بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 20
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
وَ شَرَوۡہُ بِثَمَنٍۭ بَخۡسٍ دَرَاہِمَ مَعۡدُوۡدَۃٍ ۚ وَ کَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾
آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے
اور انہوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی
اور (ادھر برادرانِ یوسف بھی آپہنچے اور یوسف کو اپنا غلام ظاہر کرکے) بالکل کم قیمت پر یعنی گنتی کے چند درہموں کے عوض بیج ڈالا۔ اور ان (بھائیوں) کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی (بلکہ اس سے بیزار تھے)۔
اور انھوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں سے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کنویں سے بازار مصر تک ٭٭

بھائی تو یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گزر گئے۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لئے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، یوسف علیہ السلام نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا رہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آ گیا۔ دوسری قرأت اس کی «یابشرای» بھی ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں «بُشْرَىٰ» سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی رحمہ اللہ کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہو سکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یا یہ اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت «یا بشرای» سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے «یانفس اصبری» اور «یا غلام اقبل» اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپا لیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کر دیں۔

اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف علیہ السلام کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بے خبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کر دوں لیکن میرے کام الحکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بے فکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کر دوں گا۔ جیسے کہ یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام یوسف علیہ السلام کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔

لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کر دیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بے رغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ یوسف علیہ السلام نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن علیہ السلام تھا۔ پس آپ علیہ السلام تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لیے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کوعلیہ السلام بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہو جائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 بھائیوں یا دوسری تفسیر کی رو سے اہل قافلہ نے بیچا۔ 20۔ 2 کیونکہ گری پڑی چیز انسان کو یوں ہی کسی محنت کے بغیر مل جاتی ہے، اس لئے چاہے وہ کتنی بھی قیمتی ہو، اس کی صحیح قدر و قیمت انسان پر واضح نہیں ہوتی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20){وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ …:” بَخْسٍ “} کا معنی اصل قیمت سے کم قیمت ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ }» [ الأعراف: ۸۵ ] ”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔“ یعنی قافلے والوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا، کیونکہ زیادہ درہم ہوتے تو وہ گننے کے بجائے تول لیے جاتے تھے۔ ”اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں میں سے تھے“ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قانونی طور پر حقیقی غلام کو نہیں بیچ رہے تھے، اس لیے جو کچھ مل گیا اسے انھوں نے غنیمت سمجھا۔ بے رغبت ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ جلد اس سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نہ آ جائے جو انھیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں، تو ہر وقت چھپا کر رکھنا اور یوسف علیہ السلام کو کسی سے اپنی حقیقت بیان کرنے کا موقع ہی نہ دینا ان کے لیے مصیبت تھا۔ اس سے ان لوگوں کی داستان گوئی کی حقیقت بھی معلوم ہو گئی جو یوسف علیہ السلام کے خریداروں کے ہجوم کا اور سوت کی اٹی لانے والی عورت کا اور آخر کار سونے میں تول کر فروخت کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی {”شَرَي يَشْرِيْ“} بیچنے اور {”اِشْتَرَي يَشْتَرِيْ“ } خریدنے کے معنوں میں آتا ہے، الا یہ کہ کوئی خاص قرینہ اس کے خلاف ہو، کیونکہ اصل یہی ہے کہ {”فَعَلَ“ } کسی حدث (کام) کے لیے آتا ہے اور {”اِفْتَعَلَ“} اس کی مطاوعت (اس کام کا اثر قبول کرنے) کے لیے ہوتا ہے، جیسے {” بَاعَ “} اس نے بیچا اور {”اِبْتَاعَ“} اس نے خریدا۔ {”رَهَنَ“} اس نے گروی دیا اور {”اِرْتَهَنَ“} اس نے گروی لیا۔ {”كَرِيَ“} اس نے کرایہ پر دیا اور {”اِكْتَرَي“ } اس نے کرایہ پر لیا۔ اس کے خلاف اول تو آتا ہی نہیں، آئے تو کوئی قرینہ موجود ہوتا ہے۔ جو لوگ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا آ کر قافلے والوں کے ہاتھوں فروخت کرنا ذکر کرتے ہیں ان کی بات کا قرآن کی کسی آیت میں ذکر چھوڑ کر اشارہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہے تو اس کا اعتبار نہیں اور وہ قرآن کے بیان کے بھی خلاف ہے۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →