بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 9
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾
چلو یوسفؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا"
یوسف کو تو مار ہی ڈالو یا اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا
یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا
یوسف کو قتل کر دو یا کسی اور سرزمین پر پھینک دو۔ تاکہ تمہارے باپ کا رخ (توجہ) صرف تمہاری طرف ہو جائے اس کے بعد تم بھلے آدمی ہو جاؤگے (تمہارے سب کام بن جائیں گے)۔
یوسف کو قتل کر دو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو، تمھارے باپ کا چہرہ تمھارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یوسف علیہ السلام کے خاندان کا تعارف ٭٭

فی الواقع یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کر سکے اور نصیحتیں لے سکے۔ یوسف علیہ السلام کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین علیہ السلام تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقیناً یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ» [ 2-البقرہ: 136 ] ‏‏‏‏ میں سے لفظ «أَسْبَاطِ» پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہو گئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف علیہ السلام میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف «علیہ السلام» کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔

کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کر لینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بے وجہ، بے قصور صرف عداوت میں آ کر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف علیہ السلام کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہو گئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضیلت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بے زبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔

📖 احسن البیان

9۔ 1 اس سے مراد تائب ہوجانا ہے یعنی کنوئیں میں ڈال کر یا قتل کر کے اللہ سے اس گناہ کے لئے توبہ کرلیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ { اقْتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا:} دیکھیے حسد انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے کہ آدمی صغیرہ گناہ کو کبیرہ اور کبیرہ کو صغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔یوسف علیہ السلام کا باپ کی نظر میں زیادہ محبوب ہونا بھائیوں کی نظر میں اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، ان کی نگاہ میں معمولی بن گیا۔ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے قصے میں بھی حسد نے ایک بے گناہ کا قتل قاتل کی نگاہ میں جائز بلکہ خوش نما بنا دیا۔ دوسری تجویز بھی کم خطرناک نہ تھی۔ {”طَرْحٌ“} کا معنی ہے دور پھینک دینا۔ {” اَرْضًا “} نکرہ ہے، یعنی اسے کسی نامعلوم زمین میں پھینک دو، تاکہ وہیں مر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے متعلق فرمایا: «{ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا }» ‏‏‏‏ [ الحشر: ۳ ] ” اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان (بنو نضیر) پر جلاوطن ہونا لکھ دیا تھا تو وہ یقینا انھیں دنیا میں سزا دیتا۔“ معلوم ہوا کہ جلاوطنی اور وہ بھی نامعلوم سرزمین میں، کم عذاب نہیں ہے۔ ➋ {يَخْلُ لَكُمْ …:” يَخْلُ “} اصل میں {”يَخْلُوْ“} تھا۔ {” اقْتُلُوْا “} (امر) کے جواب میں مجزوم ہونے کی وجہ سے اس کی واؤ اور {”تَكُوْنُوْنَ“ } کا نون گر گئے، یعنی یوسف کے قتل یا غائب کر دینے سے تمھارے والد صاحب کی توجہ صرف تمھارے لیے رہ جائے گی۔{ ” وَجْهُ “} کا معنی چہرہ ہے اور چہرے کے ساتھ ہی توجہ ہوتی ہے۔ والد کی محبت میں شریکِ غالب کا کانٹا نکلنے کی دیر ہے، وہ تمھارے ہی ہو جائیں گے۔ حسد نے انھیں ایسا اندھا کیا کہ یہ بھی نہ سوچا کہ اس بوڑھی جان پر کیا گزرے گی، انھیں یوسف علیہ السلام کی عداوت میں نہ باپ پر گزرنے والی حالت کا کوئی خیال آیا نہ یوسف پر رحم آیا۔ ➌ {وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ:} اتنے بڑے جرم پر ملامت کرنے والے ضمیر کو انھوں نے یہ تسلی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی کہ یوسف کا قصہ تمام کرکے تم نیک لوگ بن جانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی سنگ دلی کے باوجود انھیں اپنے مجرم ہونے کا احساس تھا۔ یہ شیطان کا بندے کو گناہ میں مبتلا کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے کہ گناہ کر لو، بعد میں توبہ کر لینا، لیکن شیطان کے اس وار سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیا خبر کہ اس کے بعد توبہ کا موقع ہی نہ ملے، پہلے ہی موت آ جائے، جس کا وقت کسی کو بتایا ہی نہیں گیا، تاکہ ہر شخص موت کے کسی بھی وقت آ جانے کے خیال سے گناہ سے باز رہے، فرمایا: «{ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ }» [ آل عمران: ۱۰۲ ] ” اور تم ہر گز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔“ پھر اس کی بھی کیا خبر کہ وقت ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے اس کی طرف سے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے۔ فرمایا: «{ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ }» [ الأنفال: ۲۴ ] ”اور جان لو کہ بے شک اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔“ ایک معنی {” وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ “} کا یہ بھی کیا گیا ہے کہ یوسف کے بعد تم درست معاملے والے لوگ بن جانا، یعنی والد کو راضی کر لینا اور آپس میں شیر و شکر ہو جانا۔ یہ معنی ہو تو بھی وہ دھوکے ہی میں مبتلا تھے۔ اپنے لخت جگر کو غائب کرنے والوں سے ظاہری صلح ہو بھی جائے تو ہر وقت غم سے بھرا ہوا دل پہلی حالت میں کیسے آ سکتا ہے۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →