بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 33
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۳﴾
یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا
یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا
یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،
یوسف (ع) نے (بات سن کر کہا) اے میرے پروردگار! اس کام کی نسبت جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں مجھے قیدخانہ پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر و فریب کو دور نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں اور اس طرح جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔
اس نے کہا اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭

اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔

انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا

عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] ‏‏‏‏ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔

اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔

لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ مسلمان عادل بادشاہ [ ٢ ] ‏‏‏‏ وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [ ٣ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [ ٤ ] ‏‏‏‏ وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [ ٥ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [ ٦ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [ ٧ ] ‏‏‏‏ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

33۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے یہ دعا اپنے دل میں کی۔ اس لئے کہ ایک مومن کے لئے دعا بھی ایک ہتھیار ہے۔ حدیث میں آتا ہے، سات آدمیوں کو قیامت والے دن عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے ایک ایسی عورت دعوت گناہ دے جو حسن و جمال سے بھی آراستہ ہو اور جاہ و منصب کی حامل ہو۔ لیکن وہ اس کے جواب میں کہہ دے کہ میں تو ' اللہ ' سے ڈرتا ہوں (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) ➊ { قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ …:} یوسف علیہ السلام کے لیے یہ سخت امتحان کا وقت تھا، ان کے سامنے ایک طرف معصیت، یعنی اللہ کی نافرمانی ہے جس کے نتیجے میں ان کی ہر طرح ناز برداری ہوتی۔ دوسری طرف مصیبت ہے جو قید کی صورت میں ہے اور عزیز مصر کی بیوی قسم کھا کر (لام تاکید اور نون تاکید قسم کا فائدہ دیتے ہیں) اپنی حکم عدولی کی صورت میں قید کروانے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ اس امتحان میں اللہ کے خاص بندے کبھی معصیت الٰہی کو ترجیح نہیں دیتے، بلکہ مصیبت قبول کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَ شَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ اجْتَمَعَا عَلٰی ذٰلِكَ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَ جَمَالٍ فَقَالَ اِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَی حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ] [بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ…: ۶۶۰۔ مسلم: ۱۰۳۱ ] ”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (1) عادل حکمران۔ (2) وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوو نما پائی۔ (3) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں سے اٹکا ہوا ہے۔ (4) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ ہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ (5) وہ آدمی جسے کسی اثر و رسوخ اور حسن و جمال والی عورت نے اپنی طرف بلایا مگر اس نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (6) وہ آدمی جس نے صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کر دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔ (7) وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔“ یا اللہ! تو اپنے فضل سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) ➋ {” يَدْعُوْنَنِيْۤ “} اور {” كَيْدَهُنَّ “} (جمع مؤنث کے صیغوں) سے پوری مجلس دعوت گناہ دینے کے لیے آراستہ کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ بالتفصیل اوپر گزرا۔ {” اَصْبُ “ ” صَبَا يَصْبُوْ“} سے ہے جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ اصل میں {”اَصْبُوْ“} تھا، {” وَ اِلَّا تَصْرِفْ“ } کا جواب ہونے کی وجہ سے واؤ گر گئی۔ اس آیت سے دو نہایت اہم سبق ملتے ہیں، ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ کرے اور اس کی دستگیری نہ ہو تو کوئی شخص بھی اپنے آپ کو گناہ سے، خصوصاً عورتوں کے فتنے سے نہیں بچا سکتا، دوسرا یہ کہ جب کوئی شخص اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ اور جاہل برابر ہیں۔ یہ ہے یوسف علیہ السلام کی پیغمبرانہ شان، اپنی طہارت اور پاک دامنی کا قطعاً دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اپنے آپ کو حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہوئے یہی فرمایا کہ عفت و پاک دامنی پر ثابت قدم رکھنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اگر توفیق نہ دے گا تو میں نفس اور شیطان کے فریب میں آ کر گناہ کی طرف مائل ہو جاؤں گا۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →