بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 42
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا
اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاه سے میرا ذکر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاه سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قیدخانے میں ہی کاٹے
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا
اور یوسف (ع) نے اس شخص سے کہا جس کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان دنوں میں سے رہا ہو جائے گا۔ کہ اپنے مالک سے میرا تذکرہ بھی کر دینا لیکن شیطان نے اسے اپنے مالک سے یہ تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف کئی سال قید خانہ میں پڑا رہا۔
اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تعبیر بتا کر بادشاہ وقت کو اپنی یاد دہانی کی تاکید ٭٭

جسے یوسف علیہ السلام نے اس کے خواب کی تعبیر کے مطابق اپنے خیال میں جیل خانہ سے آزاد ہونے والا سمجھا تھا اس سے در پردہ علیحدگی میں کہ وہ دوسرا یعنی باورچی نہ سنے فرمایا کہ بادشاہ کے سامنے ذرا میرا ذکر بھی کر دینا۔ لیکن یہ اس بات کو بالکل ہی بھول گیا۔ یہ بھی ایک شیطانی چال ہی تھی جس سے نبی اللہ علیہ السلام کئی سال تک قید خانے میں ہی رہے۔ پس ٹھیک قول یہی ہے کہ «فَاَنسٰہُ» میں ہ کی ضمیر کا مرجع نجات پانے والا شخص ہی ہے۔ گویا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضمیر یوسف علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یوسف علیہ السلام یہ کلمہ نہ کہتے تو جیل خانے میں اتنی لمبی مدت نہ گزارتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے کشادگی چاہی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19322:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ روایت بہت ہی ضعیف ہے۔ اس لیے کہ سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں۔ حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما سے مرسلاً مروی ہے۔ گو مرسل حدیثیں کسی موقع پر قابل قبول بھی ہوں لیکن ایسے اہم مقامات پر ایسی مرسل روایتیں ہرگز احتجاج کے قابل نہیں ہو سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ «بِضْعَ» لفظ تین سے نو تک کے لیے آتا ہے۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ ایوب علیہ السلام بیماری میں سات سال تک مبتلا رہے اور یوسف علیہ السلام قید خانے میں سات سال تک رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال تک رہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مدت قید بارہ سال تھی۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں چودہ برس آپ علیہ السلام نے قید خانے میں گزارے۔

📖 احسن البیان

42۔ 1 بضع کا لفظ تین سے لے کر نو تک عدد کے لیے بولا جاتا ہے، وہب بن منبہ کا قول ہے۔ حضرت ایوب ؑ آزمائش میں اور یوسف ؑ قید خانے میں سات سال رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال رہا اور بعض کے نزدیک بارہ سال اور بعض کے نزدیک چودہ سال قید خانے میں رہے۔ واللہ اعلم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ { وَ قَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ …:} اس سے معلوم ہوا کہ قید خانے میں رہنا جو بقول بعض زندوں کا قبرستان ہے، کس قدر تکلیف دہ ہے کہ یوسف علیہ السلام جیسے صابر شخص نے اس آدمی سے کہا جس کے متعلق انھوں نے سمجھا تھا کہ وہ رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا کہ کس طرح ایک شخص بلاجرم قید میں بند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے نکلنے کے لیے دنیا کے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں انھیں اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، جیسا کہ «{ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى }» [ المائدۃ: ۲ ] (نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو) سے ظاہر ہے اور جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ }» [ آل عمران: ۵۲ ] ”اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں؟“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر مطعم بن عدی کی طرف پیغام بھیجا، پھر اس کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے، بلکہ مسلمان کو دنیا کا ہر جائز سبب اختیار کرنا چاہیے، فرمایا: «{ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ[الأنفال: ۶۰ ] یعنی ان کفار کے لیے جس قدر تمھاری استطاعت ہے تیاری رکھو، البتہ بھروسا اس کے بعد بھی اللہ ہی پر ہو گا۔ ➋ شیطان نے اس ساقی کو اپنے مالک یعنی بادشاہ کے پاس یہ ذکر کرنا بھلا دیا، سو یوسف علیہ السلام کئی سال قید میں رہے۔ شیطان کی آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے دشمنی کا تو قرآن شاہد ہے: «{ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ }» [ البقرۃ: ۱۶۸ ] ”بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔“ اور قرآن نے صراحت کی ہے کہ ساقی کو بھلانا شیطان کا کام تھا، اس کے باوجود بعض اہل علم نے ساقی کو بادشاہ کے پاس اپنا ذکر کرنے کے لیے کہنا یوسف علیہ السلام کی عزیمت اور شانِ پیغمبری کے خلاف قرار دیا ہے اور اتنے سال جیل میں رہنے کا باعث یہ قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یوسف علیہ السلام کا دل اسباب پر نہ ٹھہرے۔ اس سلسلے میں یہ حضرات وہ روایت بھی پیش کرتے ہیں جو ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یوسف علیہ السلام وہ بات نہ کہتے جو انھوں نے کہی تو اتنی لمبی مدت قید میں نہ رہتے، کیونکہ انھوں نے غیر اللہ کے ہاں سے مصیبت دور کروانا چاہی۔“ حافط ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ روایت نہایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کا راوی سفیان بن وکیع ضعیف ہے اور (اس کا شیخ) ابراہیم بن یزید (الجوزی) اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔“ ➌ { فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ:بِضْعَ “} کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس مدت کی تعیین کہیں نہیں آئی۔ تابعین میں سے کسی نے سات سال کہا، کسی نے کم و بیش، مگر اب ان سے کون پوچھے کہ آپ کو کس نے یہ مدت بتائی، اگر بنی اسرائیل سے آئی ہے تو اس پر تو اعتبار ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہم نہ اسے سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ سو اصل یہی ہے کہ وہ مدت دس سال سے کم تھی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی تھی۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →