بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 18
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"
اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے
اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو
اور وہ اس (یوسف (ع)) کے کُرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ آپ (ع) نے کہا (یہ جھوٹ ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے (اپنے بچاؤ کیلئے) یہ بات گھڑ کر تمہیں خوشنما دکھا دی ہے (بہرحال اس سانحہ پر) صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس سلسلہ میں اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔
اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمھارے لیے تمھارے دلوں نے ایک کام مزین بنا دیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭

چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔

لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:2661] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

18۔ 1 کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف ؑ کی قمیص خون میں لت پت کرلی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف ؑ کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف ؑ کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بیخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔ 18۔ 1 منافقین نے جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔ واللہ لا اجدلی ولالکم مثلا الا ابا یوسف (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) اللہ کی قسم میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثال پاتی ہوں جس سے یوسف ؑ کے باپ یعقوب ؑ کو سابقہ پیش آیا تھا اور انہوں نے فصبر جمعیل کہہ کر صبر کا راستہ اختیار کیا تھا، یعنی میرے لیے بھی سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ {وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ …: } یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف علیہ السلام کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو {” كَذِبٍ “ } تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی {”مَكْذُوْبٌ“} ہے، جیسے {”خَلْقٌ“} بمعنی {”مَخْلُوْقٌ“} یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف علیہ السلام کا ہر گز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کر لے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتا رہی تھی اور فرمایا: {” بَلْ “} (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے، بھیڑیے نے یوسف کو ہرگز نہیں کھایا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمھارے دلوں نے تمھارے لیے کوئی بات خوشنما بنا دی جو تم کر گزرے ہو۔ اب وہ چونکہ کئی چیزیں ہو سکتی تھیں، اس لیے کسی کی تعیین نہیں فرمائی اور وہ یوسف کو کہیں پھینک آنا، اسے کسی جگہ لے جا کر بیچ آنا، اسے کہیں چھپا دینا وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مرنے کا یقین ہو جائے تو صبر آ جاتا ہے مگر جب خبر ہی نہ ہو کہ بیٹا اس وقت کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ تو یہ بہت ہی بڑی آزمائش اور ہر وقت دل میں سلگتی رہنے والی چنگاری ہوا کرتی ہے۔ ادھر خواب کے مطابق ابھی یوسف علیہ السلام پر اتمام نعمت ہونا تھا اور {” تَاْوِيْلَ الْاَحَادِيْثِ “} کی تعلیم بھی باقی تھی۔ سو کس طرح مان لیتے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ ➋ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ اس سورت میں یوسف علیہ السلام کی قمیص کا تین دفعہ ذکر ہے اور ہر دفعہ اس کا انوکھا ہی اثر ہے۔ ایک تو یہ خون آلود قمیص تھی جس کے نتیجے میں یعقوب علیہ السلام کی بینائی ختم ہو گئی، دوسرا یوسف علیہ السلام کو تہمتِ دست درازی سے ان کی قمیص دیکھ کر بری قرار دیا گیا اور تیسرا یوسف علیہ السلام کی قمیص کی خوشبو آنا اور یعقوب علیہ السلام پر اسے ڈالنے سے ان کی بینائی کا واپس آنا۔ سبحان اللہ! اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کمال نشانیاں ہیں۔ ➌ تفسیر {”التحرير والتنوير“} کے مصنف ابن عاشور لکھتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے قمیص کو خون آلود کرنے کی جعل سازی میں اور اسے چیر پھاڑ کر ایسی قمیص کی صورت میں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہو گی جس کے پہننے والے کو بھیڑیے نے کھا لیا ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار تھے کہ اتنی سی بات بھی ان میں سے کسی کے ذہن میں نہ آئی ہو، جب کہ وہ دس جوان تھے۔ سو بعض اہل تفسیر نے جو لکھا ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں نے آج کی طرح کا کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا جو اس بھیڑیے سے زیادہ حلیم (بردبار) ہو کہ میرے بیٹے کو کھا گیا اور اس کی قمیص نہیں پھاڑی، تو یہ قصہ گوئی کی ایک ظرافت ہے۔“ اگر قمیص کے سالم رہنے کی بات قرآن و حدیث یا کسی صحیح ذریعے سے آئی ہوتی تو میرے خیال کے مطابق ابن عاشور رحمہ اللہ اتنے واضح الفاظ میں اسے قصہ گو حضرات کی کارستانی قرار نہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، بالکل ممکن ہے اور جرم یقینا اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے مگر بات ثابت تو ہونی چاہیے۔ یہاں ان کے جھوٹے ہونے کے اور دلائل ہی میں کچھ کمی نہ تھی کہ ہم قمیص کا سالم رہنا کسی صحیح ذریعۂ خبر کے بغیر ہی تسلیم کر لیں۔ ➍ { فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ:} جملہ فعلیہ{” أَصْبِرُ صَبْرًا جَمِيْلاً “} (یعنی اب میں صبر جمیل اختیار کروں گا) کے بجائے جملہ اسمیہ ارشاد فرمایا: {”فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ “} کیونکہ اس میں دوام ہوتا ہے۔ گویا اس میں مبتدا یا خبر محذوف ہے، یعنی {” فَأَمْرِيْ صَبْرٌ جَمِيْلٌ“} یا {” فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ اَمْرِيْ“} یعنی اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ کسی بھی چیز کا جمال یہ ہے کہ وہ اپنے جیسی دوسری چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہو۔ چنانچہ صبر بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک صبر جمیل، جس میں حسن ہو اور دوسرا غیر جمیل جو حسن سے خالی ہو۔ پہلا وہ جس کے ساتھ جزع فزع اور واویلا وغیرہ نہ ہو بلکہ اللہ کی تقدیر پر صبر کیا جائے۔ دوسرا وہ جو یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہو اور جو ہر ایک کو آخر کرنا ہی پڑتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے ایک بچے پر رو رہی تھی۔ (عبد الصمد کی روایت میں ہے کہ وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی) تو آپ نے اس سے کہا: [ اِتَّقِي اللّٰهَ وَاصْبِرِيْ، فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِيْ بِمُصِيْبَتِيْ؟ فَلَمَّا ذَهَبَ، قِيْلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَأَتَتْ بَابَهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلٰی بَابِهِ بَوَّابِيْنَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ ] [ مسلم، الجنائز، باب الصبر علٰی المصیبۃ عند الصدمۃ الأولی: 926/15 ] ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے کہا: ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا ہے؟“ جب آپ چلے گئے تو اسے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اس کی حالت تو موت جیسی ہو گئی۔ وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہیں دیکھے۔ کہنے لگی: ”یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔“ آپ نے فرمایا: ”اصل صبر تو صرف پہلی چوٹ کے وقت ہوتا ہے۔“ ➎ {وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ:} یہاں {” الْمُسْتَعَانُ “} خبر پر الف لام کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا، یعنی صرف اللہ ہے یا اللہ ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور اللہ سے مدد مانگنے کا طریقہ بھی اس نے خود ہی سکھایا، جس پر یعقوب علیہ السلام نے عمل کیا، فرمایا: «{ وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ }» [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو۔“ ➏ ہمارے جو بھائی کہتے ہیں کہ فلاں حضرت صاحب کی نظر لوح محفوظ پر ہے اور فلاں صاحب کے دل کا آئینہ انھیں کل عالم کی خبر دیتا ہے، وہ غور فرمائیں کہ چند میل کے فاصلے پر کنویں میں اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کی خبر نہ ہو سکی۔ نہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے دل میں کھٹکا تک ہوا کہ والد ماجد سے تو کوئی چیز چھپی رہتی نہیں، ہمارا مکر کیسے کامیاب ہو گا؟ تو ان کے حضرت صاحبان لوح محفوظ تک کیسے پہنچ گئے؟ یہاں ایک سوال ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اس وقت یوسف علیہ السلام کو تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جواب یہ ہے کہ وجہ یہ تھی کہ ان کی تلاش بھی انھی بھائیوں ہی نے کرنا تھی، وہ خود تو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کمزور تھے۔ چنانچہ جب موقع مناسب جانا انھی بھائیوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، فرمایا: «{ فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ }» [ یوسف: ۸۷ ] ”یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ۔“
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →