بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 49
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 49
آیت نمبر: 49 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾
اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے"
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے
پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے
پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس کے ذریعہ سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور جس میں وہ (پھلوں کا رس) نچوڑیں گے۔
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف علیہ السلام تک رسائی ٭٭

قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی براءت اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہو گیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو یوسف علیہ السلام یاد آ گئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آ گیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق علیہ السلام جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔

یعنی بھول جانے کے بعد اسے یوسف علیہ السلام کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی علیہ السلام سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف علیہ السلام بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کر لیں۔ آپ علیہ السلام نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہو گی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کر لینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔

نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہو گی۔ یہی مراد سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہو گی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہو گی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہو گا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہو جائے گی اور تنگی دور ہو جائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہو جائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔

📖 احسن البیان

49۔ 1 یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو عطا فرمایا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 49) ➊ {ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ …:” يُغَاثُ”غَيْثٌ“} سے بھی ہو سکتا ہے اور {”غَوْثٌ“} سے بھی۔ {”غَيْثٌ“} سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور {”غَوْثٌ“} سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ {” يَعْصِرُوْنَ “} ”نچوڑیں گے“ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے{ ” يَعْصِرُوْنَ “} کے معنی {”يَحْلِبُوْنَ“} (دودھ دوہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا خشک سالوں کی گنتی سات ہونے سے استدلال فرمایا کہ وہ سات تبھی رہتے ہیں جب ان کے بعد کم از کم ایک خوش حالی کا سال ہو اور اس سے بھی کہ اللہ کی رحمت کا تقاضا بھی شدت کے بعد آسانی کا ہے۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگربادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی {” كِتَابُ التَّعْبِيْرِ “} میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے: {” بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ “} ”قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔“
← پچھلی آیت (48) پوری سورۃ اگلی آیت (50) →