنا کسی صحیح ذریعۂ خبر کے بغیر ہی تسلیم کر لیں۔ ➍ { فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ:} جملہ فعلیہ{” أَصْبِرُ صَبْرًا جَمِيْلاً “} (یعنی اب میں صبر جمیل اختیار کروں گا) کے بجائے جملہ اسمیہ ارشاد فرمایا: {”فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ “} کیونکہ اس میں دوام ہوتا ہے۔ گویا اس میں مبتدا یا خبر محذوف ہے، یعنی {” فَأَمْرِيْ صَبْرٌ جَمِيْلٌ“} یا {” فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ اَمْرِيْ“} یعنی اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ کسی بھی چیز کا جمال یہ ہے کہ وہ اپنے جیسی دوسری چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہو۔ چنانچہ صبر بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک صبر جمیل، جس میں حسن ہو اور دوسرا غیر جمیل جو حسن سے خالی ہو۔ پہلا وہ جس کے ساتھ جزع فزع اور واویلا وغیرہ نہ ہو بلکہ اللہ کی تقدیر پر صبر کیا جائے۔ دوسرا وہ جو یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہو اور جو ہر ایک کو آخر کرنا ہی پڑتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے ایک بچے پر رو رہی تھی۔ (عبد الصمد کی روایت میں ہے کہ وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی) تو آپ نے اس سے کہا: [ اِتَّقِي اللّٰهَ وَاصْبِرِيْ، فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِيْ بِمُصِيْبَتِيْ؟ فَلَمَّا ذَهَبَ، قِيْلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَأَتَتْ بَابَهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلٰی بَابِهِ بَوَّابِيْنَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ ] [ مسلم، الجنائز، باب الصبر علٰی المصیبۃ عند الصدمۃ الأولی: 926/15 ] ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے کہا: ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا ہے؟“ جب آپ چلے گئے تو اسے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اس کی حالت تو موت جیسی ہو گئی۔ وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہیں دیکھے۔ کہنے لگی: ”یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔“ آپ نے فرمایا: ”اصل صبر تو صرف پہلی چوٹ کے وقت ہوتا ہے۔“ ➎ {وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ:} یہاں {” الْمُسْتَعَانُ “} خبر پر الف لام کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا، یعنی صرف اللہ ہے یا اللہ ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور اللہ سے مدد مانگنے کا طریقہ بھی اس نے خود ہی سکھایا، جس پر یعقوب علیہ السلام نے عمل کیا، فرمایا: «{ وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ }» [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو۔“ ➏ ہمارے جو بھائی کہتے ہیں کہ فلاں حضرت صاحب کی نظر لوح محفوظ پر ہے اور فلاں صاحب کے دل کا آئینہ انھیں کل عالم کی خبر دیتا ہے، وہ غور فرمائیں کہ چند میل کے فاصلے پر کنویں میں اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کی خبر نہ ہو سکی۔ نہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے دل میں کھٹکا تک ہوا کہ والد ماجد سے تو کوئی چیز چھپی رہتی نہیں، ہمارا مکر کیسے کامیاب ہو گا؟ تو ان کے حضرت صاحبان لوح محفوظ تک کیسے پہنچ گئے؟ یہاں ایک سوال ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اس وقت یوسف علیہ السلام کو تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جواب یہ ہے کہ وجہ یہ تھی کہ ان کی تلاش بھی انھی بھائیوں ہی نے کرنا تھی، وہ خود تو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کمزور تھے۔ چنانچہ جب موقع مناسب جانا انھی بھائیوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، فرمایا: «{ فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ }» [ یوسف: ۸۷ ] ”یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ۔“
وَ جَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَ اَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ادھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا سقے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا "مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے" ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اس سے باخبر تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایک قافلہ آیا انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈال بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایک قافلہ آیا (اور وہاں اترا) تو انہوں نے (پانی لانے کیلئے) اپنا سقا بھیجا۔ پس اس نے جونہی اپنا ڈول ڈالا۔ (تو یوسف اس میں بیٹھ گئے جب ڈول کھینچا) تو پکار اٹھا۔ مبارک باد یہ تو ایک لڑکا ہے اور ان لوگوں نے اسے سرمایۂ تجارت سمجھ کر چھپا رکھا اور وہ لوگ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے خوب واقف تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایک راہ چلتا قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا، سو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ کہا اوہ! خوشخبری ہو! یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انھوں نے اسے سامان تجارت بناکر چھپا لیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کنویں سے بازار مصر تک ٭٭

بھائی تو یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گزر گئے۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لئے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، یوسف علیہ السلام نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا رہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آ گیا۔ دوسری قرأت اس کی «یابشرای» بھی ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں «بُشْرَىٰ» سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی رحمہ اللہ کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہو سکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یا یہ اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت «یا بشرای» سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے «یانفس اصبری» اور «یا غلام اقبل» اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپا لیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کر دیں۔

اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف علیہ السلام کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بے خبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کر دوں لیکن میرے کام الحکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بے فکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کر دوں گا۔ جیسے کہ یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام یوسف علیہ السلام کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔

لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کر دیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بے رغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ یوسف علیہ السلام نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن علیہ السلام تھا۔ پس آپ علیہ السلام تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لیے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کوعلیہ السلام بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہو جائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
19۔ 1 وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلے کے لئے پانی وغیرہ انتظام کرنے کی غرض سے قافلے کے آگے آگے چلتا ہے تاکہ مناسب جگہ دیکھ کر قافلے کو ٹھیرایا جاسکے یہ وراد (جب کنویں پر آیا اور اپنا ڈول نیچے لٹکایا تو حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی پکڑ لی، وارد نے ایک خوش شکل بچہ دیکھا تو اسے اوپر کھنچ لیا اور بڑا خوش ہوا۔ 19۔ 2 بضاعۃ سامان تجارت کو کہتے ہیں اسروہ کا فاعل کون ہے؟ یعنی یوسف کو سامان تجارت سمجھ کر چھپانے والا کون ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ حافظ ابن کثیر نے برادران یوسف ؑ کو فاعل قرار دیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب ڈول کے ساتھ یوسف ؑ بھی کنویں سے باہر نکل آئے تو وہاں یہ بھائی بھی موجود تھے، تاہم انہوں نے اصل حقیقت کو چھپائے رکھا، یہ نہیں کہا کہ یہ ہمارا بھائی ہے اور حضرت یوسف ؑ نے بھی قتل کے اندیشے سے اپنا بھائی ہونا ظاہر نہیں کیا بلکہ بھائیوں نے انھیں فروختنی قرار دیا تو خاموش رہے اور اپنا فروخت ہونا پسند کر لایا۔ چناچہ اس وارد نے اہل قافلہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ ایک بچہ فروخت ہو رہا ہے۔ مگر یہ بات سیاق سے میل کھاتی نظر نہیں آتی۔ ان کے برخلاف امام شوکانی نے اسروہ کا فاعل وارد اور اس کے ساتھیوں کو قرار دیا ہے کہ انہوں نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ بچہ کنویں سے نکلا ہے کیونکہ اس طرح تمام اہل قافلہ اس سامان تجارت میں شریک ہوجاتے بلکہ اہل قافلہ کو انہوں نے جا کر یہ بتلایا کہ کنویں کے مالکوں نے یہ بچہ ان کے سپرد کیا ہے تاکہ اسے وہ مصر جا کر بیچ دیں۔ مگر اقرب ترین بات یہ ہے کہ اہل قافلہ نے بچے کو سامان تجارت قرار دے کر چھپالیا کہ کہیں اس کے عزیز واقارب اس کی تلاش میں نہ آپہنچیں۔ اور یوں لینے کے دینے پڑجائیں کیونکہ بچہ ہونا اور کنویں میں پایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ کہیں قریب ہی کا رہنے والا ہے اور کھیلتے کودتے آ گرا ہے۔ 19۔ 3 یعنی یوسف ؑ کے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا تھا، اللہ کو اس کا علم تھا۔ لیکن اللہ نے یہ سب کچھ اس لیے ہونے دیا کہ تقدیر الہی بروئے کار آئے۔ علاوہ ازیں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اشارہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بتلا رہا ہے کہ آپ کی قوم کے لوگ یقیناً ایذا پہنچا رہے ہیں اور میں انھیں اس سے روکنے پر قادر بھی ہوں۔ لیکن میں اسی طرح انھیں مہلت دے رہا ہوں جس طرح برادران یوسف ؑ کو مہت دی تھی۔ اور پھر بالآخر میں نے یوسف ؑ کو مصر کے تخت پر جا بٹھایا اور اس کے بھائیوں کو عاجز و لاچار کر کے اس کے دربار میں کھڑا کردیا اے پیغمبر ایک وقت آئے گا کہ آپ بھی اسی طرح سرخرو ہوں گے اور سرداران قریش آپ کے اشارہ ابرو اور جنبش لب کے منتظر ہوں گے۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر یہ وقت جلد ہی آپہنچا۔
(آیت 19) ➊ {وَ جَآءَتْ سَيَّارَةٌ …:} یہ قافلہ مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف علیہ السلام پر یہ احسان ہوا کہ قافلے والوں کی توجہ کنویں سے پانی لانے کی طرف ہو گئی اور یوسف علیہ السلام کو باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ یہاں بات خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ ڈول والے نے ڈول لٹکایا تو یوسف علیہ السلام اس کے ساتھ لٹک گئے اور اوپر آ گئے۔ ➋ {وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً:” بِضَاعَةً “} کا معنی سامان تجارت ہے، یعنی قافلے والوں پر لازم تھا کہ وہ اردگرد اعلان کرتے، یا یوسف علیہ السلام کے بتانے کے مطابق انھیں ان کے والد کے پاس پہنچا دیتے، مگر وہ ظالم بے دین تھے۔ انھوں نے زبردستی غلام بنا کر سامانِ تجارت کے طور پر چھپا لیا کہ مصر جا کر فروخت کریں گے، حالانکہ کسی آزاد کو غلام بنانا یا اسے فروخت کرنا حرام ہے۔ اس سارے سلسلۂ کلام میں یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ صاف ظاہر ہے کہ یوسف علیہ السلام کے نکلنے پر اہلِ قافلہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے سامانِ تجارت کے طور پر انھیں چھپا لیا، کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔ ➌ ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکنا آخر ان کی عظمت و رفعت کا ذریعہ بن گیا۔ آپ بھی اپنے خاندان کے لوگوں کے ظلم وستم سے بددل نہ ہوں۔ یہ سب بھی آخر کار برادرانِ یوسف کی طرح آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
وَ شَرَوۡہُ بِثَمَنٍۭ بَخۡسٍ دَرَاہِمَ مَعۡدُوۡدَۃٍ ۚ وَ کَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ادھر برادرانِ یوسف بھی آپہنچے اور یوسف کو اپنا غلام ظاہر کرکے) بالکل کم قیمت پر یعنی گنتی کے چند درہموں کے عوض بیج ڈالا۔ اور ان (بھائیوں) کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی (بلکہ اس سے بیزار تھے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں سے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کنویں سے بازار مصر تک ٭٭

بھائی تو یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گزر گئے۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لئے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، یوسف علیہ السلام نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا رہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آ گیا۔ دوسری قرأت اس کی «یابشرای» بھی ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں «بُشْرَىٰ» سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی رحمہ اللہ کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہو سکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یا یہ اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت «یا بشرای» سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے «یانفس اصبری» اور «یا غلام اقبل» اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپا لیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کر دیں۔

اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف علیہ السلام کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بے خبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کر دوں لیکن میرے کام الحکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بے فکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کر دوں گا۔ جیسے کہ یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام یوسف علیہ السلام کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔

لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کر دیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بے رغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ یوسف علیہ السلام نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن علیہ السلام تھا۔ پس آپ علیہ السلام تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لیے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کوعلیہ السلام بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہو جائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
20۔ 1 بھائیوں یا دوسری تفسیر کی رو سے اہل قافلہ نے بیچا۔ 20۔ 2 کیونکہ گری پڑی چیز انسان کو یوں ہی کسی محنت کے بغیر مل جاتی ہے، اس لئے چاہے وہ کتنی بھی قیمتی ہو، اس کی صحیح قدر و قیمت انسان پر واضح نہیں ہوتی۔
(آیت 20){وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ …:” بَخْسٍ “} کا معنی اصل قیمت سے کم قیمت ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ }» [ الأعراف: ۸۵ ] ”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔“ یعنی قافلے والوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا، کیونکہ زیادہ درہم ہوتے تو وہ گننے کے بجائے تول لیے جاتے تھے۔ ”اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں میں سے تھے“ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قانونی طور پر حقیقی غلام کو نہیں بیچ رہے تھے، اس لیے جو کچھ مل گیا اسے انھوں نے غنیمت سمجھا۔ بے رغبت ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ جلد اس سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نہ آ جائے جو انھیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں، تو ہر وقت چھپا کر رکھنا اور یوسف علیہ السلام کو کسی سے اپنی حقیقت بیان کرنے کا موقع ہی نہ دینا ان کے لیے مصیبت تھا۔ اس سے ان لوگوں کی داستان گوئی کی حقیقت بھی معلوم ہو گئی جو یوسف علیہ السلام کے خریداروں کے ہجوم کا اور سوت کی اٹی لانے والی عورت کا اور آخر کار سونے میں تول کر فروخت کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی {”شَرَي يَشْرِيْ“} بیچنے اور {”اِشْتَرَي يَشْتَرِيْ“ } خریدنے کے معنوں میں آتا ہے، الا یہ کہ کوئی خاص قرینہ اس کے خلاف ہو، کیونکہ اصل یہی ہے کہ {”فَعَلَ“ } کسی حدث (کام) کے لیے آتا ہے اور {”اِفْتَعَلَ“} اس کی مطاوعت (اس کام کا اثر قبول کرنے) کے لیے ہوتا ہے، جیسے {” بَاعَ “} اس نے بیچا اور {”اِبْتَاعَ“} اس نے خریدا۔ {”رَهَنَ“} اس نے گروی دیا اور {”اِرْتَهَنَ“} اس نے گروی لیا۔ {”كَرِيَ“} اس نے کرایہ پر دیا اور {”اِكْتَرَي“ } اس نے کرایہ پر لیا۔ اس کے خلاف اول تو آتا ہی نہیں، آئے تو کوئی قرینہ موجود ہوتا ہے۔ جو لوگ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا آ کر قافلے والوں کے ہاتھوں فروخت کرنا ذکر کرتے ہیں ان کی بات کا قرآن کی کسی آیت میں ذکر چھوڑ کر اشارہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہے تو اس کا اعتبار نہیں اور وہ قرآن کے بیان کے بھی خلاف ہے۔
وَ قَالَ الَّذِی اشۡتَرٰىہُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِہٖۤ اَکۡرِمِیۡ مَثۡوٰىہُ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ؕ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ وَ لِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے بہت عزت واحترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائده پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کا قدم جما دیا کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا انہیں عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ان کو ہم بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر (اس قافلہ والوں سے) مصر کے جس شخص (عزیزِ مصر) نے اسے (دوبارہ) خریدا تھا اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا اسے عزت کے ساتھ رکھنا ہو سکتا ہے کہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں! اور اسی طرح (حکمتِ عملی سے) ہم نے اس (یوسف (ع)) کو سر زمینِ مصر میں تمکین دی (زمین ہموار کی تاکہ اسے اقتدار کیلئے منتخب کریں) اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کریں اور اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے (اور اس کے انجام دینے پر قادر ہے) لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس شخص نے اسے مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کی رہائش باعزت رکھ، ہوسکتا ہے کہ ہمیں فائدہ دے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭

رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ «قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ» [ 28-القص: 26 ] ‏‏‏‏ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کر لیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔

تیسرے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سر زمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے؟ کون خلاف کر سکتا ہے؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کر چکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اور اقوال بھی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
21۔ 1 کہا جاتا ہے کہ مصر پر اس وقت ریان بن ولید حکمران تھا اور یہ عزیز مصر، جس نے یوسف ؑ کو خریدا اس کا وزیر خزانہ تھا، اس کی بیوی کا نام بعض نے راعیل اور بعض نے زلیخا بتلایا ہے واللہ اعلم۔ 21۔ 2 یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو کنویں سے ظالم بھائیوں سے نجات دی، اسی طرح ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں ایک معقول اچھا ٹھکانا عطا کیا۔
(آیت 21) ➊ {وَ قَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ:} قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا، البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ”عزیز“ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں یوسف علیہ السلام کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا کوئی وزیر یا بہت بڑے عہدے پر فائز شخص تھا۔ اس کی بیوی کا نام بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہ تھا، بلکہ یہ پردہ پوشی کے بھی خلاف تھا۔ اس لیے جو لوگ اس خاتون کا نام ”زلیخا“ (زاء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ) یا ”راعیل“ بتاتے ہیں، ان کے پاس محض اسرائیلی روایات ہیں، کوئی پختہ دلیل نہیں اور ان کا یہ عمل ستر کے بھی خلاف ہے۔ ➋ {اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ:} عزیز مصر نے اپنی بیوی کو یوسف علیہ السلام کی رہائش باعزت رکھنے اور ہر ضرورت مہیا رکھنے کی تاکید کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا اور اس کا تعلق مالک اور غلام والا ہونے کے بجائے گھر کے ایک معزز رکن کا ہونا چاہیے، بچہ نہایت ذہین اور اچھی عادات والا ہے، امید ہے ہمیں فائدہ دے گا۔ عزیز مصر مملکت کے کسی بھی شخص سے کام کروا سکتا تھا اور مطلوبہ فائدہ حاصل کر سکتا تھا مگر ماتحت نوکر جس طرح فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہایت عزت و محبت سے پالے ہوئے اپنے گھر کے ایک فرد سے جس خیر خواہی اور فائدے کی امید ہوتی ہے، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ ➌ { اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا:} اس سے ظاہر ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ماں باپ، بہن بھائی یا بیٹا بیٹی منہ کے کہہ دینے سے نہیں بنتے۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۴،۵) اور مجادلہ (۲) ورنہ عزیز کی بیوی کا سگا بیٹا ہوتا تو وہ اس سے وہ معاملہ کبھی نہ کرتی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اکثر گھروں میں اللہ کی اس نافرمانی کے ایسے ہی نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکید کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے۔ ➍ { وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ …: } اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اس طرح یعنی عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کروا کر اور مصر کے اتنے عظیم مقام والے گھر میں باعزت رہائش دے کر ہم نے یوسف علیہ السلام کو سرزمین مصر میں جگہ دی (تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کرے) تاکہ ایک حکمران کے گھر میں رہ کر سرداروں کی مجلسیں دیکھے اور حکمرانی اور سیاست کے اسرار و رموز سیکھے، جو صحرا میں رہنے سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور آخر میں ان کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آ کر آباد ہوں۔ دوسری یہ کہ جیسے ہم نے اس سے پہلے یوسف کو بھائیوں کے شر سے بچایا اور کنویں سے نکلوایا، اسی طرح ہم نے اسے سرزمین مصر میں جگہ بخشی۔ ➎ {وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ:” غَلَبَ “ } کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی مقابلے میں ہو۔ دیکھیے یوسف علیہ السلام کے بھائی کیا چاہتے تھے اور کنویں میں پھینکنے کے بعد اپنے خیال میں وہ کس قدر کامیاب ہو چکے تھے، مگر اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ وہ جو کرنا چاہے کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ کنویں سے نکال کر حکومت تک پہنچانا اور پھینکنے والوں کو سائل بنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کرنا اس کے ادنیٰ اشارے کا کام ہے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر نے بدر کے موقع پر کیا خوب کہا تھا: {جَاءَتْ سَخِيْنَةُ كَيْ تُغَالِبَ رَبَّهَا وَلَيُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلَّابِ} ”قریش اس لیے آئے تھے کہ اپنے رب کے ساتھ غالب آنے کا مقابلہ کریں گے اور قسم ہے کہ اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا ہر صورت مغلوب ہو کر رہے گا۔“(قریش کو سخینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ حاجیوں کی ضیافت گرم کھانے سے کرتے تھے)۔ ➏ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ:} اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی ظلم وستم کی کمی نہیں کرتے، مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، بخلاف تھوڑے لوگوں کے، جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے غالب رہنے پر اور اس کی تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ خوشی میں پھولتے ہیں نہ مصیبت میں حد سے زیادہ غم میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ کسی صورت اللہ کے حکم سے سر پھیرتے ہیں۔
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا، اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا، ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ (یوسف) پوری جوانی کو پہنچا۔ تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے بڑا حکم اور بڑا علم عطا کیا اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بازار مصر سے شاہی محل تک ٭٭

رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ علیہ السلام کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ «قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ» [ 28-القص: 26 ] ‏‏‏‏ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کر لیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔

تیسرے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سر زمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے؟ کون خلاف کر سکتا ہے؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کر چکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اور اقوال بھی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»
22۔ 1 یعنی نبوت یا نبوت سے قبل کی دانائی اور قوت فیصلہ۔
(آیت 22) ➊ {وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا:” اَشُدَّ “} بعض اہل علم کے مطابق مفرد ہے جو جمع کے وزن پر آیا ہے۔ بعض نے فرمایا جمع ہے، مگر اس کے لفظ میں سے اس کا واحد نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا {” شِدَّةٌ “} کی جمع ہے، جس طرح {”نِعْمَةٌ “} کی جمع {” أَنْعُمٌ “} ہے، یعنی اپنی پوری قوتوں اور جوانی کو پہنچ گئے۔ اسی {” بَلَغَ “} کے لفظ ہی سے بلوغت کی اصطلاح اخذ کی گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کے آتے ہی انسان پر نیکی اور بدی لکھنے والا وہ قلم مقرر ہو جاتا ہے جو بچپن میں اس پر مقرر نہیں تھا۔ اب وہ اپنے جیسے انسان کی پیدائش کا ذریعہ بننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں جو لوگ اس وقت یوسف علیہ السلام کی عمر کی تعیین پچیس یا تیس یا چالیس سال بیان کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ بہرحال جس قسم کی خوش حالی اور ناز و نعمت میں یوسف علیہ السلام کی پرورش ہو رہی تھی، اس میں یہ عمر طوفان بن کر آتی ہے، مگر ان پر اللہ کا فضل تھا جس کی وجہ سے رعونت، شہوت اور حسن و عشق کی آفات کے بجائے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا۔ {”حُكْمٌ“ } اور {”حِكْمَةٌ “} تقریباً ہم معنی ہیں، اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کے مخالف اور ٹکرانے والے دو معاملات حق اور باطل میں سے حق کا فیصلہ کرنے کی اہلیت۔ یہ اہلیت عطا ہونے کے بعد آدمی صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں علم عطا فرمایا، یعنی نیکی و بدی کی پہچان اور وہ باتیں جاننے اور ان پر عمل کی استعداد جو عام لوگ نہیں جانتے، جس میں خواب کی تعبیر اور وہ علم بھی شامل ہے جس کا اظہار انھوں نے وزارت کی پیش کش پر خزانے کا شعبہ طلب کرنے پر کیا تھا: «{اِنِّيْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ }» [ یوسف: ۵۵ ] ”بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔“ ➋ { وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ:} انسان خوش حال ہو یا خستہ حال، اگر وہ نیکی اور اچھائی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں، مثلاً کوئی بھی تنگ دست جو اللہ کا شکوہ کرنے اور اپنی حالت پر ناراض رہنے کے بجائے اس کی تقدیر پر شاکر ہو کر صبر کرے، اس پر خوش رہے اور غلط سمت میں قدم نہ اٹھائے تو اسے اللہ تعالیٰ ایسے ہی بدلہ دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نوازش صرف یوسف علیہ السلام ہی پر نہیں تھی بلکہ احسان پر کاربند رہنے والے ہر شخص کو ایسے ہی جزا ملتی ہے۔
وَ رَاوَدَتۡہُ الَّتِیۡ ہُوَ فِیۡ بَیۡتِہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ غَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَ قَالَتۡ ہَیۡتَ لَکَ ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَایَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی "آ جا" یوسفؑ نے کہا "خدا کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں!) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، یوسف کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وه اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاؤ یوسف نے کہا اللہ کی پناه! وه میرا رب ہے، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جس عورت کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے اور دروازے سب بند کردیے اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں کہا اللہ کی پناہ وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر وہ (یوسف) جس عورت کے گھر میں تھا وہ اپنی مطلب براری کے لئے اس پر ڈورے ڈالنے لگی (چنانچہ) ایک دن سب دروازے بند کر دیے اور کہا بس آجاؤ! یوسف نے کہا معاذ اللہ! (اللہ کی پناہ) وہ (تیرا شوہر) میرا مربی و محسن ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے (اپنے گھر میں) ٹھہرایا ہے تو اس کے بدلے میں اس کی امانت میں خیانت کروں؟ (اے معاذ اللہ) بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زلیخا کی بدنیتی سے الزام تک ٭٭

عزیز مصر جس نے آپ علیہ السلام کو خریدا تھا اور بہت اچھی طرح اولاد کے مثل رکھا تھا اپنی گھر والی سے بھی تاکیداً کہا تھا کہ انہیں کسی طرح تکلیف نہ ہو عزت و اکرام سے انہیں رکھو۔ اس عورت کی نیت میں کھوٹ آ جاتی ہے۔ جمال یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔ دروازے بھیڑ کر بن سنور کر برے کام کی طرف یوسف علیہ السلام کو بلاتی ہے لیکن یوسف علیہ السلام بڑی سختی سے انکار کر کے اسے مایوس کر دیتے ہیں۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تیرا خاوند میرا سردار ہے۔ اس وقت اہل مصر کے محاورے میں بڑوں کے لیے یہی لفظ بولا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں تمہارے خاوند کی مجھ پر مہربانی ہے وہ میرے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں ان کی خیانت کروں۔ یاد رکھو چیز کو غیر جگہ رکھنے والے بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ «ھَیْتَ لَکَ» کو بعض لوگ سریانی زبان کا لفظ کہتے ہیں بعض قطبی زبان کا بعض اسے غریب لفظ بتلاتے ہیں۔ کسائی اسی قرأت کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے اہل حوران کا یہ لغت ہے جو حجاز میں آ گیا ہے۔

اہل حوران کے ایک عالم نے کہا ہے کہ یہ ہمارا لغت ہے۔ امام ابن جریر نے اس کی شہادت میں شعر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے دوسری قرأت «ھئت» بھی ہے پہلی قرأت کے معنی تو آؤ کے تھے، اس کے معنی میں تیرے لیے تیار ہوں بعض لوگ اس قرأت کا انکار ہی کرتے ہیں۔ ایک قرأت ھئت بھی ہے۔ یہ قرأت غریب ہے۔ عام مدنی لوگوں کی یہی قرأت ہے۔ اس پر بھی شہادت میں شعر پیش کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قاریوں کی قرأتیں قریب قریب ہیں پس جس طرح تم سکھائے گئے ہو پڑھتے رہو۔ گہرائی سے اور اختلاف سے اور لعن طعن سے اور اعتراض سے بچو اس لفظ کے یہی معنی ہیں کہ آ اور سامنے ہو وغیرہ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس لفظ کو پڑھا کسی نے کہا اسے دوسری طرح بھی پڑھتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا درست ہے مگر میں نے تو جس طرح سیکھا ہے اسی طرح پڑھوں گا۔ یعنی «ھَیتَ» نہ کہ «ھِیتُ» یہ لفظ تذکیر تانیث واحد تثنیہ جمع سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ جیسے «ھَیْتَ لَکَ ھَیْتَ لَکُمْ ھَیْتَ لَکُمَا ھَیْتَ لَکُنَّ ھَیْتَ لَھُنَّ» ۔
23۔ 1 یہاں سے حضرت یوسف ؑ کا نیا امتحان شروع ہوا عزیز مصر کی بیوی، جس کو اس کے خاوند نے تاکید کی تھی کہ یوسف ؑ کو اکرام و احترام کے ساتھ رکھے، وہ حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی اور انھیں دعوت گناہ دینے لگی، جسے حضرت یوسف ؑ نے ٹھکرا دیا۔
(آیت 23) ➊ {وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا:رَاوَدَ “} باب مفاعلہ سے ہے، نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا، پھسلانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بار بار اور ہر طریقے سے پھسلایا۔ کیونکہ ایک ہی گھر میں رہ کر خدمت کرنے والے غلام سے ہزار انداز سے اور بار بار اپنے شوق کا اظہار ہو سکتا ہے، مثلاً غلام کھانا لایا ہے تو حکم ہو، دور کیوں بیٹھے ہو؟ ادھر میرے ساتھ آ کر بیٹھو وغیرہ۔{”بَيْتٌ“ ”بَاتَ يَبِيْتُ“ } (رات گزارنا) سے ہے، اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں آدمی رات رہتا ہو، پھر گھر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب بھی اس کا اصل استعمال اینٹ پتھر کے مکان یا اون، پشم اور کپڑے وغیرہ کے خیمے پر ہوتا ہے۔ صحن سمیت پورے گھر کو عموماً {”دَارٌ“ } کہتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام جب تک بچے تھے، عزیز کی بیوی کی نظر بچے پر شفقت و محبت والی تھی، اب جب جوانی آئی تو وہ نگاہ نہ رہی۔ یہی اصل بیٹے اور متبنّیٰ کا فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو بے مثال حسن سے نوازا تھا۔ حدیث معراج میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [ وَ إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ ] [ مسلم، الإیمان، باب الإسراء …:۱۶۲] ”انھیں حسن کا شطر عطا کیا گیا تھا۔“ شطر کا معنی نصف بھی ہے اور ایک حصہ بھی۔ (قاموس) یعنی یوسف علیہ السلام کو حسن کا خاصا بڑا حصہ عطا ہوا تھا۔ عزیز کی بیوی کے غلط راستے پر چل نکلنے کا ایک باعث ترمذی (۲۱۶۵) میں موجود اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی بھی تھی کہ کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ اکیلی نہ ہو، ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا(جو دونوں کو ایک دوسرے کی نگاہ میں خوبصورت بنا کر دکھائے گا)۔ یہاں یوسف علیہ السلام تو ویسے ہی شیطان سے محفوظ تھے، اگرچہ غلام ہونے کی وجہ سے پردہ لازم نہ تھا، مگر ایک ہی گھر اور کمرے میں سال ہا سال کی خلوت عزیز مصر کی بیوی کو لے ڈوبی۔ افسوس! مسلمان اب بھی اس کی پروا نہیں کرتے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کے بھائی کے ساتھ خلوت سے بھی منع کیا، فرمایا: [ اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ ] [ بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل…: ۵۲۳۲ ] ”خاوند کا بھائی تو موت ہے۔“ ➋ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کا نام نہیں لیا جس کے گھر میں یوسف علیہ السلام تھے۔ حق یہی ہے کہ ہم بھی نہ لیں، خصوصاً جب ہمیں اس کا نام کسی صحیح ذریعے سے معلوم ہی نہ ہو اور نام لینے میں کسی گناہ گار خصوصاً عورت کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ اس لیے بار بار زلیخا کہنے والے قرآن سے سبق سیکھیں اور اپنے اس رویے کو ترک کریں۔ ➌ { عَنْ نَّفْسِهٖ:} قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ملاحظہ فرمایئے، پوری بات سمجھ میں آ رہی ہے اور کوئی ناشائستہ لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔ ➍ { وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ …: ” غَلَّقَ “} باب تفعيل ميں سے ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”دروازے اچهی طرح بند كر ليے“ كيا ہے۔ {”هَيْتَ لَكَ “} اسم فعل ہے جس کا معنی ہے ”آ، جلدی کر۔“ {” لَكَ “} خطاب کی صراحت کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں: {”شُكْرًا لَكَ، سَقْيًا لَكَ “} اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف علیہ السلام کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہو سکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بے مثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف؟ ➎ { قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ:} یوسف علیہ السلام کے سامنے جب بچنے کی کوئی راہ نہ رہی تو انھوں نے اس ذات پاک کی پناہ مانگی جس کی پناہ ملنے کے بعد کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ {” مَعَاذَ “} مصدر میمی ہے، معنی ہے: {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مَعَاذًا مِمَّا تُرِيْدِيْنَ“} یعنی تم جو چاہتی ہو میں اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر اس سے بچا لے۔ ➎ { اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور مفسرین میں سے ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کسی ایک معنی کو ترجیح دی ہے۔ ایک تو یہ کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، بے شک وہ اللہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا، اس کی نافرمانی کرکے میں ظالموں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ دوسرا معنی ہے کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تم اس عزیز مصر کی بیوی ہو جو میرا مالک ہے، میں اس کا غلام ہوں، اس نے میرے لیے رہنے کا ایسا اچھا انتظام کیا ہے، میں اپنے مالک کی خیانت کیسے کر سکتا ہوں، یہ تو سراسر ظلم ہے۔ پہلے معنی میں عزیز کی بیوی کو اللہ سے ڈرایا اور اس کے احسان یاد دلائے ہیں، دوسرے معنی میں اسے خاوند کی شرم دلائی ہے، شاید اس طرح ہی وہ باز آ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں معنی درست ہیں، دونوں بیک وقت مراد بھی ہو سکتے ہیں، مگر دوسرا معنی زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تقدیر پر شاکر ہو کر اپنے آپ کو عزیز مصر کا غلام سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی خدمت اور اطاعت کرتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے مالک اور مربی کے احسان کا بدلہ اس پر ظلم کے ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے اور لفظ ”رب“ غلام کے مالک کے لیے یوسف علیہ السلام کی زبانی اسی سورت میں کئی جگہ آیا ہے، فرمایا: «{ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ }» [ یوسف: ۵۰ ] اور فرمایا: «{ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا }» [ یوسف: ۴۱ ] اور فرمایا: «{ اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ }» [ یوسف: ۴۲ ] ➐ { اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ:} یعنی زنا ظلم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ زنا اپنے آپ پر ظلم ہے، اس عورت پر ظلم ہے، اس کے خاوند پر ظلم ہے، اپنے خاندان اور اس کے خاوند کے خاندان دونوں پر ظلم ہے کہ کسی خاندان کا بچہ دوسرے خاندان کا بچہ شمار ہو گا، نسب برباد ہو گا۔ زنا پوری انسانیت پر ظلم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا }» [ بنی إسرائیل: ۳۲ ] ” اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ یعنی زنا بے حیائی ہونے کے ساتھ ایک برا راستہ ہے جو آج تمھیں دوسرے کی عزت برباد کرنے کے لیے لے گیا ہے تو کل کسی کو تمھارے گھر بھی لے آئے گا، مثلاً شریعت نے جب آپ کو چوری سے روکا ہے تو اس نے صرف آپ کو نہیں روکا بلکہ کروڑوں، اربوں کو آپ کی چوری کرنے سے روکا ہے۔ اگر آپ باز نہ آئے تو دوسرے کیوں باز آئیں گے؟ مسلمانوں کے نسب کے محفوظ رہنے اور ان کے معاشرے کی پاکیزگی پر کفار کو بے حد حسد ہے۔ وہ اس شرف سے محروم ہو جانے کے بعد اب ہم میں بھی بے حیائی پھیلا کر ہمیں اس شرف سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کا طرزِ عمل اس معاملے میں ہمارے لیے بہترین چراغ راہ ہے۔
وَ لَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَ ہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ ؕ کَذٰلِکَ لِنَصۡرِفَ عَنۡہُ السُّوۡٓءَ وَ الۡفَحۡشَآءَ ؕ اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اُس کی طرف بڑھی اور یوسفؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس عورت (زلیخا) نے گناہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اور وہ مرد (یوسف) بھی اس کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کا برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا تاکہ ہم اس (یوسف) سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں بے شک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا وہ اس کے ساتھ ارادہ کر چکی تھی اور وہ بھی اس عورت کے ساتھ ارادہ کر لیتا اگر یہ نہ ہوتا کہ اس نے اپنے رب کی دلیل دیکھ لی۔ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔ بے شک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یوسف علیہ السلام کے تقدس کا سبب ٭٭

سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری، مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:7051] ‏‏‏‏ ایک قول ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اسے مارنے کا قصد کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے بیوی بنانے کی تمنا کی تھی۔ ایک قول ہے کہ آپ قصد کرتے اگر اگر دلیل نہ دیکھتے لیکن چونکہ دلیل دیکھ لی قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اس قول میں عربی زبان کی حیثیت سے کلام ہے جسے امام ابن جریر وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ تو تھے اقوال قصد یوسف کے متعلق۔ وہ دلیل جو آپ نے دیکھی اس کے متعلق بھی اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ کہتے ہیں اپنے والد یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ گویا وہ اپنی انگلی منہ میں ڈالے کھڑے ہیں۔

اور یوسف علیہ السلام کے سینے پر آپ نے ہاتھ مارا۔ کہتے ہیں اپنے سردار کی خیالی تصویر سامنے آ گئی۔ کہتے ہیں آپ کی نظر چھت کی طرف اُٹھ گئی دیکھتے ہیں کہ اس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [ 17-الاسراء: 32 ] ‏‏‏‏ خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا وہ بڑی بے حیائی کا اور اللہ کے غضب کا کام ہے اور وہ بڑا ہی برا راستہ ہے۔ کہتے ہیں تین آیتیں لکھی ہوئی تھیں ایک تو آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ» [ 82-الانفطار: 10 ] ‏‏‏‏ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ دوسری آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ» [ 10-یونس: 61 ] ‏‏‏‏ تم جس حال میں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تیسری آیت «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» [ 13-الرعد: 33 ] ‏‏‏‏ اللہ ہر شخص کے ہر عمل پر حاضر ناظر ہے۔ کہتے ہیں کہ چار آیتیں لکھی پائی تین وہی جو اوپر ہیں اور ایک حرمت زنا کی «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [ 17-الاسراء: 32 ] ‏‏‏‏ جو اس سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی آیت دیوار پر ممانعت زنا کے بارے میں لکھی ہوئی پائی۔ کہتے ہیں ایک نشان تھا جو آپ کے ارادے سے آپ کو روک رہا تھا۔ ممکن ہے وہ صورت یعقوب علیہ السلام ہو۔ اور ممکن ہے اپنے خریدنے والے کی صورت ہو۔ اور ممکن ہے آیت قرآنی ہو کوئی ایسی صاف دلیل نہیں کہ کسی خاص ایک چیز کے فیصلے پر ہم پہنچ سکیں۔ پس بہت ٹھیک راہ ہمارے لیے یہی ہے کہ اسے یونہی مطلق چھوڑ دیا جائے جیسے کہ اللہ کے فرمان میں بھی اطلاق ہے [ اسی طرح قصد کو بھی ] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہم نے جس طرح اس وقت اسے ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا، اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے اور اسے برائیوں اور بے حیائیوں سے محفوظ رکھتے رہے۔ وہ تھا بھی ہمارا برگزیدہ پسندیدہ بہترین اور مخلص بندہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر درود و سلام نازل ہوں۔
24۔ 1 بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ (لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ) 12۔ یوسف:24) کا تعلق ماقبل یعنی وھم بھا سے نہیں بلکہ اس کا جواب محذوف ہے یعنی لولا ان راٰ برھان ربہ لفعل ماھم بہ اگر یوسف ؑ اللہ کی دلیل نہ دیکھتے تو جس چیز کا قصد کیا تھا وہ کر گزرتے۔ یہ ترجمہ اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور جن لوگوں نے اسے لَوْ لَا کے ساتھ جوڑ کر یہ معنی بیان کئے ہیں کہ یوسف ؑ نے قصد ہی نہیں کیا، ان مفسرین نے اسے عربی اسلوب کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور یہ معنی بیان کئے ہیں کہ قصد تو یوسف ؑ نے بھی کرلیا تھا لیکن ایک تو یہ اختیاری نہیں تھا بلکہ عزیز مصر کی بیوی کی ترغیب اور دباؤ اس میں شامل تھا۔ دوسرے یہ کہ گناہ کا قصد کرلینا عصمت کے خلاف نہیں ہے، اس پر عمل کرنا عصمت کے خلاف ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) مگر محققین اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ یوسف ؑ بھی اس کا قصد کرلیتے۔ اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھے ہوتے۔ یعنی انہوں نے اپنے رب کی برہان دیکھ رکھی تھی۔ اس لیے عزیز مصر کی بیوی کا قصد ہی نہیں کیا۔ بلکہ دعوت گناہ ملتے ہی پکار اٹھے معاذ اللہ۔ البتہ قصد نہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ نفس میں ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہیں ہوئی۔ ہیجان اور تحریک پیدا ہوجانا الگ بات ہے۔ اور قصد کرلینا الگ بات ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر سرے سے ہیجان اور تحریک ہی پیدا نہ ہو تو ایسے شخص کا گناہ سے بچ جانا کوئی کمال نہیں۔ کمال تو تب ہی ہے کہ نفس کے اندر داعیہ اور تحریک پیدا ہو اور پھر انسان اس پر کنٹرول کرے اور گناہ سے بچ جائے۔ حضرت یوسف ؑ نے اسی کمال صبر و ضبط کا بےمثال نمونہ پیش فرمایا۔ 24۔ 2 یہاں پہلی تفسیر کے مطابق لولاء کا جواب محذوف ہے لفعل ماھم بہ یعنی اگر یوسف ؑ رب کی برہان دیکھتے تو جو قصد کیا تھا کر گزرتے۔ یہ برہان کیا تھی؟ اس میں مختلف اقوال ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رب کی طرف سے کوئی ایسی چیز آپ کو دکھائی گئی کہ اسے دیکھ کر آپ نفس کے داعیئے کے دبانے اور رد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی اسی طرح حفاظت فرماتا ہے۔ 24۔ 3 یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو برہان دکھا کر برائی یا اس کے ارادے سے بچا لیا، اسی طرح ہم نے اسے ہر معاملے میں برائی اور بےحیائی کی باتوں سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ کیونکہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔
(آیت 24) ➊ {وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ وَ هَمَّ بِهَا:} عزیز کی بیوی کا یوسف علیہ السلام کے ساتھ ارادۂ بدی تو ”لام“ اور {” قَدْ “} سے (جو دونوں تحقیق کے لیے بمعنی قسم آتے ہیں) بلکہ سارے واقعہ ہی سے ظاہر ہے، البتہ یوسف علیہ السلام نے ارادہ کیا یا نہیں، اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ جس طرح روزہ دار کو ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی رغبت ہوتی ہے مگر وہ روزے کی وجہ سے اس پر قابو پا لیتا ہے اور یہ ایک طبعی چیز ہے۔ اس قسم کا خیال یوسف علیہ السلام کے دل میں آ گیا ہو تو کچھ بعید نہیں مگر {” بُرْهَانَ رَبِّهٖ “} دیکھنے کی برکت سے یوسف علیہ السلام نے اسے جھٹک دیا۔ مگر دوسری تفسیر جس پر زیادہ اطمینان ہوتا ہے، وہ یہی ہے جو ترجمے سے ظاہر ہے اور قرآن مجید میں {” لَوْ لَاۤ “} شرط کی جزا اس سے پہلے آنے کی مثال بھی موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے متعلق فرمایا: «{ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا }» [ القصص: ۱۰ ] ”بے شک وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا۔“ اگر یوسف علیہ السلام ارادہ کر چکے ہوتے اور برہانِ رب کے ذریعے سے ان کو ہٹایا جاتا تو آیت کے الفاظ یہ نہ ہوتے: «{ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ }» ”اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں“ بلکہ یہ ہوتے: {”كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَهُ عَنِ السُّوْٓءِ وَالْفَحْشَاءِ“} کہ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اسے برائی اور بے حیائی سے ہٹا دیں۔ پھر اس واقعہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے جس طرح یوسف علیہ السلام کی بے گناہی کی شہادت دی اس کا تقاضا بھی یہی ہے، مثلاً (1) خود اللہ تعالیٰ: «{ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ }» (2) یوسف علیہ السلام «{ هِيَ رَاوَدَتْنِيْ }» ‏‏‏‏ (3) شاہد ”قمیص کا معائنہ“ (4) عزیز مصر: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ }» (5) شاہِ مصر: «{ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ }» (6) زنان مصر: «{ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْٓءٍ }» (7) اور خود عزیز کی بیوی: «{ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ}» (8) خود یوسف علیہ السلام نے بعد میں فرمایا: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ }» کہ اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا، یہ صریح دلیل ہے کہ وہ مائل نہیں ہوئے تھے۔ سب کی شہادتیں ہمارے سامنے ہیں۔ رہے وہ مفسرین جو یوسف علیہ السلام کو بلا دلیل گناہ کے عین کنارے پر پہنچا کر پیچھے ہٹاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو خود جواب دہ ہوں گے اور جو مفسرین ان بند دروازوں میں ہونے والی گفتگو بھی بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں وہ شاید وہاں چھپ کر سنتے رہے ہوں گے، یا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آئی ہو گی، کیونکہ قرآن و حدیث اور عقل و فطرت میں سے تو کوئی چیز ان مکالموں کی تائید نہیں کرتی۔ ➋ { لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ:} وہ رب کی دلیل کیا تھی؟ اس کی تعیین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے، البتہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جو محض اقوال ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے برے کام پر آمادہ ہوں اور اسی کو یہاں {” بُرْهَانَ رَبِّهٖ “} سے تعبیر فرمایا ہو۔“ ➌ { اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ:اَلْمُخْلِصِيْنَ “} لام کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اخلاص والے، نیک بخت بندے مراد ہوں گے اور {”الْمُخْلَصِيْنَ “} لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی ہو گا وہ جنھیں چن لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔ یہاں لام کے فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چنے جانے کا شرف حاصل ہوا۔ مخلص بندہ ہونا ان دونوں باتوں کی علت ہے کہ یوسف علیہ السلام نے برائی کا ارادہ بھی نہیں کیا اور یہ کہ ہم نے برائی و بے حیائی کو ان سے ہٹا کر رکھا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے، جن کے متعلق شیطان نے خود اعتراف کیا تھا کہ میں انھیں گمراہ نہیں کر سکوں گا، اس نے کہا تھا: «{ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ }» [ الحجر: ۴۰ ] ”مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔“ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کی طہارت چار بار بیان کی ہے: (1) {” لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ “} (2) {” وَ الْفَحْشَآءَ “} (3) {” اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ “} (4) { ” الْمُخْلَصِيْنَ “}
وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ ؕ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَہۡلِکَ سُوۡٓءًا اِلَّاۤ اَنۡ یُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار یوسفؑ اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسفؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، "کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے"
مولانا محمد جوناگڑھی
دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈاﻻ اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا، تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا اراده کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی دردناک سزا دی جائے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں دروازے کے پاس ملا بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ دونوں ایک دوسرے سے پہلے دروازہ تک پہنچنے کے لئے دوڑے اور اس عورت نے اس مرد (یوسف) کا کرتہ پیچھے سے (کھینچ کر) پھاڑ دیا اور پھر دونوں نے اس عورت کے خاوند کو دروازے کے پاس (کھڑا ہوا) پایا۔ اسے دیکھتے ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اس عورت نے بات بنائی اور کہا جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ بدکاری کرنے کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا کوئی دردناک عذاب دیا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے، یا دردناک سزا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
25۔ 1 جب حضرت یوسف ؑ نے دیکھا کہ وہ عورت برائی کے ارتکاب پر مصر ہے، تو وہ باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑے، یوسف ؑ کے پیچھے انھیں پکڑنے کے لئے عورت بھی دوڑی۔ یوں دونوں دروازے کی طرف لپکے اور دوڑے۔ 25۔ 2 یعنی خاوند کو دیکھتے ہی خود معصوم بن گئی اور مجرم تمام تر یوسف ؑ کو قرار دے کر ان کے لئے سزا بھی تجویز کردی۔ حالانکہ صورت حال اس کے برعکس تھی، مجرم خود تھی جب کہ حضرت یوسف ؑ بالکل بےگناہ اور برائی سے بچنے کے خواہش مند اور اس کے لئے کوشاں تھے۔
(آیت 25){وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ …:} علماء نے لکھا ہے کہ اس جملے کا تعلق {” وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ …“} کے ساتھ ہے اور {” كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ…“} درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو یوسف علیہ السلام کی پاک بازی کو ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا، مگر یوسف علیہ السلام نے انکار کیا، چنانچہ اسی کشمکش میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے، آگے یوسف علیہ السلام اور پیچھے عزیز کی بیوی۔ یوسف علیہ السلام اس لیے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ پہلے پہنچ کر انھیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔ یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ دروازے جو عزیز کی بیوی نے بہت اچھی طرح بند کیے جب یوسف علیہ السلام گناہ سے بچنے کے لیے بند دروازوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بھاگے تو اللہ تعالیٰ نے کھولنے میں بھی مدد فرما دی۔ اسی مقصد کے لیے اس نے پیچھے سے قمیص پکڑی کہ روک لے مگر قمیص پھاڑ کر بھی روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ یوسف دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے، ساتھ ہی وہ بھی نکلی تو اچانک دونوں نے اس کے خاوند کو سامنے پایا۔ اب وہ سارا ”عشق حقیقی“ جس کی داستان ہمارے قصہ گو مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور اسے ایک رسولِ خدا کا عشق صادق ہونے کی وجہ سے معرفتِ الٰہی کی ایک منزل قرار دیتے ہیں، ایک لمحہ میں بہتان کے سانچے میں ڈھل گیا۔ کہنے لگی، اس شخص کی کیا جزا ہے جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ قید کیا جائے یا دردناک سزا ہو؟ سبحان اللہ! خاوند کو بھڑکانے کے لیے، جو غلام کو ورغلانے والی تھی وہ خاوند کی عفت مآب گھر والی بن گئی، دعویٰ کرنے والی بھی خود ہی بن گئی اور دعویٰ یہ نہیں کہ اس نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی یا دست درازی کی ہے، بلکہ صرف یہ کہ برائی کا ارادہ کیا ہے، اب کسی کے سینے کے اندر جا کر کون تحقیق کرے کہ ارادہ تھا بھی یا نہیں اور تھا تو کیا تھا؟ پھر اس الزام کے ثبوت کے لیے کوئی گواہ یا قرینہ پیش نہیں کیا، اس کے باوجود خود ہی سزا سنانے والی جج بن گئی کہ اس کے لیے ان دو سزاؤں میں سے ایک کے سوا ہو ہی کیا سکتی ہے؟
قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوسفؑ نے کہا "یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی" اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ "اگر یوسفؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی، اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا
علامہ محمد حسین نجفی
یوسف (ع) نے کہا (حقیقت یہ ہے کہ) خود اسی نے اپنی مطلب برآری کے لئے مجھ پر ڈورے ڈالے اور مجھے پھسلانا چاہا اس پر اس عورت کے کنبہ والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔
عبدالسلام بن محمد
اس (یوسف)نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
26۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ وہ عورت تمام الزام ان پر ہی دھر رہی ہے صورت حال واضح کردی اور کہا کہ مجھے برائی پر مجبور کرنے والی یہی ہے۔ میں اس سے بچنے کے لئے باہر دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا ہوں۔ 26۔ 2 یہ انہی کے خاندان کا کوئی سمجھدار آدمی تھا جس نے یہ فیصلہ کیا۔ فیصلے کو یہاں شہادت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، کیونکہ معاملہ ابھی تحقیق طلب تھا۔ شیر خوار بچے کی شہادت والی بات مستند روایات سے ثابت نہیں۔ صحیحین میں تین شیر خوار بچوں کے بات کرنے کی حدیث ہے جن میں یہ چوتھا نہیں ہے جس کا ذکر اس مقام پر کیا جاتا ہے۔
(آیت 26 تا 28) ➊ {قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ:} یوسف علیہ السلام اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف علیہ السلام نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔ ➋ {وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا …:} عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑ گئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔ دیکھا گیا تو عورت کے جسم یا لباس پر دست درازی کا کوئی نشان نہ تھا۔ ہاں، یہ بات سب کو معلوم ہو چکی تھی کہ یوسف کی قمیص پھٹی ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کے گھر والوں میں سے ایک سمجھ دار آدمی نے فیصلہ کیا (یہاں شہادت کا لفظ قرینے پر فیصلہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے) کہ قمیص کو دیکھ کر فیصلہ کر لو۔ ظاہر ہے کہ اس آدمی نے ابھی تک قمیص دیکھی نہ تھی، ورنہ وہ یہ نہ کہتا کہ قمیص دیکھو کدھر سے پھٹی ہے، بلکہ اس نے ایک مسلمہ قاعدے کے طور پر یہ فیصلہ دیا۔ جب عزیز مصر نے قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھٹی ہے تو ساری بات اس کی سمجھ میں آ گئی اور پھر صرف اپنی بیوی ہی نہیں سب عورتوں کے متعلق کہہ دیا کہ یقینا یہ تمھارے فریب میں سے ایک فریب ہے، یقینا تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔ یہ شاہد کون تھا؟ مستدرک حاکم اور بعض دوسری کتب میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ ان چار بچوں میں سے ایک تھا جنھوں نے گود میں کلام کیا۔ اس حدیث کو بہت سے اصحاب نے صحیح یا حسن کہا ہے، مگر بہت سے اصحاب نے ضعیف بھی کہا ہے۔ جن میں سے شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سرفہرست ہیں۔ دیکھیے: [سلسلة الأحاديث الضعيفة 271/2، ح: ۸۸۰] پوری بحث وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی ”الجواب الکافی “ میں اسے ضعیف کہا ہے۔ میری دانست میں یہی بات درست ہے کہ وہ ایک سمجھ دار آدمی تھا، کیونکہ (1) خود ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ثقہ راویوں کے ساتھ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ شاہد داڑھی والا مرد تھا۔ اگر ابن عباس رضی اللہ عنھما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہوتا تو وہ کبھی اس کے خلاف نہ فرماتے، جب کہ ان کا یہ قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔ (2) اگر دودھ پیتے بچے نے گواہی دی تھی تو یہ معجزہ خود اکیلا ہی یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کافی تھا، اس بچے کو عزیز مصر کی بیوی کا رشتہ دار بتائے جانے کی اور قمیص آگے یا پیچھے سے پھٹی ہونے کی پڑتال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ہمارے بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس بچے کا بول اٹھنا ہی بہت بڑا تھا، جس نے کلام کرنا سیکھا ہی نہیں، مگر قرآن نے اس پر اکتفا نہیں کیا، کیونکہ قرآن بنیادی طور پر دلیل یا تحقیق اور جستجو کو معیار ماننا یا منوانا چاہتا ہے۔ وہ نری تقدیس پر نہیں، تحقیق پر بنیاد رکھتا ہے۔ چنانچہ بچے نے دلیل اور مشاہدہ کو فیصلے کی بنیاد قرار دیا اور کہا: ”(قمیص) دیکھ لو…۔“ اگر یہ بات درست مانی جائے تو پھر مریم علیھا السلام کی پاک بازی کے ثبوت کے لیے بچے کے معجزۂ کلام کے سوا تحقیق کی کیا بنیاد تھی؟ اور صحیح بخاری میں مذکور جریج پر جس بچے کا باپ ہونے کا الزام لگا تھا، وہاں صرف اس بچے کے بولنے کے سوا تحقیق کی بنیاد کیا تھی؟ دونوں جگہ بچے کا بولنا ہی کافی دلیل تھا۔ ➌ یہاں بعض لوگ عورتوں کی مذمت کے طور پر عجیب صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کا مکر و فریب شیطان کے مکر وفریب سے بھی بڑا ہے، دلیل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے کید (مکر) کو عظیم قرار دیا، جب کہ شیطان کے کید کے متعلق فرمایا: «{ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا }» [ النساء: ۷۶ ] ”بے شک شیطان کی چال (کید) ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔“ حالانکہ یہاں سورۂ یوسف میں یہ عزیز مصر کا قول نقل ہوا ہے اور اس نے بھی اپنی بیوی کا جرم ہلکا کرنے کے لیے تمام عورتوں کو اس میں لپیٹ لیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے نقل کرکے اس پر رد نہیں فرمایا، مگر یہ قرآن کا طریقہ نہیں کہ بات سننے والے کی سمجھ میں آ رہی ہو کہ کون کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے تو اس کا رد ضرور ہی کرے۔ پھر دیکھیے حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کا کید (مکر) مردوں کے مقابلے میں عظیم ہے، جب کہ شیطان کا (مکر) اللہ تعالیٰ اور اس کی راہ میں لڑنے والوں کے مقابلے میں ضعیف ہے۔ یہاں قوت و ضعف کے فریق ہی الگ الگ ہیں۔ البتہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے فتنے سے ہوشیار رہنے کی تاکید صحیح احادیث سے ثابت ہے، اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ] [بخاری، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ…: ۵۰۹۶ ] ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِيْنٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَامَعْشَرَ النِّسَاءِ! ] [بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکاۃ علی الأقارب: ۱۴۶۲ ] ”میں نے عقل اور دین کی ناقص شخصیات میں سے کسی کو تمھاری کسی ایک سے زیادہ ہوشیار آدمی کی عقل کو لے جانے والا نہیں دیکھا، اے عورتو کی جماعت!“ ”اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایرانیوں کے اپنے بادشاہ کی بیٹی کو بادشاہ مقرر کرنے پر فرمایا: [ لَنْ يُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ] [بخاري، المغازي، باب كتاب النبي صلي الله عليه وسلم إليٰ كسرٰي و قيصر: 4425] ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنا امر (سلطنت) کسی عورت کے حوالے کر دیا۔“
وَ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر اس کا کرتا پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیاہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَمَّا رَاٰ قَمِیۡصَہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنۡ کَیۡدِکُنَّ ؕ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں
مولانا محمد جوناگڑھی
خاوند نے جو دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیٹھ کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے، بیشک تمہاری چال بازی بہت بڑی ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب اس (خاوند) نے یوسف کا کرتہ دیکھا کہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سے کہا یہ تمہاری مکاریوں سے ایک مکاری ہے بے شک تمہاری مکاریاں بڑی سخت ہوتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب اس نے اس کی قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو اس نے کہا یقینا یہ تم عورتوں کے فریب سے ہے، بے شک تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
28۔ 1 یہ عزیز مصر کا قول ہے جو اس نے اپنی بیوی کی حرکت قبیحہ دیکھ کر عورتوں کی بابت کہا، یہ نہ اللہ کا قول ہے نہ ہر عورت کے بارے میں صحیح، اس لئے اسے ہر عورت پر چسپاں کرنا اور اس بنیاد پر عورت کو مکر و فریب کا پتلا باور کرانا، قرآن کا ہرگز منشا نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ اس جملے سے عورت کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی"
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر یوسف (ع) سے کہا اے یوسف! اس بات سے درگزر کر (اسے جانے دے) اور بیوی سے کہا اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا تو خطاکاروں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یوسف! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
29۔ 1 یعنی اس کا چرچا مت کرو۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر پر حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی واضح ہوگئی تھی۔
(آیت 29) ➊ {يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا …:} عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف علیہ السلام سے کہا کہ یوسف! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمھاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہو گئی ہے)۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقینا تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ {”مُخْطِئٌ“} اور {”خَاطِئٌ“} کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہو جائے نہ کہ دانستہ طور پر اور {”خَاطِئٌ“} وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا: «{اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ }» [ القصص: ۸ ] ”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔“ ➋ بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بے غیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ) ➌ { وَ اسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔
وَ قَالَ نِسۡوَۃٌ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ ۚ قَدۡ شَغَفَہَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰىہَا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وه صریح گمراہی میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہ ے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر (جب اس واقعہ کا چرچا ہوا تو) شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان پر اپنی مطلب براری کے لئے ڈورے ڈال رہی ہے اس کی محبت اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی میں مبتلا دیکھتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس کے نفس سے پھسلاتی ہے، بلاشبہ وہ محبت کی روسے اس کے دل کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ بے شک ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏
30۔ 1 جس طرح خوشبو کو پردوں سے چھپا یا نہیں جاسکتا، عشق و محبت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ گو عزیز مصر نے حضرت یوسف ؑ کو اسے نظر انداز کرنے کی تلقین کی اور یقیناً آپ کی زبان مبارک پر اس کا کبھی ذکر بھی نہیں آیا ہوگا اس کے باوجود یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور زنان مصر میں اس کا چرچا عام ہوگیا، عورتیں تعجب کرنے لگیں کی عشق کرنا تھا تو کسی پیکر حسن و جمال سے کیا جاتا، یہ کیا اپنے ہی غلام پر زلیخا فریفتہ ہوگئی، یہ تو اس کی ہی نادانی ہے۔
(آیت 30){ وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ …: ” نِسْوَةٌ، نِسَاءٌ“} اور {” نِسْوَانٌ “} سب {”اِمْرَأَةٌ“} کی جمع ہیں، مگر {” اِمْرَأَةٌ “} لفظ سے نہیں۔ (قاموس) {” نِسْوَةٌ “} کے {” اِمْرَأَةٌ“} کی جمع حقیقی نہ ہونے کی وجہ ہی سے فعل {” قَالَتْ نِسْوَةٌ “} کے بجائے: {” قَالَ نِسْوَةٌ “} آیا ہے، کیونکہ غیر حقیقی جمع ہونے کی صورت میں ایسا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہر جگہ {”نِسَاءٌ“} آیا ہے، صرف اس آیت یا اسی سورت کی آیت (۵۰) میں کل دو مرتبہ {” نِسْوَةٌ “} آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ {” نِسْوَةٌ “} جمع قلت کا وزن ہے، جو تین سے دس تک استعمال ہوتا ہے، بخلاف {” نِسَاءٌ“} وغیرہ کے کہ وہ کثرت کے لیے بھی آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کی بیوی نے چند ایک خاص عورتوں ہی کو اس مجلس کی دعوت دی تھی۔ {” شَغَفَهَا “} شغاف دل کے پردے کو کہتے ہیں، یعنی دل کے پردے کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ بعض نے شغاف کا معنی ”سویداء القلب“ (دل کا مرکز) بھی کیا ہے۔ {” تُرَاوِدُ فَتٰىهَا “} (اپنے غلام کو پھسلاتی ہے) ان عورتوں نے ماضی کا صیغہ {” رَاوَدَتْ“} (اس نے پھسلایا ہے) کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال کیا کہ وہ اب بھی اس سے باز نہیں آتی، بلکہ پھسلاتی رہتی ہے۔
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَیۡہِنَّ وَ اَعۡتَدَتۡ لَہُنَّ مُتَّکَاً وَّ اٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا وَّ قَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ وَ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ وَ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے جو اُن کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اُن کو بلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک چھری رکھ دی (پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں) اس نے یوسفؑ کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ جب ان عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پکا ر اٹھیں "حاشاللّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی اور یوسف سے کہا ان پر نکل آؤ جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،
علامہ محمد حسین نجفی
جب زلیخا نے ان عورتوں کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اس نے انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مسندیں لگا دیں اور ہر ایک کو (پھل کاٹنے کیلئے) ایک چھری دے دی۔ (پھر جب وہ پھل کاٹ کر کھانے لگیں تو) اس نے یوسف (ع) سے کہا ذرا ان کے سامنے نکل آ پس جب انہوں نے دیکھا تو (حسن و جمال میں) انہیں بڑھا ہوا پایا (لہٰذا حیران رہ گئیں اور پھل کی بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں (اور احساس تک نہ ہوا) اور (بے ساختہ) کہہ اٹھیں ماشاء اللہ۔ یہ انسان نہیں ہے بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب اس عورت نے ان کے فریب کے بارے میں سنا تو ان کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک تکیہ دار مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور کہا ان کے سامنے نکل۔ پھر جب انھوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا پایا اور انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ ڈالے اور کہا اللہ کی پناہ! یہ کوئی آدمی نہیں ہے، یہ نہیں ہے مگر کوئی نہایت معزز فرشتہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏
31۔ 1 زنان مصر کی غائبانہ باتوں اور طعن و ملامت کو مکر سے تعبیر کیا گیا، جس کی وجہ سے بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ ان عورتوں کو بھی یوسف کے بےمثال حسن و جمال کی اطلاعات پہنچ چکی تھیں۔ چناچہ وہ اس پیکر حسن کو دیکھنا چاہتی تھیں چناچہ وہ اپنے اس مکر خفیہ تدبیر میں کامیاب ہوگئیں اور امرأۃ العزیز نے یہ بتلانے کے لیے کہ میں جس پر فریفتہ ہوئی ہوں، محض ایک غلام یا عام آدمی نہیں ہے بلکہ ظاہر و باطن کے ایسے حسن سے آراستہ ہے کہ اسے دیکھ کر نقد دل و جان ہار جانا کوئی انہونی بات نہیں، لہذا ان عورتوں کی ضیافت کا اہتمام کیا اور انھیں دعوت طعام دی۔ 31۔ 2 یعنی ایسی نشست گاہیں بنائیں جن میں تکئے لگے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل بھی عربوں میں ایسی فرشی نشست گاہیں عام ہیں۔ حتی کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی ان کا اہتمام ہے۔ 31۔ 3 یعنی حضرت یوسف ؑ کو پہلے چھپائے رکھا، جب سب عورتوں نے ہاتھوں میں چھریاں پکڑ لیں تو امراۃ العزیز (زلیخا) نے حضرت یوسف ؑ کو مجلس میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ 31۔ 4 یعنی حسن یوسف ؑ کی جلوہ آرائی دیکھ کر ایک تو ان کے عظمت و جلال شان کا اعتراف کیا اور دوسرے، ان پر بےخودی کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ چھریاں اپنے ہاتھوں پر چلا لیں۔ جس سے ان کے ہاتھ زخمی اور خون آلودہ ہوگئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کو نصف حسن دیا گیا ہے (صحیح مسلم) 31۔ 5 اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ فرشتے شکل وصورت میں انسان سے بہتر یا افضل ہیں۔ کیونکہ فرشتوں کو تو انسانوں نے دیکھا ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں انسان کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں صراحت کی ہے کہ ہم نے اسے احسن تقویم بہترین انداز میں پیدا کیا ہے۔ ان عورتوں نے بشریت کی نفی محض اس لیے کی کہ انہوں نے حسن وجمال کا ایک ایسا پیکر دیکھا تھا جو انسانی شکل میں کبھی ان کی نظروں سے نہیں گزرا تھا اور انہوں نے فرشتہ اس لیے قرار دیا کہ عام انسان یہی سمجھتا ہے فرشتے ذات وصفات کے لحاظ سے ایسی شکل رکھتے ہیں جو انسانی شکل سے بالاتر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء کی غیر معمولی خصوصیات و امتیازات کی بناء پر انھیں انسانیت سے نکال کر نورانی مخلوق قرار دینا، ہر دور کے ایسے لوگوں کا شیوہ رہا ہے جو نبوت اور اس کے مقام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔
(آیت 31) {فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ …:} اس آیت کی تفسیر اکثر بلکہ تقریباً سبھی مفسرین نے یہ کی ہے اور اس کے لیے جس تاویل کی ضرورت پڑی وہ بھی کرتے گئے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شہر میں اس واقعہ کی شہرت ہوئی تو عورتوں نے طعن و تشنیع اور ملامت کے تیر برسانا شروع کر دیے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے اور اس کی اتنی دیوانی ہو گئی ہے جو اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت کو سنا۔ (قرآن میں لفظ ہے کہ جب اس نے ان کے مکر کو سنا۔ مکر کا سیدھا سا معنی ”فریب، سازش، خفیہ تدبیر“ ہوتا ہے، مگر ہمارے مفسرین نے اسے درست کرنے کے لیے کہا کہ وہ ظاہر تو ملامت کر رہی تھیں مگر حقیقت میں وہ یوسف کا حسن دیکھنا چاہتی تھیں، ان کے مکر سے مراد یہ ہے) خیر جب اس نے ان کی ملامت کو سنا تو اس نے ان کی ملامت کے جواب میں اپنے فعل کا جواز پیش کرنے اور اپنے بے اختیار ہو جانے کے سبب کا مشاہدہ کروانے کے لیے چند خاص عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لیے یہ مجلس آراستہ کی۔ اب جب مجلس جوبن پر تھی، چھریوں سے گوشت اور پھل کاٹے جا رہے تھے، تو یوسف علیہ السلام سے کہا، ان کے سامنے آؤ۔ جب انھوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ان کے حسن کو دیکھ کر ایسی بے خود ہوئیں کہ انھیں خیال ہی نہ رہا کہ ہم پھل کاٹ رہی ہیں یا اپنے ہاتھ، وہ انھیں دیکھتی ہی رہ گئیں اور چھریاں ان کے ہاتھوں پر چل گئیں، جس سے انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ لیے ({قَطَّعْنَ }باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے) اور محویت میں انھیں درد کا احساس ہی نہیں ہوا اور کہنے لگیں، اللہ کی پناہ یہ کوئی آدمی نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ (یعنی حسن میں فرشتہ قرار دیا جس طرح بدصورتی میں شیطان کہا جاتا ہے) عزیز کی بیوی نے کہا کہ پھر یہی ہے وہ جس کے متعلق تم نے مجھے ملامت کی…۔ عام تفاسیر کا خلاصہ یہ ہے، مگر اصل صورت واقعہ کچھ اور معلوم ہوتی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام بچے تھے، جب وہ ان کے گھر میں غلام کی حیثیت سے آئے تھے۔ غلام کا خدمت کے لیے اپنے آقا سے تعلق رکھنے والے تمام گھروں میں لین دین یا پیغام وغیرہ پہنچانے کے لیے عام آنا جانا ہوتا ہے۔ کئی سال بعد جب وہ پورے جوان ہوئے تو یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آیا یہ ممکن ہے کہ اتنے سالوں تک عزیز مصر کی بیوی کی اتنی قریب ترین سہیلیوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا ہی نہ ہو اور عزیز کی بیوی نے انھیں دکھانے کا اہتمام اب ہی کیا ہو؟ میں نے بیسیوں تفسیریں پڑھیں، بڑے بڑے باریک بین اہل علم جن کے علم و فضل کا یہ عاجز دل سے نہایت معترف ہے اور انھی کا خوشہ چین ہے، وہ اس سوال کے پاس سے خاموشی سے گزر گئے ہیں اور حسن یوسف سے بے خودی ہی کو ہاتھ کٹنے کا باعث قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ البتہ چند ایک نے اس کی طرف توجہ کی ہے، انھوں نے اس کا جواب یہ تراشا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی ہمیشہ یوسف علیہ السلام کو برقع پہنا کر رکھتی تھی، تاکہ کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ مجھے تعجب ہوا کہ بعض مفسرین نے حسن یوسف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ مصر کی گلیوں میں چلتے تھے تو ان کے چہرے کے حسن اور نور کا عکس دیواروں پر پڑتا تھا۔ اب کہاں برقع اور کہاں دیواروں پر چہرے کے حسن و نور کا عکس پڑنا۔ {”ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَيَّ تَفَرُّقٍ “} سیدھی سی بات ہے کہ یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کے گھر اسی لیے جگہ دی تھی کہ وہ مشورے کی مجلسوں میں خدمت کرنے والے غلام یا عزیز مصر کے بیٹے کی حیثیت سے شریک ہو کر رموز مملکت سیکھیں، فرمایا: «{ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ }» [ یوسف: ۲۱ ] ”اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں۔“ اس معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بے پردہ مل کر بیٹھنا معمول کی بات تھی، جس طرح آج کل مسلمانوں کی پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں اور گھروں کا حال ہو گیا ہے، غیر مسلموں کا حال تو قابل بیان ہی نہیں۔ ایسے حالات میں اتنے سال تک ان خواتین کو کوشش کے باوجود یوسف علیہ السلام کے دیکھنے کا موقع نہ ملنا سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اصل بات جو صاف نظر آ رہی ہے، یہ تھی کہ جب ان چند عورتوں تک اندر کی یہ خبر کسی طرح پہنچی تو انھوں نے عزیز کی بیوی پر طعن و ملامت کی کہ اس کی نادانی دیکھو کہ اپنے غلام پر فریفتہ ہو چکی ہے اور اب تک کی مسلسل کوشش اور پھسلانے کے باوجود حصول مقصد میں ناکام ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے حسن کا اور کسی کو اپنا دیوانہ بنانے کی چالوں میں مہارت کا دعویٰ بھی کیا کہ ہمارے پاس وہ مکر ہیں کہ کوئی بھی ہمارے مکر و فریب سے بچ کر نہیں جا سکتا، ایک غلام کی کیا مجال ہے۔ «{ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ }» تو جب عزیز مصر کی بیوی نے ان کے مکر و فریب اور چالوں کا دعویٰ سنا تو انھیں دعوت دی کہ تم بھی اپنا ہنر آزما دیکھو، اگر وہ کسی ایک کو بھی دل دے بیٹھا تو میرے لیے بھی وجۂ جواز بن جائے گی۔ باقاعدہ ان کی چال کی تفصیل سن کر ہر عورت کو دعوت کے لوازمات کے ساتھ خصوصاً ایک ایک چھری بھی دی۔ اب یوسف علیہ السلام عزیز کی بیوی کے کہنے پر شہر کی منتخب حسیناؤں کے سامنے آئے تو ان میں سے ہر ایک نے انھیں اپنے حسن اور ناز و انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی تو انھوں نے بے بس عاشقوں کا آخری حربہ آزمایا کہ اگر تم نے ہمارا دل توڑا تو ہم خودکشی کر لیں گی۔ یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ آدمی رحم کے جذبے کے ہاتھوں پھنس جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں اسی طرح برباد ہوئیں اور کئی لڑکے بھی۔ ضروری نہیں کہ سب عورتوں نے ایسا کیا ہو، بہرحال ان میں سے کچھ نے اپنے ہاتھ بری طرح زخمی کر کے اپنی خودکشی کی دھمکی دی۔ حسن و جمال کے ساتھ عفت و حیا کے اس پیکرنے اس کی بھی پروا نہ کی تو وہ بولیں، اللہ کی پناہ! اس شخص کے سینے میں آدمی کا دل نہیں، یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے، جو عشق و حسن کے فتنوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا، جسے عشق کے معاملات سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس پر ہماری خود کشی کا بھی کیا اثر؟ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے: عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی کس پیش تو از قصۂ ہجراں چہ کشاید ”نہ تو عاشق ہوا، نہ تو نے عشق کی مصیبت اٹھائی۔ تیرے سامنے کوئی جدائی کا قصہ کھول کر کیا سنائے۔“ یہ حقیقت ہے کہ فرشتوں سے تشبیہ پاک بازی میں دی جاتی ہے، حسن میں نہیں، جس طرح ایک اردو شاعر نے ڈینگ ماری ہے: تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں اس کی کئی دلیلیں آئندہ آیات میں آ رہی ہیں، میں ان کا ترتیب وار ذکر کرتا ہوں: (1) یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ }» [ یوسف: ۳۳ ] ”اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں۔“ معلوم ہوا وہ عورتیں یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دعوت گناہ دینے کے لیے آئی تھیں۔ (2) یوسف علیہ السلام نے مزید دعا کی: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ }» [یوسف: ۳۳ ] ”اور اگر تو مجھ سے ان کے (مکر) فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔“ معلوم ہوا وہ سب عورتیں یوسف علیہ السلام کو اپنے مکر و فریب میں پھنسانے کے لیے آئی تھیں نہ کہ صرف جمال یوسف کے دیدار کے لیے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ }» [ یوسف: ۳۴ ] ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی، اس نے اس (یوسف) سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوت کی کار روائی کو ان سب عورتوں کا مکر و فریب قرار دیا ہے۔ (4) یوسف علیہ السلام نے جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور بادشاہ نے انھیں بلوایا تو یوسف علیہ السلام نے اس کے قاصد سے کہا کہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو: «{ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ }» [ یوسف: ۵۰ ] ”ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔“ یہ آیت خصوصاً قابل غور ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ جہاں بھی عورتوں کے مکر کا ذکر ہے مراد صرف عزیز مصر کی بیوی ہے، دوسری عورتیں چونکہ اس کی ساتھی تھیں، اس لیے ان کا ذکر ساتھ آگیا۔ اب اس آیت پر غور کریں، عزیز کی بیوی نے تو ہاتھ کاٹے ہی نہیں تھے، وہ تو دوسری ہی عورتوں نے کاٹے تھے، یوسف علیہ السلام ان کے ہاتھ کاٹنے کو ان کا مکر و فریب قرار دے رہے ہیں۔ (5) بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلا کر پوچھا: «{ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ }» [ یوسف: ۵۱ ] ”تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟“ معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بھی ان کے ہاتھ کاٹنے کو یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال سے بے خود ہو کر ہاتھ کاٹنے کے بجائے اسے ان کی سوچی سمجھی پھسلانے کی سازش قرار دیا۔ اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ تفسیر تم نے اپنے پاس سے کی ہے، تو جواب یہ ہے کہ جہاں قرآن وحدیث کی تفسیر کی کوئی نص صریح نہ ہو وہاں قرآن مجید کے عجائبات ونکات قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ویسے مجھ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے یہی تفسیر کی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی نے (ان کے تفسیر میں منہج کے تفرد سے قطع نظر) یہی تفسیر کی ہے اور تفسیر مواہب الرحمان کے مصنف علامہ امیر علی ملیح آبادی رحمہ اللہ نے دوسری تفسیروں کے ساتھ یہ تفسیر بھی لکھی ہے، ان کے الفاظ ہیں: ”اور شاید کہ (عزیز کی بیوی نے) ان عورتوں سے اپنی مراد کے لیے استعانت چاہی ہو، اس طرح کہ آنحضرت (یوسف) علیہ السلام نے کہا تھا: «{ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ }» یعنی اپنی پرورش کرنے والے عزیز مصر کی جو رو سے بلحاظ مربی ہونے کے یہ کام نہ کریں تو یہ عورتیں طالب ہوں، پھر ان کی تلویث کے بعد کام آسان ہو۔ چنانچہ بعض مفسرین نے قصہ روایت کیا کہ ان عورتوں میں ہر ایک نے زلیخا کی حیلہ گری و اشارہ سے آنحضرت (یوسف) علیہ السلام سے تخلیہ میں یہ خواہش ظاہر کی اور ہر طرح کی زینت و مکر اور لجاجت وحیلہ کا خاتمہ کر دیا تھا اور کلام ما بعد میں اس کی طرف اشارہ بھی نکلتا ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت معاملہ نظر آئی تو یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی وہی مجھے منظور ہے «{ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ }» اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں۔“ آیت کی یہ تفسیر اور بھی کئی مفسرین نے کی ہو گی مگر مجھے قدیم مفسرین میں سے جن بزرگوں سے یہ تفسیر ملی ہے وہ ہیں سلطان العلماء، شیخ الاسلام عز الدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس مرض کا واقعہ ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اذان ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”ابوبکر غمگین آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔“ آپ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو انھوں نے دوبارہ یہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ یہی حکم دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ] [ بخاری، الأذان، باب حد المریض أن یشھد الجماعۃ: ۶۶۴ ] ”تم یوسف کے ساتھ والیاں ہو، ابوبکر سے کہو نماز پڑھائے۔“ صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت (۶۷۹) میں ہے کہ پہلی دو دفعہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ بات کہی تھی، تیسری بار ان کے کہنے کے مطابق حفصہ رضی اللہ عنھا نے کہی تھی۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن احجر رحمہ اللہ نے {” إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“} كی شرح عام مفسرين كے مطابق كرنے كے بعد آخر ميں لكها ہے:{ ” وَ وَقَعَ فِيْ أَمَالِي ابْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّ النِّسْوَةَ أَتَيْنَ امْرَأَةَ الْعَزِيْزِ يُظْهِرْنَ تَعْنِيْفَهَا وَ مَقْصُوْدُهُنَّ فِي الْبَاطِنِ أَنْ يَدْعُوْنَ يُوْسُفَ إِلٰي أَنْفُسِهِنَّ“ كَذَا قَالَ وَلَيْسَ فِيْ سِيَاقِ الْآيَةِ مَا يُسَاعِدُ مَا قَالَ“} [ فتح الباری 153/2، ح: ۶۶۵ ] ”ابن عبد السلام کی امالی میں آیا ہے کہ وہ عورتیں عزیز کی بیوی کے پاس آئیں، وہ ظاہر تو اس پر طعن و ملامت اور سختی کر رہی تھیں، حالانکہ ان کا مقصود باطن میں یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنی اپنی طرف دعوت دیں۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عبد السلام نے ایسے فرمایا، حالانکہ سیاق میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔“ ظاہر ہے کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو سلطان العلماء کی بات سے اتفاق نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں سیاق ان کی موافقت نہیں کرتا، مگر اس بندۂ عاجز نے سیاق قرآن میں سے پانچ دلیلیں اسی تفسیر کے صحیح ہونے کی بیان کی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان {”صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“ } بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ ({والله اعلم وعلمه اتم})
قَالَتۡ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیۡ لُمۡتُنَّنِیۡ فِیۡہِ ؕ وَ لَقَدۡ رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ؕ وَ لَئِنۡ لَّمۡ یَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُہٗ لَیُسۡجَنَنَّ وَ لَیَکُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عزیز کی بیوی نے کہا "دیکھ لیا! یہ ہے یہ وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں بے شک میں نے اِسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
عزیز کی بیوی نے کہا یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم میری ملامت کرتی تھیں بے شک میں نے اس پر ڈورے ڈالے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ مگر وہ بچا ہی رہا۔ (ہاں البتہ اب برملا کہتی ہوں کہ) اگر اس نے وہ نہ کیا جس کا میں اسے حکم دیتی ہوں تو پھر اسے ضرور قید کر دیا جائے گا۔ اور ضرور ذلیل بھی ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اس عورت نے کہا تو وہ یہی ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور بلاشبہ یقینا میں نے اسے اس کے نفس سے پھسلایا،مگر یہ صاف بچ گیا اور واقعی اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا اور یہ ضرور ہی ذلیل ہونے والوں سے ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏
32۔ 1 جب زلیخا نے دیکھا اس کی چال کامیاب رہی ہے اور عورتیں یوسف ؑ کے جلوہ حسن آراء سے مد ہوش ہوگئیں تو کہنے لگی، کہ اس کی ایک جھلک سے تمہارا یہ حال ہوگیا ہے تو کیا تم اب بھی مجھے اس کی محبت میں گرفتار ہونے پر طعنہ زنی کروگی؟ یہی وہ غلام ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ 32۔ 2 عورتوں کی مد ہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہوگیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب دور کر کے اس نے اپنے برے ارادے کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا۔
(آیت 32) ➊ {قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ …: ” ذٰلِكُنَّ “} میں اسم اشارہ {”ذَا“} ہی ہے، جس کے ساتھ مخاطب کی ضمیر یہ دیکھ کر لگائی جاتی ہے کہ مخاطب مرد ہے یا عورت، ایک ہے یا دو یا زیادہ، مثلاً آپ ایک شخص سے مخاطب ہیں اور اسے کسی آدمی کی طرف اشارہ کر کے کچھ بتانا چاہتے ہیں تو کہیں گے: {”ذٰلِكَ الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ“} یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر کسی عورت سے بات کر رہے ہوں گے تو کہیں گے: {” ذٰلِكِ الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ “} یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر آپ یہی بات کہنا چاہتے ہوں اور آپ کے مخاطب دو ہوں تو کہیں گے: {”ذٰلِكُمَا الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ“} یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے قید کے دو ساتھیوں سے فرمایا: «{ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ }» [ یوسف: ۳۷ ] ”یہ وہ چیز ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی۔“ یہ معنی نہیں کہ یہ دو چیزیں۔ زیر تفسیر آیت میں عزیز کی بیوی کی مخاطب کئی عورتیں تھیں، اس لیے اس نے کہا: «{ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ }» اب {”ذٰلِكُنَّ “} کا معنی یہ سب عورتیں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے یہ ہے وہ شخص۔ صرف مخاطب جمع مؤنث ہونے کی وجہ سے {”ذٰلِكُنَّ“} آیا ہے۔ اگر مخاطب بہت سے آدمی ہوتے تو اسی مفہوم کے لیے {”ذٰلِكُمْ“} آتا، جیسے فرمایا: «{ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ }» [ البقرۃ: ۵۴ ] ”یہ چیز تمھارے لیے بہتر ہے۔“ ➋ {” فَاسْتَعْصَمَ “} سین اور تاء کے اضافے سے طلب کا معنی بھی حاصل ہوتا ہے اور مبالغے کا بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”وہ صاف بچ گیا“ یا کہہ لیں ”بالکل بچ گیا۔“ {” لَيُسْجَنَنَّ “} میں نون تاکید ثقیلہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا۔“ {” وَ لَيَكُوْنًا “} یہ نون تاکید خفیفہ ہے، جسے عام طور پر لکھا جاتا ہے {” وَلَيَكُوْنَنْ “} مگر عربی رسم الخط وقف کے مطابق ہوتا ہے، چونکہ نون خفیفہ وقف میں الف ہو جاتا ہے، مثلاً یہی لفظ اگر اس پر وقف کریں تو اسے {”لَيَكُوْنَنْ“} نہیں پڑھا جائے گا بلکہ{ ”لَيَكُوْنَا“ } الف کے ساتھ پڑھا جائے، اس لیے اس نون کو الف کی شکل میں لکھا جاتا ہے، جیسا کہ {”خَبِيْرًا“ } اور {”بَصِيْرًا“} وغیرہ میں نون تنوین {”خَبِيْرَنْ، بَصِيْرَنْ“} کے بجائے الف کی شکل میں ہے کہ وقف نہ ہو تو نون پڑھو، وقف ہو تو الف پڑھو۔ سورۂ علق میں {” لَنَسْفَعًا “} میں بھی نون تاکید خفیفہ ہے جو الف کی شکل میں لکھا گیا ہے۔ ➌ بعض مفسرین نے {” لَيُسْجَنَنَّ “} میں نون تاکید ثقیلہ یعنی تشدید کے ساتھ اور {” لَيَكُوْنًا “} میں خفیفہ یعنی جزم کے ساتھ ہونے کی توجیہ فرمائی ہے کہ ثقیلہ میں تاکید زیادہ ہوتی ہے، تو عزیز کی بیوی کے خیال میں اس کے لیے یوسف علیہ السلام کو قید کروانا تو یقینی تھا، مگر ان کے ذلیل ہونے کا پورا یقین اسے بھی نہ تھا، بھلا ایسے کریم بن کریم بن کریم بن کریم کو ذلیل کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے اس نے لفظ نرم کر دیا۔
قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا
احمد رضا خان بریلوی
یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،
علامہ محمد حسین نجفی
یوسف (ع) نے (بات سن کر کہا) اے میرے پروردگار! اس کام کی نسبت جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں مجھے قیدخانہ پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر و فریب کو دور نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں اور اس طرح جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏
33۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے یہ دعا اپنے دل میں کی۔ اس لئے کہ ایک مومن کے لئے دعا بھی ایک ہتھیار ہے۔ حدیث میں آتا ہے، سات آدمیوں کو قیامت والے دن عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے ایک ایسی عورت دعوت گناہ دے جو حسن و جمال سے بھی آراستہ ہو اور جاہ و منصب کی حامل ہو۔ لیکن وہ اس کے جواب میں کہہ دے کہ میں تو ' اللہ ' سے ڈرتا ہوں (صحیح بخاری)
(آیت 33) ➊ { قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ …:} یوسف علیہ السلام کے لیے یہ سخت امتحان کا وقت تھا، ان کے سامنے ایک طرف معصیت، یعنی اللہ کی نافرمانی ہے جس کے نتیجے میں ان کی ہر طرح ناز برداری ہوتی۔ دوسری طرف مصیبت ہے جو قید کی صورت میں ہے اور عزیز مصر کی بیوی قسم کھا کر (لام تاکید اور نون تاکید قسم کا فائدہ دیتے ہیں) اپنی حکم عدولی کی صورت میں قید کروانے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ اس امتحان میں اللہ کے خاص بندے کبھی معصیت الٰہی کو ترجیح نہیں دیتے، بلکہ مصیبت قبول کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَ شَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ اجْتَمَعَا عَلٰی ذٰلِكَ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَ جَمَالٍ فَقَالَ اِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَی حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ] [بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ…: ۶۶۰۔ مسلم: ۱۰۳۱ ] ”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (1) عادل حکمران۔ (2) وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوو نما پائی۔ (3) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں سے اٹکا ہوا ہے۔ (4) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ ہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ (5) وہ آدمی جسے کسی اثر و رسوخ اور حسن و جمال والی عورت نے اپنی طرف بلایا مگر اس نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (6) وہ آدمی جس نے صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کر دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔ (7) وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔“ یا اللہ! تو اپنے فضل سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) ➋ {” يَدْعُوْنَنِيْۤ “} اور {” كَيْدَهُنَّ “} (جمع مؤنث کے صیغوں) سے پوری مجلس دعوت گناہ دینے کے لیے آراستہ کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ بالتفصیل اوپر گزرا۔ {” اَصْبُ “ ” صَبَا يَصْبُوْ“} سے ہے جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ اصل میں {”اَصْبُوْ“} تھا، {” وَ اِلَّا تَصْرِفْ“ } کا جواب ہونے کی وجہ سے واؤ گر گئی۔ اس آیت سے دو نہایت اہم سبق ملتے ہیں، ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ کرے اور اس کی دستگیری نہ ہو تو کوئی شخص بھی اپنے آپ کو گناہ سے، خصوصاً عورتوں کے فتنے سے نہیں بچا سکتا، دوسرا یہ کہ جب کوئی شخص اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ اور جاہل برابر ہیں۔ یہ ہے یوسف علیہ السلام کی پیغمبرانہ شان، اپنی طہارت اور پاک دامنی کا قطعاً دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اپنے آپ کو حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہوئے یہی فرمایا کہ عفت و پاک دامنی پر ثابت قدم رکھنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اگر توفیق نہ دے گا تو میں نفس اور شیطان کے فریب میں آ کر گناہ کی طرف مائل ہو جاؤں گا۔
فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں، بے شک وہی ہے جو سب کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیے، یقیناً وه سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کر لی اور اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو دور کر دیا بے شک وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی، پس اس سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) {فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ …: } اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرکے ان سب عورتوں کا مکر و فریب اس سے ہٹا دیا، چنانچہ اس کے بعد کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ کسی عورت نے انھیں پھسلانے کی کوشش کی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمال یوسفی پر ہیبت نبوت کی زرہ ڈال دی گئی، جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی دعوت دینے کی کسی عورت کو کبھی جرأت ہی نہیں ہوئی، حالانکہ ان کے حسن و جمال کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔
ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ایسا ہوا کہ باوجودیکہ وہ (یوسف کی پاکدامنی کی) نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ تاہم انہیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ ایک مدت تک اسے قید کر دیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کر دیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیل خانہ اور یوسف علیہ السلام ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ میں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف علیہ السلام کو قید کر دیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری براءت اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہو جائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کر لیں جب تک بادشاہ نے ہر طرح کے گواہ سے بلکہ خود عزیز کی بیوی سے پوری تحقیق نہ کر لی اور آپ کا بے قصور ہونا، ساری دنیا پر کھل نہ گیا آپ جیل خانے سے باہر نہ نکلے۔ پھر آپ باہر آئے جب کہ ایک دل بھی ایسا نہ تھا جس میں صدیق اکبر، نبی اللہ، پاکدامن اور معصوم اللہ کے رسول یوسف علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے ذرا بھی بدگمانی ہو۔ قید کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ عزیز کی بیوی کی رسوائی نہ ہو۔
35۔ 1 عفت و پاک دامنی واضح ہوجانے کے باوجود یوسف ؑ کو حوالہ زنداں کرنے میں یہی مصلحت ان کے پیش نظر ہوسکتی تھی کہ عزیز مصر حضرت یوسف ؑ کو اپنی بیوی سے دور رکھنا چاہتا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ یوسف ؑ کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ وہ ایسا ارادہ رکھتی تھی۔
(آیت 35) {ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ …:} جب شہر میں ان واقعات کا چرچا ہوا اور عزیز مصر کی بیوی کی محبت میں دیوانگی اور یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی پر استقامت کی شہرت پھیلی تو اہل حل و عقد اس نتیجے پر پہنچے کہ یوسف علیہ السلام کو ہر صورت کچھ وقت کے لیے قید کر دیں، تاکہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے میل ملاقات ختم ہو جائے اور آہستہ آہستہ اس واقعہ کی شہرت بھی ختم ہوجائے۔ اس فیصلے سے عزیز مصر پر اس کی بیوی اور دوسری عورتوں کا تسلط اور اس کی بے غیرتی اور دیوثی بھی صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے یوسف علیہ السلام کو تو قید میں ڈال دیا مگر عورتوں سے پوچھا تک نہیں کہ تمھارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اس سے اس وقت کے معاشرے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلے مغرب کے کفار کا یہ حال تھا اب مسلم ممالک کی اشرافیہ کا یہی رنگ ہے۔ (الا ما شاء اللہ) اور تمام کفار اور ان کے ایجنٹ سب مسلمانوں کو ایسا ہی بے غیرت بنانا چاہتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے قید میں ڈالنے کے لیے ان کے کچھ جرائم تجویز کیے، جس طرح حکومتیں فرضی دفعات جرم لگا دیتی ہیں اور انھوں نے عزیز مصر کی بیوی کے الزام (عزیز کے اہل کے ساتھ برائی کے ارادہ) کی حقیقت جاننے کے باوجود اسی کو یوسف علیہ السلام کا جرم قرار دے دیا، یا ویسے ہی خاموشی سے انھیں قید میں ڈال دیا، جس کا لازمی نتیجہ اصل حقیقت نہ جاننے والوں کے لیے یہی تاثر تھا کہ آخر اس معاملے میں یوسف علیہ السلام کا کوئی قصور تو ہو گا جس کی وجہ سے انھیں جیل میں ڈالا گیا۔ یوسف علیہ السلام کو اپنے متعلق اس تاثر سے شدید قلق تھا، اس لیے آگے آپ دیکھیں گے کہ بادشاہ کے اپنے پاس بلانے کے پیغام کے باوجود یوسف علیہ السلام اس وقت تک قید خانے سے نہیں نکلے جب تک تمام متعلقہ عورتوںکو بادشاہ کے پاس حاضر کروا کے ان کی زبانی اپنی بے گناہی کی تصدیق نہیں کروائی۔ ایک مفسر نے لکھا ہے کہ اب اگر حکومت کسی داعی یا خطیب کو حق بیان کرنے کے جرم میں قید کر دے اور پھر اللہ کی مدد سے کوئی حاکم اسے جیل سے نکالنے کا حکم دے تو اسے جیل میں اڑ کر نہیں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ اس پر کوئی ایسا الزام نہیں جو اس کی بدنامی کا باعث ہو۔ رہی حق کی دعوت وتبلیغ تو وہ کوئی جرم نہیں بلکہ اس کا فرض ہے جو اس نے بعد میں بھی ادا کرتے رہنا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے احسان، تقویٰ، صبر، وفا،خدمت، پاک بازی، عبادت الٰہی اور دوسری بے شمار خوبیوں کی وجہ سے عزیز مصر کے دل میں ان کی محبت یقینا موجود تھی جس کی وجہ سے اس نے قید پر اکتفا کیا، ورنہ وہ کسی حیلے سے انھیں غائب بھی کروا سکتا تھا، جیسا بھائیوں نے کیا تھا اور قتل بھی کروا سکتا تھا، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا پہلا منصوبہ تھا، مگر ایک تو یوسف علیہ السلام کا تقویٰ اور صبر تھا اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو سب پر غالب ہے۔ جس کی وجہ سے قید ہی کا فیصلہ ہوا جس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں تھیں۔
وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ وَ قَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قید خانہ میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں" دوسرے نے کہا "میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں" دونوں نے کہا "ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتایئے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یوسف (ع) کے ساتھ دو اور جوان آدمی بھی قید خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب (بنانے کے لیے انگور کا رس) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ سر پر کچھ روٹیاں اٹھائے ہوں۔ جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں ہمیں ذرا اس کی تعبیر بتائیے ہم تمہیں نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور قید خانے میں اس کے ساتھ دو جوان داخل ہوئے، دونوں سے ایک نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کچھ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، جس سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں اسکی تعبیر بتا۔ بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات ٭٭

اتفاق سے جس روز یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام مجلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی سازش کی تھی۔ قید خانے میں بھی نبی اللہ یوسف علیہ السلام کی نیکیوں کی کافی شہرت تھی۔ سچائی، امانت داری، سخاوت، خوش خلقی، کثرت عبادت، اللہ ترسی، علم و عمل، تعبیر خواب، احسان و سلوک وغیرہ میں آپ علیہ السلام مشہور ہو گئے تھے۔ جیل خانے کے قیدیوں کی بھلائی ان کی خیر خواہی ان سے مروت و سلوک ان کے ساتھ بھلائی اور احسان ان کی دلجوئی اور دلداری ان کے بیماروں کی تیمارداری خدمت اور دوا دارو بھی آپ علیہ السلام کا تشخص تھا۔ یہ دونوں ہی ملازم یوسف علیہ السلام سے بہت ہی محبت کرنے لگے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ہمیں آپ علیہ السلام سے بہت ہی محبت ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ بات یہ ہے کہ مجھے تو جس نے چاہا کوئی نہ کوئی آفت ہی مجھ پر لایا۔ پھوپھی کی محبت، باپ کا پیار، عزیز کی بیوی کی چاہت، سب مجھے یاد ہے۔

اور اس کا نتیجہ میری ہی نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب دونوں نے ایک مرتبہ خواب دیکھا ساقی نے دیکھا کہ وہ انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت میں [خَمرًا] ‏‏‏‏ کے بدلے لفظ [عِنَباً] ‏‏‏‏ ہے، اہل عمان انگور کو خمر کہتے ہیں۔ اس نے دیکھا تھا کہ گویا اس نے انگور کی بیل بوئی ہے اس میں خوشے لگے ہیں، اس نے توڑے ہیں۔ پھر ان کا شیرہ نچوڑ رہا ہے کہ بادشاہ کو پلائے۔ یہ خواب بیان کر کے آرزو کی کہ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتلائیے۔ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہیں تین دن کے بعد جیل خانے سے آزاد کر دیا جائے گا اور تم اپنے کام پر یعنی بادشاہ کی ساقی گری میں لگ جاؤ گے۔ دوسرے نے کہا جناب میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے آ آ کر اس میں سے کھا رہے ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات تو یہی ہے کہ واقعہ ان دونوں نے یہی خواب دیکھے تھے اور ان کی صحیح تعبیر یوسف علیہ السلام سے دریافت کی تھی۔ لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ درحقیقت انہوں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن یوسف علیہ السلام کی آزمائش کے لیے جھوٹے خواب بیان کر کے تعبیر طلب کی تھی۔
36۔ 1 یہ دونوں نوجوان شاہی دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک شراب پلانے پر معمور تھا اور دوسرا نان بھائی تھا، کسی حرکت پر دونوں کو قید میں ڈال دیا تھا۔ حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر تھے، دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و راست بازی اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے جیل میں دیگر تمام قیدیوں سے ممتاز تھے علاوہ ازیں خوابوں کی تعبیر کا خصوصی علم اور ملکہ اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا۔ ان دونوں نے خواب دیکھا تو قدرتی طور پر حضرت یوسف ؑ کی طرف انہوں نے رجوع کیا اور کہا ہمیں آپ محسنین میں سے نظر آتے ہیں، ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتائیں۔ محسن کے ایک معنی بعض نے یہ بھی کئے ہیں کہ خواب کی تعبیر آپ اچھی کرلیتے ہیں۔
(آیت 36){وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ …: ” فَتَيٰنِ “ ” فَتًي“ } کی تثنیہ ہے، دو نوجوان، یہ لفظ عام طور پر غلام یا خادم پر بھی بول لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں بادشاہ کے خاص خادم تھے، بہت جلد دونوں یوسف علیہ السلام کے حسن اخلاق سے متاثر اور ان سے مانوس ہو گئے۔ یوسف علیہ السلام کے ہر ایک کی بے لوث خدمت کرنے نے ان پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ یہ بندہ ہر ایک کی خیر خواہی اور خدمت کسی بھی معاوضے کی امید یا کسی طمع کے بغیر کرتا ہے، اسی کا نام احسان ہے اور ایسا کرنے والا محسن ہوتا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے قارون سے کہا تھا: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [ القصص: ۷۷ ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ اپنی نیکی اور ہمدردی کی وجہ سے ایسا شخص خودبخود ہی ہر ایک کی نگاہ میں آ جاتا ہے کہ یہ نیک اور اچھا آدمی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں یہ صفت بطور خاص پائی جاتی تھی، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مثلاً دوسروں کا بوجھ اٹھانا، مہمان نوازی کرنا، مصیبت میں لوگوں کی مدد کرنا، لوگوں کے لیے ذریعۂ معاش تلاش اور مہیا کرنا، سچ کہنا وغیرہ کی تصدیق ہماری ماں خدیجہ رضی اللہ عنھا نے کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صفات کی تصدیق ابن دغنہ نے کی۔ [ بخاری، الوحي، کیف بدء الوحي: ۳، و مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۳۹۰۵ ] یہ لوگ صرف نماز روزے ہی کے نیک نہ تھے، بلکہ اس کے ساتھ لوگوں کے خیر خواہ بھی تھے، یہی بندوں کے ساتھ احسان ہے۔ اب ان دونوں نے خواب دیکھا تو پوری جیل میں ان کی نگاہ صرف یوسف علیہ السلام پر پڑی اور انھوں نے تعبیر کے لیے انھی کو منتخب کرنے کی وجہ بھی صاف لفظوں میں بیان کر دی: «{ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْلِهٖ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» یعنی آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیں، کیونکہ بے شک ہم آپ کو احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ خواب کی تعبیر بہت اچھی کرتے ہیں، شاید اس سے پہلے بھی یوسف علیہ السلام نے کچھ تعبیریں کی ہوں جو درست نکلی ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ علم خاص طور پر دیا تھا۔ احسان کے یہ دونوں معنی بندوں پر احسان کے ہیں، ایک احسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے جس کا ذکر حدیث جبریل علیہ السلام میں ہے، فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهٗ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهٗ فَإِنَّهٗ يَرَاكَ ] [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۵۰] ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھتا ہے۔“ ہو سکتا ہے ان قیدیوں نے یوسف علیہ السلام کی نماز، عبادت اور ذکر الٰہی میں اللہ سے تعلق کو دیکھ کر ان کے محسن اور نیک ہونے کا یقین کر لیا ہو کہ ان کی عبادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص واقعی اس طرح توجہ اور محویت سے عبادت کر رہا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔
قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوسفؑ نے کہا: "یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اِن خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا یہ علم اُن علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا۔ یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یوسف (ع) نے کہا جو (مقررہ) کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں تمہارے خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ (تعبیرِ خواب) بھی منجملہ ان علوم کے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے تعلیم دیے ہیں۔ میں ان لوگوں کا دین و مذہب چھوڑے ہوئے ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا تمھارے پاس وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمھیں دیا جاتا ہے، مگر میں تمھیں اس کی تعبیر اس سے پہلے بتا دوں گا کہ وہ تمھارے پاس آئے۔ یہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔ بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتا دوں گا۔ یوسف علیہ السلام کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔

اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کر دیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کر دیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کر لیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں «بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [ 14-ابراھیم: 28 ] ‏‏‏‏ اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کے دین کی پیروی کی۔
37۔ 1 یعنی میں جو تعبیر بتلاؤں گا، وہ کاہنوں اور نجومیوں کی طرح ظن وتخمین پر مبنی نہیں ہوگی، جس میں خطا اور نیکی دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ بلکہ میری تعبیر یقینی علم پر مبنی ہوگی جو اللہ کی طرف سے مجھے عطا کیا گیا ہے، جس میں غلطی کا امکان ہی نہیں۔ 37۔ 2 یہ الہام اور علم الٰہی (جن سے آپ کو نوازا گیا) کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا جو اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات مجھ پر ہوئے۔
(آیت 37) ➊ { قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ …:} یوسف علیہ السلام اس سے پہلے بھی اللہ کے دین اور توحید پر قائم تھے، قید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی کہ دنیا کے معاملات سے فراغت اور خلوت نصیب ہوئی، ذکر وفکر کا موقع زیادہ ملا، کفار کے تعلق سے دل خالی ہوا تو سینہ علم نبوت کے نور سے اور زیادہ روشن ہو گیا۔ اب ان دونوں کو یوسف علیہ السلام سے خواب کی تعبیر پوچھنے کی ضرورت پڑی تو یوسف علیہ السلام نے ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں توحید اور آخرت پر ایمان کی دعوت دیں، بعد میں خواب کی تعبیر بتائیں، اس لیے ان سے بات کا کچھ وقت لے لیا، مگر ساتھ ہی ان کی تسلی کر دی تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں، کہا کہ کھانا جو تمھیں دیا جاتا ہے، اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تمھیں ہر حال میں تعبیر بتا دوں گا۔ کھانا آنے سے پہلے پہلے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کا وقت قریب ہی تھا۔ ➋ { ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ …: ” ذٰلِكُمَا “} کی تفسیر کے لیے دیکھیں آیت (۳۲) یعنی خواب کی تعبیر ان علوم میں سے ایک علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھائے ہیں، مثلاً شریعت، حکمت، معیشت، امانت وغیرہ۔ مطلب یہ کہ میں تعبیر اندازے اور اٹکل سے نہیں بلکہ حقیقی علم کے ساتھ کروں گا۔ مصر کے کاہن اور درباری مشیر علم تعبیر میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو یہ علم خاص طور پر عطا فرمایا، تاکہ وقت آنے پر ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو عطا کر دہ علم میں اور دوسرے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کے علم میں کیا فرق ہوتا ہے، گویا یہ یوسف علیہ السلام کو عطا کر دہ ایک معجزہ بھی تھا۔ یہاں یہ سوال خودبخود پیدا ہونا تھا کہ یہ علوم جن میں سے علم تعبیر بھی ہے، آپ کو کیسے حاصل ہوئے؟ اس کے جواب میں یوسف علیہ السلام نے اس پورے معاشرے میں سے اپنے پر اس نعمت کے اسباب بیان فرمائے، پھر ان کو نہایت حکیمانہ طریقے سے دعوت توحید دی۔ چنانچہ پہلی بات یہ فرمائی کہ یہ علوم مجھے میرے رب تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،({” اِنِّيْ تَرَكْتُ “ } میں {”اِنَّ“} سبب بیان کرنے کے لیے ہے) اس لیے کہ میں نے ان لوگوں کی ملت اور ان کے دین کو ان میں رہنے اور جوان ہونے کے باوجود چھوڑے رکھا، کبھی اختیار ہی نہیں کیا، جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی وہ منکر ہیں، کیونکہ ایسے لوگ ان علوم کے لائق ہی نہیں ہوتے۔
وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے بزرگوں، ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں، یعنی ابراہیم واسحاق اور یعقوب کے دین کا، ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں، ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم ؑ اور اسحق ؑ اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم (ع)، اسحاق(ع) اور یعقوب(ع) کے مذہب کا پیرو ہوں۔ ہمیں یہ زیبا نہیں ہے کہ ہم کسی چیز کو بھی خدا کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم اور سب لوگوں پر کیا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے، ہمارے لیے ممکن ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کے فضل سے ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتا دوں گا۔ یوسف علیہ السلام کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔

اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کر دیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کر دیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کر لیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں «بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [ 14-ابراھیم: 28 ] ‏‏‏‏ اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہ الصلاۃ و السلام کے دین کی پیروی کی۔
38۔ 1 اجداد کو بھی آباء کہا، اس لئے کہ وہ بھی آباء ہی ہیں۔ پھر ترتیب میں جد اعلٰی (ابراہیم علیہ السلام) پھر جد اقرب (اسحاق علیہ السلام) اور پھر باپ (یعقوب علیہ السلام) کا ذکر کیا، یعنی پہلے۔ پہلی اصل، پھر دوسری اصل اور پھر تیسری اصل بیان کی۔ 38۔ 2 وہی توحید کی دعوت اور شرک کی تردید ہے جو ہر نبی کی بنیادی اور اولین تعلیم اور دعوت ہوتی ہے۔
(آیت 38) ➊ {وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيْۤ …:} پھر انھیں اپنا اور اپنے آباء کا تعارف کروایا، کیونکہ داعی کی شخصیت بھی دعوت قبول کرنے میں مددگار ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا کہ میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کی ملت اور ان کے دین کی پیروی کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کسی صورت اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کریں، خواہ وہ آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت پری، بت ہو یا قبر، پتھر ہو یا درخت، چاند سورج ہوں یا ستارے، غرض کسی کو بھی ہم ہر گز اللہ کا شریک نہیں بنا سکتے۔ {” مَا كَانَ لَنَاۤ “} میں نفی کی{ ” كَانَ “ } کے ساتھ تاکید کا یہی معنی ہے۔ نیک آباء کی پیروی سعادت ہے، جب کہ گمراہ آباء کی تقلید ضلالت ہے، جیسا کہ ان قیدیوں کو فرمایا: «{ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ }» یعنی اللہ کے سوا جس کی بھی تم عبادت کرتے ہو وہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباء نے رکھ لیے ہیں، ایسے آباء کی پیروی گمراہی ہے۔ ➋ { ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا …:} یعنی توحید کی یہ سمجھ عطا کرنا ہم پر اللہ کے بے شمار احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔ {”وَ عَلَى النَّاسِ“} اور لوگوں پر بھی احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے سے ان کو توحید سمجھانے کا انتظام فرمایا، لیکن اکثر لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب غالب ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب،
علامہ محمد حسین نجفی
اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو (یہ بتاؤ) آیا بہت سے جدا جدا خدا اچھے ہیں یا اللہ جو یگانہ بھی ہے اور سب پر غالب بھی؟
عبدالسلام بن محمد
اے قید خانے کے دو ساتھیو! کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید ٭٭

یوسف علیہ السلام سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں تعبیر خواب بتا دینے کا اقرار کر لیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہرچیز پر قبضہ ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بے بس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرّے ذرّے پر ہے وہی ایک بہتر؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔

دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لیے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بےشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ امن نصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ علیہ السلام نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کر چکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کر چکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
39۔ 1 قید خانے کے ساتھی۔ اسلئے قرار دیا کہ یہ سب ایک عرصے سے جیل میں محبوس چلے آ رہے تھے۔ 39۔ 2 تفریق ذات، صفات اور عدد کے لحاظ سے ہے۔ یعنی وہ رب، جو ذات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفرق، صفات میں ایک دوسرے سے مختلف اور تعداد میں باہم متنافی ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ، جو اپنی ذات وصفات میں متفرد ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ سب پر غالب اور حکمران ہے۔
(آیت 39) ➊ {يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ:”صَاحِبَيِ“} اصل میں{ ”صَاحِبَيْنِ“} تھا جو {”صَاحِبٌ“} (ساتھی) کی تثنیہ ہے۔ {” السِّجْنِ “ } کی طرف مضاف کیا تو نون تثنیہ گر گیا اور یاء کو کسرہ دے کر آگے ملا دیا گیا، یہ یاء متکلم کی نہیں، اس لیے معنی ہے ”اے قید خانے کے دو ساتھیو!“ یہ الفاظ اکٹھے رہنے کی وجہ سے انس کا بھی اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ کوئی قریب ہوتا ہے تو انس ہی سے ہوتا ہے جو دعوت کے لیے ضروری ہے، مگر درحقیقت ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کا بھی کہ ہم تم قید خانے میں اکٹھے رہنے والے ساتھی ہیں، اس کے باوجود اصل ساتھی نہیں، کیونکہ وہ تعلق صرف ایمان والوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ➋ { ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ۠ خَيْرٌ …:} مصر کے لوگوں کا دین اکثر زمانوں میں شرک یعنی متعدد معبودوں کی عبادت ہی رہا ہے، جیسا کہ تاریخ سے اور مصر کے آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر وہ بقول شخصے ایک رب کو مانتے بھی تھے تو دوسری تمام مشرک اقوام کی طرح اس کے تحت مختلف کاموں کا اختیار رکھنے والے کئی ارباب کی عبادت بھی کرتے تھے، کیونکہ ان کے ذہن اس شاہی نظام اور اس کے تحت جاگیر داری نظام سے آگے نہیں سوچ سکتے تھے، جو ان پر مسلط تھا، جیسا کہ یونانیوں کے ہاں ہر کام کی الگ دیوی تھی۔ عراق والے بادشاہ کے ساتھ ساتھ سورج، چاند، ستاروں اور بتوں کی پرستش بھی کرتے تھے، جن سے ابراہیم علیہ السلام کو سابقہ پڑا، اس لیے یوسف علیہ السلام نے سب سے پہلے قید کے ساتھیوں کی عقل کو جھنجوڑتے ہوئے یہی سوال کیا کہ بتاؤ کہ یہ الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو اکیلا ہے اور سب پر غالب اور زبردست ہے، کوئی اس کے آگے دم نہیں مار سکتا، نہ کوئی اس کی مرضی کے خلاف کچھ کر سکتا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ زمر(۲۹)، انبیاء (۲۲) اور بنی اسرائیل (۴۲) ظاہر ہے کہ عقل اگر درست ہو تو اکیلے، زبردست اور غالب رب ہی کو بہتر قرار دے گی۔
مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو یہ سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا اور کیا ہے؟ کہ وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری ہے حکم و حکومت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دینِ مستقیم (سیدھا دین) ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید ٭٭

یوسف علیہ السلام سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں تعبیر خواب بتا دینے کا اقرار کر لیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہرچیز پر قبضہ ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بے بس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرّے ذرّے پر ہے وہی ایک بہتر؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔

دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لیے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بےشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ امن نصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ علیہ السلام نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کر چکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کر چکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
40۔ 1 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کا نام معبود تم نے خود ہی رکھ لیا ہے، دراں حالیکہ وہ معبود ہیں نہ ان کی بابت کوئی دلیل اللہ نے اتاری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے جو مختلف نام تم نے تجویز کر رکھے ہیں۔ مثلا خواجہ غریب نواز، گنج بخش کرنی والا، کرماں والا وغیرہ یہ سب تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ان کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ 40۔ 2 یہی دین، جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، درست اور رقیم ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ 40۔ 3 جس کی وجہ سے اکثر لوگ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں (وَمَاوَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ) 12۔ یوسف:16) ' ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ' اور فرمایا (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف:13) اے پیغمبر تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
(آیت 40){ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً …:} ان کے ذہن میں ایک رب اور کئی ارباب کے موازنے کی سوچ ابھارنے کے بعد اب صاف لفظوں میں کئی ارباب کا باطل ہونا بیان فرمایا کہ تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو حقیقت میں وہ کہیں موجود ہی نہیں ہیں، محض فرضی اور خیالی چیزیں ہیں، جن کے نام تم نے اور تمھارے آبا و اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ حکم تو اللہ کے سوا کسی کا ہے ہی نہیں، نہ قدری حکم نہ شرعی، یعنی نہ کائنات کے نظام میں اس کے سوا کسی کا کوئی حکم چلتا ہے، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو چلنے کا حکم دے اور یہ اسے روک دے، یا وہ کسی کو مارنا چاہے اور یہ اسے مرنے نہ دے اور نہ شریعت اور عبادت میں اس کے سوا کسی کو اپنا حکم چلانے کی اجازت ہے، اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا اور محکم و مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لیے وہ شرک کے گورکھ دھندے میں پڑے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کی یہ تقریر ملت ابراہیم، یعنی اسلام کی بہترین مختصر ترجمانی ہے۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے قیدخانے کے رفیقو! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاه کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا، لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کھائیں گے، تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کردیا گیا
احمد رضا خان بریلوی
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا رہا دوسرا وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو! (اب اپنے خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک (پہلا) تو وہ ہے جو اپنے مالک (شاہِ مصر) کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کے سر کو (نوچ نوچ کر) کھائیں گے اس بات کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم دریافت کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے قید خانے کے دو ساتھیو! تم میں سے جو ایک ہے سو وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے سو اسے سولی دی جائے گی، پس پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خواب اور اس کی تعبیر ٭٭

اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہو جائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑ جائے۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے وہ معلق رہتا ہے اور جب تعبیر ہو چکی وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تعبیر سننے کے بعد ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو دراصل کوئی خواب دیکھا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا اب تو تمہارے سوال کے مطابق ظاہر ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص خواہ مخواہ کا خواب گھڑ لے اور پھر اس کی تعبیر بھی دی دے دی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خواب گویا پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے جب تعبیر دے دی گئی پھر وہ واقع ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد:10/4:صحیح] ‏‏‏‏ مسند ابو یعلیٰ میں مرفوعاً مروی ہے کہ خواب کی تعبیر سب سے پہلے جس نے دی اس کے لیے ہے۔ [ابن ابی شیبة،11/7:ضعیف] ‏‏‏‏
41۔ 1 توحید کا وعظ کرنے کے بعد اب حضرت یوسف ؑ ان کے بیان کردہ خوابوں کی تعبیر بیان فرما رہے ہیں۔ 41۔ 2 یہ وہی شخص ہے جس نے خواب میں اپنے آپ کو انگور کا شیرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تاہم آپ نے دونوں میں سے کسی ایک کی تعبین نہیں کی تاکہ مرنے والا پہلے ہی غم و حزن میں مبتلا نہ ہوجائے۔ 41۔ 3 یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے سر پر خواب میں روٹیاں اٹھائے دیکھا تھا۔ 41۔ 4 یعنی تقدیر الٰہی میں پہلے سے یہ بات ثبت ہے اور جو تعبیر میں نے بتلائی ہے۔ لا محالہ واقع ہو کر رہے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ' خواب، جب تک اس کی تعبیر نہ کی جائے، پرندے کے پاؤں پر ہے۔ جب اس کی تعبیر کردی جائے تو واقع ہوجاتا ہے ' (مسند احم بحوالہ ابن کثیر)
(آیت 41) ➊ {يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ …:} تعبیر بیان کرتے وقت یوسف علیہ السلام کے حسن ادا کو ملاحظہ فرمائیں، ایک تو دونوں میں سے ایک کو متعین کرکے نہیں فرمایا کہ تیرے خواب کا یہ نتیجہ ہے اور تیرے خواب کا یہ، حالانکہ جواب سے ظاہر تھا کہ ساقی نے عہدے پر بحال ہونا ہے اور دوسرے نے سولی چڑھنا ہے، بلکہ فرمایا تم میں سے ایک کی تعبیر یہ ہے اور ایک کی یہ۔ پھر اس بات کو بھی سامنے رکھیے کہ پہلے وہ تعبیر بتائی جو خوش خبری والی تھی، دوسری بعد میں بتائی۔ مقصد یہ تھا کہ دل شکنی میں جتنی بھی دیر ہو سکے کی جائے اور خوشی کی خبر جتنی جلد ہو سکے پہنچائی جائے۔ ➋ {قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ:} یعنی یہ فیصلہ ہو چکا، جو اب ٹل نہیں سکتا ہے۔ یہاں لفظ{ ” قُضِيَ “} سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی آیت میں جو لفظ {” ظَنَّ “} آ رہا ہے وہ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ خواب کی تعبیر اجتہادی ظن تھا، لہٰذا یہ ظن اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) موضح میں ہے: {” ظَنَّ “} فرمایا، معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اٹکل ہے، مگر پیغمبر اٹکل کرے تو بے شک ہے، یعنی اٹکل نہیں ہے۔“
وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاه سے میرا ذکر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاه سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قیدخانے میں ہی کاٹے
احمد رضا خان بریلوی
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا
علامہ محمد حسین نجفی
اور یوسف (ع) نے اس شخص سے کہا جس کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان دنوں میں سے رہا ہو جائے گا۔ کہ اپنے مالک سے میرا تذکرہ بھی کر دینا لیکن شیطان نے اسے اپنے مالک سے یہ تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف کئی سال قید خانہ میں پڑا رہا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعبیر بتا کر بادشاہ وقت کو اپنی یاد دہانی کی تاکید ٭٭

جسے یوسف علیہ السلام نے اس کے خواب کی تعبیر کے مطابق اپنے خیال میں جیل خانہ سے آزاد ہونے والا سمجھا تھا اس سے در پردہ علیحدگی میں کہ وہ دوسرا یعنی باورچی نہ سنے فرمایا کہ بادشاہ کے سامنے ذرا میرا ذکر بھی کر دینا۔ لیکن یہ اس بات کو بالکل ہی بھول گیا۔ یہ بھی ایک شیطانی چال ہی تھی جس سے نبی اللہ علیہ السلام کئی سال تک قید خانے میں ہی رہے۔ پس ٹھیک قول یہی ہے کہ «فَاَنسٰہُ» میں ہ کی ضمیر کا مرجع نجات پانے والا شخص ہی ہے۔ گویا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضمیر یوسف علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یوسف علیہ السلام یہ کلمہ نہ کہتے تو جیل خانے میں اتنی لمبی مدت نہ گزارتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے کشادگی چاہی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19322:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ روایت بہت ہی ضعیف ہے۔ اس لیے کہ سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں۔ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے مرسلاً مروی ہے۔ گو مرسل حدیثیں کسی موقع پر قابل قبول بھی ہوں لیکن ایسے اہم مقامات پر ایسی مرسل روایتیں ہرگز احتجاج کے قابل نہیں ہو سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ «بِضْعَ» لفظ تین سے نو تک کے لیے آتا ہے۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام بیماری میں سات سال تک مبتلا رہے اور یوسف علیہ السلام قید خانے میں سات سال تک رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال تک رہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مدت قید بارہ سال تھی۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں چودہ برس آپ علیہ السلام نے قید خانے میں گزارے۔
42۔ 1 بضع کا لفظ تین سے لے کر نو تک عدد کے لیے بولا جاتا ہے، وہب بن منبہ کا قول ہے۔ حضرت ایوب ؑ آزمائش میں اور یوسف ؑ قید خانے میں سات سال رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال رہا اور بعض کے نزدیک بارہ سال اور بعض کے نزدیک چودہ سال قید خانے میں رہے۔ واللہ اعلم۔
(آیت 42) ➊ { وَ قَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ …:} اس سے معلوم ہوا کہ قید خانے میں رہنا جو بقول بعض زندوں کا قبرستان ہے، کس قدر تکلیف دہ ہے کہ یوسف علیہ السلام جیسے صابر شخص نے اس آدمی سے کہا جس کے متعلق انھوں نے سمجھا تھا کہ وہ رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا کہ کس طرح ایک شخص بلاجرم قید میں بند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے نکلنے کے لیے دنیا کے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں انھیں اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، جیسا کہ «{ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى }» [ المائدۃ: ۲ ] (نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو) سے ظاہر ہے اور جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ }» [ آل عمران: ۵۲ ] ”اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں؟“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر مطعم بن عدی کی طرف پیغام بھیجا، پھر اس کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے، بلکہ مسلمان کو دنیا کا ہر جائز سبب اختیار کرنا چاہیے، فرمایا: «{ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ[الأنفال: ۶۰ ] یعنی ان کفار کے لیے جس قدر تمھاری استطاعت ہے تیاری رکھو، البتہ بھروسا اس کے بعد بھی اللہ ہی پر ہو گا۔ ➋ شیطان نے اس ساقی کو اپنے مالک یعنی بادشاہ کے پاس یہ ذکر کرنا بھلا دیا، سو یوسف علیہ السلام کئی سال قید میں رہے۔ شیطان کی آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے دشمنی کا تو قرآن شاہد ہے: «{ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ }» [ البقرۃ: ۱۶۸ ] ”بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔“ اور قرآن نے صراحت کی ہے کہ ساقی کو بھلانا شیطان کا کام تھا، اس کے باوجود بعض اہل علم نے ساقی کو بادشاہ کے پاس اپنا ذکر کرنے کے لیے کہنا یوسف علیہ السلام کی عزیمت اور شانِ پیغمبری کے خلاف قرار دیا ہے اور اتنے سال جیل میں رہنے کا باعث یہ قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یوسف علیہ السلام کا دل اسباب پر نہ ٹھہرے۔ اس سلسلے میں یہ حضرات وہ روایت بھی پیش کرتے ہیں جو ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یوسف علیہ السلام وہ بات نہ کہتے جو انھوں نے کہی تو اتنی لمبی مدت قید میں نہ رہتے، کیونکہ انھوں نے غیر اللہ کے ہاں سے مصیبت دور کروانا چاہی۔“ حافط ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ روایت نہایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کا راوی سفیان بن وکیع ضعیف ہے اور (اس کا شیخ) ابراہیم بن یزید (الجوزی) اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔“ ➌ { فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ:بِضْعَ “} کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس مدت کی تعیین کہیں نہیں آئی۔ تابعین میں سے کسی نے سات سال کہا، کسی نے کم و بیش، مگر اب ان سے کون پوچھے کہ آپ کو کس نے یہ مدت بتائی، اگر بنی اسرائیل سے آئی ہے تو اس پر تو اعتبار ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہم نہ اسے سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ سو اصل یہی ہے کہ وہ مدت دس سال سے کم تھی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی تھی۔
وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک روز بادشاہ نے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی اے اہل دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
بادشاه نے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات ﻻغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہیں ہری ہری اور دوسری سات بالکل خشک۔ اے درباریو! میرے اس خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(کچھ مدت کے بعد) بادشاہ نے کہا میں نے (خواب میں) سات موٹی تازی گائیں دیکھی ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں اور سات دوسری سوکھی اے سردارو (درباریو) اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو پھر مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور بادشاہ نے کہا بے شک میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے اور کچھ دوسرے خشک (دیکھتا ہوں)، اے سردارو! مجھے میرے خواب کے بارے بتائو، اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43) ➊ {وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْۤ اَرٰى …:} مصر کے بادشاہ کا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یوسف علیہ السلام کی قید سے عزت و تکریم کے ساتھ رہائی کا سبب تھا، اس خواب نے شاہِ مصر کو نہایت خوف زدہ اور پریشان کر دیا، چنانچہ اس نے اپنے علم تعبیر کے تمام ماہروں اور سب سرداروں کو جمع کرکے خواب سنایا اور تعبیر کی فرمائش کی۔ ➋ { يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَرِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلٰكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّی إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمَا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوْسًا جُهَّالاً، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَ أَضَلُّوْا ] [ بخاری، العلم، باب کیف یقبض العلم: ۱۰۰ ] ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ اسے علماء کے سینے سے نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے فوت کر لینے کے ساتھ قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، سو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث سے تک بندی اور اٹکل پچو سے تعبیر بتانے والے اپنا انجام سوچ لیں۔ ➌ معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اپنے درباریوں سے امید نہ تھی کہ وہ اس خواب کی تعبیر کر سکیں گے، اسی لیے کہا: ”اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔“
قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگوں نے کہا "یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اڑتے اڑاتے پریشان خواب ہیں اور ایسے شوریده پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہم نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا یہ تو پریشان خواب و خیالات ہیں (جن کی کوئی خاص تعبیر نہیں ہوتی) اور ہم خوابہائے پریشان کی تعبیر نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر بالکل جاننے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
44۔ 1 یہ خواب اس بادشاہ کو آیا، عزیز مصر جس کا وزیر تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اس خواب کے ذریعے سے یوسف ؑ کی رہائی عمل میں لانی تھی۔ چناچہ بادشاہ کے درباریوں، کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب پریشان کی تعبیر بتلانے سے عجز کا اظہار کردیا، بعض کہتے ہیں کہ نجومیوں کے اس قول کا مطلب مطلقا علم تعبیر کی نفی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ علم تعبیر سے وہ بیخبر نہیں تھے نہ اس کی انہوں نے نفی کی، انہوں نے صرف خواب کی تعبیر بتلانے سے لا علمی کا اظہار کیا۔
(آیت 44) {قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ …: ” اَضْغَاثُ”ضِغْثٌ“} کی جمع ہے، آپ گھاس کا ایک مُٹھا اکھاڑیں، اس میں ملا جلا جو کچھ ہاتھ میں آئے اسے {”ضِغْثٌ“} کہتے ہیں، یعنی یہ خوابوں کی ملی جلی پریشان باتیں ہیں، کوئی مرتب یا واضح خواب نہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ علم تعبیر میں مہارت کے دعوؤں کو قائم رکھنے کے لیے انھوں نے خواب ہی کو پریشان خیالوں کا مجموعہ قرار دے دیا، جیسا کہ کہاوت ہے ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔“
وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا "میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسفؑ کے پاس) بھیج دیجیے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد یاد آگیا اور کہنے لگامیں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت وہ شخص جو ان دو قیدیوں میں رہا ہوا تھا اور مدت کے بعد اسے (یوسف (ع) کا پیغام) یاد آیا تھا بولا میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتاتا ہوں ذرا مجھے (ایک جگہ) بھیج تو دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا میں تمھیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، سو مجھے بھیجو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
45۔ 1 یہ قید کے دو ساتھیوں میں سے ایک نجات پانے والا تھا، جسے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا، تاکہ میری رہائی کی صورت بن سکے۔ اسے اچانک یاد آیا اور اس نے کہا کہ مجھے مہلت دو میں تمہیں آ کر اس کی تعبیر بتلاتا ہوں، چناچہ وہ نکل کر سیدھا یوسف ؑ کے پاس پہنچا اور خواب کی تفصیل بتا کر اس کی تعبیر کی بابت پوچھا۔
(آیت 45) ➊ {وَ قَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ …: ” ادَّكَرَ”ذَكَرَ يَذْكُرُ“} (ن) سے باب افتعال ہے، اصل میں {”اِذْتَكَرَ“} تھا، پھر افتعال کی تاء کو دال اور اس کے ساتھ ہی ذال کو بھی دال میں بدل کر {” ادَّكَرَ “} کر دیا، بمعنی یاد کیا۔ {” اُمَّةٍ “} کے کئی معانی ہیں جن میں سے ایک معنی مدت بھی ہے، تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس وقت ساقی کو جس نے یوسف علیہ السلام کی تعبیر کے بعد قید سے رہائی پائی تھی اور یوسف علیہ السلام کے کہنے کے باوجود سرے سے ان کی بات بھول چکا تھا، اتنی لمبی مدت کے بعد یوسف علیہ السلام اور ان کی علم تعبیر میں مہارت یاد آئی اور اس نے کہا میں تمھیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، آپ مجھے بھیجیں، چنانچہ اسے اجازت مل گئی اور وہ یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ➋ اس ساقی کے رویے سے سرکاری و درباری کارندوں کے کردار پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے کہ وہ ہمیشہ کریڈٹ کے چکر میں رہتے ہیں۔ (الا ماشاء اللہ) اس کا یہ کہنا حقیقت سے کس قدر دور تھا کہ میں تمھیں تعبیر بتاتا ہوں، اس کا حق تھا کہ اپنے محسن کا ذکر کرتا، انھیں عزت سے بلواتا اور بادشاہ سے درخواست کرتا کہ ان سے تعبیر پوچھیں، مگر وہ اس چکر ہی سے نہیں نکلا کہ ”میں تمھیں بتاتا ہوں۔“ کتنے ہی سرکاری افسر اور سرمایہ دار ہیں جو دوسروں کی علمی محنت کو اپنے نام لگا کر ڈگریاں حاصل کرتے یا اپنی علمی شان کا سکہ جماتے ہیں، مگر یہ سب بے چارے اسی مرض کے مریض ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بعض اہل کتاب کا بتایا ہے: «{ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ }» [ آل عمران: ۱۸۸ ] ”اور وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے جا کر کہا "یوسفؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے یوسف! اے بہت بڑے سچے یوسف! آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلایئے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالکل سبز خوشے ہیں اور سات ہی دوسرے بالکل خشک ہیں، تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں کہ وه سب جان لیں
احمد رضا خان بریلوی
اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ وہ سیدھا قید خانہ گیا اور کہا) اے یوسف! اے بڑے سچے! ذرا ہمیں اس خواب کی تعبیر بتاؤ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں اور سات سوکھی تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں (اور انہیں جا کر بتاؤں) شاید وہ (تمہاری قدر و منزلت یا تعبیر) جان لیں۔
عبدالسلام بن محمد
یوسف! اے نہایت سچے! ہمیں سات موٹی گائیوں کی تعبیر بتا، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشوں اور دوسرے خشک خوشوں کی بھی، تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں، تاکہ وہ جان لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 46) ➊ {يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ …: ” يُوْسُفُ “} سے پہلے حرف ندا {” يَا “} وغیرہ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ مبنی علی الضم ہے۔ {” الصِّدِّيْقُ”صَدَقَ“} کے اسم فاعل میں مبالغہ ہے جو ہر حال میں اپنے قول، فعل اور حال کا سچا ہو، جس کی عادت ہی ہر حال میں سچ ہو، اس کا قول سچ ہو اور اس کا فعل اور حال بھی اس کے مطابق ہو۔ صدیقیت کے کئی درجے ہیں، مومن بھی صدیق ہے بمقابلہ کافر (دیکھیے حدید: ۱۹) اور ابوبکر بھی صدیق ہیں اور امت میں اس درجے کا کوئی صدیق نہیں۔ ابراہیم اور ادریس علیھما السلام کے بارے میں سورۂ مریم (۴۱، ۵۶) میں {” صِدِّيْقًا نَّبِيًّا “} آتا ہے، یوسف علیہ السلام بھی صدیق ہیں۔ ساقی کو ان کا صدیق ہونا تعبیر سے پہلے بھی مشاہدے سے ثابت ہو چکا تھا، اسی لیے انھوں نے کہا: «{ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [ یوسف: ۳۶ ] پھر تعبیر کے بعد عین اسی طرح واقع ہونے سے ان کے صدیق ہونے کی مزید تصدیق ہو گئی۔ ➋ یہاں ساقی کا رویہ دیکھیں کہ اس کی طرف سے بھول جانے کی معذرت کا کوئی ذکر نہیں اور یوسف علیہ السلام کے سینے کی وسعت دیکھیں، پوچھا ہی نہیں کہ تمھیں اتنی دیر یوسف صدیق یاد نہ آیا، اب کیا لینے آئے ہو۔ غرض کے بندوں اور محسنین کا یہی فرق ہے۔ ➌ ساقی نے خواب دیکھنے والے کا ذکر نہیں کیا، البتہ خواب عین انھی الفاظ میں بیان کیا جو بادشاہ کے تھے، کیونکہ ایک لفظ کے فرق سے بھی مطلب کچھ اور بن جاتا ہے۔ قرآن میں دونوں جگہ خشک گائیوں کے موٹی گایوں کو کھانے کا ذکر تو ہے مگر خشک خوشوں کے سبز خوشوں پر لپٹنے کا ذکر مفسرین نے کہاں سے لیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ساقی نے درخواست کی کہ آپ ہمیں اس خواب کے بارے میں فتویٰ دیں (تعبیر بتائیں) لوگ منتظر ہیں، تاکہ میں جا کر انھیں بتاؤں اور وہ بھی جان لیں۔
قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو
مولانا محمد جوناگڑھی
یوسف نے جواب دیا کہ تم سات سال تک پے درپے لگاتار حسب عادت غلہ بویا کرنا، اور فصل کاٹ کر اسے بالیوں سمیت ہی رہنے دینا سوائے اپنے کھانے کی تھوڑی سی مقدار کے
احمد رضا خان بریلوی
کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو مگر تھوڑا جتنا کھالو
علامہ محمد حسین نجفی
یوسف (ع) نے کہا (اس خواب کی تعبیر یہ ہے) کہ تم متواتر سات سال کاشتکاری کروگے پھر جو فصل کاٹو اسے اس کی بالی میں رہنے دو ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ نکال لو جسے تم کھاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا تم سات سال پے درپے کاشت کرو گے تو جو کاٹو اسے اس کے خوشے میں رہنے دو، مگر تھوڑا سا وہ جو تم کھالو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 47) ➊ {قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا …: ” دَاَبًا “ ” تَزْرَعُوْنَ “} کی ضمیر سے حال ہے، یعنی {”دَائِبِيْنَ“ } مسلسل پے در پے محنت سے کاشت کرنے والے۔ یوسف علیہ السلام نے تعبیر کے ساتھ ہی حل بھی بتایا۔ یہاں {” تَزْرَعُوْنَ “} بمعنی {”اِزْرَعُوْا“} ہے، یعنی ”سات سال مسلسل محنت سے کاشت کرو “ کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ جو کچھ کاٹو اسے سٹوں میں رہنے دو۔ زیادہ تاکید کرنی ہو تو امر کو مضارع کی صورت میں لاتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ }» [ البقرۃ: ۸۳ ] ”اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔“ آج سے ہزاروں سال پہلے یوسف علیہ السلام نے گندم کو گھن، سسری اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتایا، جدید ترین محققین بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ➋ { اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ:} یعنی خوشوں سے صرف اتنی گندم صاف کرو جو کھانی ہے اور وہ بھی کم از کم، تاکہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکے اور ان سات سالوں میں آدمیوں کے علاوہ بھس بھی جانوروں کے کام آ سکے۔ کم کھانے کی تاکید پر طب اور شرع دونوں متفق ہیں۔ اس کی حد ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توچند لقمے بیان فرمائی، فرمایا: [ فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهٖ ] [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل: ۲۳۸۰، و صححہ الألبانی ] ”اگر ضرور ہی زیادہ کھانا ہو تو پیٹ کا ایک حصہ کھانے، ایک پینے اور ایک سانس کے لیے رکھو۔“
ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط آئیں گے وه اس غلے کو کھا جائیں گے، جو تم نے ان کے لئے ذخیره رکھ چھوڑا تھا، سوائے اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا مگر تھوڑا جو بچالو
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کے بعد سات بڑے سخت سال آئیں گے جو وہ سب کچھ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے ذخیرہ کیا تھا مگر تھوڑا سا بچے گا جسے تم محفوظ کر لوگے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے بعد بہت سخت سات برس آئیں گے، جو کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ان کے لیے پہلے رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا وہ جو تم محفوظ رکھو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
48۔ 1 حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے علم تعبیر سے بھی نوازی تھا، اس لئے وہ اس خواب کی تہ تک فورا پہنچ گئے انہوں نے موٹی تازہ سات گایوں سے سات سال مراد لئے جن میں خوب پیداوار ہوگی، اور سات دبلی پتلی گایوں سے اس کے برعکس سات سال خشک سالی کے۔ اسی طرح سات سبز خوشوں سے مراد لیا کہ زمین خوب پیداوار دے گی اور سات خشک خوشوں کا مطلب یہ ہے کہ ان سات سالوں میں زمین کی پیداوار نہیں ہوگی۔ اور پھر اس کے لئے تدبیر بھی بتلائی کہ سات سال تم متواتر کاشتکاری کرو اور جو غلہ تیار ہو، اسے کاٹ کر بالیوں سمیت ہی سنبھال کر رکھو تاکہ ان میں غلہ زیادہ محفوظ رہے، پھر جب سات سال قحط کے آئیں گے تو یہ غلہ تمہارے کام آئے گا جس کا ذخیرہ تم اب کرو گے۔ 48۔ 2 مِمَّا تُحصنُوْنَ سے مراد وہ دانے ہیں جو دوبارہ کاشت کے لئے محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔
(آیت 48){ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ …:” تُحْصِنُوْنَ”حِصْنٌ “} قلعے کو کہتے ہیں، مراد حفاظت سے رکھنا ہے، یعنی خوش حالی کے سات سالوں کا ذخیرہ تم لوگ قحط کے سات سالوں میں چٹ کر جاؤ گے، مگر وہ تھوڑا سا جو تم آئندہ سال کے بیج کے لیے بڑی محنت سے بچا کر محفوظ رکھو گے۔
ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس کے ذریعہ سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور جس میں وہ (پھلوں کا رس) نچوڑیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
49۔ 1 یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو عطا فرمایا۔
(آیت 49) ➊ {ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ …:” يُغَاثُ”غَيْثٌ“} سے بھی ہو سکتا ہے اور {”غَوْثٌ“} سے بھی۔ {”غَيْثٌ“} سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور {”غَوْثٌ“} سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ {” يَعْصِرُوْنَ “} ”نچوڑیں گے“ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے{ ” يَعْصِرُوْنَ “} کے معنی {”يَحْلِبُوْنَ“} (دودھ دوہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا خشک سالوں کی گنتی سات ہونے سے استدلال فرمایا کہ وہ سات تبھی رہتے ہیں جب ان کے بعد کم از کم ایک خوش حالی کا سال ہو اور اس سے بھی کہ اللہ کی رحمت کا تقاضا بھی شدت کے بعد آسانی کا ہے۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگربادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی {” كِتَابُ التَّعْبِيْرِ “} میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے: {” بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ “} ”قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔“
وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسفؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا "اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بادشاه نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ، جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاه کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے، تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے واﻻ میرا پروردگار ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے کہا اس شخص (یوسف) کو میرے پاس لاؤ۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کے معاملہ کی حقیقت کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بے شک میرا پروردگار ان کے مکر و فریب سے خوب واقف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو، تو جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے مالک کے پاس واپس جا، پھر اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف علیہ السلام کو وزارت سونپنا ٭٭

خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آ گیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ علیہ السلام کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ علیہ السلام سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ یوسف علیہ السلام کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اس کے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کر لیں کہ میرا قصور کیا تھا؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی یوسف علیہ السلام کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت ابراہیم علیہ السلام کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا «وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» [ 2-البقرہ: 260 ] ‏‏‏‏ میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے [ اس بات کو ] ‏‏‏‏ باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن [ میں دیکھنا ] ‏‏‏‏ اس لیے [ چاہتا ہوں ] ‏‏‏‏ کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کر لے۔ [ یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو ابراہیم علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کر سکتے تھے؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازرو ئے شک ] ‏‏‏‏۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا «قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِ» یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔

۔ اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف علیہ السلام کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کر لیتا۔ [صحیح بخاری:3372] ‏‏‏‏ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد:389/2:حسن] ‏‏‏‏ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آ کر آپ علیہ السلام سے تعبیر پوچھتا ہے آپ علیہ السلام فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بے قصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔

اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتوں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف علیہ السلام پر کوئی الزام نہیں اس پر بے سرو پا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف علیہ السلام میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اُٹھی کہ اب حق ظاہر ہو گیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمداللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
50۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جب وہ شخص تعبیر دریافت کر کے بادشاہ کے پاس گیا اور اسے تعبیر بتائی تو وہ اس تعبیر سے اور حضرت یوسف ؑ کی بتلائی ہوئی تدبیر سے بڑا متاثر ہوا اور اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص، جسے ایک عرصے سے حوالہ زنداں کیا ہوا ہے، غیر معمولی علم و فضل اور اعلٰی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ چناچہ بادشاہ نے انھیں دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ 50۔ 2 حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ بادشاہ اب مائل بہ کرم ہے، تو انہوں نے اس طرح محض عنایت خسوانہ سے جیل سے نکلنے کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ اپنے کردار کی رفعت اور پاک دامنی کے اثبات کو ترجیح دی تاکہ دنیا کے سامنے آپ کا کردار اور اس کی بلندی واضح ہوجائے۔ کیونکہ داعی الی اللہ کے لئے یہ عفت و پاک بازی اور رفعت کردار بہت ضروری ہے۔
(آیت 50) ➊ {وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ:} یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ اس سے علم کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ حسن بے مثال قید اور مصیبت کا باعث بنا اور علم رہائی کا۔ دنیا میں جب یہ حال ہے تو آخرت میں علم نافع کی برکتوں کا آپ خود اندازہ فرما لیں۔ ➋ {قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ …: } یوسف علیہ السلام نے قید سے نکل کر قاصد کے ساتھ جانے کے بجائے مطالبہ کیا کہ واپس جاؤ اور بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوسف علیہ السلام کا خیال تھا کہ شاید بادشاہ کو میرے قید میں بھیجے جانے یا عورتوں کے فریب کے معاملے کا علم ہی نہ ہو، دوسرے وزیروں نے ازخود ہی یہ سب کچھ کیا ہو، یا اگر علم ہو تو جس طرح بدنام کرکے قید کیا گیا اسی کے مطابق علم ہو۔ اسی طرح عام لوگوں میں بھی ممکن ہے کچھ لوگ ان کا قصور سمجھتے ہوں، اس لیے انھوں نے جب تک تحقیق کے ساتھ تہمت سے ہر طرح صفائی نہ ہو، قید سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کے صبر کی تعریف فرمائی، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوْسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِيْ لَأَجَبْتُهٗ ] [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا أہل السجون والفساد والشرک: ۶۹۹۲ ] ”اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنی مدت یوسف علیہ السلام رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں ضرور اس کی دعوت قبول کرتا۔“ ➌ یوسف علیہ السلام نے جو مطالبہ کیا کہ ”بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کا یہ فعل (عزیز کی بیوی ہاتھ کاٹنے والیوں میں شامل نہیں تھی) یوسف علیہ السلام کے حسن سے بے خود ہو کر بے اختیاری میں نہیں ہوا، بلکہ یہ باقاعدہ ان کی سازش اور فریب تھا، جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا ہے۔