بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 35
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۵﴾
پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے
پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں
پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں
پھر ایسا ہوا کہ باوجودیکہ وہ (یوسف کی پاکدامنی کی) نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ تاہم انہیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ ایک مدت تک اسے قید کر دیں۔
پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کر دیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جیل خانہ اور یوسف علیہ السلام ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ میں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف علیہ السلام کو قید کر دیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری براءت اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہو جائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کر لیں جب تک بادشاہ نے ہر طرح کے گواہ سے بلکہ خود عزیز کی بیوی سے پوری تحقیق نہ کر لی اور آپ کا بے قصور ہونا، ساری دنیا پر کھل نہ گیا آپ جیل خانے سے باہر نہ نکلے۔ پھر آپ باہر آئے جب کہ ایک دل بھی ایسا نہ تھا جس میں صدیق اکبر، نبی اللہ، پاکدامن اور معصوم اللہ کے رسول یوسف علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے ذرا بھی بدگمانی ہو۔ قید کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ عزیز کی بیوی کی رسوائی نہ ہو۔

📖 احسن البیان

35۔ 1 عفت و پاک دامنی واضح ہوجانے کے باوجود یوسف ؑ کو حوالہ زنداں کرنے میں یہی مصلحت ان کے پیش نظر ہوسکتی تھی کہ عزیز مصر حضرت یوسف ؑ کو اپنی بیوی سے دور رکھنا چاہتا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ یوسف ؑ کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ وہ ایسا ارادہ رکھتی تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 35) {ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ …:} جب شہر میں ان واقعات کا چرچا ہوا اور عزیز مصر کی بیوی کی محبت میں دیوانگی اور یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی پر استقامت کی شہرت پھیلی تو اہل حل و عقد اس نتیجے پر پہنچے کہ یوسف علیہ السلام کو ہر صورت کچھ وقت کے لیے قید کر دیں، تاکہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے میل ملاقات ختم ہو جائے اور آہستہ آہستہ اس واقعہ کی شہرت بھی ختم ہوجائے۔ اس فیصلے سے عزیز مصر پر اس کی بیوی اور دوسری عورتوں کا تسلط اور اس کی بے غیرتی اور دیوثی بھی صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے یوسف علیہ السلام کو تو قید میں ڈال دیا مگر عورتوں سے پوچھا تک نہیں کہ تمھارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اس سے اس وقت کے معاشرے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلے مغرب کے کفار کا یہ حال تھا اب مسلم ممالک کی اشرافیہ کا یہی رنگ ہے۔ (الا ما شاء اللہ) اور تمام کفار اور ان کے ایجنٹ سب مسلمانوں کو ایسا ہی بے غیرت بنانا چاہتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے قید میں ڈالنے کے لیے ان کے کچھ جرائم تجویز کیے، جس طرح حکومتیں فرضی دفعات جرم لگا دیتی ہیں اور انھوں نے عزیز مصر کی بیوی کے الزام (عزیز کے اہل کے ساتھ برائی کے ارادہ) کی حقیقت جاننے کے باوجود اسی کو یوسف علیہ السلام کا جرم قرار دے دیا، یا ویسے ہی خاموشی سے انھیں قید میں ڈال دیا، جس کا لازمی نتیجہ اصل حقیقت نہ جاننے والوں کے لیے یہی تاثر تھا کہ آخر اس معاملے میں یوسف علیہ السلام کا کوئی قصور تو ہو گا جس کی وجہ سے انھیں جیل میں ڈالا گیا۔ یوسف علیہ السلام کو اپنے متعلق اس تاثر سے شدید قلق تھا، اس لیے آگے آپ دیکھیں گے کہ بادشاہ کے اپنے پاس بلانے کے پیغام کے باوجود یوسف علیہ السلام اس وقت تک قید خانے سے نہیں نکلے جب تک تمام متعلقہ عورتوںکو بادشاہ کے پاس حاضر کروا کے ان کی زبانی اپنی بے گناہی کی تصدیق نہیں کروائی۔ ایک مفسر نے لکھا ہے کہ اب اگر حکومت کسی داعی یا خطیب کو حق بیان کرنے کے جرم میں قید کر دے اور پھر اللہ کی مدد سے کوئی حاکم اسے جیل سے نکالنے کا حکم دے تو اسے جیل میں اڑ کر نہیں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ اس پر کوئی ایسا الزام نہیں جو اس کی بدنامی کا باعث ہو۔ رہی حق کی دعوت وتبلیغ تو وہ کوئی جرم نہیں بلکہ اس کا فرض ہے جو اس نے بعد میں بھی ادا کرتے رہنا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے احسان، تقویٰ، صبر، وفا،خدمت، پاک بازی، عبادت الٰہی اور دوسری بے شمار خوبیوں کی وجہ سے عزیز مصر کے دل میں ان کی محبت یقینا موجود تھی جس کی وجہ سے اس نے قید پر اکتفا کیا، ورنہ وہ کسی حیلے سے انھیں غائب بھی کروا سکتا تھا، جیسا بھائیوں نے کیا تھا اور قتل بھی کروا سکتا تھا، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا پہلا منصوبہ تھا، مگر ایک تو یوسف علیہ السلام کا تقویٰ اور صبر تھا اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو سب پر غالب ہے۔ جس کی وجہ سے قید ہی کا فیصلہ ہوا جس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں تھیں۔
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →