بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 29
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی"
یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔
اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے
پھر یوسف (ع) سے کہا اے یوسف! اس بات سے درگزر کر (اسے جانے دے) اور بیوی سے کہا اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا تو خطاکاروں میں سے ہے۔
یوسف! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی ٭٭

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ علیہ السلام کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہو گئے لیکن آپ علیہ السلام نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیئے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھی، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصوروار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آ گیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں بچپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے یوسف صدیق علیہ السلام کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19118:صحیح مرفوعاً صحیح موقوفاً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہٰ کے لڑکے نے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے۔ حضرت جریج کے صاحب نے اور عیسٰی بن مریم علیہ السلام نے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو یوسف علیہ السلام کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہو گیا کہ یوسف علیہ السلام سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق علیہ السلام پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر یوسف علیہ السلام سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئیے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کر دی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔

📖 احسن البیان

29۔ 1 یعنی اس کا چرچا مت کرو۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر پر حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی واضح ہوگئی تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ {يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا …:} عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف علیہ السلام سے کہا کہ یوسف! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمھاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہو گئی ہے)۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقینا تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ {”مُخْطِئٌ“} اور {”خَاطِئٌ“} کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہو جائے نہ کہ دانستہ طور پر اور {”خَاطِئٌ“} وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا: «{اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ }» [ القصص: ۸ ] ”بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔“ ➋ بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بے غیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ) ➌ { وَ اسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →