بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
يوسف
سورۃ يوسف — 111 آیات — صفحہ 3 از 3
قرآن کریم Surah 12
رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے میرے پروردگار! تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی ہے اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی تو نے ہی مجھے بخشا ہے اے آسمانوں اور زمین کے خالق تو دنیا و آخرت میں میرا سرپرست اور کارساز ہے میرا خاتمہ (حقیقی) اسلام اور فرمانبرداری پر کر اور مجھے اپنے نیکوکار بندوں میں داخل فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے رب! بے شک تو نے مجھے حکومت سے حصہ دیا اور باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا یار و مددگار ہے، مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبوت مل چکی، بادشاہت عطا ہو گئی، دکھ کٹ گئے، ماں باپ اور بھائی سب سے ملاقات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہے کہ جیسے یہ دنیوں نعمتیں تو نے مجھ پر پوری کی ہیں، ان نعمتوں کو آخرت میں پوری فرما، جب بھی موت آئے تو اسلام پر اور تیری فرمانبرداری پر آئے اور میں نیک لوگوں میں ملا دیا جاؤں اور نبیوں اور رسولوں میں «صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین» بہت ممکن ہے کہ یوسف علیہ السلام کی یہ دعا بوقت وفات ہو۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اٹھائی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ رفیق اعلی میں ملا دے۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا کی۔ [صحیح بخاری:4438] ‏‏‏‏ ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی اس دعا کا مقصود یہ ہے کہ جب بھی وفات آئے اسلام پر آئے اور نیکوں میں مل جاؤں۔ یہ نہیں کہ اسی وقت آپ نے یہ دعا اپنی موت کے لیے کی ہو۔ اس کی بالکل وہی مثال ہے جو کوئی کسی کو دعا دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تجھے اسلام پر موت دے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ ابھی ہی تجھے موت آ جائے۔ یا جیسے ہم مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں تیرے دین پر ہی موت آئے یا ہماری یہی دعا کہ اللہ مجھے اسلام پر مار اور نیک کاروں میں ملا۔ اور اگر یہی مراد ہو کہ واقعی آپ نے اسی وقت موت مانگی تو ممکن ہے کہ یہ بات اس شریعت میں جائز ہو۔ چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جب آپ علیہ السلام کے تمام کام بن گئے، آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، ملک، مال، عزت، آبرو، خاندان، برادری، بادشاہت سب مل گئے تو آپ کو صالحین کی جماعت میں پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہی سب سے پہلے اس دعا کے مانگنے والے ہیں، ممکن ہے اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ ہو کہ اس دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ علیہ السلام ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا «رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا» [ 71-نوح: 28 ] ‏‏‏‏ سب سے پہلے نوح علیہ السلام نے مانگی تھی۔ باوجود اس کے بھی اگر یہی کہا جائے کہ یوسف علیہ السلام نے موت کی ہی دعا کی تھی تو ہم کہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان کے دین میں جائز ہو۔ ہمارے ہاں تو سخت ممنوع ہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے کوئی کسی سختی اور ضرر سے گھبرا کر موت کی آرزو نہ کرے اگر اسے ایسی ہی تمنا کرنی ضروری ہے تو یوں کہے اے اللہ جب تک میری حیات تیرے علم میں میرے لیے بہتر ہے، مجھے زندہ رکھ اور جب تیرے علم میں میری موت میرے لیے بہتر ہو، مجھے موت دیدے۔ [مسند احمد:103/3:صحیح] ‏‏‏‏ بخاری مسلم کی اسی حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی کسی سختی کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے اگر وہ نیک ہے تو اس کی زندگی اس کی نیکیاں بڑھائے گی اور اگر وہ بد ہے تو بہت ممکن ہے کہ زندگی میں کسی وقت توبہ کی توفیق ہو جائے بلکہ یوں کہے اے اللہ جب تک میرے لیے حیات بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ۔ [صحیح بخاری:6351] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور ہمارے دل گرما دئے۔

اس وقت ہم میں سب سے زیادہ رونے والے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے، روتے ہی روتے ان کی زبان سے نکل گیا کہ کاش کہ میں مر جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد رضی اللہ عنہ میرے سامنے موت کی تمنا کرتے ہو؟ تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔ پھر فرمایا اے سعد اگر تو جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو جس قدر عمر بڑھے گی اور نیکیاں زیادہ ہوں گی، تیرے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد:267/5:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ہرگز ہرگز موت کی تمنا نہ کرے نہ اس کی دعا کرے اس سے پہلے کہ وہ آئے۔ ہاں اگر کوئی ایسا ہو کہ اسے اپنے اعمال کا وثوق اور ان پر یقین ہو۔ سنو تم میں سے جو مرتا ہے، اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں۔ مومن کے اعمال اس کی نیکیاں ہی بڑھاتے ہیں۔ [مسند احمد:350/2:صحیح بالشواھد] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ یہ حکم اس مصیبت میں ہے جو دنیوی ہو اور اسی کی ذات کے متعلق ہو۔ لیکن اگر فتنہ مذہبی ہو، مصیبت دینی ہو، تو موت کا سوال جائز ہے۔ جیسے کہ فرعون کے جادو گروں نے اس وقت دعا کی تھی جب کہ فرعون انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ کہا تھا کہ «رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ» [ 7-الاعراف: 126 ] ‏‏‏‏ اللہ ہم کو صبر عطا کر اور ہمیں اسلام کی حالت میں موت دے۔ اسی طرح مریم علیہا السلام جب درد زہ سے گھبرا کر کھجور کے تنے تلے گئیں تو بےساختہ منہ سے نکل گیا کہ «يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَـٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا» [ 19-مریم: 23 ] ‏‏‏‏ کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور آج تو لوگوں کی زبان و دل سے بھلا دی گئی ہوتی۔

یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب معلوم ہوا کہ لوگ انہیں زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، اس لیے کہ آپ خاوند والی نہ تھیں اور حمل ٹھہر گیا تھا۔ پھر بچہ پیدا ہوا تھا اور دنیا نے شور مچایا تھا کہ «فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا» [ 19-مریم: 27، 28 ] ‏‏‏‏ مریم بڑی بدعورت ہے، اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی مخلصی کر دی اور اپنے بندے عیسیٰ علیہ السلام کو گہوارے میں زبان دی اور مخلوق کو زبردست معجزہ اور ظاہر نشان دکھا دیا [صلوات اللہ وسلامہ علیہا] ‏‏‏‏ ایک حدیث میں ایک لمبی دعا کا ذکر ہے جس میں یہ جملہ بھی ہے کہ اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کرنے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لے۔ [سنن ترمذي:3235، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو چیزوں کو انسان اپنے حق میں بری جانتا ہے ؛ موت کو بری جانتا ہے اور موت مومن کے لیے فتنے سے بہتر ہے۔ مال کی کمی کو انسان اپنے لیے برائی خیال کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی ہے۔ [مسند احمد:427/5:صحیح] ‏‏‏‏ الغرض دینی فتنوں کے وقت طلب موت جائز ہے۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آخری زمانے میں جب دیکھا کہ لوگوں کی شرارتیں کسی طرح ختم نہیں ہوتیں اور کسی طرح اتفاق نصیب نہیں ہوتا تو دعا کی کہ الہٰ العالمین مجھے اب تو اپنی طرف قبض کر لے۔ یہ لوگ مجھ سے اور میں ان سے تنگ آ چکا ہوں۔ امام بخاری رحمہ اللہ پر بھی جب فتنوں کی زیادتی ہوئی اور دین کا سنبھالنا مشکل ہو پڑا اور امیر خراسان کے ساتھ بڑے معرکے پیش آئے تو آپ رحمہ اللہ نے جناب باری سے دعا کی کہ اللہ اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔

ایک حدیث میں ہے کہ فتنوں کے زمانوں میں انسان قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش کہ میں اس جگہ ہوتا۔ [صحیح بخاری:7115] ‏‏‏‏ کیونکہ فتنوں بلاؤں زلزلوں اور سختیوں نے ہر ایک مفتون کو فتنے میں ڈال رکھا ہو گا۔ ابن جریر میں ہے کہ جب یعقوب علیہ السلام نے اپنے ان بیٹوں کے لیے جن سے بہت سے قصور سرزد ہو چکے تھے۔ استغفار کیا تو اللہ نے ان کا استغفار قبول کیا اور انہیں بخش دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سارا خاندان مصر میں جمع ہو گیا تو برادران یوسف علیہ السلام نے ایک روز آپس میں کہا کہ ہم نے ابا جان کو جتنا ستایا ہے ظاہر ہے ہم نے بھائی یوسف علیہ السلام پر جو ظلم توڑے ہیں، ظاہر ہیں۔ اب گویہ دونوں بزرگ ہمیں کچھ نہ کہیں اور ہماری خطا سے درگزر فرما جائیں۔ لیکن کچھ خیال بھی ہے کہ اللہ کے ہاں ہماری کیسی درگت بنے گی؟ آخر یہ ٹھہری کہ آؤ ابا جی کے پاس چلیں اور ان سے التجائیں کریں۔ چنانچہ سب مل کر آپ کے پاس آئے۔ اس وقت یوسف علیہ السلام بھی باپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آتے ہی انہوں نے بیک زبان کہا کہ حضور ہم آپ کے پاس ایک ایسے اہم امر کے لیے آج آئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسے اہم کام کے لیے آپ علیہ السلام کے پاس نہیں آئے تھے، ابا جی اور اے بھائی صاحب ہم اس وقت ایسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہمارے دل اس قدر کپکپا رہے ہیں کہ آج سے پہلے ہماری ایسی حالت کبھی نہیں ہوئی۔ الغرض کچھ اس طرح نرمی اور لجاجت کی کہ دونوں بزرگوں کا دل بھر آیا ظاہر ہے کہ انبیاء کے دلوں میں تمام مخلوق سے زیادہ رحم اور نرمی ہوتی ہے۔

پوچھا کہ آخر تم کیا کہتے ہو اور ایسی تم پر کیا بپتا پڑی ہے؟ سب نے کہا آپ کو خوب معلوم ہے کہ ہم نے آپ کو کس قدر ستایا، ہم نے بھائی پر کیسے ظلم وستم ڈھائے؟ دونوں نے کہا ہاں معلوم ہے پھر؟ کہا کیا یہ درست ہے کہ آپ دونوں نے ہماری تقصیر معاف فرما دی؟ ہاں بالکل درست ہے۔ ہم دل سے معاف کر چکے۔ تب لڑکوں نے کہا، آپ کا معاف کر دینا بھی بےسود ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف نہ کر دے۔ پوچھا اچھا پھر مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ جواب دیا یہی کہ آپ ہمارے لیے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، یہاں تک کہ بذریعہ وحی آپ کو معلوم ہو جائے کہ اللہ نے ہمیں بخش دیا تو البتہ ہماری آنکھوں میں نور اور دل میں سرور آ سکتا ہے ورنہ ہم تو دونوں جہاں سے گئے گزرے۔ اس وقت آپ کھڑے ہو گئے، قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے یوسف علیہ السلام آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، بڑے ہی خشوع خضوع سے جناب باری میں گڑگڑا گڑا گڑا کر دعائیں شروع کیں۔ یعقوب علیہ السلام دعا کرتے تھے اور یوسف علیہ السلام آمین کہتے تھے، کہتے ہیں کہ بیس سال تک دعا مقبول نہ ہوئی۔ آخر بیس سال تک جب کہ بھائیوں کا خون اللہ کے خوف سے خشک ہونے لگا، تب وحی آئی اور قبولیت دعا اور بخشش فرزندان کی بشارت سنائی گئی بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تیرے بعد نبوت بھی انہیں ملے گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:309/7] ‏‏‏‏ یہ قول سیدنا انس رضی اللہ عنہما کا ہے اور اس میں دو راوی ضعیف ہیں یزید رقاشی۔ صالح مری۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعقوب علیہ السلام نے اپنی موت کے وقت یوسف علیہ السلام کو وصیت کی کہ مجھے ابراہیم واسحاق علیہم السلام کی جگہ میں دفن کرنا۔ چنانچہ بعد از انتقال آپ علیہ السلام نے یہ وصیت پوری کی اور ملک شام کی زمین میں آپ کے باپ دادا کے پاس دفن کیا۔ علیہم الصلوات والسلام
11۔ 1 یعنی ملک مصر کی فرمانروائی عطا فرمائی، جیسا کہ تفصیل گزری۔ 11۔ 2 حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر تھے، جن پر اللہ کی طرف سے وحی کا نزول ہوتا اور خاص خاص باتوں کا علم انھیں عطا کیا جاتا۔ چناچہ اس علم نبوت کی روشنی میں پیغمبر خوابوں کی تعبیر بھی صحیح طور پر کرلیتے۔ تھے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کو اس فن تعبیر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا جیسا کہ قید کے ساتھیوں کے خواب کی اور سات موٹی گایوں کے خواب کی تعبیر پہلے گزری۔ 11۔ 3 اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ پر جو احسانات کیے، انھیں یاد کرکے اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کا تذکرہ کرکے دعا فرما رہے ہیں کہ جب مجھے موت آئے تو اسلام کی حالت میں آئے اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے آباواجداد، حضرت ابراہیم و اسحاق (علیہا السلام) وغیرہ مراد ہیں۔ بعض لوگوں کو اس دعا سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ حضرت یوسف ؑ نے موت کی دعا مانگی حالانکہ یہ موت کی دعا نہیں ہے آخر وقت تک اسلام پر استقامت کی دعا ہے۔
(آیت101) ➊ { رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ …:} پچھلی آیت میں یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا ہے، یہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت ربوبیت کے ساتھ مخاطب کرکے اور مزید نعمتوں کا ذکر کرکے اس چیز کی دعا کرتے ہیں جو ان تمام نعمتوں سے بڑی ہے اور اتنی نعمتوں کے باوجود یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ اسی کے متعلق فکر مند ہیں اور فی الواقع اصل فکر اسی کی ہونا لازم ہے۔ عرض کیا: اے ہر لمحے میری نگہداشت کر کے، میری ہر ضرورت پوری کر کے مجھے پالنے والے! تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ بھی دیا ({” مِنْ “} بمعنی بعض ہے، کیونکہ وہ وزیر خزانہ تھے اور اگر کوئی بادشاہ ہے تو اس کے پاس بھی بادشاہی کا ایک حصہ ہی ہے، کل بادشاہی تو ایک ہی ہستی کی ہے۔{ ” تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ “}) اور مجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھایا (یہاں بھی {”مِنْ“} بعض کے معنی میں ہے، کیونکہ ہر بات کی اصل حقیقت تو ایک ہستی ہی جانتی ہے۔ {” وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ “}، یہاں {” تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ “} میں خوابوں کی تعبیر، مقدمات کے فیصلے، وحی الٰہی کا علم سب شامل ہیں)، دنیا و آخرت میں میرا یارومددگار صرف تو ہے، میری آخری درخواست یہ ہے کہ جب تو مجھے فوت کرے تو میں اس وقت تیرا فرماں بردار ہوں، کیونکہ ہمیشہ کی زندگی کا سارا دارو مدار اسی پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيْمِ] [ بخاري، الرقاق، باب الأعمال بالخواتیم …: ۶۴۹۳ ] ”اعمال کا دارومدار ان کے خاتموں ہی پر ہے۔“ اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آدمی دنیا کے جتنے بھی اونچے مرتبے پر پہنچ جائے اسے ہر وقت فکر آخرت ہی کی لازم ہے، کیونکہ وہ باقی ہے اور دنیا کا ہر منصب فانی ہے۔ ➋ {وَ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ:} صالحین میں عام صالحین کے ساتھ اعلیٰ درجے کے صالح، یعنی انبیاء بھی داخل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{وَ سَيِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ}» [ آل عمران: ۳۹ ] ”اور وہ سردار اور اپنے آپ پر بہت ضبط رکھنے والا اور نبی ہو گا، صالحین (نیک لوگوں) میں سے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَكَانَ فِيْ شَكْوَاهُ الَّذِيْ قُبِضَ فِيْهِ أَخَذَتْهٗ بُحَّةٌ شَدِيْدَةٌ، فَسَمِعْتُهٗ يَقُوْلُ: «مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ» فَعَلِمْتُ أَنَّهٗ خُيِّرَ] [بخاری، التفسیر، باب «فأولئک مع الذین …» : ۴۵۸۶ ] ”کوئی نبی مرض الموت میں بیمار نہیں ہوتا حتیٰ کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بیماری میں فوت ہوئے، آپ کو گلے کی سخت تکلیف ہو گئی تو میں نے آپ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «{مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ}» [النساء: ۶۹ ] ”میں ان کا ساتھ چاہتا ہوں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالح لوگوں میں سے“ تو میں سمجھ گئی کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔“ معلوم ہوا قیامت کے دن صالحین کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش اور دعا صرف یوسف علیہ السلام ہی نے نہیں بلکہ ساری اولاد آدم کے سردار نے بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل و کرم سے ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرمائے۔ (آمین) ➌ {” تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا “} سے بعض لوگوں نے دلیل پکڑی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے موت کی دعا کی، اس لیے موت کی دعا جائز ہے، حالانکہ یہ مطلب درست نہیں۔ کسی بھی امر یا نہی کے ساتھ کوئی قید مثلاً حال یا صفت وغیرہ ہو تو وہ قید مقصود ہوتی ہے، مثلاً {”لَا تَشْرَبْ قَائِمًا“} کے یہ معنی نہیں کہ مت پیو، بلکہ معنی یہ ہے کہ کھڑے ہو کر مت پیو اور{ ” كُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ“ } میں یہ حکم نہیں کہ کھانا کھاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کھاؤ تو دائیں ہاتھ سے اور ادھر ادھر سے نہیں بلکہ اپنے سامنے سے کھاؤ۔ اسی طرح {” تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا “} کا معنی ہے کہ مجھے جب بھی فوت کرے مسلم (فرماں بردار) ہونے کی حالت میں فوت کرنا۔ اسی طرح {” فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ “} میں نماز اور قربانی کا حکم نہیں، وہ دوسری بہت سی آیات میں موجود ہے، بلکہ مراد ہے کہ نماز پڑھو تو صرف اپنے رب کے لیے اور اسی طرح قربانی بھی اسی کے لیے کرو، اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ ➍ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا کسی تکلیف کی وجہ سے ہر گز نہ کرے، جو اس پر آئے، اگر اسے ضرور ہی یہ تمنا کرنی ہے تو یوں کہے: [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِّيْ وَتَوَفَّنِيْ إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّيْ ] [ بخاری، المرض، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۱۔ مسلم: ۲۶۸۰ ] ”اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے اور مجھے اس وقت فوت کر لے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تکلیف یا بیماری کی وجہ سے موت کی دعا کرنا منع ہے، البتہ جب دین میں فتنے کا خوف ہو تو یہ دعا کر سکتا ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے محمد! جب تو نماز پڑھے تو یوں کہا کر: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاكِيْنِ وَ إِذَا أَرَدْتَّ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِيْ إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ ] [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ صٓ: ۳۲۳۳، و صححہ الألبانی ] ”اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے اور برائیوں کو چھوڑنے کا اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کے متعلق کسی فتنے (آزمائش) کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے پاس فوت کر لے۔“ اور جیسا کہ مریم علیھا السلام نے کہا: «‏‏‏‏{يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا}» ‏‏‏‏ [ مریم: ۲۳ ] ”اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔“ حافظ ابن کثیر نے یہاں علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اپنی امارت کے آخر وقت میں جب دیکھا کہ معاملات ان کے حق میں جمع نہیں ہو رہے اور معاملہ زیادہ سخت ہوتا جاتا ہے تو کہا: {” اَللّٰهُمَّ خُذْنِيْ إِلَيْكَ فَقَدْ سَئِمْتُهُمْ وَ سَئِمُوْنِيْ“} ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس لے جا، کیونکہ میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔“ اور امام بخاری پر جب آزمائشیں آئیں اور امیر خراسان کے ساتھ ان کا معاملہ بگڑا تو انھوں نے دعا کی: {” اَللّٰهُمَّ تَوَفَّنِيْ إِلَيْكَ“} ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس لے جا۔“ ان تاریخی روایات کی سند حافظ ابن کثیر نے ذکر نہیں فرمائی۔ (واللہ اعلم) ➎ یہاں یوسف علیہ السلام کا قصہ ختم ہوا۔ یہ واحد قصہ ہے جو قرآن مجید میں اکٹھا ایک ہی مقام پر بیان کیا گیا ہے، مگر لطف یہ ہے کہ اس میں سے ہر وہ تفصیل ترک کر دی گئی ہے جس کی اس موقع پر ہدایت کے مقصد کے لیے ضرورت نہیں تھی۔ اب آگے اس قصے سے حاصل ہونے والے چند اسباق ذکر ہوں گے۔
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۚ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ وَ ہُمۡ یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وه فریب کرنے لگے تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) یہ (داستان) غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ ان (برادرانِ یوسف (ع)) کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب کہ وہ آپس میں اتفاق کرکے یوسف کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، جو ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو ان کے پاس نہ تھا جب انھوں نے اپنے کام کا پختہ ارادہ کیا اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام وکمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا، اب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہو جائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لیے سب مستعد ہو گئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ «وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ» [ 3-آل عمران: 44 ] ‏‏‏‏ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے، تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ «وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [ 28-القصص: 44 ] ‏‏‏‏حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی اس قسم کا ارشاد فرمایا ہے کہ بجانب مغرب جب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ «وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ» [ 28-القصص: 45 ] ‏‏‏‏ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

«مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِن يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ» [ 38-ص: 69، 70 ] ‏‏‏‏ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے «وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [ 6-الانعام: 116 ] ‏‏‏‏ اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے مخلوق کے نفع کے لیے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لیے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
12۔ 1 یعنی یوسف ؑ کے ساتھ، جب کہ انھیں کنوئیں میں پھینک آئے یا مراد حضرت یعقوب ؑ ہیں یعنی ان کو یہ کہہ کر کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور یہ اس کی قمیص ہے، جو خون میں لت پت ہے ان کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بھی اس بات کی نفی فرمائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم تھا لیکن یہ نفی مطلق علم کی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو آگاہ فرمایا دیا۔ یہ نفی مشاہد کی ہے کہ اس وقت آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح ایسے لوگوں سے بھی آپ کا رابطہ وتعلق نہیں رہا ہے جن سے آپ نے سنا ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وحی نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر اسی طرح غیب اور مشاہدے کی نفی فرمائی ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو، سورة آل عمران (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ) 3۔ آل عمران:44) (وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ 45؀ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 46؀) 28۔ القصص:46-45) (مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ 69؀ اِنْ يُّوْحٰٓى اِلَيَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 70؀) 38۔ ص:70۔ 69)۔
(آیت102) ➊ { ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ:} یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہو سکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفارِ مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کر سکتے تھے اور تمھیں کیسے سنا سکتے تھے۔ ➋ { وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ …:} یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے {” وَ مَا كُنْتَ “} کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہلِ مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہر گز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی {” وَ مَا كُنْتَ “} والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ {” وَ مَا كُنْتَ “} کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ آل عمران (۴۴)، ہود (۴۹)، یوسف (۱۰۲)، قصص (۴۴، ۴۵، ۴۶، ۸۶)، عنکبوت (۴۸) اور شوریٰ (۵۲)۔ ➌ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۸) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہو جانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو اِن میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
گو آپ لاکھ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایمان دار نہ ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کتنا ہی حرص کریں (اور کتنا ہی چاہیں) مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اکثر لوگ، خواہ تو حرص کرے، ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام وکمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا، اب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہو جائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لیے سب مستعد ہو گئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ «وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ» [ 3-آل عمران: 44 ] ‏‏‏‏ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے، تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ «وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [ 28-القصص: 44 ] ‏‏‏‏حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی اس قسم کا ارشاد فرمایا ہے کہ بجانب مغرب جب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ «وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ» [ 28-القصص: 45 ] ‏‏‏‏ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

«مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِن يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ» [ 38-ص: 69، 70 ] ‏‏‏‏ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے «وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [ 6-الانعام: 116 ] ‏‏‏‏ اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے مخلوق کے نفع کے لیے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لیے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
13۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو پچھلے واقعات سے آگاہ فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان سے عبرت پکڑیں اور اللہ کے پیغمبروں کا راستہ اختیار کر کے نجات ابدی کے مستحق بن جائیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے کیونکہ وہ گذشتہ قوموں کے واقعات سنتے ہیں لیکن عبرت پذیری کے لئے نہیں، صرف دلچسپی اور لذت کے لئے، اس لئے وہ ایمان سے، محروم ہی رہتے ہیں۔
(آیت103){ وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ …:} سورۂ یوسف کے نزول کے بعد، جو آپ کی نبوت کی واضح دلیل تھی، جب آپ کی یہ خواہش اور توقع پوری نہ ہوئی کہ اسے سننے والے ایمان لے آئیں گے تو اس پر آپ کا غم زدہ ہونا فطری بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر تسلی دی کہ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ شیطان کے غلبے اور اپنی نفسانی خواہشات، حرص، حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی حکمتیں پوری طرح وہی جانتا ہے۔ اس سے جمہوریت، یعنی اکثریت کے نمائندوں کو قانون سازی کا حق دینے کی حیثیت بھی خوب واضح ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ صاف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف قانون بناتے اور چلاتے ہوں۔
وَ مَا تَسۡـَٔلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے ہو یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں۔ یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ آپ اس بات (تبلیغِ رسالت) پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے یہ (قرآن) تو تمام جہانوں کے لئے یاددہانی اور پند و موعظہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ تو ان سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ یہ تو جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام وکمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا، اب اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہو جائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لیے سب مستعد ہو گئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے مریم علیہ السلام کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ «وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ» [ 3-آل عمران: 44 ] ‏‏‏‏ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے، تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ «وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» [ 28-القصص: 44 ] ‏‏‏‏حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی اس قسم کا ارشاد فرمایا ہے کہ بجانب مغرب جب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ «وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ» [ 28-القصص: 45 ] ‏‏‏‏ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

«مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِن يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ» [ 38-ص: 69، 70 ] ‏‏‏‏ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے «وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [ 6-الانعام: 116 ] ‏‏‏‏ اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے مخلوق کے نفع کے لیے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لیے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
14۔ 1 کہ جس سے ان کو یہ شبہ ہو کہ یہ دعوائے نبوت تو صرف پیسے جمع کرنے کا بہانہ ہے۔ 14۔ 2 تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔ اب دنیا کے لوگ اگر اس سے آنکھیں پھیر رکھیں اور اس سے ہدایت حاصل نہ کریں تو لوگوں کا قصور اور ان کی بدقسمتی ہے، قرآن تو فی الواقع اہل دنیا کی ہدایت اور نصیحت ہی کے لئے آیا ہے۔ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ
(آیت104) ➊ { وَ مَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ:} یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔ ➋ { اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہر گز رنجیدہ نہ ہوں۔
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ یَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہَا وَ ہُمۡ عَنۡہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن سے یہ منھ موڑے گزر جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین میں (خدا کے وجود اور اس کی قدرت کی) کتنی ہی نشانیاں موجود ہیں مگر یہ لوگ ان سے روگردانی کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں (اور کوئی توجہ نہیں کرتے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بے پرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بےشمار نشانیاں ایک عقلمند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر و قیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الٰہی تیرا کوئی شریک نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [ 31-لقمان: 13 ] ‏‏‏‏ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ [صحیح بخاری:4477] ‏‏‏‏ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 142 ] ‏‏‏‏، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چارپائی تلے چھپا دیا آپ رضی اللہ عنہما آئے میرے پاس میری چارپائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بے نیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویذات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ رضی اللہ عنہما کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھاڑا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ تو کہتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے [مسند احمد:310/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ «أَذْهِبْ الْبَأْس رَبّ النَّاس اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاء إِلَّا شِفَاؤُك شِفَاء لَا يُغَادِر سَقَمًا» مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . [مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985] ‏‏‏‏

مسند میں ہے: قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کارو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لیے تم نے عمل کئے تھے، اُنہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں؟ [مسند احمد:428/5:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک اور روایت [ مسند ابو یعلیٰ ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏

فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الٰہی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے: «أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ» [ 16- النحل: 45 - 47 ] ‏‏‏‏ مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گناہ کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے: «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ـ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ» [ 7-الأعراف: 97 - 99 ] ‏‏‏‏ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بے خطر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
15۔ 1 آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں بیشمار چیزوں کا وجود، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک خالق و صانع ہے جس نے ان چیزوں کو وجود بخشا ہے اور ایک مدبر ہے جو ان کا ایسا انتظام کر رہا ہے کہ صدیوں سے یہ نظام چل رہا ہے اور ان میں کبھی آپس میں ٹکراؤ اور تصادم نہیں ہوا لیکن لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے یوں ہی گزر جاتے ہیں ان پر غو و فکر کرتے ہیں اور نہ ان سے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔
(آیت105){وَ كَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ …: ” كَاَيِّنْ “} کاف تشبیہ اور {” اَيٌّ “} کا مرکب ہے، معنی اس کا ہے کتنی ہی، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد ذکر ہونے والی چیز اتنی زیادہ ہے کہ اس کا شمار نہیں ہو سکتا۔{ ” اٰيَةٍ “} نشانی سے مراد ایسی عجیب چیز ہے جو توجہ کو اپنی طرف کھینچ لے، اس طرح کہ وہ بھولنے نہ پائے، جیسے کہتے ہیں: {” فَلَانٌ آيَةٌ فِي الذَّكَاءِ“ } یعنی فلاں شخص ذہانت میں آیت ہے، یعنی اتنا ذہین ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ توحید کی کچھ آیات تنزیلیہ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتریں اور بے شمار کونیہ ہیں جو کائنات کے ذرے ذرے میں بکھری پڑی ہیں۔ {” يَمُرُّوْنَ “} گزرنے سے مراد صرف یہی نہیں کہ چلتے ہوئے گزرتے ہیں، کیونکہ آسمان کی نشانیوں پر گزر کیسے ہو سکتا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ کتنی ہی بے شمار عجیب و غریب چیزیں ہیں جو روزانہ ان کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں، مگر یہ ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ موٹی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس دعوے کے مقابلے میں کہ ”میں نے ہر چیز پیدا کی ہے، کوئی اور ہے جس نے ایک مکھی یا اس کا پر بھی پیدا کیا ہے تو سامنے لاؤ“ جب کوئی بھی سر نہیں اٹھاتا اور تمھیں بھی یہ مانے بغیر چارہ نہیں تو اس کائنات میں اختیارات کا مالک یا اللہ تعالیٰ سے زبردستی منوالینے والا کوئی دوسرا کیوں بنا لیتے ہو؟ اور ہر چیز کے خالق و مالک کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو کس دلیل سے مشکل کشا سمجھتے اور پکارتے ہو۔ وہ نشانیاں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت جگہ ذکر کی ہیں۔ مثال کے طور پر دو تین مقامات ذکر کیے جاتے ہیں: «{ وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (21) وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ }» [ الذاریات: ۲۰، ۲۱ ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمھارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے۔“ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۴ تا ۱۶۷) کائنات میں پھیلی ہوئی ان بے شمار نشانیوں میں سے کافی نشانیاں ان آیات میں بھی آگئی ہیں، بلکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہر اختیار ہونے کو بھی کمال طرز سے بیان فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۱۷ تا ۲۸) تھوڑی سی زحمت فرما کر ان مقامات کا مطالعہ کر لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر پوری طرح غور کرنے والا شخص یقینا توحید، آخرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تک پہنچ جائے گا، ورنہ کم از کم کائنات کی چیزوں پر غور کرنے سے کسی نہ کسی مفید نتیجے یا ایجاد تک ضرور پہنچ جائے گا جو کم از کم دنیا میں اسے اور دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچائے گی۔ جیسا کہ دیگچی کی بھاپ سے ڈھکنا اٹھنے پر غور نے بھاپ کی قوت کو دریافت کرکے ریل اور کتنی ایجادات کیں۔ بجلی، گیس، لیزر، ایٹم یہ سب اللہ کی آیات کو نیہ پر غور ہی کا نتیجہ ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اگر کوئی توحید تک نہ پہنچ سکے تو محنت اس کی بھی ضائع نہیں کرتا، کافر کو بھی اس کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی انعام دنیوی ہی سہی، ضرور دے دیتا ہے، مگر اصل کامیاب وہ ہے کہ یہ غور و فکر اسے اپنے خالق و مالک کی پہچان، اس اکیلے کی عبادت اور اس کے رسول پر ایمان تک پہنچا دے۔
وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شر یک ٹھیراتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو اس حالت میں کہ (عملی طور پر) برابر شرک بھی کئے جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بے پرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بےشمار نشانیاں ایک عقلمند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر و قیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الٰہی تیرا کوئی شریک نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [ 31-لقمان: 13 ] ‏‏‏‏ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ [صحیح بخاری:4477] ‏‏‏‏ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 142 ] ‏‏‏‏، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چارپائی تلے چھپا دیا آپ رضی اللہ عنہما آئے میرے پاس میری چارپائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بے نیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویذات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ رضی اللہ عنہما کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھاڑا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ تو کہتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے [مسند احمد:310/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ «أَذْهِبْ الْبَأْس رَبّ النَّاس اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاء إِلَّا شِفَاؤُك شِفَاء لَا يُغَادِر سَقَمًا» مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . [مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985] ‏‏‏‏

مسند میں ہے: قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کارو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لیے تم نے عمل کئے تھے، اُنہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں؟ [مسند احمد:428/5:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک اور روایت [ مسند ابو یعلیٰ ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏

فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الٰہی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے: «أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ» [ 16- النحل: 45 - 47 ] ‏‏‏‏ مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گناہ کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے: «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ـ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ» [ 7-الأعراف: 97 - 99 ] ‏‏‏‏ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بے خطر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
16۔ 1 یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ متعدد جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ مشرک یہ تو مانتے ہیں کہ آسمان اور زمین کا خالق، مالک، رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھرا لیتے ہیں۔ اور یوں اکثر لوگ مشرک ہیں یعنی ہر دور میں لوگ توحید ربوبیت کے تو قائل رہے ہیں لیکن توحید الوہیت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے آج کے قبر پرستوں کا شرک بھی یہی ہے کہ وہ قبروں میں مدفون بزرگوں کو صفات الوہیت کا حامل سمجھ کر انھیں مدد کے لیے پکارتے بھی ہیں اور عبادت کے کئی مراسم بھی ان کے لیے بجا لاتے ہیں اعاذنا اللہ منہ
(آیت106){وَ مَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ …:} اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کرنے والوں کی پہلی مثال کفار قریش ہیں جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، خود ان مشرکین کو پیدا کرنے والے اور ہر چیز کی مکمل ملکیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ }» ‏‏‏‏ [ الزخرف: ۸۷ ] ”اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ }» [ لقمان: ۲۵ ] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اس کے علاوہ دیکھیے سورۂ مومنون (۸۴ تا ۸۹) اور یونس (۳۱ تا ۳۵) اور ساتھ ہی کچھ ہستیوں کو اللہ کے ہاں اپنے سفارشی، اللہ کے قریب کرنے والے اور اپنے کام نکلوانے والے سمجھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ }» [ یونس: ۱۸ ] ”اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ اور فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۳ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ مشرکین کہتے تھے: [ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ ] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: [ وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ] ”تمھاری بربادی ہو، اس سے آگے مت کہنا“ (مگر وہ کہتے) [ إِلاَّ شَرِيْكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهٗ وَمَا مَلَكَ، يَقُوْلُوْنَ هٰذَا وَهُمْ يُطُوْفُوْنَ بِالْبَيْتِ ] [مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفتھا ووقتھا: ۱۱۸۵ ] ”مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے، تو ہی اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں۔“ وہ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔“ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، اس طرح بھی وہ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًااَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ }» [ الزخرف: ۱۹ ] ”اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔“ مشرکین مکہ اللہ پر ایمان کے ساتھ ہی بزرگوں کے بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى (19) وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (20) اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى (21) تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى (22) اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ }» [النجم: ۱۹ تا ۲۳ ] ”پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔ کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں؟ یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔ یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔“ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں رکھی ہوئی تھیں۔ [ بخاري، الحج، باب من کبّر في نواحي الکعبۃ: ۱۶۰۱ ] اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے دعوے دار تھے، اس کے باوجود عُزیر اور مسیح علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ کبھی کہتے تھے، اللہ تعالیٰ خود ہی مسیح کی شکل میں آ گیا، اصل میں دونوں ایک ہیں: «{ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ }» [المائدۃ: ۷۲ ] کبھی تین کو ایک کہتے، کبھی اللہ کو تین کا تیسرا کہتے: «{ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ }» [المائدۃ: ۷۳ ] اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے سوا حلال و حرام کرنے کا اختیار رکھنے والے رب سمجھتے: «{ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ }» [ التوبۃ: ۳۱ ] ان کی قبروں پر مسجدیں بنا کر ان کی پرستش کرتے، فرمان رسول ہے: [ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ] [بخاري، المغازی، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ: ۴۴۴۳، ۴۴۴۴ ] ”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انھوں نے اپنے انبیاء علیھم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ افسوس کہ عرصۂ دراز سے اکثر کلمۂ اسلام پڑھنے والوں کا بھی یہی حال ہو گیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں زمین پر اتر آیا ہے۔ بعض اپنے پیر کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بعض اپنے بزرگوں کی عبادت کرتے کرتے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہی ہوجانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بے شمار بڑے بڑے نام والے عالموں، پیروں اور ان کے معتقدین نے ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو اللہ تعالیٰ قرار دے کر اس کا نام وحدت الوجود رکھ دیا ہے اور اس صریح کفر و شرک کو معرفت کا نام دے رکھا ہے، حالانکہ اس عقیدے سے اسلام کا ہر حکم ہی ختم ہو جاتا ہے اور یہی وہ الحاد اور صریح کفر ہے جس پر اسلام کا نقاب ڈال کر یہ لوگ زبردستی مسلمان بلکہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ عام مسلمانوں میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو زندہ یا مردہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں، مصیبت میں ان کو پکارتے ہیں، ان سے اولاد اور عزت و مال کے لیے فریاد کرتے ہیں، ان کے نام کے وظیفے کرتے اور نیازیں دیتے ہیں، ان کی پختہ قبریں بنا کر ان کا طواف اور انھیں سجدے کرتے ہیں۔ غرض کہ جو کچھ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے یہ جھوٹے مسلمان اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے ساتھ کرتے ہیں اور دعویٰ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور ہم سب کو شرک سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔ (آمین) ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جن سے بچنا لازم ہے، مثلاً غیر اللہ کی قسم کھانا، ریاکاری یعنی دکھلاوا کرنا، بیماری سے بچنے کے لیے دھاگے، کڑے، منکے وغیرہ لٹکانا، بدشگونی لینا، کاہنوں، یعنی آئندہ کی خبریں بتانے والوں کے پاس جانا، ان سب کاموں کو صحیح احادیث میں شرک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے توحید کے موضوع پر لکھی ہوئی کتابیں، مثلاً تقویۃ الایمان اور کتاب التوحید وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ غَاشِیَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰہِ اَوۡ تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آ جائے گی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عام عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وه بے خبر ہی ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انہیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر کوئی عذابِ الٰہی آجائے اور چھا جائے یا اچانک ان کے سامنے اس حال میں قیامت آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذاب میں سے کوئی ڈھانک لینے والی آفت آپڑے، یا ان پر قیامت اچانک آجائے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بے پرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بےشمار نشانیاں ایک عقلمند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر و قیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الٰہی تیرا کوئی شریک نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ [صحیح مسلم:1185] ‏‏‏‏ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [ 31-لقمان: 13 ] ‏‏‏‏ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ [صحیح بخاری:4477] ‏‏‏‏ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 142 ] ‏‏‏‏، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چارپائی تلے چھپا دیا آپ رضی اللہ عنہما آئے میرے پاس میری چارپائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بے نیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویذات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ رضی اللہ عنہما کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھاڑا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ تو کہتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے [مسند احمد:310/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ «أَذْهِبْ الْبَأْس رَبّ النَّاس اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاء إِلَّا شِفَاؤُك شِفَاء لَا يُغَادِر سَقَمًا» مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . [مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985] ‏‏‏‏

مسند میں ہے: قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کارو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لیے تم نے عمل کئے تھے، اُنہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں؟ [مسند احمد:428/5:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک اور روایت [ مسند ابو یعلیٰ ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏

فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الٰہی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے: «أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ» [ 16- النحل: 45 - 47 ] ‏‏‏‏ مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گناہ کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے: «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ـ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ» [ 7-الأعراف: 97 - 99 ] ‏‏‏‏ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بے خطر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت107) ➊ {اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ …: ”غَشِيَ يَغْشٰي غَشْيًا وَ غَشَيَانًا“} ہر جانب سے گھیر لینا، ڈھانک لینا، جیسے فرمایا: «{ وَ اِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ }» [ لقمان: ۳۲ ] ”اور جب انھیں سائبانوں جیسی عظیم موج ڈھانک لیتی ہے۔“ غاشیہ وہ حادثہ جو چاروں طرف سے گھیر لے۔ عرب ایسے حوادث کو مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، مثلاً {”اَلطَّامَّةُ، اَلصَّاخَّةُ، اَلدَّاهِيَةُ، اَلْمُصِيْبَةُ، اَلْكَارِثَةُ، اَلْحَادِثَةُ، اَلْوَاقِعَةُ، اَلْحَآقَّةُ“} اس آیت میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے کہ کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت ان پر ہر طرف سے گھیرنے والا عذاب آ جائے، مثلاً زلزلہ، طاعون، سیلاب اور طوفان وغیرہ۔ ➋ {” بَغْتَةً “ ” بَغَتَ “} (ف) سے مصدر بمعنی اسم فاعل حال ہے ({بَاغِتًا}) اچانک۔
قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم ان سے صاف کہہ دو کہ "میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے اور میں شریک کرنے والا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے! کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اور جو میرا (حقیقی) پیروکار ہے ہم اللہ کی طرف بلاتے ہیں اس حال میں کہ ہم واضح دلیل پر ہیں اور اللہ ہر نقص و عیب سے پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعوت وحدانیت

اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جنہیں تمام جن و انس کی طرف بھیجا ہے، حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو خبر کر دوں کہ میرا مسلک، میرا طریق، میری سنت یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کی دعوت عام کر دوں۔ پورے یقین دلیل اور بصیرت کے ساتھ۔ میں اس طرف سب کو بلا رہا ہوں میرے جتنے پیرو ہیں، وہ بھی اسی طرف سب کو بلا رہے ہیں، شرعی، نقلی اور عقلی دلیلوں کے ساتھ اس طرف دعوت دیتے ہیں ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اس کی تعظیم تقدیس، تسبیح و تہلیل بیان کرتے ہیں، اسے شریک سے، نظیر سے، عدیل سے، وزیر سے، مشیر سے اور ہر طرح کی کمی اور کمزوری سے پاک مانتے ہیں، نہ اس کی اولاد مانیں، نہ بیوی، نہ ساتھی، نہ ہم جنس۔ وہ ان تمام بری باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے۔ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [ 17-الاسراء: 44 ] ‏‏‏‏ آسمان و زمین اور ان کی ساری مخلوق اس کی حمد و تسبیح کر رہی ہے لیکن لوگ ان کی تسبیح سمجھتے نہیں، اللہ بڑا ہی حلیم اور غفور ہے۔
18۔ 1 یعنی توحید کی راہ ہی میری راہ ہے بلکہ ہر پیغمبر کی راہ رہی ہے اسی کی طرف میں اور میرے پیروکار پورے یقین اور دلائل شرعی کے ساتھ لوگوں کو بلاتے ہیں۔ 18۔ 2 یعنی میں اس کی تنزیہ و تقدیس بیان کرتا ہوں اس بات سے کہ اس کا کوئی شریک، نظیر، مثیل یا وزیر ومشیر یا اولاد اور بیوی ہو وہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔
(آیت108) ➊ { قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ:} لفظ {” سَبِيْلٌ “} مؤنث بھی آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اور مذکر بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا }» [ الأعراف: ۱۴۶ ] معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کا راستہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ہے، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور اسی کے احکام کی اطاعت جو بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے، اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی دعوت دے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے احکام و مسائل کے بجائے کسی اور کی پیروی، مثلاً کسی امام یا پیر وغیرہ کی تقلید کی دعوت دے تو وہ نہ اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چل رہا ہے، کیونکہ جس چیز کی طرف وہ بلا رہا ہے وہ اللہ کی طرف سے اتری ہی نہیں، وہ محض انسانی رائے یا خیال ہے۔ ➋ { عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ …: ” بَصَارَةٌ “} آنکھوں کا دیکھنا اور {” بَصِيْرَةٍ “} دل سے اچھی طرح سمجھنا، یعنی میں اور میرے پیروکار خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے راستے پر قائم ہیں۔ {” وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ “} کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور خطا سے پاک ہے۔ اس اکیلے کی عبادت ہی حق ہے اور اس اکیلے کی وحی پر چلنا ہی حق ہے اور جو اس راہ کو چھوڑتا ہے وہ ایسی ہستیوں کی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے مشرک ہے جو عیب اور خطا سے پاک نہیں ہیں۔ اس لیے میں کبھی ایسے مشرکوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی ؕ اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ لَدَارُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام انہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر) تقویٰ کی روش اختیار کی کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے۔ کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے، کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے تو یہ لوگ زمین پرچلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ہم نے آپ سے پہلے جن کو بھی رسول بنا کر بھیجا وہ مرد تھے اور آبادیوں کے باشندے تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے یقینا آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے، تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں ٭٭

بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بیوی سارہ، عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائکہ نے سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [ 28-القصص: 8 ] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت فرشتے نے دی۔ «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ» [ 3-آل عمران: 42، 43 ] ‏‏‏‏ فرشتوں نے مریم علیہ السلام سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کر لیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے لیے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں، جتنا قرآن نے بیان فرمایا۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لیے دلیل نہیں۔

اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف و افضل عورت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [ 5-المائدہ: 75 ] ‏‏‏‏ پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا۔ آیت میں ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا» [ 25- الفرقان: 20 ] ‏‏‏‏ یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ» [ 21-الأنبياء: 8، 9 ] ‏‏‏‏ وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح اور آیت میں ہے «مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [ 46- الأحقاف: 9 ] ‏‏‏‏ یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں؟ الخ، یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے، پرے کنارے رہنے والے بھی عموماً ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے «اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ» [ 9- التوبہ: 97 ] ‏‏‏‏ جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کر دیا۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں۔ [سنن ترمذي:3945، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے، [سنن ابن ماجه:4032، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے۔ یہ جھٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں؟ جیسے فرمان ہے «اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ» [ 22- الحج: 46 ] ‏‏‏‏ یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے، الخ۔ ان کے کان سن لیتے، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں، عتاب الٰہی انہیں غارت کر دیتا ہے، عالم آخرت ان کے لیے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے۔ وعدہ الٰہی ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [ 40- غافر: 51 ] ‏‏‏‏ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے۔
19۔ 1 یہ آیت اس بات پر قطعی حکم ہے کہ تمام نبی مرد ہی ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی کو نبوت کا مقام نہیں ملا، اسی طرح ان کا تعلق قریہ سے تھا، جو قصبہ دیہات اور شہر سب شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اہل بادیہ (صحرا نشینوں) میں سے نہیں تھا کیونکہ اہل بادیہ نسبتاً طبعیت کے سخت اور اخلاق کے کھردرے ہوتے ہیں اور شہری ان کی نسبت نرم، دھیمے اور با اخلاق ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں نبوت کے لئے ضروری ہیں۔
(آیت109) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:} اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان: ۲۱) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول {”رِجَالٌ“} (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔ ➋ { اِلَّا رِجَالًا:} اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔ ➌ { مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى:} اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا:”یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔“ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا: «{ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ }» [ یوسف: ۱۰۰ ] یاپھر یہ کہا جائے کہ یعقوب علیہ السلام بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ➍ { اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔ ➎ { وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ …:} اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناهگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہونے لگے اور خیال کرنے لگے کہ (شاید) ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ تو (اچانک) ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی پس جسے ہم نے چاہا وہ نجات پا گیا اور مجرموں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب رسول بالکل ناامید ہوگئے اور انھوں نے گمان کیا کہ ان سے یقینا جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کے پاس ہماری مدد آگئی، پھر جسے ہم چاہتے تھے وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب مخالفت عروج پر ہو ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہو جاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معاً اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ «كُذِبُوا» اور «كُذِّبُوْا» دونوں قرأتیں ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت ذال کی تشدید سے ہے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ سے پوچھا کہ یہ لفظ «كُذِبُوا» ہے یا «كُذِّبُوْا» ہے؟ عائشہ نے فرمایا «كُذِّبُوْا» ہے ذال کی تشدید کے ساتھ۔ انہوں نے کہا پھر تو یہ معنی ہوئے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلائے گئے تو یہ گمان کی کون سی بات تھی یہ تو یقینی بات تھی کہ وہ جھٹلائے جاتے تھے۔ آپ نے فرمایا بیشک یہ یقینی بات تھی کہ وہ کفار کی طرف سے جھٹلائے جاتے تھے لیکن وہ وقت بھی آئے کہ ایماندار امتی بھی ایسے زلزلے میں ڈالے گئے اور اس طرح ان کی مدد میں تاخیر ہوئی کہ رسولوں کے دل میں آئی کہ غالباً اب تو ہماری جماعت بھی ہمیں جھٹلانے لگی ہو گی۔ اب مدد رب آئی۔ اور انہیں غلبہ ہوا۔ تم اتنا تو خیال کرو کہ [کُذِبوُا] ‏‏‏‏ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ معاذاللہ کیا انبیاء علیہم السلام اللہ کی نسبت یہ بدگمانی کر سکتے ہیں کہ انہیں رب کی طرف سے جھٹلایا گیا؟ [صحیح بخاری:4695] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں [کُُذِبوُا] ‏‏‏‏ ہے۔ آپ اس کی دلیل میں آیت «حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ» [ 2- البقرة: 214 ] ‏‏‏‏ پڑھ دیتے تھے یعنی یہاں تک کہ انبیاء اور ایماندار کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے۔ یاد رکھو مدد رب بالکل قریب ہے۔ سیدہ عائشہ [ رضی اللہ عنہا ] ‏‏‏‏ اس کا سختی سے انکار کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ جناب رسول اللہ نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے جتنے وعدے کئے، آپ کو کامل یقین تھا کہ وہ سب یقینی اور حتمی ہیں اور سب پورے ہو کر ہی رہیں گے آخر دم تک کبھی نعوذ باللہ آب کے دل میں یہ وہم ہی پیدا نہیں ہوا کہ کوئی وعدہ ربانی غلط ثابت ہو گا۔ یا ممکن ہے کہ غلظ ہو جائے یا پورا نہ ہو۔ ہاں انبیاء علیہم السلام پر برابر بلائیں اور آزمائشیں آتی رہیں، یہاں تک کہ ان کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے ماننے والے بھی مجھ سے بدگمان ہو کر مجھے جھٹلا نہ رہے ہوں۔

ایک شخص قاسم بن محمد کے پاس آ کر کہتا ہے کہ محمد بن کعب قرظی «كُذِبُوْا» پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ «كُذِّبُوْا» پڑھتی تھیں یعنی ان کے ماننے والوں نے انہیں جھٹلایا۔ پس ایک قرأت تو تشدید کے ساتھ ہے دوسری تخفیف کے ساتھ ہے، پھر اس کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو وہ مری ہے جو اوپر گزر چکا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ آیت اسی طرح پڑھ کر فرمایا یہی وہ ہے جو تو برا جانتا ہے۔ یہ روایت اس روایت کے خلاف ہے، جسے ان دونوں بزرگوں سے اوروں نے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جب رسول ناامید ہو گئے کہ ان کی قوم ان کی مانے گی اور قوم نے یہ سمجھ لیا کہ نبیوں نے ان سے جھوٹ کہا، اسی وقت اللہ کی مدد آ پہنچی اور جسے اللہ نے چاہا نجات بخشی۔ اسی طرح کی تفسیر اوروں سے بھی مروی ہے۔ ایک نوجوان قریشی نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا کہ ہمیں بتائیے، اس لفظ کو کیا پڑھیں، مجھ سے تو اس لفظ کی قرأت کی وجہ سے ممکن ہے کہ اس سورت کا پڑھنا ہی چھوٹ جائے۔ آپ نے فرمایا سنو اس کا مطلب یہ کہ انبیاء اس سے مایوس ہو گئے کہ ان کی قوم ان کی بات مانے گی اور قوم والے سمجھ بیٹھے کہ نبیوں نے غلط کہا ہے یہ سن کر ضحاک بن مزاحم بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ اس جیسا جواب کسی ذی علم کا میں نے نہیں سنا اگر میں یہاں سے یمن پہنچ کر بھی ایسے جواب کو سنتا تو میں اسے بھی بہت آسان جانتا۔

مسلم بن یسار رحمہ اللہ نے بھی آپ کا یہ جواب سن کر اٹھ کر آپ سے معانقہ کیا اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو بھی اسی طرح دور کر دے، جس طرح آپ نے ہماری پریشانی دور فرمائی۔ بہت سے اور مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کی تو قرأت ذال کے زبر سے ہے یعنی «كُذِبُوا» ہاں بعض مفسرین «وَظَنُّوا» کا فاعل مومنوں کو بتاتے ہیں اور بعض کافرویں کو یعنی کافروں نے یا یہ کہ بعض مومنوں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں سے جو وعدہ مدد کا تھا اس میں وہ جھوٹے ثابت ہوئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں رسول ناامید ہو گئے یعنی اپنی قوم کے ایمان سے اور نصرت ربانی میں دیر دیکھ کر ان کو قوم گمان کرنے لگی کہ وہ جھوٹا وعدہ دئے گئے تھے۔ پس یہ دونوں روایتیں تو ان دونوں بزرگ صحابیوں سے مروی ہیں۔ اور سیدہ عائشہ [ رضی اللہ عنہا ] ‏‏‏‏ اس کا صاف انکار کرتی ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ بھی قول صدیقہ کی طرفداری کرتے اور دوسرے قول کی تردید کرتے ہیں اور اسے ناپسند کر کے رد کر دیتے ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
110۔ 1 یہ مایوسی اپنی قوم کے ایمان لانے سے ہوئی۔ 110۔ 2 قرأت کے اعتبار سے اس آیت کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن سب سے مناسب مفہوم یہ ہے کہ ظَنُّوا کا فاعل قوم کفار کو قرار دیا جائے یعنی کفار عذاب کی دھمکی پر پہلے تو ڈرے لیکن جب زیادہ تاخیر ہوئی تو خیال کیا کہ عذاب تو آتا نہیں ہے، (جیسا کہ پیغمبر کی طرف سے دعویٰ ہو رہا ہے) اور نہ آتا نظر ہی آتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں سے بھی یوں ہی جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے۔ مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ آپ کی قوم پر عذاب میں جو تاخیر ہو رہی ہے، اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پچھلی قوموں پر بھی عذاب میں بڑی بڑی تاخیر روا رکھی گئی ہے اور اللہ کی مشیت و حکمت کے مطابق انھیں خوب خوب مہلت دی گئی حتیٰ کہ رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید انھیں عذاب کا یوں ہی جھوٹ موٹ کہہ دیا گیا ہے۔ 110۔ 3 اس میں دراصل اللہ تعالیٰ کے اس قانون مہلت کا بیان ہے، جو وہ نافرمانوں کو دیتا ہے، حتیٰ کہ اس بارے میں وہ اپنے پیغمبروں کی خواہش کے برعکس بھی زیادہ سے زیادہ مہلت عطا کرتا ہے، جلدی نہیں کرتا، یہاں تک کہ بعض دفعہ پیغمبر کے ماننے والے بھی عذاب سے مایوس ہو کر یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ان سی یوں ہی جھوٹ موٹ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ محض ایسے وسوسے کا پیدا ہوجانا ایمان کے منافی نہیں ہے۔ 110۔ 4 یہ نجات پانے والے اہل ایمان ہی ہوتے تھے۔
(آیت110) ➊ {حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْـَٔسَ الرُّسُلُ …:” اسْتَيْـَٔسَ “ ” يَئِسَ“} میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل مایوس ہو گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس {” حَتّٰۤى “} (یہاں تک) کا تعلق پیچھے کس سے ہے، جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ آیت: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ }» سے ہے، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے فرشتے یا جن نہیں بلکہ آدمی بھیجے، وہ مدتوں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان کی قومیں ان پر ایمان نہیں لائیں، یہاں تک کہ جب رسول ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہو گئے۔ {” ظَنُّوْۤا”ظَنَّ“} کے معنی وسوسہ، گمان اور یقین تینوں آتے ہیں، یعنی انھوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ {”ظَنُّوْۤا “} کے فاعل کے متعلق تین قول ہیں، ایک یہ کہ کفار ہیں، یعنی ان کی قوم کے کفار نے یقین کر لیا کہ رسولوں نے ہم سے جو کہا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب آ جائے گا، یہ بات ہم سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی، کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ اس وقت ان رسولوں کے پاس ہماری مدد آگئی اور مجرموں سے ہمارا عذاب ہٹایا نہیں جاتا۔ یہ معنی ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے مروی ہے۔ دوسرا یہ کہ {” ظَنُّوْۤا “} کے فاعل اہلِ ایمان ہیں، یعنی رسول کفار کے ایمان لانے سے ناامید ہو گئے اور مومنوں کو بھی وسوسہ پیدا ہونے لگا کہ شاید کفار پر عذاب آنے کی بات ان سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی۔ یہ معنی بھی درست ہے، کیونکہ وسوسہ پیدا ہونا ایمان کے منافی نہیں، شیطان کا کام ہی لوگوں کے سینے میں وسوسے ڈالنا ہے، مگر اس پر مؤاخذہ نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ أُمَّتِيْ مَا وَسْوَسَتْ بِهٖ صُدُوْرُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّمْ ] [ بخاري، العتق، باب الخطأ والنسیان في العتاقۃ…: ۲۵۲۸۔ مسلم: ۱۲۷ ] ”اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جن کا وسوسہ ان کے سینے ڈالیں، جب تک وہ ان پر عمل کریں یا انھیں منہ سے نہ نکالیں۔“ تیسرا وہ جو شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی وعدۂ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول لگے ناامید ہونے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آوے اور ان کے اصحاب خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا۔ اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا، مگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔“ (موضح) اگر {”ظَنَّ“} سے مراد وسوسہ ہو تو {” ظَنُّوْۤا “} سے مراد رسول بھی بعید نہیں، {كَذَا قَالَ ابْنُ تَيْمِيَةَ} (روح المعانی) کیونکہ لمبی آزمائشوں اور مصیبتوں میں خیال آ ہی جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ }» [ البقرۃ: ۲۱۴ ] ”یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہو گی؟ سن لو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔“ اس آیت کی روشنی میں یہ معنی بھی قرین عقل ہے۔ مراد اس آیت سے رسولوں پر آنے والی آزمائشوں کی مدت کی لمبائی اور ان کے صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کے قریب تک پہنچ جانے پر اللہ کی مدد کا آنا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔ ➋ { جَآءَهُمْ نَصْرُنَا:} یعنی پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچ گئی۔ ➌ { وَ لَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ:} لہٰذا اب اگر عذاب آنے میں دیر ہو رہی ہے تو دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ محض ڈراوا ہی ہے۔
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے واﻻ ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ان لوگوں کے (عروج و زوال کے) قصہ میں صاحبانِ عقل کے لئے بڑی عبرت و نصیحت ہے وہ (قرآن) کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے موجود ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے (سراسر) ہدایت و رحمت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے، یہ ہرگز ایسی بات نہیں جو گھڑ لی جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبرت ونصیحت ٭٭

نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لیے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہو گئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل و علا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہو جائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمدللہ سورۃ یوسف کی تفسیر ختم ہو گئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔
111۔ 1 یعنی قرآن، جس میں قصہ یوسف ؑ اور دیگر قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں کوئی گھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں دین کے بارے میں ساری ضروری باتوں کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کے لئے ہدایت و رحمت۔
(آیت111){ لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ …:} یعنی رسولوں اور گزشتہ قوموں خصوصاً یوسف علیہ السلام اور ان سے متعلق تمام لوگوں مثلاً والد، بھائی، قافلے والے، عزیز مصر، اس کی بیوی، زنان مصر، قید کے ساتھی اور شاہِ مصر ان سب کے بیان میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں، بلکہ پہلی آسمانی کتابوں کی صحیح باتوں کی تصدیق، ان کی کمی بیشی کو کھول کر بیان کرنے والی، ان کے صحیح مضامین کی محافظ اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔