بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 12
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۲﴾
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج د یجیے، کچھ چر چگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں"
کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب کھائے پئے اور کھیلے، اس کی حفاﻇت کے ہم ذمہ دار ہیں
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں
وہ کچھ کھائے پیئے اور کھیلے کودے ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بے شک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق ٭٭

بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کر لیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کر لے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجودیکہ تھے یہ بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کر سکتا ہے۔؟ «يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ» کی دوسری قرآت «ترتع و نلعب» بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہو گا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بے فکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔

📖 احسن البیان

12۔ 1 کھیل اور تفریح کا رجحان، انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اسی لئے جائز کھیل اور تفریح پر اللہ تعالیٰ نے کسی دور میں بھی پابندی عائد نہیں کی۔ اسلام میں بھی اجازت ہے لیکن مشروط۔ یعنی ایسے کھیل اور تفریح جائز جن میں شرع قباحت نہ ہو یا محرمات تک پہنچنے کا ذریعہ بنیں۔ چناچہ حضرت یعقوب ؑ نے بھی کھیل کود کی حد تک کوئی اعتراض نہیں کیا۔ البتہ یہ خدشہ ظاہر کیا کہ تم کھیل کود میں مدہوش ہوجاؤ اور اسے بھڑیا کھاجائے، کیونکہ کھلے میدانوں اور صحراؤں میں وہاں بھیڑیئے عام تھے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →