حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر احسن البیان
(آیت 2،1) {طٰسٓمّٓ (1) تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ:} حروف مقطعات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱) اور دوسری آیت کی تفسیر سورۂ یوسف کی آیت (۲) میں دیکھیں۔
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم تم پر پڑھیں موسیٰ اور فرعون کی سچی خبر ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم اہلِ ایمان کے فائدہ کیلئے موسیٰ و فرعون کی کچھ خبریں سچائی کے ساتھ آپ کے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم تجھ پر موسیٰ اور فرعون کی کچھ خبر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب روشن کی آیتیں ٭٭
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
3-1یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں کیونکہ وحی الٰہی کے بغیر صدیوں قبل کے واقعات بالکل اس طریقے سے بیان کردینا جس طرح پیش آتے ناممکن ہے، تاہم اس کے باوجود اس سے فائدہ اہل ایمان ہی کو ہوگا کیونکہ وہی آپ کی باتوں کی تصدیق کریں گے۔
(آیت 3) ➊ {نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ: ” نَبَاِ “} اس خبر کو کہتے ہیں جو اہم اور شان والی ہو۔ {” مِنْ “} بعض کے معنی میں ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ خبر“ کیا گیا ہے۔ شوق دلانے کے لیے قصے کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا، ہم تجھ پر موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے اہم واقعے کا کچھ حصہ حق کے ساتھ، یعنی ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ ➋ { لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} ”یعنی مسلمان اپنا حال قیاس کر لیں ظالموں کے مقابلہ میں۔“ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اور بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو کمزور ہونے کے باوجود فرعون کے مقابلے میں کامیاب کیا، اسی طرح جو مسلمان مکہ میں کمزور اور مغلوب ہیں، یا دنیا کے کسی بھی خطے میں یا کسی بھی وقت مظلوم و مجبور ہوں گے، انھیں ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ ان کی بھی اسی طرح مدد فرمائے گا، انھیں دشمنوں سے نجات دلائے گا اور ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کرے گا۔ ➌ { لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} جیسا کہ سورۂ بقرہ کے شروع میں اس کتاب لا ریب کو صرف متقین کے لیے ہدایت قرار دیا، اسی طرح یہاں فرمایا کہ ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کے قصے کا کچھ حصہ ان لوگوں کے لیے سنا رہے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ سنتے اگرچہ کافر بھی ہیں مگر فائدہ صرف اہلِ ایمان ہی اٹھاتے ہیں۔ جن لوگوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں، انھیں اس واقعے سے بلکہ پورے قرآن سے کچھ حاصل نہیں۔ کچھ حصہ اس لیے فرمایا کہ اس قصے کے بہت سے حصے اس سورت کے بجائے دوسری سورتوں میں ہیں اور قرآن کوئی بھی واقعہ بطور تاریخ پورا بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے صرف وہ حصے بیان کرتا ہے جن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ➍ اس واقعہ کے لیے مزید ملاحظہ کریں سورۂ بقرہ (رکوع ۶)، اعراف (رکوع ۱۳ تا ۱۶)، یونس (رکوع ۸، ۹)، ہود (رکوع ۹)، بنی اسرائیل (رکوع ۱۲)، مریم (رکوع ۴)، طٰہٰ (رکوع ۱ تا ۵)، مومنون (رکوع۳)، شعراء (رکوع ۲ تا ۴)، نمل (رکوع ۱)، عنکبوت (رکوع۴)، مومن (رکوع ۳ تا ۵)، زخرف (رکوع ۵)، دخان (رکوع ۱)، ذاریات (رکوع ۲) اور نازعات (رکوع ۱)۔
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا بیشک وہ فسادی تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک فرعون زمین (مصر) میں سرکش ہوگیا تھا اور اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا اور اس نے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور بنا رکھا تھا (چنانچہ) ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیتا تھا اور ان کی عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بےشک وہ (زمین میں) فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ بنا دیا، جن میں سے ایک گروہ کو وہ نہایت کمزور کر رہا تھا، ان کے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب روشن کی آیتیں ٭٭
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
4-1یعنی ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اپنے کو بڑا معبود کہلاتا تھا۔ 4-2جن کے ذمے الگ الگ کام اور ڈیوٹیاں تھیں۔ 4-3اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو اس وقت کی افضل ترین قوم تھی لیکن آزمائش کے طور پر فرعون کی غلام اور اس کی ستم زانیوں کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔ 4-4جس کی وجہ بعض نجومیوں کی پیش گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ہر پیدا ہونے والا اسرائیلی بچہ قتل کردیا جائے۔ حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاہن سچا ہے تو ایسا یقینا ہو کر رہے گا چاہے وہ بچے قتل کرواتا رہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو قتل کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی (فتح القدیر) بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے یہ خوشحبری منتقل ہوتی چلی آرہی تھی کہ ان کی نسل سے ایک بچہ ہوگا جسکے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی ہوگی۔ قبیلوں نے یہ بشارت بنی اسرائیل سے سنی اور فرعون کو اس سے آگاہ کردیا جس پر اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانا شروع کردیا۔ (ابن کثیر)
(آیت 4) ➊ { اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ: ” الْاَرْضِ “} سے مراد سرزمین مصر ہے، جس کا قرینہ فرعون کا ذکر ہے، کیونکہ اس کی حکومت صرف مصر میں تھی۔ جو لوگ اسے پوری زمین کا بادشاہ سمجھتے ہیں ان کی بات درست نہیں، کیونکہ ہجرت کے بعد مصر کے قریب ہی مدین پہنچنے پر موسیٰ علیہ السلام اس کی گرفت سے آزاد تھے۔ {” عَلَا “} کا لفظی معنی ہے ”اس نے سر اٹھایا، اونچا بن گیا“ یعنی اپنے اصل مقام بندگی سے اونچا ہو کر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا اور اپنی حقیقت کو بھول گیا۔ {” عَلَا فِي الْاَرْضِ “} کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ بلندی اور کبریائی تو اس ذات کا لباس ہے جو عرش پر بلند ہے، زمین پر رہنے والے کا حق تو عرش والے کے سامنے پستی اور عاجزی ہے، نہ کہ سرکشی کرتے ہوئے اللہ کے بندوں کو ذلیل و خوار کرنا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا۔ ➋ {وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا:} یعنی اس نے سر زمین مصر کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ فرعون کے زمانے کی تہذیب اور ان کے عقائد بہت حد تک ہندوؤں کی تہذیب اور عقائد سے ملتے جلتے ہیں۔ ہندو بھی چار طبقوں میں تقسیم ہیں، برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ جن میں برہمنوں کو سب پر بالادست رکھا گیا ہے اور شودر کو انسانیت کی حد سے بھی نیچے گرا دیا گیا ہے۔ مصری تہذیب بھی بادشاہ کی خدائی کے ساتھ گائے کی پجاری تھی، ہندوؤں کا بھی یہی حال ہے۔ فرعونِ مصر نے بھی مصر کے رہنے والوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا تھا اور ان سب کو آپس میں دست و گریبان کر رکھا تھا اور مختلف قسم کی مراعات دے کر یا ان پر ظلم و ستم کر کے انھیں اتنا بے وقعت اور بے بس بنا رکھا تھا کہ وہ کسی بات میں اس سے اختلاف کی جرأت نہیں کر سکتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے اس کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوے کو بھی مان لیا۔ (دیکھیے زخرف: ۵۱ تا۵۴) آج کل بھی ملکوں اور قوموں کو محکوم رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں کا یہی طریقہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ➌ { يَسْتَضْعِفُ طَآىِٕفَةً مِّنْهُمْ: ” أَضْعَفَ يُضْعِفُ“} (افعال) کا معنی کمزور کرنا ہے اور استفعال میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی وہ ان میں سے ایک گروہ کو بہت زیادہ ہی کمزور کر رہا تھا۔ مراد اس سے بنی اسرائیل ہیں، جو یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر آئے تھے اور مدت تک نہایت شان و شوکت اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے، پھر اللہ کی نافرمانی اور اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مصر کے اصل باشندوں کو جو قبطی تھے، ان پر مسلط کر دیا اور اس فرعون نے تو انھیں کمزور اور بے بس کرنے کی انتہا کر دی۔ اس نے ایسا بندوبست کیا کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنی اسرائیل غلام اور خدمت گار بن کر۔ چنانچہ مشقت کا ہر کام زبردستی ان سے لیا جاتا، مثلاً کھیتی باڑی، عمارتیں بنانے اور نہریں وغیرہ کھودنے کا کام اور گھروں میں خدمت کا کام ان کی عورتوں سے لیا جاتا۔ اس کے علاوہ لڑکوں کو ذبح کرکے عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے زندہ رکھا جاتا۔ ➍ { يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ يَسْتَحْيٖ نِسَآءَهُمْ:} اس حکم کی وجہ اور ذبح کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔ ➎ { اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ: ” إِنَّ “} عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے اس ظلم اور سرکشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان لوگوںمیں سے تھا جن کا کام ہی فساد اور جن کی پہچان ہی مفسدین کے نام سے ہے۔
اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بےحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوریوں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) وارث قرار دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں زمین میں نہایت کمزور کر دیا گیا اور انھیں پیشوا بنائیں اور انھی کو وارث بنائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب روشن کی آیتیں ٭٭
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
5-1چناچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کمزور اور غلام قوم کو مشرق و مغرب کا وارث (مالک و حکمران) بنادیا نیز انھیں دین کا پیشوا اور امام بھی بنادیا۔
(آیت 5) ➊ { وَ نُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ …:} فرعون کے اس ظلم کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح برداشت کر سکتی تھی، خصوصاً جب مظلوم قوم مسلمان بھی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: [ اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ ] [ بخاري، الزکاۃ، باب أخذ الصدقۃ من الأغنیاء …: ۱۴۹۶ ] ”مظلوم کی بد دعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔“ یعنی فرعون تو اس مظلوم قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا تھا، مگر ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں نہایت کمزور کیا گیا۔ احسان وہ عطیہ ہے جو کسی عوض کے بغیر دیا جائے، یعنی بنی اسرائیل پر فرعون سے نجات کی نعمت اور دوسری نعمتیں محض ہمارا احسان اور فضل و کرم تھا۔ ➋ { وَ نَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً:} مستضعفین کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کی غیرت جب جوش میں آتی ہے تو وہ ان سے صرف ظلم ہی دور نہیں کرتا، بلکہ انھیں مزید انعامات سے بھی نوازتا ہے۔ چنانچہ فرمایا، ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں اور انھیں دین کی پیشوائی کے ساتھ حکومت و اقتدار کے پیشوا بھی بنائیں، تاکہ کسی کو ان پر ظلم کی جرأت ہی نہ ہو۔ ➌ { وَ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ:} اور انھیں فرعون اور آل فرعون کے غلبے و اقتدار کا اور ان تمام چیزوں کا وارث بنائیں جو وہ چھوڑ کر غرق ہونے والے تھے، اور ایسا ہی ہوا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۷)، شعراء (۵۷ تا ۵۹) اور دخان (۲۵ تا ۲۷)۔
اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت واختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وه دکھائیں جس سے وه ڈر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون، ہامان اور ان کی فوجوں کو ان (کمزوروں) کی جانب سے وہ کچھ دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں زمین میں اقتدار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان سے وہ چیز دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کتاب روشن کی آیتیں ٭٭
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔۱؎ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» ۱؎ [12-يوسف:3] ’ ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں ‘۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔
بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
چنانچہ فرمان ہے کہ ’ ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا ‘۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» ۱؎ [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
6-1یہاں زمین سے مراد ارض شام ہے جہاں وہ کنعانیوں کی زمین کے وارث بنے کیونکہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل مصر واپس نہیں گئے، واللہ اعلم۔ 6-2یعنی انھیں جو اندیشہ تھا کہ ایک اسرائیلی کے ہاتھوں فرعون کی اور اس کے ملک و لشکر کی تباہی ہوگی، ان کے اس اندیشے کو ہم نے حقیقت کر دکھایا۔
(آیت 6) {وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ …:} ہامان فرعون کا وزیر تھا، جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔ یعنی ہم چاہتے تھے کہ انھیں زمین میں اقتدار بخشیں اور ان کا سِکّہ جما دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے جس خطرے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا کہ کہیں ان کی تعداد اور قوت اتنی نہ بڑھ جائے کہ وہ ہماری حکومت پر قابض ہو جائیں، بنی اسرائیل ہی کے ذریعے سے وہ خطرہ انھیں حقیقت بنا کر دکھا دیں اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اللہ کی تقدیر کبھی ٹل نہیں سکتی، نہ اس کے ارادے کو پورا ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ }» [ یوسف: ۲۱ ] ”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ "اِس کو دودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی ره اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج غم نہ کرنا، ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلا پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور نہ غم کر بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں اور اسے رسول بنائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے مادر موسیٰ کو وحی کی کہ اس (بچہ) کو دودھ پلا۔ اور جب اس کے متعلق خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور (کسی قسم کا) خوف اور غم نہ کر، بلاشبہ ہم اسے تیری طرف واپس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی کہ اسے دودھ پلا، پھر جب تو اس پر ڈرے تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور نہ غم کر، بے شک ہم اسے تیرے پاس واپس لانے والے ہیں اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔ ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔ پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔ اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔ روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں ‘۔ یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔ اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔ اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔
7-1وحی سے مراد یہاں دل میں بات ڈالنا ہے، وہ وحی نہیں ہے، جو انبیاء پر فرشتے کے ذریعے سے نازل کی جاتی تھی اور اگر فرشتے کے ذریعے سے بھی آئی ہو، تب بھی اس ایک وحی سے ام موسیٰ ؑ کا نبی ہونا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ فرشتے بعض دفعہ عام انسانوں کے پاس بھی آجاتے ہیں۔ جیسے حدیث میں واقع، ابرص اور اعمی کے پاس فرشتوں کا آنا ثابت ہے (متفق علیہ، بخاری، کتاب احادیث الانبیاء) 7-2یعنی دریا میں ڈوب جانے یا ضائع ہوجانے سے ڈرنا اور اس کی جدائی کا غم نہ کرنا۔ 7-3یعنی ایسے طریقے سے کہ جس سے اس کی نجات یقینی ہو، کہتے ہیں کہ جب قتل اولاد کا یہ سلسلہ زیادہ ہوا تو فرعون کی قوم کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم نہ ہوجائے اور مشقت والے کام ہمیں نہ کرنے پڑجائیں۔ اس اندیشے کا ذکر انہوں نے فرعون سے کیا، جس پر نیا حکم جاری کردیا گیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں ؛ حضرت ہارون ؑ اس سال پیدا ہوئے جس میں بچے قتل نہ کئے جاتے تھے، جب کہ موسیٰ ؑ قتل والے سال پیدا ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا سروسامان پیدا فرما دیا۔ کہ ایک تو ان کی والدہ پر حمل کے آثار اس طرح ظاہر نہیں فرمائے جس سے وہ فرعون کی چھوڑی ہوئی دائیوں کی نگاہ میں آجائیں اس لئے ولادت کا مرحلہ تو خاموشی کے ساتھ ہوگیا اور یہ واقعہ حکومت کے منصوبہ بندوں کے علم میں نہیں آیا، لیکن ولادت کے بعد قتل کا اندیشہ موجود تھا۔ جس کا حل خود اللہ تعالیٰ نے وحی والقاء کے ذریعے سے موسیٰ ؑ کی ماں کو سمجھا دیا چناچہ انہوں نے اسے تابوت میں لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ (ابن کثیر)
(آیت 7) ➊ { وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى:} ”وحی“ کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ وحی کرنے کا مطلب کوئی بات خفیہ طریقے سے دل میں ڈالنا ہے۔ یہاں کلام کا ایک حصہ محذوف ہے کہ مظلوم بنی اسرائیل پر احسان کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ ان کی نجات کا ذریعہ بننے والے لڑکے کی ماں اس کے ساتھ اس سال حاملہ ہوئی جس میں ان کے لڑکوں کو ذبح کیا جاتا تھا۔ ان کے والد کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بیان فرمایا ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …: ۲۶۷ /۱۶۵ ] اس سے پہلے ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کی ولادت اس سال ہو چکی تھی جس میں لڑکے قتل نہیں کیے جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ ان کی والدہ کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ان کا نام ”ایارفت“ اور بعض نے ”لوحا“ بتایا ہے، مگر یہ کسی صحیح حوالے سے ثابت نہیں۔ قرآن ان کا ذکر {”اُمّ موسيٰ“} کے نام سے کرتا ہے۔ ➋ یہاں اللہ تعالیٰ نے {” اَوْحَيْنَاۤ “} میں اور آگے آنے والے الفاظ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ شاہی حکم عموماً جمع کے صیغے سے جاری ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ملک الملوک اور شہنشاہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری قدرت و حکمت کے نتیجے میں ہوا، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ ➌ وحی کا لفظی معنی خفیہ اور تیز اشارہ ہے۔ اُمّ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کس طرح کی، اس کی صراحت نہیں فرمائی۔ انھیں الہام کیا (ان کے دل میں ڈالا) یا انھیں خواب دکھایا، بہر حال یہ وحی انھیں چند باتیں بتانے کے لیے تھی، نبوت کی وحی نہیں تھی۔ کیونکہ اس بات پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نبیہ نہیں تھیں، کیونکہ تمام انبیاء مرد تھے۔ (دیکھیے انبیاء: ۷) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان کے پاس فرشتہ آیا، اس صورت میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فرشتے تو بعض اوقات غیر انبیاء کے پاس بھی آ جاتے ہیں، جیسا کہ مریم بنت عمران علیھا السلام کے پاس بھی فرشتہ آیا اور انھیں مسیح علیہ السلام کی ولادت کی بشارت دی۔ (دیکھیے مریم: ۱۶ تا ۲۱) صحیح بخاری (۳۴۶۴) اور صحیح مسلم (۲۹۶۴) میں گنجے، کوڑھی اور نابینے شخص کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور ان سے ہم کلام ہوا۔ سنن کبریٰ بیہقی کی صحیح حدیث (۹۱۱۰) میں ہے کہ فرشتوں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، لیکن اس سے وہ نبی نہیں بن گئے۔ ➍ { اَنْ اَرْضِعِيْهِ:} اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے بچے کو کچھ مدت تک دودھ پلا، تاکہ اس کی ابتدائی غذائی ضرورت پوری ہو جائے، کیونکہ ماں کے دودھ سے بڑھ کر کوئی چیز وہ ضرورت پوری نہیں کر سکتی، اور جسم کچھ مضبوط ہو جائے، جو آخری مرتبہ دودھ پلا کر دریا میں ڈالنے سے لے کر دایہ کا دودھ ملنے تک کا وقفہ برداشت کر سکے۔ ”اسے دودھ پلا“ کے ضمن میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ اتنی مدت تک اسے ہرحال میں چھپا کر رکھ، کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ حمل کی پوری مدت، پھر ولادت کے وقت، حتیٰ کہ کچھ عرصہ دودھ پلانے تک فرعون کی مقرر کردہ دایوں اور اس کے جاسوسوں کو اس معاملے کی خبر نہ ہو سکنا اللہ تعالیٰ کا معجزانہ انتظام تھا، جس کا ذکر سورۂ طٰہٰ (۳۹) میں {” وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ “} کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ دودھ پلانے کا یہ عرصہ کتنا تھا؟ تین ماہ یا چھ ماہ یا سال، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، کیونکہ صحیح ذریعے سے اس کی تعیین ثابت نہیں۔ ➎ {فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ:} اس کی تفصیل سورۂ طٰہٰ (۳۸ تا ۴۰) میں ہے۔ ➏ { وَ لَا تَخَافِيْ وَ لَا تَحْزَنِيْ:} خوف آنے والے خطرے کا ہوتا ہے اور غم گزشتہ نقصان کا۔ فرمایا جب تمھیں فرعون کے جاسوسوں کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں پھینک دو اور نہ ڈرو کہ ضائع ہو جائے گا، یا اسے کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ غم کرو کہ میں نے اپنے بچے کو دریا میں کیوں پھینک دیا۔ ➐ { اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ:} مفسرین نے اس آیت میں اللہ کے کلام کا اعجاز بیان کیا ہے کہ اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُمّ موسیٰ کو دو چیزوں کا حکم دیا ہے، یعنی {” اَنْ اَرْضِعِيْهِ “} اور {” فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ “} اور دو چیزوں سے منع فرمایا ہے، یعنی {”وَ لَا تَخَافِيْ “} اور {” وَ لَا تَحْزَنِيْ “} اور دو چیزوں کا وعدہ فرمایا اور خوش خبری دی ہے، یعنی {”اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ “} اور{ ”وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ “}۔
آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمن اور رنج و غم (کا باعث) بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور دونوں کے لشکر والے خطاکار (اور غلط کار) تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو فرعون کے گھر والوں نے اسے اٹھالیا، تاکہ آخر ان کے لیے دشمن ہو اور غم کا باعث ہو۔ بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔ ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔ پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔ اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔ روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں ‘۔ یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔ اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔ اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔
8-1یہ تابوت بہتا بہتا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، جو لب دریا تھا اور وہاں فرعون کے نوکروں چاکروں نے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ 8-2یہ عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کرلیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر۔ لیکن انجام ان کے اس فعل کا یہ ہوا کہ وہ ان کا دشمن اور رنج و غم کا باعث، ثابت ہوا۔ 8-3یہ اس سے پہلے کی تعلیل ہے کہ موسیٰ ؑ ان کے لئے دشمن کیوں ثابت ہوئے؟ اس لئے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطا کار تھے، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے پروردہ کو ہی ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔
(آیت 8) ➊ { فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ: ” اِلْتَقَطَ“} کا معنی ہے کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا۔ اُمّ موسیٰ کا گھر دریائے نیل کے کنارے پر فرعون کے محل کے بالائی جانب تھا۔ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے اسے پانی سے محفوظ بنا کر دریا میں ڈال دیا، جو بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا، اس کے لوگوں نے اسے دیکھا تو دریا سے نکال کر فرعون کے پاس لے آئے۔ ➋ {لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا:} اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔ ➌ {اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ …:” خٰطِـِٕيْنَ “ ”أَخْطَأَ يُخْطِئُ“} (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور {”خَطِئَ يَخْطَأُ “} (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا: «{ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ }» [ العلق: ۱۶ ] ”پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔“ اس کا مصدر {”خِطْأٌ“} (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا }» [ بني إسرائیل: ۳۱ ] ”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اور سورۂ یوسف میں ہے: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ }» [ یوسف: ۲۹ ] ”یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔“ {” اِنَّ “} کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کر دیا اور بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ”چوکنے والے“ کیا ہے، مگر {”خَاطِئٌ“} کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔
فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا "یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں" اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون کی بی بی نے کہا یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبر تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا کہ یہ (بچہ) تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ ممکن ہے کہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لین اور انہیں (انجام کی) کچھ خبر نہ تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ سمجھتے نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔ ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔ پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔ اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔ روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں ‘۔ یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔ اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔ اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔
9-1یہ اس وقت کہا جب تابوت میں ایک حسین و جمیل بچہ انہوں نے دیکھا۔ بعض کے نزدیک یہ اس وقت کا قول ہے جب موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی کے بال نوچ لئے تھے تو فرعوں نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمع کا صیغہ یا تو اکیلے فرعون کے لئے بطور تعظیم کے کہا یا ممکن ہے وہاں اس کے کچھ درباری موجود رہے ہوں۔ 9-2کیونکہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ -9-3کہ یہ بچہ جسے وہ اپنا بچہ بنا رہے ہیں، یہ تو وہی بچہ ہے جس کو مارنے کے لئے سینکڑوں بچوں کو موت کی نید سلا دیا گیا ہے۔
(آیت 9) ➊ { وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَ لَكَ …:} فرعون اور اس کی بیوی نے صندوق کھلوایا تو اس میں سے نہایت خوب صورت اور پیارا بچہ نکلا، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کشش رکھ دی تھی کہ جو دیکھے اس سے محبت کرنے لگے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ }» [ طٰہٰ: ۳۹ ] ”اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی۔“ مگر جس طریقے سے یہ بچہ آیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی کا بچہ ہے، جس نے ذبح ہونے سے بچانے کے لیے اسے دریا کے حوالے کر دیا ہے، اس لیے فرعون اور اس کے خونخوار ساتھیوں نے اصرار کیا کہ اسے ہر حال میں ذبح کیا جائے، مگر فرعون کی بیوی کہنے لگی کہ یہ میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل مت کرو۔ فرعون کی بیوی کا یہ کہنا کہ ”اسے قتل مت کرو “ اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کرنے کے درپے ہو چکے تھے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرعون کی بیوی کا نام آسیہ بتایا ہے۔ یہ خاتون دنیا کی سب سے بلند مرتبہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و ضرب اللہ مثلا…» : ۳۴۱۱، عن أبي موسیٰ رضی اللہ عنہ ] ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی عورتوں پر برتری ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی برتری تمام کھانوں پر۔“ آسیہ علیھا السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ تحریم (۱۱)۔ ➌ { عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا:} اس سے معلوم ہوا کہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ اللہ کی شان دیکھیے کہ{” اَنَا رَبُّكُمْ الْاَعْلٰي “} کا دعویٰ کرنے والا اولاد کی خواہش رکھنے کے باوجود اولاد حاصل نہیں کر سکا۔ لوگوں کے بنائے ہوئے بہت سے مشکل کُشا اور حاجت روا، جن سے لوگ اولاد مانگتے ہیں، دنیا سے بے اولاد ہی رخصت ہو گئے۔ لاہور میں مدفون مشہور بزرگ علی ہجویری کی خود اولاد نہیں تھی، مگر لوگ ہیں کہ انھیں داتا (رازق) اور گنج بخش (خزانے عطا کرنے والا) کہہ کر ان سے مال و اولاد مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ ➍ آسیہ علیھا السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ نے اسے سچ کر دکھایا، آپ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی بنے اور اسے وہ نفع پہنچایا جو کم ہی کسی بچے نے اپنی پالنے والی کو پہنچایا ہو گا۔ اگر فرعون بھی یہ الفاظ کہتا تو شاید اسے بھی یہ سعادت مل جاتی، مگر ظالموں کو ایسی ہدایت نہیں ملتی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۵۸] ”اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ ➎ { وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} یعنی انھیں یہ خیال تک نہ تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ہمارے زوال اور ہماری ہلاکت کا باعث بنے گا۔
اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) کی والده کا دل بے قرار ہوگیا، قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ﻇاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لیے کہ وه یقین کرنے والوں میں رہے
احمد رضا خان بریلوی
اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہوگیا ضرو ر قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور مادرِ موسیٰ کا دل بے چین ہوگیا اور قریب تھا کہ وہ اس (بچہ) کا حال ظاہر کر دے۔ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے تاکہ وہ (ہمارے وعدہ پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا۔ یقینا وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا، تاکہ وہ ایمان والوں میں سے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔
لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔
حدیث شریف میں ہے { جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے }۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔
10-1یعنی ان کا دل ہر چیز اور فکر سے فارغ (خالی) ہوگیا اور ایک ہی فکر یعنی موسیٰ ؑ کا غم دل میں سما گیا، جس کو اردو میں بےقراری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 10-2یعنی شدت غم سے یہ ظاہر کر دیتیں کہ یہ ان کا بچہ ہے لیکن اللہ نے ان کے دل کو مضبوط کردیا جس پر انہوں نے صبر کیا اور یقین کرلیا کہ اللہ نے اس موسیٰ ؑ کو بخریت واپس لٹانے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا۔
(آیت 10) ➊ { وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا:} اوپر ان کا حال بیان ہوا جنھیں وہ بچہ ملا، اب اس کا حال بیان ہوتا ہے جس سے وہ جدا ہوا۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: [ فَارِغًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرِ ذِكْرِ مُوْسٰی] ”موسیٰ علیہ السلام کی ماں اتنی بے قرار ہو گئی کہ اس کا دل موسیٰ کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہو گیا۔“ ➋ { اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ:} یہ{” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّ“} ہے، جس کا اسم محذوف ہے۔ دلیل اس کی {” لَتُبْدِيْ بِهٖ “} پر آنے والا لام ہے۔ محذوف کو ظاہر کریں تو عبارت ہو گی: {”إِنَّهَا كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهِ“} یعنی وہ بے قراری کی وجہ سے قریب تھی کہ اس کا معاملہ ظاہر کر دیتی کہ ہائے میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا بچہ دریا میں پھینک دیا۔ ➌ { لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی ہم نے اس سے جو وعدہ کیا تھا کہ{” اِنَّا رَاۤدُّوْهُ اِلَيْكِ “} (ہم اسے تیرے پاس واپس لانے والے ہیں) اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لیے ہم نے اس کے دل پر صبر کا بند باندھ دیا اور اس کی ڈھارس بندھا دی، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ قریب تھی کہ بچے کا راز خود ہی فاش کر دیتی، مگر ہمارے بند باندھنے کی وجہ سے وہ قائم رہی۔
اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو) اس کا پتہ نہ چلا
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) کی والده نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وه اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہ ہوا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (بچہ) کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ دور سے اسے دیکھتی رہی جبکہ ان لوگوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ پس وہ اسے ایک طرف سے دیکھتی رہی اور وہ شعور نہیں رکھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔
لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔
حدیث شریف میں ہے { جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے }۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔
11-1موسیٰ کی بہن کا نام مریم بنت عمران تھا جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ کا مریم بنت عمران تھیں نام اور ولدیت دونوں میں اتحاد تھا۔ 11-2چناچہ وہ دریا کے کنارے کنارے، دیکھتی رہی تھی، حتّٰی کہ اس نے دیکھ لیا کہ اسکا بھائی فرعون کے محل میں چلا گیا ہے۔
(آیت 11) ➊ { وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ:” قَصَّ يَقُصُّ“} کا معنی بیان کرنا بھی ہے اور پیچھے پیچھے جانا بھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کے ایک بھائی ہارون تھے اور ایک بہن تھی۔ ➋ { فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ: ” عَنْ جُنُبٍ “} کا معنی ”دور سے“ یا ”جانب سے“ یعنی وہ کنارے پر رہ کر ساتھ چلتی ہوئی دور سے اسے دیکھتی رہی، اس طرح کہ کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس سے اس لڑکی کی دانائی اور ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ ماں نے صرف پیچھے پیچھے جانے کو کہا تھا، یہ اس کی دانش مندی تھی کہ پیچھے کس طرح جانا ہے۔ ایک عرب شاعر نے خوب کہا ہے: {إِذَا كُنْتَ فِيْ حَاجَةٍ مُرْسِلاً فَأَرْسِلْ حَكِيْمًا وَ لَا تُوْصِهٖ} ”جب تم کسی کام کے لیے بھیجو تو دانا آدمی کو بھیجو، پھر اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔“
اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں (یہ حالت دیکھ کر) اُس لڑکی نے اُن سے کہا "میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لیے پرورش کرے اور ہوں بھی وه اس بچے کے خیر خواه
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (بچہ) پر دائیوں کو پہلے سے حرام کر دیا تھا تو اس (بچہ کی بہن) نے کہا کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کرے؟ اور وہ اس کے خیرخواہ بھی ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس پر پہلے سے تمام دودھ حرام کر دیے تو اس نے کہا کیا میں تمھیں ایک گھر والے بتلائوں جو تمھارے لیے اس کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔
لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔
حدیث شریف میں ہے { جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے }۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔
12-1یعنی ہم نے اپنی قدرت اور تکوینی حکم کے ذریعے سے موسیٰ ؑ کو اپنی ماں کے علاوہ کسی اور انا کا دودھ پینے سے منع کردیا، چناچہ بسیار کوشش کے باوجود کوئی انا انھیں دودھ پلانے اور چپ کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ 12-2یہ سب منظر ان کی ہمشیرہ خاموشی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں، بالآخر بول پڑیں کہ میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لئے پرورش کرے۔ 12-3چناچہ انہوں نے ہمشیرہ موسیٰ ؑ سے کہا کہ جا اس عورت کو لے آ چناچہ وہ دوڑی دوڑی گئی اور اپنی ماں کو، جو موسیٰ ؑ کی بھی ماں تھی، ساتھ لے آئی۔
(آیت 12) ➊ { وَ حَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ:” الْمَرَاضِعَ “ ”مُرْضِعٌ“} کی جمع بھی ہو سکتی ہے، یعنی دودھ پلانے والیاں اور{” مَرْضَعٌ“} کی بھی جو ظرف مکان ہو تو مراد دودھ پلانے کی جگہ ہو گی، یعنی دودھ کی چھاتیاں اور اگر مصدر میمی ہو تو مراد تمام دودھ ہوں گے، یعنی ہم نے اپنی تقدیر میں طے شدہ حکم کے ذریعے سے موسیٰ علیہ السلام پر تمام دودھ پہلے ہی حرام کر دیے تھے، یعنی پینے سے منع کر دیا تھا۔ فرعون کی بیوی کو موسیٰ علیہ السلام سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی اور وہ ہر قیمت پر ان کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، مگر جو دایہ بھی لائی گئی، موسیٰ نے اس کا دودھ پینے سے انکار کر دیا۔ فرعون کی بیوی سخت فکر مند تھی کہ دودھ نہ پینے کی وجہ سے اتنا پیارا بچہ کہیں فوت نہ ہو جائے۔ ➋ { فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَيْتٍ يَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ …:} موسیٰ علیہ السلام کی بہن اجنبی بن کر یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو اس نے موقع پا کر کہا، کیا میں تمھیں ایک ایسے گھر والے بتاؤں جو تمھارے لیے اس کی کفالت کریں گے اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔ یہاں درمیان کی بات چھوڑ دی گئی ہے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے اس سے پوچھا کہ وہ گھر والے کون ہیں؟ اس نے کہا، میری ماں۔ انھوں نے کہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بچہ تمھارا ہے اور تم اس کے متعلق جانتی ہو۔ اس نے کہا، بلکہ ہم بادشاہ کے خیرخواہ اور مخلص محبت کرنے والے ہیں، اس لیے اس بچے کی خیر خواہی اور خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا، تمھاری اماں کے ہاں دودھ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا، میرا بھائی ہارون پچھلے سال پیدا ہوا ہے اور دودھ پی رہا ہے۔ غرض انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو بلوایا، کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ سلطنت کی ملکہ ہر حال میں اس کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، جوں ہی ماں نے بچے کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی، بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔
اس طرح ہم موسیٰؑ کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزرده خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالی کا وعده سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
اس طرح ہم نے وہ (بچہ) اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی اور غمناک نہ ہو اور یہ بھی جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ بات) نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔
لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔
حدیث شریف میں ہے { جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے }۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔
13-1جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا، تو فرعون نے والدہ موسیٰ سے محل میں رہنے کی استداعا کی تاکہ بچے کو صحیح پرورش اور نہگداشت ہو سکے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ بالآخر یہ طے پایا کہ بچے کو وہ اپنے ساتھ ہی گھر میں لے جائیں اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اس کی اجرت انھیں شاہی خزانے سے دی جائے گی، سبحان اللہ! اللہ کی قدرت کے کیا کہنے، دودھ اپنے بچے کو پلائیں اور تنخواہ فرعون سے وصول کریں، رب نے موسیٰ ؑ کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقے سے پورا فرمایا۔ ایک مرسل روایت میں ہے۔ اس کاریگر کی مثال جو اپنی بنائی ہوئی چیز میں ثواب اور خیر کی نیت بھی رکھتا ہے، موسیٰ ؑ کی ماں کی طرح ہے جو اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اس کی اجرت بھی وصول کرتی ہے۔ (مراسیل ابی داؤد) 13-3یعنی بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے انجام کی حقیقت سے اکثر لوگ بےعلم ہوتے ہیں لیکن اللہ کو اس کے حسن انجام کا علم ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا (ہو سکتا ہے جس چیز کو تم برا سمجھو، اس میں تمہارے لئے خیر ہو اور جس چیز کو تم پسند کرو، اس میں تمہارے لئے شر کا پہلو ہو) (كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 2۔ البقرۃ:216) دوسرے مقام پر فرمایا (ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو، اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر پیدا فرما دے) (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا) 4۔ النساء:19) اس لئے انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند سے قطع نظر ہر معاملے میں اللہ اور رسول کے احکام کی پابندی کرلے کہ اسی میں اس کے لئے خیر اور حسن انجام ہے۔
(آیت 13) ➊ { فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ:} یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں سے جو وعدہ کیا تھا کہ اسے تمھارے پاس واپس لائیں گے، اتنی دیر ہی میں پورا کر دیا جتنی دیر کوئی بچہ ماں کے دودھ کے بغیر گزار سکتا ہے۔ ➋ { كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا: ”قَرَّ يَقِرُّ} (ض، ع) {قُرَّةً وَ قُرُوْرًا“} ”آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔“ تاکہ اس کی آنکھ جو بیٹے کی جدائی میں سکون سے ناآشنا تھی، آنسو بہا بہا کر اور بیدار رہ کر سرخ اور گرم ہو چکی تھی، بیٹے کے واپس ملنے، اسے دودھ پلانے اور اپنے پاس رکھنے سے ٹھنڈی اور پرسکون ہو جائے اور آرام کی نیند سو جائے اور غم زدہ نہ رہے۔ نکتہ: اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اعضا کا درجہ حرارت مختلف رکھا ہے، اس کی جلد کا درجہ حرارت عموماً 37 ڈگری ہوتا ہے۔ جگر کو کام کرنے کے لیے 40 ڈگری کے قریب درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ آنکھ کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 9 ڈگری ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہو جائے تو آنکھ پگھل کر بہ جائے، اس لیے دل کی خوشی کے لیے آنکھ کی ٹھنڈک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ (شعراوی) ➌ قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے دودھ پلانے والی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے۔ خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی۔ اس کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ اپنے گھر لے گئیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو واپس لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانے سے ماں کو جو وظیفہ ملتا رہا وہ اس کے علاوہ تھا۔ ➍ اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَثَلُ الَّذِيْ يَعْمَلُ وَ يَحْتَسِبُ فِيْ صِنْعَةِ الْخَيْرِ كَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَهَا ] ”وہ شخص جو کام کرے اور اپنے کام میں نیکی کی نیت رکھے، اس کی مثال موسیٰ کی والدہ کی سی ہے، جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔“ مگر ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، البتہ ایک مرسل روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے: [ مَثَلُ الَّذِيْنَ يَغْزُوْنَ مِنْ أُمَّتِيْ وَ يَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ بِهِ عَلٰی عَدُوِّهِمْ كَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰي تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَهَا ] ”میری امت کے جو لوگ جنگ کرتے ہیں اور وظیفہ لیتے ہیں، جس کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال ام موسیٰ کی سی ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔“ یہ روایت مرسل (جو ضعیف کی ایک قسم ہے) ہونے کے علاوہ سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے {” سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني (ح: ۴۵۰۰)“} اس حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے اگرچہ فی نفسہ درست ہے، جو اپنی طرف سے بطور مثال بیان کی جا سکتی ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے وہی بات لگانے کی اجازت ہے جو آپ سے ثابت ہو، ورنہ {” مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ “} کی وعید کا مصداق بننے کا خطرہ ہے۔ ➎ { وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اسے پہلے وحی کے ذریعے سے سن کر اللہ کا وعدہ حق ہونے کا علم تھا، تو اب آنکھوں سے دیکھ کر اس کے حق ہونے کا علم ہو جائے۔ پہلے اگر علم الیقین تھا تو اب عین الیقین ہو جائے۔ (بقاعی) ➏ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جوں ہی کسی کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے بدظن ہو جاتے ہیں اور انھیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں رہتا، حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہوتا ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا وہ آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ پھر بعض اوقات آدمی ایک چیز کو برا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بری ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۶) اور نساء (۱۹)۔ ہاں مشو نومید چوں واقف نہ ای ز اسرارِ غیب باشد اندر پردہ بازی ہائے پنہاں غم مخور ”خبردار! ناامید نہ ہو، کیونکہ تو غیب کے اسرار سے واقف نہیں۔ پردے کے اندر کئی پوشیدہ کھیل ہو رہے ہوتے ہیں، غم مت کر۔“
پھر جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہوگئے ہم نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورے زور پر آیا ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ (بچہ) اپنے پورے شباب کو پہنچ گیا اور (قد و قامت) پورا درست ہوگیا تو ہم نے اس کو (خاص) حکمت و علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو صلہ دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا طاقت ور ہو گیا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور اسی طرح نیکی کرنے والوں کو ہم بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گھونسے سے موت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا ‘۔ یعنی نبوت دی۔ ’ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں ‘، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔“
14-1حکم اور علم سے مراد نبوت ہے تو اس مقام تک کس طرح پہنچے، اس کی تفصیل اگلی آیات میں ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد نبوت نہیں بلکہ عقل اور دانش اور وہ علوم ہیں جو انہوں نے اپنے آبائی اور خاندانی ما حول میں رہ کر سیکھے۔
(آیت 14) ➊ { وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى:} یہاں ایک لمبی بات حذف کر دی گئی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے رضاعت کے ایام اپنی والدہ کے پاس گزرے، جس سے انھیں اپنے والدین، بھائی بہن اور خاندان سے شناسائی ہو گئی اور آئندہ بھی اس تعلق کی وجہ سے میل جول جاری رہا، جس سے وہ اپنے آبائے کرام ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام اور ان کے دین سے واقف ہو گئے اور بنی اسرائیل کی زبوں حالت پر براہ راست مطلع رہنے لگے۔ رضاعت کے بعد شاہی محل میں منتقل ہونے کے ساتھ ان کی پرورش اور تربیت ایک شہزادے کی حیثیت سے ہوئی، انھیں اس وقت کے تمام علوم و فنون، لکھنے پڑھنے اور جہانبانی کے طریقے سکھائے گئے، جنگ میں درکار عام تربیت اور سپہ سالاری کے لیے خاص تربیت دی گئی۔ ان تمام چیزوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی اور تربیت تھی، جس کے ذریعے سے انھیں آنے والی ذمہ داری کے لیے تیار کیا گیا، حتیٰ کہ وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گئے۔ {” بَلَغَ اَشُدَّهٗ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲۲) وہاں یوسف علیہ السلام کے لیے صرف {” بَلَغَ اَشُدَّهٗ “} کا لفظ آیا ہے، جب کہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کے لیے {” وَ اسْتَوٰۤى “} کا لفظ بھی آیا ہے، یعنی وہ پورے طاقت ور ہو گئے، کیونکہ جسمانی قوت یوسف علیہ السلام میں موسیٰ علیہ السلام جیسی نظر نہیں آتی۔ ➋ { اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا: ” حُكْمًا “} کا معنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے اور {” عِلْمًا “} سے مراد دنیا اور دین کا علم ہے، یعنی جوان ہونے پر ہم نے انھیں حق و باطل میں فیصلہ کرنے کی اہلیت عطا فرمائی اور دنیا و دین دونوں کا علم عطا فرمایا۔ جس میں سے دنیا کے علوم شاہی محل کے ذریعے سے حاصل ہوئے اور دین کا علم اور اس کا فہم والدہ کے گھر اور خاندان کے ذریعے سے حاصل ہوا۔ بعض مفسرین نے {” حُكْمًا وَّ عِلْمًا “} سے مراد نبوت لی ہے، مگر یہاں یہ معنی درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ نبوت تو اس کے دس سال بعد طُور پر عطا ہوئی، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ➌ {وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ:} احسان کا معنی نیک کام کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر{” أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ “} کے ساتھ فرمائی ہے کہ ”اللہ کی عبادت ایسے کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر اُسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ [ دیکھیے بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل …: ۵۰ ] احسان کا ایک معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاوضہ کی طلب یا خواہش کے بغیر کسی کے ساتھ نیکی کرنا، جیسا کہ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں نے قارون کو نصیحت کی تھی: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [ القصص: ۷۷ ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔“ فرمایا: ”ہم محسنین کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں“ اس سے معلوم ہوا موسیٰ علیہ السلام احسان کی صفت سے پوری طرح آراستہ تھے، جس کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم و علم عطا فرمایا۔
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس شہر میں داخل ہوا جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بے خبر تھے تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں سے تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تما م کردیا کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (جوان) ایسے وقت شہر میں داخل ہوا جب کہ اس شہر کے باشندے بے خبر تھے۔ تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا۔ یہ ایک ان کے گروہ میں سے تھا۔ اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا پس جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے (موسیٰ) کو اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا مدد کیلئے پکارا تو موسیٰ نے اسے ایک مکا مارا۔ بس اس کا کام تمام کر دیا اور کہا یہ (ان کی لڑائی) شیطان کی کاروائی تھی۔ بےشک وہ کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ شہر میں اس کے رہنے والوں کی کسی قدر غفلت کے وقت داخل ہوا تو اس میں دو آدمیوں کو پایا کہ لڑ رہے ہیں، یہ اس کی قوم سے ہے اور یہ اس کے دشمنوں میں سے ہے۔ تو جو اس کی قوم سے تھا اس نے اس سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا۔ کہا یہ شیطان کے کام سے ہے، یقینا وہ کھلم کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گھونسے سے موت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا ‘۔ یعنی نبوت دی۔ ’ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں ‘، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔“
15-1اس سے بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا۔ جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ 15-2یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔ 15-3اسے شیطانی فعل اس لئے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ ؑ کا مقصد اسے ہرگز قتل کرنا نہیں تھا۔ 15-4جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے وہ جو جو جتن کرتا ہے وہ بھی مخفی نہیں۔
(آیت 15) ➊ {وَ دَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰى حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا:} ”شہر میں داخل ہوا “سے معلوم ہوا کہ شاہی محلاّت عام آبادی سے باہر واقع تھے، جہاں سے وہ شہر میں داخل ہوئے۔ {” غَفْلَةٍ “} میں تنوین کی وجہ سے ”کسی قدر غفلت“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں ایسے وقت میں آئے جو کسی قدر غفلت کا وقت تھا۔ یہ صبح سویرے یا عشاء کے بعد یا دوپہر کے وقت میں سے کوئی وقت بھی ہو سکتا ہے، مگر غالب یہی ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا جب سڑکیں سُنسان ہوتی ہیں، لوگ گرمی کی وجہ سے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن ابی حاتم نے اپنی صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا ہے: {” نِصْفُ النَّهَارِ“} ”(یعنی یہ) دوپہر کا وقت تھا۔“ [ ابن أبي حاتم: ۱۶۷۵۵ ] ➋ { فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلٰنِ …:} موسیٰ علیہ السلام کو معلوم تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں، وہ قبطیوں کے بنی اسرائیل پر مظالم سے بھی آگاہ تھے اور ہر روز اپنی آنکھوں سے ان مظالم کا مشاہدہ کرتے تھے، اس لیے قدرتی طور پر ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ قوم بھی جانتی تھی کہ وہ ان کے ایک فرد ہیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ جھگڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک ان کی قوم سے ہے اور دوسرا قبطی ہے، جو ان کے دشمن تھے۔ قبطی حسبِ عادت غلام سمجھ کر اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا۔ اسرائیلی اگر مقابلہ کر سکتا ہوتا تو اسے مدد مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ بے بس ہو گیا تو اس نے مدد کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی۔ موسیٰ علیہ السلام طبعی طور پر کمزوروں اور مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ اب ظلم ہوتے دیکھا تو مظلوم کو بچانے کے لیے آگے بڑھے اور قبطی کو ایک گھونسا مارا، جس سے اس کا کام تمام ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کا اسے قتل کرنے کا نہ ارادہ تھا نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ وہ ایک گھونسے سے مر جائے گا۔ جب اچانک یہ واقعہ ہوا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کے انجام پر غور کیا کہ ان کے اور ان کی قوم کے حق میں اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، تو وہ سخت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ شیطان کا کام ہے جس نے بڑے فساد کے لیے مجھے غصہ دلا کر یہ کام کروایا ہے۔ وہ تو ایسا دشمن ہے جو کھلم کھلا گمراہ کر دینے والا ہے۔
پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا، بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گھونسے سے موت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا ‘۔ یعنی نبوت دی۔ ’ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں ‘، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔“
16-1یہ اتفاقیہ قتل اگرچہ کبیرہ گناہ نہیں تھا، کیونکہ کبیرہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی حفاطت فرماتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایسا گناہ نظر آتا تھا جس کے لئے بہت بخشش انہوں نے ضروری سمجھی۔ دوسرے، انھیں خطرہ تھا کہ فرعون کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے بدلے انھیں قتل نہ کر دے۔
(آیت 16) ➊ {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ …:} گو موسیٰ علیہ السلام نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے، ان کی شان کے لحاظ سے یہ بے احتیاطی بھی مناسب نہ تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اسے گناہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی، مگر موسیٰ علیہ السلام اس کے بعد بھی نادم رہے اور قیامت کے دن جب لوگ ان کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کیجیے تو اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے: [ إِنِّيْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِهَا ] [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۴ ] ”میں نے ایک شخص قتل کر دیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔“ ➋ قرآن کے بیان سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے یہ قتل نا دانستہ ہوا تھا، مگر بائبل موسیٰ علیہ السلام کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ چنانچہ اس کی روایت ہے کہ ”مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے، تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا۔“ (خروج: ۲: ۱۲) یہ یہود کی ان تحریفات میں سے ہے جن کی اصلاح قرآن نے فرمائی، جو پہلی تمام کتابوں پر مہیمن ہے۔ ➌ موسیٰ علیہ السلام کی دعا {” فَاغْفِرْ لِيْ “} میں بخشش کی درخواست کے ساتھ پردہ ڈالنے کی درخواست کا مفہوم بھی شامل ہے۔ {”مِغْفَرٌ “} اس خَود کو کہتے ہیں جس کے ساتھ جنگ میں سر ڈھانپتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو معاف فرما دیا اور اس واقعہ پر پردہ بھی ڈال دیا اور اگلے دن پیش آنے والے واقعہ تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ قتل کس نے کیا ہے۔
موسیٰؑ نے عہد کیا کہ "“اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے اے میرے رب! جیسے تو نے مجھ پر یہ کرم فرمایا میں بھی اب ہرگز کسی گنہگار کا مددگار نہ بنوں گا
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا،
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر) کہا اے میرے پروردگار تو نے مجھے اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ میں کبھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! اس وجہ سے کہ تو نے مجھ پر انعام کیا، تو میں کبھی بھی مجرموں کا مدد گار نہیں بنوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گھونسے سے موت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا ‘۔ یعنی نبوت دی۔ ’ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں ‘، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔“
17-1یعنی جو کافر اور تیرے حکموں کا مخالف ہوگا، تو نے مجھ پر جو انعام کیا ہے، اس کے سبب میں اس کا مددگار نہیں ہوں گا۔
(آیت 17) {قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ …: ” بِمَاۤ “} میں باء سببیت کے لیے ہے، یعنی اے میرے رب! تو نے جو مجھ پر انعام کیا کہ مجھے ہر قسم کی نعمت سے نوازا اور میرے فعل پر پردہ ڈال دیا، اس وجہ سے میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی مراد مجرم سے وہ اسرائیلی ہو جس کی انھوں نے مدد کی تھی، کیونکہ وہ جرم کا سبب بنا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ”مجرمین“ سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ مراد لیے ہوں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مجرم تھے اور ان کے اللہ تعالیٰ کے حضور عہد کرنے کا مطلب یہ ہو کہ تو نے جو مجھے نعمت و عزت اور راحت و قوت عطا فرمائی ہے اس کا شکر یہ ہے کہ اسے ان مجرموں کی حمایت و اِعانت میں صرف نہ کروں، بلکہ ان سے اپنا تعلق منقطع کر لوں اور اس ظالم حکومت کا کل پُرزہ نہ بنوں۔ ابن جریر اور بہت سے دوسرے مفسرین نے موسیٰ علیہ السلام کے اس عہد کا یہی مطلب لیا ہے اور حافظ ابن کثیر نے بھی اس کے مطابق تفسیر فرمائی ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں کا ساتھ دینے اور ان کا تعاون کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا "تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کررہا ہے موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر موسیٰ نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ وہ خوف زدہ اور منتظر تھا (کہ کیا ہوتا ہے؟) کہ اچانک دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل اس سے مدد طلب کی تھی (آج پھر چیخ کر( اس کو مدد کیلئے پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو کھلا ہوا بد راہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
غرض اس نے شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی، انتظار کرتا تھا، تو اچانک وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی، اس سے فریاد کر رہا تھا۔ موسیٰ نے اس سے کہا یقینا تو ضرور کھلا گمراہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔“ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ علیہ السلام نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لیے شور مچانا شروع کر دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟ کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ علیہ السلام کو لا کر پیش کریں۔
18-1خائفا کے معنی ڈرتے ہوئے، ادھر ادھر جھانکتے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا۔ 18-2یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو ڈانٹا کہ تو کل بھی لڑتا ہوا پایا گیا تھا اور آج پھر تو کسی سے دست بہ گریبان ہے، تو صریح بےراہ، یعنی جھگڑالو ہے۔
(آیت 19،18) {فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ …:} موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی قتل ہو گیا تھا، اس لیے انھوں نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ کل کے واقعہ سے خوف زدہ تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کب کوئی انھیں گرفتار کرنے کے لیے آتا ہے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے کل ان سے ایک قبطی سے بچانے کے لیے مدد مانگی تھی، وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام وہاں سے گزرے تو اس نے چیخ چیخ کر انھیں مدد کے لیے پکارنا شروع کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کل کے واقعہ سے آزردہ تھے، اسے کہنے لگے، یقینا تو کھلا گمراہ شخص ہے، یعنی ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے، کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا، آج ایک اور سے جھگڑ ا مول لیے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں، اب تو نے پھر وہی ماحول بنا دیا ہے۔ پھر جوں ہی موسیٰ علیہ السلام نے اس قبطی کو پکڑنے کا ارادہ کیا، چونکہ انھوں نے ابھی اسرائیلی کو ڈانٹا تھا، اس لیے وہ موسیٰ علیہ السلام کے تیور دیکھ کر ڈر گیا اور سمجھا کہ وہ اسے پکڑنا چاہتے ہیں۔ اس نے جان بچانے کے لیے کہا، موسیٰ! تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو! جیسے تم نے کل ایک بندہ قتل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے یہ راز موسیٰ اور اسرائیلی کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا۔ قبطی نے یہ بات سنی تو فوراً جا کر فرعون کو اطلاع دی، فرعون شدید غضب ناک ہوا اور اس نے خود اپنے سرداروں کی مجلس بلا کر فیصلہ کیا کہ اب اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ موسیٰ کو قتل کر دیا جائے۔ {” فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ “} میں {” اَنْ “} کے فائدے کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۹۶)۔
پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا "اے موسیٰؑ، کیا آج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح نہیں کرنا چاہتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا وه فریادی کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے، تو تو ملک میں ﻇالم وسرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ اراده ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب موسیٰ نے اس شخص پر سخت ہاتھ ڈالنا چاہا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا اے موسیٰ تو (آج) مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کیا؟ تو بس یہی چاہتا ہے کہ زمین میں سرکش بن جائے اور یہ نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جوں ہی اس نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑے جو ان دونوں کا دشمن تھا، اس نے کہا اے موسیٰ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے قتل کر دے، جس طرح تونے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے، تو نہیں چاہتا مگر یہ کہ زمین میں زبردست بن جائے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔“ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ علیہ السلام نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لیے شور مچانا شروع کر دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟ کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ علیہ السلام کو لا کر پیش کریں۔
19-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے چاہا کہ قطبی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔ 19-2فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ ؑ شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسٰی، جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ ؑ ہے، اس نے جا کر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سِرے سے دَوڑتا ہوا آیا اور بولا "موسیٰؑ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیر خواہ ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا اے موسیٰ! یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشوره کر رہے ہیں، پس تو بہت جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواه مان
احمد رضا خان بریلوی
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑ تا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے میں آپ کا خیر خواہ ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور شہر کے آخری حصہ سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا (اور) کہا اے موسیٰ! قوم کے بڑے لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔ (لہٰذا) یہاں سے نکل جا یقیناً میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایک آدمی شہر کے سب سے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے موسیٰ! بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں، پس نکل جا، یقینا میں تیرے لیے خیرخواہوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گمنام ہمدرد ٭٭
اس آنے والے کو «رَجُلٌ» کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ موسیٰ علیہ السلام کے تعاقب میں جا رہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ علیہ السلام کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ علیہ السلام کے قتل کے ارادے کر چکے ہیں آپ علیہ السلام شہر چھوڑ دیجئیے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔
20-1یہ آدمی کون تھا؟ بعض کے نزدیک یہ فرعون کی قوم کا تھا جو در پردہ حضرت موسیٰ ؑ کا خیر خواہ تھا۔ اور ظاہر ہے سرداروں کے مشورے کی خبر ایسے ہی آدمی کے ذریعے آنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ بعض کے نزدیک یہ موسیٰ ؑ کا قریبی رشتے دار اور اسرائیلی تھا۔ اوراقصائے شہر سے مراد منف ہے جہاں فرعون کا محل اور دارالحکومت تھا اور یہ شہر کے آخری کنارے پر تھا۔
(آیت 20) ➊ { وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى …:} ادھر فرعون کے آدمی موسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ادھر مجلس میں موجود ایک شخص فوراً شہر کے سب سے دور کنارے سے گلیوں بازاروں کے قریب ترین راستے سے دوڑتا ہوا آیا اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا، موسیٰ! سردار تمھیں قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں، اس لیے فوراً یہاں سے نکل جاؤ، میں تمھارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ ➋ سورۂ یٰس میں ہے: «{ وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى }» [ یٰس: ۲۰ ] جب کہ یہاں ہے: «{ وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى }» مفسرین نے فرمایا، ہر مقام پر وہ لفظ پہلے لایا جاتا ہے جو وہاں اہم ہوتا ہے۔ اس مقام پر اس آدمی کی مردانگی بیان کرنا اہم ہے، اس لیے {” رَجُلٌ “} کا لفظ پہلے ذکر فرمایا، کیونکہ فرعون کا راز فاش کرنے کے نتیجے سے آگاہ ہونے کے باوجود اس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کو یہ اطلاع دی اور یہ کسی مرد ہی کا کام ہو سکتا تھا، پھر یہ بھی اس کی مردانگی تھی کہ بہت دور جگہ سے سرکاری دستے سے پہلے پہنچ گیا۔ ➌ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ سنایا ہمارے پیغمبر کو کہ لوگ ان کی جان لینے کی فکر کریں گے اور وہ بھی وطن سے نکلیں گے، چنانچہ کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں، اسی رات میں آپ وطن سے ہجرت کر گئے۔“ (موضح)
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزده ہوکر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے، کہنے لگے اے پروردگار! مجھے ﻇالموں کے گروه سے بچا لے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی، اے میرے رب! مجھے ستمگاروں سے بچالے
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ موسیٰ وہاں سے خوفزدہ ہوکر نتیجہ کا انتظار کرتا ہوا نکلا (اور) کہا اے میرے پروردگار! مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ ڈرتا ہوا اس سے نکل پڑا، انتظار کرتا تھا، کہا اے میرے رب! مجھے ان ظالم لوگوں سے بچالے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔
بکریوں کو پانی پلایا ٭٭
آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:]
21-1جب حضرت موسیٰ ؑ کے علم میں یہ بات آئی تو وہاں سے نکل کھڑے ہوئے تاکہ فرعون کی گرفت میں نہ آسکیں۔ 21-2یعنی فرعون اور اس کے درباریوں سے، جنہوں نے باہم حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کا مشورہ کیا تھا، کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کوئی علم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے؟ کیونکہ مصر چھوڑنے کا یہ حادثہ بالکل اچانک پیش آیا، پہلے سے کوئی خیال یا منصوبہ نہیں تھا، چناچہ اللہ نے گھوڑے پر ایک فرشتہ بھیج دیا، جس نے انھیں راستے کی نشان دہی کی واللہ اعلم (ابن کثیر)
(آیت 21) { فَخَرَجَ مِنْهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ …:” يَتَرَقَّبُ “ ”رَقَبَةٌ “} سے ہے، گردن پھیرکر ادھر ادھر دیکھنا، انتظار کرنا۔ موسیٰ علیہ السلام کے علم میں یہ بات آئی تو فوراً اکیلے ہی اس شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے انھیں ایسا کوئی سابقہ پیش نہیں آیا تھا، بلکہ وہ شہزادے کی حیثیت سے نہایت خوش حالی کے ساتھ راحت و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اب شہر سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے دشمن کی گرفت سے بچتے ہوئے نکلے، اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب! جس طرح تو نے میری معجزانہ طریقے سے پرورش فرمائی مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔ ظالم اس لیے فرمایا کہ پہلے بے شمار مظالم کے علاوہ ان کا تازہ ترین ظلم یہ تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے در پے ہو گئے تھے، جو صریح ظلم تھا، کیونکہ قتل خطا کی سزا کسی قانون میں بھی قتل نہیں ہے۔
(مصر سے نکل کر) جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا تو اُس نے کہا "اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راه لے چلے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب موسیٰ نے (مصر سے نکل کر) مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا پروردگار سیدھے راستہ کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا میرا رب قریب ہے کہ مجھے سیدھے راستے پر لے جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔
بکریوں کو پانی پلایا ٭٭
آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:]
22-1چناچہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ایسے سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی جس سے ان کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی یعنی وہ ہادی بھی بن گئے اور مہدی بھی، خود بھی ہدایت یافتہ اور دوسروں کو بھی ہدایت کا راستہ بتلانے والے۔
(آیت 22) ➊ {وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ …:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انھیں اس راستے پر ڈال دیا جو مدین کی طرف جاتا تھا۔ مدین خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر ”مقنا“ سے چند میل بجانب شمال واقع تھا، آج کل اسے {”اَلْبِدَعْ“} کہتے ہیں۔ اس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہیں تھی، بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی ساحل، جن پر بنی مدیان آباد تھے، وہ مصری اقتدار سے آزاد تھے، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رخ کیا، کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا، لیکن وہاں جانے کے لیے انھیں گزرنا بہرحال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا اور مصر کی فوج سے بچ کر نکلنا تھا، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے، جس سے میں صحیح سلامت مدین پہنچ جاؤں۔ (تفہیم القرآن) ➋ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین کی طرف چلے تو ان کے پاس راستے میں سبزی اور درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہ تھی، حتیٰ کہ پاؤں سے ننگے ہو گئے۔ مدین پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاؤں کے جوتے ٹوٹ کر گر گئے۔ جب سائے میں جا کر بیٹھے تو اس وقت وہ ساری مخلوق میں اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے اور حال یہ تھا کہ بھوک سے پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔“
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰؑ نے اِن عورتوں سے پوچھا "تمہیں کیا پریشانی ہے؟" انہوں نے کہا "ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نکال کر نہ لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے (جانوروں کو) روکتی ہوئی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، وه بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب مدین کے پانی پر آیا وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں، اور ان سے اس طرف دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ایک مجمع پایا جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور ان لوگوں سے الگ دو عورتوں کو پایا کہ وہ (اپنے ریوڑ کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (یہ) چرواہے اپنے مویشیوں کو (پانی پلا کر) نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچا تو اس پر لوگوں کے ایک گروہ کو پایا جو پانی پلا رہے تھے اور ان کے ایک طرف دو عورتوں کو پایا کہ (اپنے جانور) ہٹا رہی تھیں۔ کہا تمھارا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا ہم پانی نہیں پلاتیں یہاں تک کہ چرواہے پلا کر واپس لے جائیں اور ہمارا والد بڑا بوڑھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔
بکریوں کو پانی پلایا ٭٭
آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:]
23-1یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین یہ قبیلے کا نام تھا اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھا، جب کہ حضرت موسیٰ ؑ حضرت یعقوب ؑ کی نسل سے تھے جو حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے (حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے تھے۔ یوں اہل مدین اور موسیٰ کے درمیان نسبی تعلق بھی تھا (ایسرالتفاسیر) اور یہی حضرت شعیب ؑ کا مسکن مبعث بھی تھا۔ 23-2دو عورتوں کو اپنے جانور روکے، کھڑے دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں رحم آیا اور ان سے پوچھا، کیا بات ہے تم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاتیں؟۔ رعاء راع (چرواہا) کی جمع ہے۔ 23-3تاکہ مردوں سے ہمارا اختلاط نہ ہو۔ 23-4والد صاحب بوڑھے ہیں اس لئے وہ گھاٹ پر پانی پلانے کے لئے نہیں آسکتے
(آیت 23) ➊ { وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ …:} یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے، جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین ایک قبیلے کا نام بھی ہے، جو مدین بن ابراہیم کی اولاد سے تھا۔ اس لحاظ سے موسیٰ علیہ السلام کا ان سے نسبی تعلق بھی تھا، کیونکہ وہ بھی ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ: ”ذَادَ يذُوْدُ ذَوْدًا“} ہٹانا۔ موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو عورتیں مردوں سے الگ ایک کنارے پر کھڑی ہیں اور اپنی بھیڑ بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے ہٹا رہی ہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لیے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور پھر گم ہو جائیں۔ اتنی قوت نہ تھی کہ مجمع کو ہٹا دیں یا خود بھاری ڈول نکال لیں۔ ➌ { قَالَ مَا خَطْبُكُمَا:} موسیٰ علیہ السلام کو ان کا حال دیکھ کر رحم آیا اور ان سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو، پانی کیوں نہیں پلاتی؟ ➍ { قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَآءُ:” الرِّعَآءُ “ ”رَاعِيٌّ“} کی جمع ہے، چرواہے۔ {”أَصْدَرَ يُصْدِرُ“} پانی پلا کر واپس لے جانا۔ انھوں نے کہا، جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں، ہم پانی نہیں پلاتیں، کیونکہ ہمارا باپ بہت بوڑھا اور کمزور ہے، یہاں آنے کے قابل نہیں، نہ وہ پانی نکال سکتا ہے نہ ہم بھاری ڈول نکال سکتی ہیں، چرواہے چلے جائیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم پلا لیں گی، یا بعد میں ڈول میں تھوڑا تھوڑا پانی نکال کر انھیں پانی پلا لیں گی۔ ان عورتوں کا نام مفسرین نے ”صفورا“ اور ” لیا “ بیان کیا ہے، مگر یہ بات کسی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں۔ ➎ { وَ اَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ:} ان خواتین کے والد کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ شعیب علیہ السلام تھے۔ اس کی بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مدین کی طرف شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ مدین کے وہ بزرگ جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی میزبانی کی وہ بھی شعیب علیہ السلام ہی تھے۔ علماء فرماتے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ موسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے کا ہے، کیونکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: «{ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ }» [ ھود: ۸۹ ] ”اور لوط کی قوم (بھی) ہر گز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔“ اور سب جانتے ہیں کہ لوط اور ابراہیم علیھما السلام ایک زمانے میں ہوئے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے صدیوں پہلے گزرے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”اس کی تائید کہ وہ بزرگ شعیب علیہ السلام نہیں تھے، اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اگر وہ شعیب علیہ السلام ہوتے تو غالب گمان یہی ہے کہ قرآن میں ان کا نام مذکور ہوتا۔ بعض احادیث میں موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے، مگر ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے۔“ (ابن کثیر) بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ”ثیرون“ آیا ہے، ایک جگہ ان کانام ”رعوائیل“ آیا، دوسری جگہ ”یترو“ آیا ہے اور ایک جگہ ”حوباب“ آیا ہے۔ علمائے اسلام میں سے بعض نے ان کا نام ”یثریٰ“ بیان کیا ہے، مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ بات ثابت شدہ خبر کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی، جو یہاںموجود نہیں۔
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ سن کر) موسیٰ نے (ان کے ریوڑ کو) پانی پلا دیا اور پھر وہاں سے ہٹ کر سایہ میں آگیا اور کہا اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
تواس نے ان کے لیے پانی پلا دیا، پھر پلٹ کر سائے کی طرف آگیا اور اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭
فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔
بکریوں کو پانی پلایا ٭٭
آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:]
24-1حضرت موسیٰ ؑ اتنا لمبا سفر کر کے مصر سے مدین پہنچے تھے، کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا، جب کہ سفر کی تھکان اور بھوک سے نڈھال تھے۔ چناچہ جانوروں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے تلے آ کر مصروف دعا ہوگئے۔ خیر کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، کھانے پر، امور خیر اور عبادت پر، قوت پر اور مال پر (ایسر التفاسیر) یہاں اس کا اطلاق کھانے پر ہوا ہے۔ یعنی میں اس وقت کھانے کا ضرورت مند ہوں۔
(آیت 24) ➊ { فَسَقٰى لَهُمَا:} پیغمبروں میں فطری طور پر ہمدردی کا بے پناہ جذبہ ہوتا ہے، جیسا کہ اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: [كَلَّا، وَاللّٰهِ! مَا يُخْزِيْكَ اللّٰهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِي الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ ] [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي …: ۳ ] ”ہر گز (ایسا) نہیں (ہو گا)، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور بے روز گار کے لیے کام ڈھونڈھتے ہیں اور مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی طرف سے آنے والی مصیبتوں پر مدد کرتے ہیں۔“موسیٰ علیہ السلام تھکے ماندے اور بھوکے پیاسے تھے، اس کے باوجود انھوں نے ان کی بکریوں کو پلانی پلا دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں ابن ابی شیبہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام جب مدین کے پانی پر پہنچے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پایا جو پانی پلا رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہو گئے تو انھوں نے کنویں پر دوبارہ پتھر رکھ دیا، جسے دس آدمی ہی اٹھا سکتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو ہٹا رہی ہیں، ان سے پوچھا: ”تمھارا معاملہ کیا ہے؟“ انھوں نے اپنا ماجرا بیان کیا، تو آپ نے جا کر وہ پتھر اٹھایا اور ایک ہی ڈول نکالا تھا کہ بکریاں سیراب ہو گئیں۔“ [ ابن کثیر: 227/6 ] ابن کثیر نے فرمایا: ”اس کی سند صحیح ہے، حاکم نے بھی اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔“ ➋ { ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ:} بقاعی لکھتے ہیں: ”پھر جس طرف ان کا رخ تھا اس طرف پیٹھ کر کے سائے کی طرف چلے گئے، تاکہ وہاں آرام کر سکیں اور مخلوق کی خیر خواہی اور مدد کے بعد خالق کی طرف متوجہ ہوئے۔ {” الظِّلِّ “} کو معرفہ اس لیے ذکر فرمایا کہ جہاں لوگ کثرت سے آتے جاتے ہوں وہاں سائے کی موجودگی انوکھی نہیں، بلکہ جانی پہچانی بات ہے، خصوصاً جہاں پانی بھی ہو۔“ ➌ { فَقَالَ رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ:} اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام نے اس کی صفات میں سے صفت ”رب“ کے واسطے سے دعا کی، کیونکہ اس وقت ان کا حال صفت ربوبیت سے فریاد کا تقاضا کرتا تھا۔ بھوک اتنی کہ پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔ بے وطنی ایسی کہ کوئی واقفیت نہ کوئی مونس و غم خوار، کوئی گھر نہ ٹھکانا، دشمن کے تعاقب کا مسلسل خوف، غرض ہر لحاظ سے فقر ہی فقر۔ ایسی حالت میں انھوں نے کسی مخلوق کے ساتھ شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنے رب ہی کی جناب میں درخواست پیش کی کہ اے میرے پالنے والے! میں تو جو خیر بھی تو میری طرف نازل فرمائے اس کا محتاج ہوں۔ ”نازل فرمائے“ کا لفظ اس لیے بولا کہ آدمی کو جو کچھ ملتا ہے آسمان سے آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ }» [الذاریات: ۲۲ ] ”اور آسمان ہی میں تمھارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا نہایت جامع دعا ہے، دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں جو اس میں نہ آگئی ہو۔ طویل سفر کے بعد غربت اور فقر و فاقہ کی حالت میں عجزو انکسار سے بھری ہوئی یہ جامع دعا موسیٰ علیہ السلام کے لبوں سے نکلی تو ساتھ ہی قبولیت کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی "میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں" موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا "کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وه کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ﻇالم قوم سے نجات پائی
احمد رضا خان بریلوی
تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں اس نے کہا ڈریے نہیں، آپ بچ گئے ظالموں سے
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان دو عورتوں مین سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی (اور) کہا میرے والد تمہیں بلاتے ہیں تاکہ تمہیں اس کا معاوضہ دیں جو تم نے ہماری خاطر پانی پلایا تو جب موسیٰ اس کے پاس پہنچا اور اسے سارا اپنا قصہ سنایا تو اس (بزرگ) نے (تسلی دیتے ہوئے) کہا خوف نہ کر اب تم ظالم لوگوں سے نجات پا گئے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بے شک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ ”میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں“ کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ ”میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔“ کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف] بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔ ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“ یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ ”آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔“ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684] حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف] ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔ چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
25-1اللہ نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول فرمالی اور دونوں میں سے ایک لڑکی انہیں بلانے آگئی۔ لڑکی کی شرم و حیا کا قرآن نے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ یہ عورت کا اصل زیور ہے اور مردوں کی طرح حیاء و حجاب سے بےنیازی اور بےباکی عورت کے لئے شرعا ناپسندیدہ ہے۔ 25-2بچیوں کا باپ کون تھا؟ قرآن کریم نے وضاحت سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت شعیب ؑ کو لیا ہے جو اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ امام شوکانی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب ؑ کا زمانہ نبوت، حضرت موسیٰ ؑ سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لئے یہاں حضرت شعیب ؑ کا برادر زادہ یا کوئی اور قوم شعیب ؑ کا شخص مراد ہے، واللہ اعلم۔ بہرحال حضرت موسیٰ ؑ نے بچیوں کے ساتھ ہمدردی اور احسان کیا، وہ بچیوں نے جا کر بوڑھے باپ کو بتلایا، جس سے باپ کے دل میں بھی ہمدردی پیدا ہوئی کہ احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دیا جائے یا اس کی محنت کی اجرت ہی ادا کردی جائے۔ 25-3یعنی اپنے مصر کی سرگزشت اور فرعون کے ظلم و ستم کی تفصیل سنائی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ فرعون کی حدود حکمرانی سے باہر ہے اس لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے ظالموں سے نجات عطا فرما دی ہے۔
(آیت 25) ➊ {فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ: ”عَلٰي حَيَاءٍ“} کا معنی ہے حیا کے ساتھ، {” عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی بہت حیا کے ساتھ۔ ➋ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“ ➌ ” تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہو گی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ {” تَمْشِيْ بِاسْتِحْيَاءٍ“} کے بجائے {” تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آ رہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ «{ فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ }» قَائِلَةٌ بِثَوْبِهَا عَلٰی وَجْهِهَا لَيْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَةً، خَرَّاجَةً ] [ طبري: ۲۷۵۸۵۔ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۲] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بے باک عورتوں کی طرح نہیں جو بے دھڑک اور بے خوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا: {” هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ “} اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: {”وَ سَنَدُهُ صَحِيْحٌ۔“} ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔ ➍ { قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ:} اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔ ➎ { لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا:} یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہو سکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کر دیا۔ ➏ یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ علیہ السلام پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ }» [الرحمٰن: ۶۰ ] ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں: [ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَ يُثِيْبُ عَلَيْهَا ] [بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ: ۲۵۸۵ ] پھر موسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ علیہ السلام منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: «{ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا }» [ الکہف: ۷۷ ] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“ ➐ { فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ:} جب موسیٰ علیہ السلام اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔ ➑ { قَالَ لَا تَخَفْ …:} اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پا چکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا "ابّا جان، اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبُوط اور امانت دار ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وه ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو
احمد رضا خان بریلوی
ان میں کی ایک بولی اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانتدار ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تو ان دو میں سے ایک لڑکی نے کہا اے ابا! اس کو اجرت پر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا مزدور جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقت ور بھی ہو اور امانت دار بھی۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں میں سے ایک نے کہا اے میرے باپ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ ”میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں“ کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ ”میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔“ کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف] بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔ ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“ یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ ”آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔“ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684] حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف] ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔ چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
26-1بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ باپ نے بچیوں سے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ یہ طاقتور بھی ہے اور ایمان دار بھی، جس پر بچیوں نے بتلایا کہ جس کنویں سے پانی پلایا، اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ اسے اٹھانے کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ اس شخص نے وہ پتھر اکیلے ہی اٹھا لیا اور پھر بعد میں رکھ دیا اسی طرح جب میں اس کو بلا کر ساتھ لا رہی تھی، تو چونکہ راستے کا علم مجھے ہی تھا، میں آگے آگے چل رہی تھی اور یہ پیچھے پیچھے لیکن ہوا سے میری چادر اڑ جاتی تھی تو اس شخص نے کہا تو پیچھے چل، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نگاہ تیرے جسم کے کسی حصے پر نہ پڑے۔ راستے کی نشان دہی کے لئے پیچھے سے پتھر کی کنکری مار دیا کر، واللہ اعلم (ابن کثیر)
(آیت 26) ➊ { قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ:} ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ابا جان! آپ اسے مزدور رکھ لیں، تاکہ ہم عورتوں کو بکریاں چرانے کی مشقت سے رہائی مل جائے۔ ضروری نہیں کہ اس نے یہ بات موسیٰ علیہ السلام کی اس کے باپ سے پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ تین دن مہمان نوازی تو حق ہے، اس لیے غالب یہی ہے کہ اس دوران ان لڑکیوں اور ان کے والد نے موسیٰ علیہ السلام کے اوصاف حمیدہ کا اچھی طرح سے مشاہدہ کر لیا تو لڑکی نے اپنے باپ سے یہ بات کہی۔ ➋ { اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ:} تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”عمر، ابن عباس، شریح قاضی، ابو مالک، قتادہ، محمد بن اسحاق اور کئی ایک نے فرمایا کہ اس کے والد نے پوچھا، تمھیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ اس نے کہا، اس نے وہ پتھر اٹھا لیا جو دس آدمیوں سے کم اٹھا نہیں سکتے اور جب میں اس کے ساتھ آئی تو اس کے آگے چل رہی تھی، اس نے مجھ سے کہا، میرے پیچھے چلی آؤ اور جہاںراستہ بدلنا ہو مجھے کنکری کے ساتھ اشارہ کر دو، میں سمجھ جاؤں گا کس طرف جانا ہے۔“ تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کا قول ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۴۳ ] دوسرے ائمہ کے اقوال بھی طبری (۲۷۶۰۹) یا ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیے ہیں، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں، اس لیے اس کا ماخذ اسرائیلی روایات ہی ہے۔ ➌ سب سے بہتر شخص جسے تم اجرت پر رکھو وہ ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو۔ یہ ہے وہ قاعدہ جو کسی شخص کو ذمہ داری دیتے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں صفات بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی شخص اگر کام کی اہلیت اور قوت رکھتا ہے تو امانت میں کمزور ہے اور اگر امین ہے تو قوت و اہلیت نہیں رکھتا۔ آج کل حکومتیں کسی عہدے پر مقرر کرنے سے پہلے امتحانات اور انٹرویو کے ذریعے سے اہلیت کا اندازہ تو کرتی ہیں مگر امانت کا نہیں، نتیجہ بے حساب بد دیانتی اور خیانت ہے، جس نے مسلمان ملکوں کی معیشت اور معاشرت دونوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ➍ اس بات سے اس لڑکی کی کمال فراست اور آدمیوں کی پہچان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں، عزیز مصر کی یوسف علیہ السلام کے متعلق فراست، جب اس نے بیوی سے کہا: «{اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ }» [ یوسف: ۲۱ ] ”اس کی رہائش باعزت رکھ۔“ اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی خاتون کی فراست کہ جس نے کہا: «{ يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ }» [ القصص: ۲۶ ] ”اے میرے باپ! اسے اجرت پر رکھ لے، کیونکہ سب سے بہتر شخص جسے تو اجرت پر رکھے طاقت ور، امانت دار ہی ہے۔“ [ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۸ ]
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا "میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس بزرگ نے کہا میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں اس (مہر پر) کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہے میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں، اللہ کو منظور ہے تو آگے چل کر آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
اس (شعیب) نے (موسیٰ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا عقد نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر کوئی سختی نہیں کرنا چاہتا۔ ان شاء اللہ تم مجھے نیکوکار لوگوں میں سے پاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا بے شک میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کردوں، اس (شرط) پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا، پھر اگر تو دس پورے کردے تو وہ تیری طرف سے ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر مشقت ڈالوں، اگر اللہ نے چاہا تو یقینا تو مجھے نیک لوگوں سے پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ ”میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں“ کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ ”میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔“ کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف] بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔ ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“ یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ ”آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔“ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684] حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف] ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔ چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
27-1ہمارے ملک میں کسی لڑکی والے کی طرف سے نکاح کی خواہش کا اظہار معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن شریعت اللہ میں یہ برا نہیں ہے۔ صفات محمودہ کا حامل لڑکا اگر مل جائے تو اسے یا اس کے گھر والوں سے اپنی لڑکی کے لئے رشتے کی بابت بات چیت کرنا برا نہیں ہے۔ بلکہ محمود اور پسندیدہ ہے، عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی یہی طریقہ تھا۔ 27-2اس سے علماء نے اجارے کے جواز پر استدلال کیا ہے یعنی کرائے اور اجرت پر مرد کی خدمات حاصل کرنا جائز ہے 27-3یعنی مزید دو سال کی خدمت میں مشقت اور ایزاء محسوس کریں تو آٹھ سال کے بعد جانے کی اجازت ہوگی۔ 27-4نہ جھگڑا کرونگا نہ اذیت پہنچاؤں گا، نہ سختی سے کام لونگا۔
(آیت 27) ➊ { قَالَ اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَيَّ هٰتَيْنِ …:} باپ نے بیٹی کی رائے سے اتفاق کر لیا، مگر جوان بیٹیوں کی موجودگی میں ایک غیر محرم مرد کو گھر میں رکھنا مناسب نہیں تھا، اس لیے اس مرد دانا نے فیصلہ کیا کہ ایک بیٹی کا اس صالح جوان کے ساتھ نکاح کر کے اسے مزدور کے طور پر گھر میں رکھ لے۔ چنانچہ اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: «{ اِنِّيْۤ اُرِيْدُ }» ”یقینا میں ارادہ رکھتا ہوں۔“ اہل علم فرماتے ہیں، اس بزرگ نے {”إِنَّ“} کے ساتھ تاکید اس لیے کی کہ عام طور پر لوگ کسی اجنبی جوان کو جو مالی لحاظ سے بھی فقیر ہو، رشتہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس لیے اس نے کہا، یقینا میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کر دوں، اس شرط پر کہ تو آٹھ سال میری مزدوری کرے گا…۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ کسی صالح آدمی کو اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ ایسا ہونا چاہیے۔ بے شمار لڑکیاں اس لیے نکاح سے محروم بیٹھی ہیں کہ ان کے والد انتظار میں ہیں کہ کوئی ہم سے رشتہ پوچھے، جبکہ لڑکوں کے والدین انکار کے خوف سے رشتہ مانگنے کی جرأت نہیں کرتے۔ نتیجہ اس کا لڑکے لڑکیوں دونوں کا نکاح سے محروم رہنا ہے۔ صحابہ کرام میں سے عمر رضی اللہ عنہ کا عمل اس کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنھا خُنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے سے بیوہ ہو گئی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدری صحابہ میں سے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انھیں حفصہ کا رشتہ پیش کیا، انھوں نے کہا، میں اس بارے میں سوچوں گا، کچھ راتیں گزریں تو مجھے ملے اور کہنے لگے: ”میری رائے یہی ٹھہری ہے کہ میں ان دنوں نکاح نہ کروں۔“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پھر میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔“ ابوبکر خاموش رہے، مجھے کچھ جواب نہیں دیا، میں دل میں ان پر عثمان سے بھی زیادہ ناراض ہوا۔ چند راتیں گزریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کا پیغام بھیج دیا، تو میں نے حفصہ کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔“ [ بخاري، النکاح، باب عرض الإنسان ابنتہ أو أختہ علی أھل الخیر: ۵۱۲۲ ] دیکھیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر غیرت مند کون ہو گا، مگر اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کر رہے ہیں۔ ➌ بعض لوگ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہیں کہ نکاح میں لڑکی کا مہر یہ ہو سکتا ہے کہ خاوند اس کے والد کی مزدوری کرے، مگر یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ مہر عورت کا حق ہے نہ کہ اس کے باپ کا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے بیان میں صرف نکاح کے ارادے اور اس کی شرط کا ذکر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کم از کم آٹھ سال اپنے سسر کے ساتھ رہیں گے، اس سے پہلے اپنی بیوی کو لے کر نہیں جائیں گے۔ اگر یہ عقد نکاح ہوتا تو اس میں دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کی تعیین ہوتی اور ارادے کے الفاظ کے بجائے یہ الفاظ ہوتے کہ میں نے اپنی فلاں لڑکی کا نکاح اتنے مہر میں تمھارے ساتھ کیا۔ قرآن نے نکاح کے لیے ابتدائی گفتگو اور والد کی شرط کا ذکر کیا ہے، عقد نکاح اور مہر وغیرہ کی تفصیل کا ذکر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اس کے بیان کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔ ➍ اس واقعہ سے مزدوری کرنے کا جواز بلکہ اس کا استحباب ثابت ہوتا ہے اور اس کے ضمن میں بکریاں رکھنے اور انھیں چرانے کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اجرت پر بکریاں چرائی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ ] ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے پوچھا: ”تو کیا آپ نے بھی (چرائی ہیں)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلٰی قَرَارِيْطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ] [ بخاري، الإجارۃ، باب رعي الغنم علی قراریط: ۲۲۶۲ ] ”ہاں، میں اہل مکہ کے لیے چند قیراطوں پر بکریاں چرایا کرتا تھا۔“ ➎ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی لمبی مدت تک بکریاں چرانے کی اجرت کیا تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مزدوری صرف کھانا اور کپڑا ہی تھی، جیسا کہ عتبہ بن نُدر السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے {” طٰسٓمّٓ “} کی تلاوت کی، یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے قصے پر پہنچے، تو فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنی شرم گاہ کی عفت اور پیٹ کے کھانے پر آٹھ سال یا دس سال اپنے آپ کو مزدور بنائے رکھا۔“ [ ابن ماجہ، الرھون، باب إجارۃ الأجیر علی طعام بطنہ: ۲۴۴۴ ] ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس پر فرمایا: ”اس طریق سے یہ حدیث ضعیف ہے، کیونکہ مسلمہ بن علی (خُشنی، دمشقی اور ہلالی) ائمہ کے نزدیک روایت میں ضعیف ہے۔ ایک اور سند سے بھی یہ حدیث آئی ہے مگر اس میں بھی نظر ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بعض روایات نقل کی ہیں کہ جس سال موسیٰ علیہ السلام نے رخصت ہونا تھا اس سال ان کے سسر نے ان سے کہا کہ اس سال جو بکری اپنے رنگ سے مختلف بچہ دے وہ تمھارا ہو گا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایسی کسی روایت کی سند صحیح نہیں۔ بعض صحابہ کے اقوال موجود ہیں، مگر ظاہر ہے کہ وہ اسرائیلیات سے ہیں، کیونکہ وہ صحابہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، نہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات روایت کرتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ بات اسی طرح چھوڑ دی جائے جس طرح قرآن نے تفصیل کے بغیر چھوڑ دی ہے، اگر یہ بات ہدایت کے لیے ضروری ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور بیان فرما دیتے۔
موسیٰ نے جواب دیا "یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہوگئی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو، ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ (گواه اور) کارساز ہے
احمد رضا خان بریلوی
موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے کہا (اچھا) یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں میں سے میں جو مدت بھی پوری کر دوں (اس کے بعد) مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا یہ بات میرے درمیان اور تیرے درمیان (طے) ہے، ان دونوں میں سے جو مدت میں پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھرہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیاء سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئیے کہ صرف یہی نہیں کہا کہ ”میرے ابا آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں“ کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ ”میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لیے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے بلا رہے ہیں، جو آپ علیہ السلام نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کیا ہے۔“ کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
امام حسن بصری رحمۃ اللہ اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ { جب سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شعیب علیہ السلام کی قوم اور موسیٰ علیہ السلام کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2828:ضعیف] بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔ ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ شعیب علیہ السلام ہی ہوئے تو چاہیئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایاگیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“ یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بزرگ نے کہا کہ ”آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ علیہ السلام کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میراکام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ علیہ السلام پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔“ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
چنانچہ اس کی دلیل بھی آ چکی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے { سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے یہودیوں نے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال پورے کئے تھے یا دس سال؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ علیہ السلام نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2684] حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف] ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔ ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ شعیب علیہ السلام کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بے عیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبداللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔ چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
28-1یعنی آٹھ سال بعد یا دس سال کے بعد جانا چاہوں تو مجھ سے مزید رہنے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ 28-2یہ بعض کے نزدیک شعیب ؑ یا برادر زادہ شعیب ؑ کا قول ہے اور بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ ؑ کا ممکن ہے دونوں ہی کی طرف سے ہو کیونکہ جمع کا صیغہ ہے گویا دونوں نے اس معاملے پر اللہ کو گواہ ٹھہرایا اور اس کے ساتھ ہی ان کی لڑکی اور موسیٰ ؑ کے درمیان رشتہ ازدواجی قائم ہوگیا۔ باقی تفصیلات کا اللہ نے ذکر نہیں کیا۔ ویسے تو اسلام میں طرفین کی رضامندی کے ساتھ نکاح کے لئے دو عادل گواہ بھی ضروری ہیں۔
(آیت 28) ➊ { قَالَ ذٰلِكَ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكَ…:} موسیٰ علیہ السلام نے اپنے سسر سے کہا، آپ نے جو کہا کہ میں آٹھ سال آپ کی مزدوری کروں گا، یہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گیا، اب یہ میری مرضی کی بات ہے کہ آٹھ برس کے بعد دو برس اور خدمت کروں یا آٹھ ہی برس بعد اپنی بیوی کو لے کر چلا جاؤں۔ دونوں صورتوں میں آپ مجھے مجبور نہیں کریں گے کہ ابھی اور خدمت کرو۔ ➋ { وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ:} یہ کلمہ عہد کو پختہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اس بزرگ نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح موسیٰ علیہ السلام سے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ”خیر“ کی تمام چیزیں ان کے لیے مہیا کر دیں، جن کی انھیں ضرورت تھی۔ ➌ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اہل حیرہ کے ایک یہودی نے پوچھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی؟ میں نے کہا، مجھے معلوم نہیں جب تک میں عرب کے عالم کے پاس جا کر پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ”انھوں نے وہ مدت پوری کی جو دونوں میں زیادہ اور بہتر تھی (یعنی دس سال)۔ اللہ کا رسول جب بات کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے (یعنی ایسا شخص جو آئندہ رسول بننے والا ہے، وہی مدت پوری کرے گا جو زیادہ کامل ہے)۔“ [ بخاري، الشہادات، باب: ۲۶۸۴ ] یہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ہے اور بظاہر یہ ان کا اجتہاد ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس مفہوم کی متعدد روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نقل کی ہیں، مگر سند کے لحاظ سے سب میں کلام ہے، اگرچہ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کے قول کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا:{” فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ “} سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے وہ مدت پوری کی تھی جو زیادہ کامل تھی اور جس میں ان کے سسر کے ساتھ زیادہ حسن سلوک پایا جاتا تھا، کیونکہ{” الْاَجَلَ “} میں الف لام کا معنی کامل مدت ہے اور وہ مدت دس سال ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقٰى }» [ البقرۃ: ۲۰۳ ] ”پھر جو دو دنوں میں جلد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، اس شخص کے لیے جو ڈرے۔“ ظاہر ہے جو شخص ایام تشریق کا تیسرا دن بھی پورا کرے وہ زیادہ کامل ہے۔ ➍ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں: ”ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وطن سے نکلے، سو آٹھ برس پیچھے آکر مکہ فتح کیا، اگر چاہتے اسی وقت شہر خالی کرواتے کافروں سے۔ دس برس پیچھے پاک کیا۔“ (موضح)
جب موسیٰؑ نے مدت پوری کر دی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا "ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوه طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر ﻻؤں یا آگ کا کوئی انگاره ﻻؤں تاکہ تم سینک لو
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی اور اپنی بی بی کو لے کر چلا طُور کی طرف سے ایک آگ دیکھی اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طُور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤ ں یا تمہارے لیے کوئی آ گ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب موسیٰ نے (مقررہ) مدت پوری کر دی اور اپنے اہل و (عیال) کو ساتھ لے کر مصر روانہ ہوئے تو طور کی جانب سے آگ محسوس کی تو گھر والوں سے کہا کہ تم ٹھہرو میں نے آگ محسوس کی ہے شاید میں تمہارے پاس (وہاں سے) کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں تاکہ تم تاپو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو اس نے پہاڑ کی طرف سے ایک آگ دیکھی، اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، ہوسکتاہے کہ میں تمھارے لیے اس سے کوئی خبر لے آئوں، یا آگ کا کوئی انگارا، تاکہ تم تاپ لو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔
29-1حضرت ابن عباس نے اس مدت سے دس سالہ مدت مراد لی ہے، کیونکہ یہی اکمل اور اطیب (یعنی خسر موسیٰ ؑ کے لئے خوشگوار اور مرغوب) تھی اور حضرت موسیٰ ؑ کے کریمانہ اخلاق نے اپنے بوڑھے خسر کی دلی خواہش کے خلاف کرنا پسند نہیں کیا۔ 29-2اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔
(آیت 29) ➊ { فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ:} اہلِ کتاب اور اکثر مسلمان مفسرین کا کہنا ہے کہ ان دس سالوں کے دوران وہ فرعون فوت ہو گیا جس نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کی تھی اور اب اس کی جگہ اور فرعون حکمران تھا۔ (واللہ اعلم) موسیٰ علیہ السلام نے جب وہ مدت پوری کر لی تو بیوی کو لے کر اپنے وطن جانے کے ارادے سے مدین سے روانہ ہو گئے۔ اس ارادے کی دلیل یہ ہے کہ طور اس راستے پر واقع ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ ایک تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کا شوق تھا، دوسرے ہو سکتا ہے یہ خیال بھی ہو کہ لوگ اب تک اس واقعہ کو بھول چکے ہوں گے اور وہاں رہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ➋ { اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا …: ” جَذْوَةٍ “} لکڑی کا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ ہو۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ طٰہٰ اور سورۂ نمل میں گزر چکا ہے۔
وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ "اے موسیٰؑ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہان والوں کا مالک"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے برکت والے مقام میں پیڑ سے کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب آپ وہاں گئے تو اس وادی کے داہنے کنارے سے اس مبارک مقام پر درخت سے انہیں ندا دی گئی اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے اس بابرکت قطعہ میں وادی کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔
30-1یعنی آواز وادی کے کنارے سے آرہی تھی، جو مغربی جانب سے پہاڑ کے دائیں طرف تھی، یہاں درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے جو دراصل رب کی تجلی کا نور تھا۔ 30-2یعنی اے موسٰی! تجھ سے جو اس وقت مخاطب اور ہم کلام ہے، وہ میں اللہ ہوں رب العالمین۔
(آیت 30) ➊ { فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِيَ …:” شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھے سورۂ مریم (۵۲) اور طٰہٰ (۸۰) {” مِنَ الشَّجَرَةِ “} جب موسیٰ علیہ السلام اس آگ کے پاس آئے تو دیکھا کہ سرسبز درخت میں آگ لگی ہوئی ہے، جس سے جلنے کے بجائے درخت مزید سرسبز اور خوب صورت دکھائی دے رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام حیرت سے یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ درخت میں سے آواز آئی: ”اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں جو رب العالمین ہے۔“ ➋ { اِنِّيْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ:} دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۴) اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ علیہ السلام کو دو ناموں کے ساتھ اپنا تعارف کروانے کا ذکر فرمایا ہے، ایک {” اللّٰهُ “} جو ذاتی نام ہے، جس میں اس کی ساری صفات آ جاتی ہیں اور دوسرا {” رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ “} جو اللہ کے اسماء میں سے ایسا اسم ہے جس میں اس کی وہ تمام صفات آجاتی ہیں جن کے آثار آدمی کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ سورۂ طٰہٰ میں بھی انھی دو اسماء کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «{ اِنِّيْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ }» [ طٰہٰ: ۱۲ ] اور «{ اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا }» [ طٰہٰ: ۱۴ ] یہاں بات مختصر کی ہے، سورۂ طٰہٰ میں ان اسماء کے تقاضے پر عمل کا بھی حکم دیا ہے، فرمایا: «{ فَاعْبُدْنِيْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (16) اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى (15) فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى }» [طٰہٰ: ۱۴ تا ۱۶ ] ”سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔“ سورۂ نمل میں دو مزید صفات کا بھی ذکر ہے، فرمایا: «{ يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ }» [ النمل: ۹ ] ”اے موسیٰ! بے شک حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر ان تمام صفات کا ذکر فرمایا تھا، پھر ہر سورت میں اس کے مضمون کے مطابق ان میں سے چند صفات کا ذکر فرما دیا۔
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ (بھی آواز آئی) کہ اپنی ﻻٹھی ڈال دے۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وه سانﭗ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ کہ تم اپنا عصا پھینک دو تو جب اسے دیکھا کہ اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے وہ سانپ ہے تو وہ منہ موڑ کر الٹے مڑے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (آواز آئی) اے موسیٰ! آگے آؤ۔ اور ڈرو نہیں تم (ہر طرح) امن میں ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیا اور پیچھے نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! آگے آ اور خوف نہ کر، یقینا تو امن والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔
31-1یہ موسیٰ ؑ کا وہ معجزہ ہے جو کوہ طور پر، نبوت سے سرفراز کئے جانے کے بعد ان کو ملا۔ چونکہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ظاہر ہوتا ہے کسی بھی انسان کے اختیار سے نہیں۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر اور نبی مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے جب موسیٰ ؑ کے اپنے ہاتھ کی لاٹھی، زمین پر پھینکنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پنکارتی سانپ بن گئی، تو حضرت موسیٰ ؑ بھی ڈر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو حضرت موسیٰ ؑ کا خوف دور ہوا اور یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کے لئے بطور دلیل یہ معجزہ انھیں عطا فرمایا ہے۔
(آیت 31) ➊ { وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے کہ جب انھوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ یکلخت سانپ بن گئی۔ ➋ { فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ …:} تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے…۔ {” جَآنٌّ “} اور {” ثُعْبَانٌ “} کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۱۰)۔ ➌ { وَلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ:} یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔ ➍ { يٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ:} اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔{ ”إِنَّ“ } علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ (۲۱) میں بتایا: ”اسے پکڑ اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔“ مزید فوائد کے لیے سورۂ طٰہٰ (۲۱) دیکھیے۔
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی تکلیف (اور بیماری) کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور رفع خوف کیلئے اپنا بازو اپنی طرف سمیٹ لو یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے پیش کرنے کیلئے۔ بیشک وہ (بڑے) نافرمان لوگ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اوراس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔
32-1یہ ید بیضاء دوسرا معجزہ تھا جو انھیں عطا کیا گیا۔ 32-2لاٹھی کا اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ ؑ کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کرو یعنی بغل میں دبا لیا کرو جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہوجائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کی اقتداء میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 32-3یعنی فرعون اور اسکی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔ یہ لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اللہ کے دین کے مخالف ہیں۔
(آیت 32) ➊ {اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ …:} دوسری جگہ فرمایا: «وَ اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ» [النمل: 12] {”سِلْكٌ“} اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں موتی پروئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں دھاگا مہارت اور احتیاط سے داخل کیا جاتا ہے، یعنی کسی گھبراہٹ کے بغیر اطمینان کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ مزید دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۲۲)۔ ➋ { وَ اضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ:} موسیٰ علیہ السلام کو جس مقصد کے لیے بھیجا جا رہا تھا، اس میں کئی مقامات ایسے آنے والے تھے جن میں آدمی شدید خوف کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ دو عظیم الشان معجزوں کے ساتھ اس خوف کا علاج بھی بتا دیا کہ جب بھی تمھیں کوئی خوف محسوس ہو اپنا بازو پہلو کے ساتھ اچھی طرح ملا لو، اس سے تمھارا دل مضبوط ہو جائے گا اور خوف دور ہو جائے گا۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ خوف کے وقت کوئی شخص موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں یہ عمل کرے تو اس کا خوف ختم ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔ (ان شاء اللہ) ➌ { فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ …:} یعنی لاٹھی کا سانپ بننا اور ہاتھ کا سفید چمک دار ہو کر نکلنا صرف آج اسی موقع کے لیے نہیں بلکہ یہ دونوں معجزے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجتے ہوئے تمھیں نبوت کی دلیل اور سند کے طور پر عطا کیے گئے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔ انھیں دعوت دینے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ایسے ہی زبردست معجزوں کی ضرورت ہے۔ {”إِنَّ “} تعلیل کے لیے ہوتا ہے اور {”كَانَ“} میں ہمیشگی کا معنی پایا جاتا ہے۔
موسیٰؑ نے عرض کیا "میرے آقا، میں تو ان کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا پروردگار! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وه مجھے بھی قتل کر ڈالیں
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب! میں نے ان میں ایک جان مار ڈالی ہے تو ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کردیں،
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا تھا ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! بے شک میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ’ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں ‘۔ یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» ۱؎ [28-القصص:34] ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ’ آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے ‘۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔ جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ’ تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» ۱؎ [ 20- طه: 36 ] ’ موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا ‘۔ اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] میں ہے ’ ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51،52] ، ’ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
33-1یہ خطرہ تھا جو واقع حضرت موسیٰ ؑ کی جان کو لاحق تھا، کیونکہ ان کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوچکا تھا۔
(آیت 33) {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا …:} موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے لیے نہیں کہی، بلکہ اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کی درخواست کے لیے کہی۔ چنانچہ ان خطرات کا ذکر کیا جو انھیں اس سلسلے میں نظر آرہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان خطرات میں مدد کی ضمانت حاصل کر لی۔ (تفسیر بقاعی میں ہے کہ یہ پیش بینی اس جلیل القدر پیغمبر کی عادت مبارکہ تھی، دیکھیے انھوں نے کس طرح ہماری بھلائی کے لیے بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تخفیف کی درخواست کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں واپس جانے کو کہا) ان میں سے پہلا خطرہ یہ بیان کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دعوت پیش کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیں گے۔
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) مجھ سے بہت زیاده فصیح زبان واﻻ ہے تو اسے بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ وه مجھے سچا مانے، مجھے تو خوف ہے کہ وه سب مجھے جھٹلا دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میرا بھائی ہارون جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میرا بھائی ہارون، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے، تو اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ’ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں ‘۔ یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» ۱؎ [28-القصص:34] ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ’ آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے ‘۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔ جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ’ تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» ۱؎ [ 20- طه: 36 ] ’ موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا ‘۔ اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] میں ہے ’ ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51،52] ، ’ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
34-1اسرائیلی روایات کی رو سے حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں لکنت تھی، جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے آگ کا انگارہ اور کھجور یا موتی رکھے گئے تو آپ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان جل گئی۔ یہ وجہ صحیح ہے یا نہیں؟ تاہم قرآن کریم کی اس نص سے یہ تو ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلے میں حضرت ہارون ؑ فصیح اللسان تھے اور حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں گرہ تھی۔ جس کے کھولنے کی دعا انہوں نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد کی۔ ردءا کے معنی ہیں معین، مددگار تقویت پہنچانے والا۔ یعنی ہارون ؑ اپنی فصاحت لسانی سے مجھے مدد اور تقویت پہنچائیں گے۔
(آیت 34){ وَ اَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا …: ” رِدْاً “} مددگار، دیوار کا پشتہ جو اسے مضبوط کرنے کے لیے لگایا جائے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی تو اس نے کہا، یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں میری سلطنت کے زوال کی پیش گوئی کی گئی ہے، اس وجہ سے اس نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ آسیہ علیھا السلام نے کہا، یہ بچہ ہے، اسے ان باتوں کی کیا خبر؟ اس کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر دیکھ لو، جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھ کر ان کی آزمائش کی جانے لگی اور موسیٰ علیہ السلام ہیرے کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے، تو جبریل علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا اور انھوں نے اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لیا، جس سے ان کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی۔ مگر یہ حکایت کسی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں۔ البتہ سورۂ طٰہٰ (۲۵ تا ۲۸) میں مذکور موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان میں کچھ گرہ تھی جس کی وجہ سے انھیں بات سمجھانے میں دقت پیش آتی تھی اور انھوں نے اسے دور کرنے کی دعا کی تھی۔ فرعون نے بھی انھیں اس بات کا طعن دیا تھا: «{ اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ وَّ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ }» [ الزخرف: ۵۲ ] ”بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔“ یہاں دوسرا خطرہ انھوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ بات پوری طرح واضح نہ کر سکنے کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ فرعون اور اس کے سردار مجھے جھٹلا دیں گے، ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے، اگر بحث کی نوبت آ گئی تو وہ میرے مددگار ثابت ہوں گے، اس لیے انھیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کریں، یعنی حق کو خوب کھول کر بیان کریں، کفار کے اعتراضات کا ایسا جواب دیں کہ انھیں جھٹلانے کی جرأت نہ ہو۔ سورۂ طٰہٰ (۲۹ تا ۳۶) میں یہ بات زیادہ تفصیل سے مذکور ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام رسالت کی ذمہ داری بہترین طریقے سے ادا کرنے میں کس قدر مخلص اور اس کے لیے کتنے فکر مند تھے۔
فرمایا "ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہو گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے، بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا: ہم تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعہ سے مضبوط کریں گے اور ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم تک پہنچ بھی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی برکت سے تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب آئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمھاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] کہ ’ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں ‘۔ یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» ۱؎ [28-القصص:34] ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ’ آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے ‘۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔ جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ’ تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» ۱؎ [ 20- طه: 36 ] ’ موسیٰ (علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا ‘۔ اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] میں ہے ’ ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ’ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51،52] ، ’ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
35-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول کرلی گئی اور ان کی سفارش پر حضرت ہارون ؑ کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ان کا ساتھی اور مددگار بنادیا گیا۔ 35-2یعنی ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے، فرعون اور اس کے حوالی موالی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ 35-3یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا مثلاً، (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) 5۔ المائدہ:68، (الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ۭوَكَفٰى باللّٰهِ حَسِيْبًا) 33۔ الاحزاب:39) (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ:21) (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ 52) 40۔ غافر:52-51)
(آیت 35) ➊ { قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ …:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور تین باتوں کا وعدہ فرمایا، پہلا یہ کہ ہم ہارون کو نبی بنا کر تمھارا بازو ضرور مضبوط کریں گے (سین تاکید کے لیے ہے)، وہ تمھارے ساتھ فرعون کے دربار میں جائیں گے۔ بعض سلف نے فرمایا، کسی بھائی پر اس کے بھائی کا اتنا بڑا احسان نہیں جتنا بڑا احسان موسیٰ علیہ السلام کا ہارون علیہ السلام پر ہے کہ ان کی شفاعت سے انھیں نبوت مل گئی، اس سے اللہ تعالیٰ کے ہاں موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا }» [ الأحزاب: ۶۹ ] ”اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔“ ➋ { فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا بِاٰيٰتِنَاۤ:} دوسرا وعدہ یہ کہ فرعونیوں کے مقابلے میں تم دونوں کو ہم ایسا غلبہ اور دبدبہ عطا کریں گے کہ ہمارے معجزے تمھارے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ تم تک پہنچ نہیں پائیں گے اور نہ کسی قسم کی دست درازی کر سکیں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کو تمام تر اسباب و وسائل اور اسلحہ و افواج کے باوجود کبھی اس بات کی جرأت و ہمت نہ ہو سکی کہ ان پر کسی طرح ہاتھ اٹھا سکیں۔ یہ تفسیر {” بِاٰيٰتِنَاۤ “} کو {” فَلَا يَصِلُوْنَ “} کے متعلق کرنے کی صورت میں ہے۔ ➌ {بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ:} یہ تیسرا وعدہ ہے کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی آخر کار غالب ہوں گے۔ {”بِاٰيٰتِنَاۤ “} کو{” الْغٰلِبُوْنَ “} کے متعلق کرنے سے معنی یہ ہوگا کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی ہمارے معجزات کی بدولت غالب رہو گے۔ یہ مضمون کہ رسول اور ان کے پیروکار ہی آخر غالب ہوں گے، قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۵۱) اور مجادلہ (۲۱)۔
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادوگر اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنیں ہی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے دیے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وه کہنے لگے یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں کبھی یہ نہیں سنا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس کھلی ہوئی نشانیوں کے ساتھ آئے تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہے مگر گھڑا ہوا جادو اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ داداؤں کے زمانہ میں بھی نہیں سنیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو ایک گھڑے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔“ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
36-1یعنی یہ دعوت کہ کائنات میں صرف ایک ہی اللہ اس کے لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ہمارے لئے بالکل نئی بات ہے۔ یہ ہم نے سنی ہے نہ ہمارے باپ دادا اس توحید سے واقف تھے مشرکین مکہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کہا تھا ' اس نے تو تمام معبودوں کو (ختم کر کے) ایک ہی معبود بنادیا ہے؟ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے '۔
(آیت 36) {فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ …:} موسیٰ علیہ السلام یہ ذمہ داری لے کر وادی طویٰ سے واپس لوٹے۔ درمیان کی بات قرآن نے یہاں چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے گھر آئے۔ والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کی، ہارون علیہ السلام کو نبوت عطا ہونے کا ماجرا سنایا، پھر دونوں بھائی فرعون اور اس کے سرداروں کو دعوت دینے کے لیے ان کے دربار میں پہنچے اور انھیں توحید الٰہی کی دعوت دی اور انھیں اللہ کی طرف سے اپنی رسالت کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا حکم سنایا۔ موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعوت سورۂ طٰہٰ (۴۷ تا ۵۴) اور شعراء (۱۶ تا۳۳) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ جب فرعون نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو انھوں نے اپنی رسالت کی دلیل کے طور پر عصا اور یدِ بیضا کا معجزہ پیش کیا۔ فرعون کے پاس ان معجزوں کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ دل سے موسیٰ علیہ السلام کے سچا نبی ہونے کو مان چکا تھا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۰۲) اور نمل (۱۴) مگر اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے دو باتیں کہیں، ایک یہ کہ تمھارا عصا اور ید بیضا سحر مفتری ہے، یعنی تمھارا گھڑا ہوا اور بنایا ہوا جادو ہے، حقیقت اس کی کچھ نہیں۔ سورۂ اعراف (۱۰۹ تا۱۲۶)، طٰہٰ (۵۵ تا ۷۶) اور شعراء (۳۴ تا ۵۱) میں اس کے جادوگر جمع کر کے ان معجزات کے مقابلے کا اور جادوگروں کے ناکام ہو کر مسلمان ہو جانے کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ ہم نے توحید کی یہ دعوت اپنے پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ فرعون کی اس بات کی بنیاد محض آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو ان لوگوں کی دلیل ہوتی ہے جن کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اور وہ محض ہٹ دھرمی سے کسی غلط بات پر ڈٹ جائیں۔ بھلا یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ میں نے خسارے کا سودا کرنا ہی کرنا ہے، کیونکہ میرے باپ نے خسارے کا سودا کیا تھا۔ فرعون ہی نہیں تمام باطل پرستوں کے پاس حق کے انکار کا یہی بہانہ ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰)۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے پہلے آباء میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اس سے پہلے مصر میں یوسف علیہ السلام گزر چکے تھے جو قید خانے میں بھی توحید کی دعوت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، جیسا کہ قریش مکہ کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے آباء میں یہ بات نہیں سنی، حالانکہ ان کے آبا و اجداد میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام تھے جو بتوں کو توڑنے والے تھے اور توحید الٰہی کے زبردست علمبردار تھے، مگر فرعون اور قریش مکہ نے صرف ان آباء کو دلیل بنایا جو عقل و ہدایت دونوں سے خالی تھے، فرمایا: «{ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ }» [ البقرۃ: ۱۷۰ ] ”کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔“
موسیٰؑ نے جواب دیا "میرا رب اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے میرا رب تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو اس کے پاس کی ہدایت لے کر آتا ہے اور جس کے لیے آخرت کا (اچھا) انجام ہوتا ہے۔ یقیناً بے انصافوں کا بھلا نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ نے کہا میرا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ اس کی طرف سے کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کیلئے دار آخرت کا انجام بخیر ہے؟ بیشک ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ نے کہا میرا رب اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا اور اس کو بھی جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوگا، بے شک حقیقت یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔“ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
37-1یعنی مجھ سے اور تم سے زیادہ ہدایت کا جاننے والا اللہ ہے، اس لئے جو بات اللہ کی طرف سے آئے گی، وہ صحیح ہوگی یا تمہارے اور تمہارے باپ دادوں کی۔ 37-2اچھے انجام سے مراد آخرت میں اللہ کی رضامندی اور اس کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جانا ہے اور یہ استحقاق صرف اہل توحید کے حصے میں آئے گا 37-3ظالم سے مراد مشرک اور کافر ہیں، کیونکہ ظلم کے معنی ہیں۔ وضع الشئ فی غیر محلہ کسی چیز کو اسکے اصل مقام سے ہٹا کر کسی اور جگہ رکھ دینا۔ مشرک بھی چونکہ الوہیت کے مقام پر ایسے لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں جو اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ اسی طرح کافر بھی رب کے اصل مقام سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں اور یہ کامیابی سے یعنی آخرت میں اللہ کی رحمت و مغفرت سے محروم رہیں گے۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ دنیا میں خوشحالی اور مال و اسباب کی فراوانی حقیقی کامیابی کی نفی فرما رہا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے نہ کہ دنیا کی چند روزہ عارضی خوشحالی و فراوانی۔
(آیت 37) ➊ { وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّيْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى …:} مفسرین کہتے ہیں کہ بظاہر فرعون کی بات نقل کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی بات نقل کرنے کے لیے {” قَالَ “} ہی کافی تھا، ”واؤ“ کی ضرورت نہ تھی، مگر دونوں کی بات کا موازنہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”واؤ“ کا ذکر کیا کہ فرعون نے یہ کہا اور موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔ ➋ موسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی اس تلقین پر عمل کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے کی تھی، فرمایا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [ طٰہٰ: ۴۴ ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔“ فرعون کی ہٹ دھرمی کے جواب میں انھوں نے اسے جھوٹا کہنے یا کوئی سخت بات کرنے کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ اس کے پاس سے ہدایت لے کر کون آیا ہے اور اس گھر کا اچھا انجام کس کا ہوتا ہے؟ ہاں! اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اس طرح کی بات ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلِ اللّٰهُ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (24) قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (25) قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيْمُ }» [ سبا: ۲۴ تا ۲۶ ] ”کہہ تمھیں آسمانوں اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کہہ دے اللہ۔ اور بے شک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔ کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ ➌ { عَاقِبَةُ الدَّارِ:} آلوسی نے فرمایا: {” الدَّارِ “} (اس گھر) سے مراد دنیا ہے، اس کا اچھا انجام ایسا خاتمہ ہے جو انسان کو اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ جنت میں لے جائے۔“
اور فرعون نے کہا "اے اہل دربار میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹا سمجھتا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون کہنے لگا اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔ سن اے ہامان! تو میرے لیے مٹی کو آگ سے پکوا پھر میرے لیے ایک محل تعمیر کر تو میں موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اسے میں تو جھوٹوں میں سے ہی گمان کر رہا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر ایک محل بنا کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون نے کہا اے سردارو! میں تو اپنے سوا تمہارے لئے کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! تو میرے لئے مٹی کو آگ میں پکا (مٹی کو کچی اینٹوں کو پکوا) پھر میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا۔ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) موسیٰ کے خدا کا کوئی سراغ لگا سکوں اور میں تو اسے (اس دعویٰ میں) جھوٹا ہی خیال کرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون نے کہا اے سردارو! میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا، تو اے ہامان! میرے لیے مٹی پر آگ جلا، پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا، تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں اور بے شک میں یقینا اسے جھوٹوں میں سے گمان کرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔
38-1یعنی مٹی کو آگ میں تپا کر اینٹیں تیار کر، ہامان، فرعون کا وزیر، مشیر اور اس کے معاملات کا انتظام کرنے والا تھا۔ 38-2یعنی ایک اونچا اور مضبوط محل تیار کر، جس پر چڑھ کر میں آسمان پر یہ دیکھ سکوں کہ وہاں میرے سوا کوئی اور رب ہے۔ 38-3یعنی موسیٰ ؑ جو یہ دعوی کرتا ہے کہ آسمانوں پر رب ہے جو ساری کائنات کا پالن ہار ہے، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
(آیت 38) ➊ { وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ:} سرکش اور مغرور فرعون پر موسیٰ علیہ السلام کی اتنی نرم اور حلم والی بات کا کچھ اثر نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنے سرداروں کو مخاطب کر کے لاف زنی شروع کر دی کہ ”اے سردارو! میں نے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں جانا۔“ اس سے فرعون کے تکبر کا اور اس کی حماقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ گویا وہ انھیں کہہ رہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمھارا کوئی معبود ہو اور جو مجھے معلوم نہیں وہ ہے ہی نہیں۔ بتائیے اس سے بڑی بے وقوفی کیا ہو گی۔ تمھیں تو یہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ تمھارے گھر میں کس کی پرورش ہو رہی ہے؟ اس کی قوم کے سرداروں نے بھی اس کی اس یا وہ گوئی پر خاموش رہ کر اس کی تائید کی، جو ان کی جہالت اور بزدلی کی انتہا تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ }» [ الزخرف: ۵۴ ] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔“ ➋ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شاہ صاحب رحمہ اللہ نے یہاں ”الٰہ“ (خدا) کا ترجمہ حاکم کیا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ فرعون اپنے آپ کو ارض و سماء کا خالق اور معبود نہیں سمجھتا تھا، بلکہ وہ خود بہت سے دیوتاؤں کی پرستش کرتا تھا۔ پس فرعون کا مطلب یہ تھا کہ میں ہی تمھارا مطاع اور حاکم مطلق ہوں، میرے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا، جس کی فرماں برداری کی جائے۔“ (اشرف الحواشی) فرعون کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۲۷) کی تفسیر۔ ➌ {فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيْنِ …:} اپنے اس دعوے کے ساتھ کہ مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی الٰہ معلوم نہیں، فرعون نے یہ دکھانے کے لیے کہ واقعی اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ یہاں قرآن مجید کے الفاظ کے انتخاب پر توجہ فرمائیں، عربی زبان میں پکی اینٹ کے لیے {”آجُرٌّ، طُوْبٌ “} اور {” قَرْمَدٌ “} وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں، مگر ان سب کی ادائیگی میں ایک قسم کا ثقل پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بجائے فرمایا: «{ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيْنِ }» ”تو اے ہامان! میرے لیے مٹی پر آگ جلا“ اس جملے میں پختہ اینٹ بنانے کا طریقہ بھی بیان ہو گیا، ہامان کو اس کی تیاری کا حکم بھی اور اس جملے کے کسی لفظ میں کسی قسم کا کوئی ثقل بھی نہیں آیا، سب حروف متناسب اور سلیس ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پختہ اینٹ بنانے کی ابتدا ہامان نے فرعون کے حکم سے کی، مگر اس کی کوئی پختہ دلیل نہیں کہ اس سے پہلے پختہ اینٹیں نہیں بنتی تھیں۔ ➍ { فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا …:} لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے اس نے یہ حکم دیا کہ پختہ اینٹیں تیار کر کے میرے لیے ایک بلند و بالا محل بنا، تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے رب کو دیکھوں، کیونکہ میں تو اسے جھوٹا ہی گمان کرتا ہوں۔ فرعون کی یہ بات سورۂ مومن (۳۶، ۳۷) میں بھی بیان ہوئی ہے۔ قرآن مجید یا حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ اس نے وہ محل بنایا یا نہیں۔ بغوی نے ذکر کیا ہے کہ ہامان نے کاریگر اور مزدور جمع کیے، حتیٰ کہ پچاس ہزار مستری جمع ہو گئے۔ مزدور اور کارکن اس کے علاوہ تھے۔ اسی طرح اینٹیں پکانے والے، چونا بنانے والے، لکڑی اور لوہے کا کام کرنے والے بھی ان کے علاوہ تھے۔ ان سب نے وہ عمارت بنائی جو اتنی بلند تھی کہ مخلوق میں سے کسی نے اتنی بلند عمارت نہیں بنائی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو فرعون اس کے اوپر چڑھا اور اس نے آسمان کی طرف تیر پھینکنے کا حکم دیا، وہ واپس آیا تو خون سے لت پت تھا۔ کہنے لگا، میں نے موسیٰ کے معبود کو قتل کر دیا۔ فرعون گھوڑے کے ساتھ اس پر چڑھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج غروب ہونے کے قریب جبریل علیہ السلام کو بھیجا، انھوں نے اس عمارت پر اپنا پر مارا اور اسے تین ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر پر گرا، جس نے ان میں سے دس لاکھ آدمیوں کو ہلاک کر دیا، ایک ٹکڑا سمندر میں گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں جا گرا اور اس عمارت کے بنانے میں جس نے کچھ بھی کام کیا تھا، کوئی باقی نہ رہا۔ طبری نے اسے اختصار کے ساتھ سدی سے بیان کیا ہے۔ قرطبی نے اسے ذکر کر کے اس کے کمزور ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے: {”وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذٰلِكَ“} کہ اس روایت کی صحت کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اسرائیلی روایات کی یہی مصیبت ہے کہ ان کی کوئی سند ہوتی ہے نہ ان کا سرا کہیں جا کر ملتا ہے۔ اس زمانے میں صرف مصر کے اندر دس لاکھ کے لشکر کی بات بھی قابل توجہ ہے۔ حقیقت یہی معلوم ہوتی ہے اور اکثر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ یہ فرعون کی محض گیدڑ بھبکی تھی، جس کے ساتھ وہ اپنی قوم کو بے وقوف بنا رہا تھا۔ اینٹیں بنانے کا حکم بھی اس نے معاملے کو لٹکانے کے لیے دیا، ورنہ مصری لوگوں کو اینٹوں کی ضرورت ہی نہ تھی، جو لوگ اہرام مصر اتنے بڑے بڑے پتھروں سے بنا سکتے ہیں، جن میں سے ہر پتھر کا حجم عام کمرے کے مکمل حجم کے برابر ہے، انھیں اینٹیں پکانے کی ضرورت کیا تھی۔ یہ صرف وقت گزاری کی کارروائی تھی، ویسے بلند و بالا پہاڑوں کے ہوتے ہوئے اینٹوں سے عمارت بنانے کا حکم دینا، جو کسی طرح بھی پہاڑوں جتنی بلند نہیں ہو سکتی، محض دھوکا تھا۔ جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا: «{ ذَرُوْنِيْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْيَدْعُ رَبَّهٗ }» [ المؤمن: ۲۶ ] ”(اور فرعون نے کہا) مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔“ بندہ پوچھے تمھیں کس نے پکڑا ہوا ہے، جسے چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہو! ہمت ہے تو ہاتھ بڑھا کر تو دیکھو۔ ➎ مفسر عبدالرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ بات دراصل اس نے اپنی رعایا کو اُلّو بنانے اور ان سے دعوت حق کے اثر کو زائل کرنے کے لیے کہی تھی اور یہ بالکل ایسی ہی بات تھی جیسی چند برس پیشتر روس نے، جو ایک کمیونسٹ اور دہریت پسند ملک ہے، کہی تھی۔ اس نے اپنا ایک سپوتنک طیارہ چھوڑا جو چند لاکھ میل بلندی تک پہنچا تو واپسی پر ان لوگوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہم اتنے لاکھ میل کی بلندی تک ہو آئے ہیں، مگر ہمیں مسلمانوں کا خدا کہیں نہیں ملا۔ یعنی ان احمقوں کا یہ خیال تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے تو یہی چند لاکھ میلوں کی بلندی پر ہی ہو سکتی ہے اور اس واقعہ کو بھی انھوں نے لوگوں کو اُلّو بنانے کے لیے ہی سائنٹفک دلیل کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہی لوگ جب کائنات کی وسعت کا حال بتاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سورج ہماری زمین سے ۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل دور ہے اور زمین اس کے گرد گردش کر رہی ہے۔ یہ اس سورج کا تیسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد نواں سیارہ پلوٹو گردش کرتا ہے، جو سورج سے ۳ ارب ۶۸ کروڑ میل کے فاصلے پر ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات میں نظام شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے اور کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے یا ثوابت مشاہدہ کیے جا چکے ہیں اور یہ ستارے یا سورج ہمارے سورج سے جسامت کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں۔ ہمارے سورج سے بہت دور تقریباً ۴۰۰ کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سورج موجود ہے، جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا نام قلب عقرب ہے۔ اگر اسے اٹھا کر ہمارے نظام شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے مریخ تک کا تمام علاقہ اس میں پوری طرح سما جائے گا، جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ ۱۴ کروڑ ۱۵ لاکھ میل ہے، گویا قلب عقرب کا قطر ۲۸ کروڑ ۳۰ لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔ پھر جب کائنات میں ہر سو بکھرے سیاروں کے فاصلے کھربوں میل کے عدد سے بھی تجاوز کر گئے تو ہیئت دانوں نے نوری سال کی اصطلاح ایجاد کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ہماری زمین سے سورج کا فاصلہ جو حقیقتاً ۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل ہے، روشنی کا یہ سفر آٹھ منٹ کا سفر ہے، گویا سورج ہم سے آٹھ نوری منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اب کائنات میں ایسے سیارے بھی موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ہزارہا بلکہ لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر ہیں۔ یہ تو ہے کائنات کی وسعت کا وہ مطالعہ جو انسان کر چکا ہے اور جو ابھی انسان کے علم میں نہیں آسکا، وہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ اب کیا وہ ہستی جو ان ساری چیزوں کی خالق اور ان سب سے اوپر ہے، کیا یہ احمق اسے چند لاکھ میلوں کی بلندی پر پالیں گے؟ نیز وہ سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کوئی مادی جسم ہے، جو ان کی گرفت میں آسکتا ہے۔ [قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُوْفَکُوْنَ] اس سے بڑی حماقت ان روسی داناؤں نے یہ کی کہ اپنی سائنٹفک تحقیق کو اپنے سکولوں میں پڑھانا شروع کر دیا، تو ایک لڑکی کے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ نکل گیا کہ جہاں تک سپوتنک میزائل پہنچا تھا اللہ تعالیٰ اس سے بہت اوپر تھا۔ فرعون نے بھی ہامان سے ایسی ہی بات کہی تھی، جس سے لوگوں کو اللہ کی ہستی کے بارے میں شک میں مبتلا کر دے، ورنہ عملاً نہ ہامان نے کوئی ایسا اونچا محل یا مینار بنایا تھا اور نہ ہی فرعون کا یہ مقصد تھا۔“ ➏ { وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ:} یعنی موسیٰ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آسمانوں پر رب ہے جو ساری کائنات کو پالنے والا ہے، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا اور سمجھ لیا کہ وه ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون اور اس کی فوجوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اور اس کے لشکر کسی حق کے بغیر زمین میں بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے گمان کیا کہ بے شک وہ ہماری طرف واپس نہیں لائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔
39-1زمین سے مراد ارض مصر ہے جہاں فرعون حکمران تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا، یعنی ان کے پاس کوئی دلیل ایسی نہیں تھی جو موسیٰ ؑ کے دلائل معجزات کا رد کرسکتے لیکن استکبار بلکہ ان کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے ہٹ دھرمی اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔
(آیت 39) ➊ {وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ: ” الْاَرْضِ “} سے مراد زمین مصر ہے۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔ ➋ {وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ:} یعنی چند روزہ اقتدار پاکر وہ سمجھ بیٹھے کہ ان کے اوپر کوئی ہستی نہیں، جس کے سامنے مر کر انھیں پیش ہونا ہے، لہٰذا کھلی چھٹی ہے جو چاہیں کریں اور ملک میں جو فساد پھیلانا چاہیں پھیلاتے رہیں۔
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا برد کر دیا، اب دیکھ لے کہ ان گنہگاروں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستمگاروں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے اسے اور اس کی فوجوں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا تو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ سودیکھ ظالموں کا انجام کیسا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔
40-1یعنی جب ان کا کفر و طغیان حد سے بڑھ گیا اور کسی طرح بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوئے تو بالآخر ایک صبح ہم نے انھیں دریا میں غرق کردیا۔
(آیت 40) ➊ { فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ: ” نَبَذَ يَنْبِذُ “} پھینک مارنا۔ اس مقام پر درمیان کے بہت سے واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں، جو دوسرے مقامات پر مذکور ہیں، یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کے بے حقیقت ہونے کی تصویر کھینچ دی ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، جب وہ مہلت ختم ہو گئی جو اللہ تعالیٰ نے انھیں راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی تو انھیں کوڑے کرکٹ کی طرح سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ➋ { فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ:} اس میں ہر عبرت حاصل کرنے والے شخص کو ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی انجام ان لوگوں کا ہو گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلائیں گے۔
ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کیے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں ہم نے دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں ایسا پیشوا قرار دیا ہے جو (لوگوں کو) آتش (دوزخ) کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔
41-1یعنی جو بھی ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید یا اس کے وجود کے منکر ہوں گے، تو ان کا امام و پیشوا یہی فرعونی سمجھے جائیں گے جو جہنم کے داعی ہیں۔
(آیت 41) ➊ {وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ: ” اَىِٕمَّةً “ ”إِمَامٌ“} کی جمع ہے، جس کی پیروی کی جائے، جیسا کہ نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرتا ہے۔ امامت نیکی میں بھی ہوتی ہے اور برائی میں بھی، جیسا کہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا }» [ الأنبیاء: ۷۳ ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔“ برائی میں امامت کی مثال فرعون اور اس کے لشکر تھے۔ فرمایا، ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے، یعنی جب تک زندہ رہے کفر میں لوگوں کے پیشوا رہے اور اپنے قول و فعل سے انھیں کفر کی دعوت دیتے رہے، جس کا نتیجہ آگ ہے۔ اسی طرح یہ قیامت کے دن بھی امام اور پیشوا ہوں گے، مگر آگ کی طرف، فرمایا: «{ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ }» [ ھود: ۹۸ ] ”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔“ ➋ { وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ:} یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے، نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وه بدحال لوگوں میں سے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی اور قیامت کے دن ان کا برا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے اور قیامت کے دن قبیح المنظر لوگوں میں سے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن وہ دور دفع کیے گئے لوگوں سے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعونیوں کا انجام ٭٭
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (بھٹہ) بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] میں بھی ہے۔
چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔
42-1یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بد حال ہونگے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔
(آیت 42) ➊ {وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً:} یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ ➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ: ” الْمَقْبُوْحِيْنَ “ ” أَيْ مَطْرُوْدِيْنَ“} یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت ورحمت ہوکر آئی تھی تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد بالیقین ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کیلئے بصیرتوں کا مجموعہ اور سراپا ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کو تورات کا انعام ٭٭
اس آیت میں ایک لطیف بات یہ ہے کہ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد والی امتیں اس طرح عذاب آسمانی سے ہلاک نہیں ہوئیں بلکہ جس امت نے سرکشی کی اس کی سرکشی کا بدلہ اسی زمانے کے نیک لوگوں کے ہاتھوں اللہ نے اسے دلوایا۔ مومنین مشرکین سے جہاد کرتے رہے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِ فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً» [69-الحاقة:10-9] ، یعنی ’ فرعون اور جو امتیں اس سے پہلے ہوئیں اور الٹی ہوئی بستی کے رہنے والے یعنی قوم لوط یہ سب لوگ بڑے بڑے قصوروں کے مرتکب ہوئے اور اپنے زمانے کے رسولوں کی نافرمانیوں پر کمر کس لی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بھی بڑی سخت پکڑ سے پکڑ لیا ‘۔ اس گروہ کی ہلاکت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے انعام موسیٰ «الْكَلِيم عَلَيْهِ مِنْ رَبّه أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» پر نازل ہوتے رہے جن میں سے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر یہاں ہے کہ انہیں تورات ملی۔ اس تورات کے نازل ہونے کے بعد کسی قوم کو آسمان کے یا زمین کے عام عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا سوائے اس بستی کے چند مجرموں کے جنہوں نے اللہ کی حرمت کے خلاف ہفتے کے دن شکار کھیلا تھا اور اللہ نے انہیں سور اور بندر بنا دیا تھا۔ یہ واقعہ بیشک موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ جیسے کہ ابوسیعد خدری رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور اس کے بعد ہی آپ نے اپنے قول کی شہادت میں یہی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [28-القص:43] کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [مسند بزار:2247:صحیح] ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی قوم کو عذاب آسمانی یا زمینی سے ہلاک نہیں کیا۔ اسے عذاب جتنے آئے آپ علیہ السلام سے پہلے آئے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ پھر تورات کے اوصاف بیان ہور ہے ہیں کہ وہ کتاب کو اندھاپے سے گمراہی سے نکالنے والی تھی اور حق کی ہدات کرنے والی تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی رحمت سے تھی نیک اعمال کی ہادی تھی۔ تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور نصیحت بھی۔ اور راہ راست پر آجائیں۔
43-1یعنی فرعون اور اس کی قوم یا نوح و عاد وثمود وغیرہ قوم کی ہلاکت کے بعد موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) دی۔ 43-2جس سے وہ حق کو پہچان لیں اور اسے اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ 43-3یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کریں جو انھیں خیر و رشد اور فلاح حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔
(آیت 43) {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا …:} یہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور اس پر اعتراضات کا جواب شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ ہم نے یہ بات پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی، جیسا کہ فرمایا: «{مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ}» [ صٓ: ۷ ] ”ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔“ زیر تفسیر آیت سے پہلے آیت (۳۶) میں گزرا ہے کہ یہی اعتراض فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام پر کیا تھا: «{وَ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ }» ”اور ہم نے یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنی۔“ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے پہلی نسلوں قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد جب ہر طرف گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی جو اس وقت کے لوگوں کے لیے ایسے دلائل لیے ہوئے تھی جن سے دل کی آنکھ روشن ہوتی ہے اور جو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں لانے والی اور عذاب سے بچا کر رحمت کا مستحق بنانے والی تھی۔ اور یہ اعتراض بے کار تھا کہ ہم نے اپنے پہلے باپ دادا میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اسی لیے تو موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا کہ مدت دراز تک رسول نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت اور روشنی کی ضرورت تھی۔ اسی طرح بنی اسماعیل میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بعد ہزاروں سال کا وقفہ واقع ہو جانے کی وجہ سے ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت تھی۔ بنی اسرائیل کی طرف آنے والے آخری رسول عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تاکہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔ یہی بات آگے آیت (۴۷) میں آرہی ہے اور اس سے پہلے سورۂ مائدہ میں بھی گزر چکی ہے، فرمایا: «{ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ }» [ المائدۃ: ۱۹ ] ”اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوش خبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمھارے پاس ایک خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“
(اے محمدؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور طور کے مغربی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور تم طور کی جانت مغرب میں نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) آپ (کوہِ طور کی) مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ سے (نبوت و رسالت) کا معاملہ طے کیا تھا اور نہ ہی آپ وہاں حاضرین میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی اور نہ تو حاضر ہونے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ‘۔ مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:44] ، ’ جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ‘۔ پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:49] ، ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں ‘۔ سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» ۱؎ [12-يوسف:102] کہ ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے ‘۔ سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» ۱؎ [20-طه:99] ’ اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ’ تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں ‘۔ تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔ نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا }۔ مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:10] ’ جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی ‘ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16] میں ہے کہ ’ وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» ۱؎ [19-مريم:52] کہ ’ طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں ‘۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:156،157] ’ یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی ‘۔ اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ’ رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [5-المائدة:19] ، ’ اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا ‘۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
44-1یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا اور اسے وحی و رسالت سے نوازا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تجھے بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں نہ خود ہی مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ) 3۔ آل عمران:44) (تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ) 11۔ ہود:49) (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ) 11۔ ہود:10)، (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ) 12۔ یوسف:12)، (كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا) 20۔ طہ:99) وغیرہ میں۔
(آیت 44) ➊ { وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ …: ” بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ “} میں {”جَانِبٌ“} موصوف ہے جو اپنی صفت کی طرف مضاف ہے اور یہ کلام عرب میں عام ہے، جیسے {”مَسْجِدُ الْجَامِعِ، دِيْنُ الْقَيِّمِ، حَقُّ الْيَقِيْنِ“} اور {”دَارُ الْآخِرَةِ۔“} بعض نحوی حضرات جو موصوف کو صفت کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان سب مقامات میں کوئی نہ کوئی لفظ محذوف مانتے ہیں، مثلاً {” بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ “} کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ اصل میں {”بِجَانِبِ الْمَكَانِ الْغَرْبِيِّ“} ہے۔ مگر اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جانب سے کس مقام کی مغربی جانب مراد ہے؟ کیونکہ ہر جگہ ہی کسی نہ کسی لحاظ سے مغربی ہوتی ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ عرب کے ہاں سمتوں کے تعین کے لیے بیت اللہ کو اصل قرار دیا گیا ہے۔ بیت اللہ کو سامنے رکھ کر مشرق کی طرف منہ کریں تو دائیں طرف کے علاقے کو یمن (دایاں) کہتے ہیں، بائیں طرف کو شام (بایاں) اور سامنے کے علاقے کو جانب شرقی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف منہ کر کے فرمایا: [ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هٰهُنَا مِنْ حيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ] [ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب الفتنۃ من المشرق…: ۲۹۰۵۔ بخاري: ۳۵۱۱ ] ”آگاہ ہو جاؤ! اس (یعنی مشرق کی) طرف سے فساد پھوٹے گا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ اور بیت اللہ سے مغرب کی جانب والے علاقوں کو ”جانب غربی“ کہا جاتا ہے۔ امرء القیس نے ایک بادل کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے: {عَلٰي قَطَنٍ بِالشَّيْمِ أَيْمَنُ صَوْبِهِ وَ أَيْسَرُهُ عَلَي السِّتَارِ فَيَذْبُلِ } ”غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔“یہاں دائیں اور بائیں جانب سے مراد مشرق کی طرف منہ کرنے کے بعد دائیں اور بائیں جانب مراد ہے۔ واضح رہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جب طور سے ندا آئی تو اس وقت وہ طور سے اس جانب میں تھے جو کعبہ کی طرف رخ کرنے سے اس کی غربی جانب بنتی ہے اور اس وقت وہ جس وادی میں تھے وہ موسیٰ علیہ السلام کے کعبہ کی طرف رخ کرنے کی صورت میں پہاڑ کی دائیں طرف تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے {” الْوَادِ الْاَيْمَنِ “} اور {” بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى “} فرمایا ہے۔ ➋ ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کے حق ہونے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی اور انھیں نبوت عطا فرمائی، اس وقت اے محمد! نہ تو طور کی غربی جانب میں موجود تھا، نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا اور نہ تو اس سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتا تھا (دیکھیے عنکبوت: ۴۸) بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے تجھے وحی کے ذریعے سے بتلائی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا رسول ہے، کیونکہ تو نے نہ خود ان باتوں کا مشاہدہ کیا، نہ یہ کسی سے سیکھیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، سورۂ آل عمران میں ہے: «{ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَ مَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ }» [ آل عمران: ۴۴ ] ”یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، ہم اسے تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے۔“ اور دیکھیے سورۂ ہود (۴۹ اور ۱۰۰)، یوسف (۱۰۲) اور طٰہٰ(۹۹)۔
بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے تم اہلِ مَدیَن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں، اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے رہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں کہ ان پر زمانہ دراز گزرا اور نہ تم اہلِ مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن ہم نے (اس اثناء میں) کئی نسلیں پیدا کیں اور ان پر زمانہ دراز گزر گیا ہے (اور ہمارے عہد و پیمان کو بھلا دیا) اور نہ ہی آپ مدین والوں میں مقیم تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے لیکن ہم (آپ کو) رسول بنا کر بھیجنے والے تھے (اس لئے ان کے حالات سے آپ کو آگاہ کیا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی اور نہ تو اہل مدین میں رہنے والا تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتا ہو اور لیکن ہم ہمیشہ رسول بھیجنے والے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ‘۔ مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:44] ، ’ جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ‘۔ پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:49] ، ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں ‘۔ سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» ۱؎ [12-يوسف:102] کہ ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے ‘۔ سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» ۱؎ [20-طه:99] ’ اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ’ تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں ‘۔ تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔ نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا }۔ مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:10] ’ جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی ‘ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16] میں ہے کہ ’ وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» ۱؎ [19-مريم:52] کہ ’ طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں ‘۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:156،157] ’ یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی ‘۔ اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ’ رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [5-المائدة:19] ، ’ اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا ‘۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
45-1قرون، قرن کی جمع ہے، زمانہ لیکن یہاں امتوں کے معنی میں ہے یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اور موسیٰ ؑ کے درمیان جو زمانہ ہے اس میں ہم نے کئی امتیں پیدا کیں۔ 45-2یعنی مراد ایام سے شرائع و احکام بھی متغیر ہوگئے اور لوگ بھی دین کو بھول گئے، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے حکموں کو پس پشت ڈال دیا اور ان کے عہد کو فراموش کردیا اور یوں اس کی ضرورت پیدا ہوگئی کہ ایک نئے بنی کو معبوث کیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ طول زماں کی وجہ سے عرب کے لوگ نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے، اس لئے آپ کی نبوت پر انھیں تعجب ہو رہا ہے اور اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ 45-3جس سے آپ خود اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ ہوجاتے۔ 45-4اور اسی اصول پر ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور پچھلے حالات و واقعات سے آپ کو باخبر کر رہے ہیں۔
(آیت 45) ➊ { وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ:} یعنی آپ اس وقت موجود نہیں تھے، لیکن ہم نے موسیٰ علیہ السلام سے لے کر آپ تک بہت سی نسلیں اور قومیں پیدا کیں، جن پر سیکڑوں ہزاروں سال کی لمبی مدت گزر گئی۔ جس سے اصل واقعات اور دین کے صحیح احکام اپنی اصل صورت پر باقی نہ رہے، لہٰذا ضرورت تھی کہ نئے پیغمبر کے ذریعے سے دین اور شریعت کو صحیح، مکمل اور آخری صورت میں پیش کیا جائے، اس لیے ہم نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ تمام واقعات وحی کے ذریعے سے آپ کو بتائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ لمبی مدتیں گزرنے کی وجہ سے اہل عرب نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے تھے، اس لیے انھیں آپ کی نبوت پر تعجب ہو رہا ہے اور وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ➋ {وَ مَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْۤ اَهْلِ مَدْيَنَ …:} یعنی موسیٰ علیہ السلام کو ”مدین“ جا کر جو واقعات پیش آئے، ان کے اتنی صحت اور خوبی کے ساتھ بیان کرنے سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت آپ وہاں رہائش رکھتے تھے، سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، یا ان سے سیکھ رہے تھے اور انھیں اس طرح ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے تھے جیسے اب اہل مکہ کو سناتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اس وقت اہل مدین میں مقیم نہیں تھے کہ انھیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہوں۔ بعض مفسرین نے {” تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا “} کو حال بنایا ہے اور {” عَلَيْهِمْ “} سے مراد اہل مکہ لیے ہیں۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ اہل مکہ کے سامنے موسیٰ علیہ السلام اور اس بزرگ کے متعلق ہماری آیات کی تلاوت کرتے وقت تو اہل مدین میں مقیم نہیں تھا کہ سب کچھ دیکھ کر انھیں سنا رہا ہو، بلکہ یہ سب کچھ ہماری وحی کے ذریعے سے ہوا۔ ➌ { وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ:} لیکن بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سے پیغمبر بھیجتے رہے ہیں، جو لوگوں کو غفلت سے بیدار کرتے اور ہمارے احکام سے آگاہ کرتے رہے۔ اب اسی عادت کے مطابق ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر یہ آخری کتاب نازل فرمائی، تاکہ لمبی مدتیں گزرنے کے بعد لوگ پھر صحیح دین اور اصل واقعات سے آگاہ ہو جائیں۔
اور تم طور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تم کو یہ معلومات دی جار ہی ہیں) تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ آپ کوہ طور کے دامن میں موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) ندا دی تھی لیکن یہ (آپ کا مبعوث برسالت ہونا) آپ کے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ تو پہاڑ کے کنارے پر تھا جب ہم نے آواز دی اور لیکن تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ‘۔ مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:44] ، ’ جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ‘۔ پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:49] ، ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں ‘۔ سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» ۱؎ [12-يوسف:102] کہ ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے ‘۔ سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» ۱؎ [20-طه:99] ’ اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ’ تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں ‘۔ تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔ نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا }۔ مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:10] ’ جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی ‘ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16] میں ہے کہ ’ وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» ۱؎ [19-مريم:52] کہ ’ طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں ‘۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:156،157] ’ یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی ‘۔ اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ’ رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [5-المائدة:19] ، ’ اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا ‘۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
46-1یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ ؑ کے واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔ 46-2یعنی آپ کا علم، مشاہدہ روئیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔ 46-3اس سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعث بنی اسرائیل کی طرف سے ہی ہوتی رہی بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نبی تھے اور سلسلہ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیاء کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لئے کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لئے باقی نہیں چھوڑا ہے۔
(آیت 46) ➊ { وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا:} ان تینوں آیات میں {” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق اور صدق پر ہونے کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جب آپ ان مقامات میں سے کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھر بھی ان کے بارے میں اصل حقائق کو صحیح طور پر اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان کرتے ہیں تو یہ اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کی وحی آپ کے پاس آتی ہے جس کے ذریعے سے آپ یہ سب کچھ اتنی صحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ➋ { ” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے، نہ وہ عالم الغیب ہوتے ہیں۔ انھیں جو علم ہوتا ہے وحی کے ذریعے سے ہوتا ہے اور وہ بھی اتنا جتنی وحی کی جائے۔ ➌ { وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ:} یعنی آپ کو یہ واقعات اس لیے معلوم نہیں ہوئے کہ آپ ان مواقع پر موجود تھے، یا انھیں دیکھ رہے تھے، بلکہ یہ آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور وحی سے نوازا۔ ➍ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ …:} اس قوم سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں۔ ان میں ابراہیم، اسماعیل اور شعیب علیھم السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہزاروں برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچتی رہیں، مثلاً موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام کی دعوت، کیونکہ اس کے بغیر ان کا کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عذر کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا، مگر خاص اس سر زمین میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہاں آخری پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳) اور یٰس (۱ تا ۶)۔
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں "اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ بات نہ ہوتی کہ انہیں ان کے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں سے ہو جاتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے
علامہ محمد حسین نجفی
(اور شاید ہم رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اگر ان کے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں کوئی مصیبت پہنچے تو وہ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچے گی جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا توکہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دلیل نبوت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ‘۔ مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:44] ، ’ جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ‘۔ پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [11-ھود:49] ، ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں ‘۔ سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» ۱؎ [12-يوسف:102] کہ ’ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے ‘۔ سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» ۱؎ [20-طه:99] ’ اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ’ تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں ‘۔ تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔ نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا }۔ مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:10] ’ جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی ‘ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ۱؎ [79-النازعات:16] میں ہے کہ ’ وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» ۱؎ [19-مريم:52] کہ ’ طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں ‘۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:156،157] ’ یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی ‘۔ اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] میں ہے ’ رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [5-المائدة:19] ، ’ اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا ‘۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔
47-1یعنی ان کے اسی عذر کو ختم کرنے کے لئے ہم نے آپ کو ان کی طرف بھیجا ہے کیونکہ طول زمانی کی وجہ سے گزشتہ انبیاء کی تعلیمات مسخ اور ان کی دعوت فراموش ہوچکی ہے اور ایسے ہی حالات کسی نئے نبی کی ضرورت کے متقاضی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات (قرآن و حدیث) کو مسخ ہونے اور تغیر و تحریف سے محفوظ رکھا اور ایسا تکوینی انتظام فرما دیا ہے جس سے آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل پہنچ رہی ہے تاکہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ اور جو شخص اس ' ضرورت ' کا دعو یٰ کر کے نبوت کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ جھوٹا اور دجال ہے۔
(آیت 47) ➊ {وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ …:} یعنی عرب کے لوگوں کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی پیغمبر بھیجے بغیر بھی ان پر عذاب بھیجتا تو ظلم نہ ہوتا، کیونکہ ان پر جو مصیبت آتی ان کے ہاتھوں کی کمائی ہوتی، مگر اس نے احسان فرمایا اور ان کے لیے عذر کا کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ وہ کہہ سکیں کہ پروردگارا! تو نے ہماری طرف کوئی پیغام پہنچانے والا کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں شامل ہو جاتے۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اس لیے بھیجے کہ لوگوں کے پاس کفرو شرک کا کوئی عذر باقی نہ رہے، قرآن میں کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۵)، انعام (۱۵۶، ۱۵۷)، مائدہ (۱۹) اور سورۂ فاطر (۲۴) وغیرہ۔ ➋ {” وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ “} کا جواب محذوف ہے، جو سلسلہ کلام سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے عذاب آنے پر یہ لوگ کہیں گے کہ پروردگارا! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا، {” لَعَجَّلْنَا لَهُمُ الْعَذَابَ“} (تو ہم ان پر جلدی عذاب بھیج دیتے)، یا {” لَمَا أَرْسَلْنَا رَسُوْلًا“} (تو ہم کوئی رسول نہ بھیجتے)۔
مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آ گیا تو وہ کہنے لگے "کیوں نہ دیا گیا اِس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟" کیا یہ لوگ اُس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا "دونوں جادوگر ہیں جو ایک دُوسرے کی مدد کرتے ہیں" اور کہا "ہم کسی کو نہیں مانتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وه کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا، صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ان کے پاس حق آیا ہماری طرف سے بولے انہیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آگیا (آخری برحق رسول آگیا) تو کہنے لگے اس (رسول) کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا کیا انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہتے تھے کہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آگیا تو انھوں نے کہا اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں؟ تو کیا انھوںنے اس سے پہلے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ انھوں نے کہا یہ دونوں (مجسم) جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور کہنے لگے ہم تو ان سب سے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ’ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے ‘۔ بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» ۱؎ [10-يونس:78] ’ یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے ‘۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:48] ’ دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے ‘۔ یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔ مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ’ تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں ‘۔ تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے ‘۔ اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:154] ’ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30] کہ ’ انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ‘۔ ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» ۱؎ [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔ انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ’ ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں ‘۔ اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
48-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کے سے معجزات، جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا وغیرہ 48-2یعنی مطلوبہ معجزات، اگر دکھا بھی دیئے جائیں تو کیا فائدہ، جنہیں ایمان نہیں لانا، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔ کیا موسیٰ ؑ کے مذکورہ معجزات دیکھ کر فرعونی مسلمان ہوگئے تھے، انہوں نے کفر نہیں کیا؟ یا یکفُروا کی ضمیر قریش مکہ کی طرف ہے یعنی کیا انہوں نے نبوت محمدیہ سے پہلے موسیٰ ؑ کے ساتھ کفر نہیں کیا۔ 48-3پہلے مفہوم کے اعتبار سے دونوں سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ہوں گے اور دوسرے مفہوم اس سے قرآن اور تورات مراد ہونگے یعنی دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم سب کے یعنی موسیٰ ؑ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔ (فتح القدیر)
(آیت 48) ➊ { فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا …:} یعنی رسول نہ بھیجتے تو بہانہ ہوتا کہ رسول کیوں نہ بھیجا، اب ہماری طرف سے رسول آیا تو ضد اور عناد سے کہنے لگے کہ اسے اس قسم کے معجزات کیوں نہیں دیے جو موسیٰ کو دیے گئے تھے، مثلاً عصا، یدِبیضا، سمندر کا پھٹنا، بادلوں کا سایہ کرنا، پتھر سے بارہ چشمے پھوٹنا، من و سلویٰ کا اترنا، اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا اور تورات کا الواح کی شکل میں نازل ہونا وغیرہ۔ معلوم ہوا نہ ماننا ہو تو بہانے ختم نہیں ہوتے۔ ➋ مفسر رازی فرماتے ہیں: ”ان لوگوں نے جو مطالبہ کیا ضروری نہیں تھا کہ اسی طرح ہوتا، کیونکہ نہ تمام انبیاء کے معجزات کا ایک ہونا لازم ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ ان پر اترنے والی کتاب ایک ہی طرح نازل ہو، کیونکہ کبھی کتاب کا اکھٹا نازل ہونا بہتر ہوتا ہے جیسے تورات اور کبھی جدا جدا کر کے نازل کرنا بہتر ہوتا ہے، جیسے قرآن۔“ ➌ { اَوَ لَمْ يَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ:} یعنی ان کے طلب کردہ معجزات اگر دکھا بھی دیے جائیں تو کیا فائدہ؟ جنھوں نے طے کر لیا ہے کہ ایمان نہیں لانا، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیا ان کے ہم جنس لوگوں نے جو ان جیسا مذہب اور ان جیسا عناد رکھنے والے تھے، یعنی موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے کافر، انھوں نے ان معجزات کا انکار نہیں کیا تھا جو موسیٰ کو دیے گئے تھے؟ انھوں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کے متعلق کہا تھا کہ یہ (اتنے بڑے جادوگر ہیں کہ) مجسم جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور انھوں نے کہا تھا کہ ہم تو ان سب سے منکر ہیں۔ یہ معنی درست ہے، مگر اس سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ{ ” اَوَ لَمْ يَكْفُرُوْا …“} (کیا انھوں نے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئیں) میں انکار کرنے والوں سے مراد قریش ہی ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ معجزے لانے کا مطالبہ کیا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے۔ اس معنی کے زیادہ صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ{” فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ “} سے لے کر {” وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ “} تک سب باتیں کہنے والے وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمایا: «{ قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ }» ”کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو۔“ ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہنے کا حکم ان لوگوں کے لیے تھا جو آپ کے مخاطب تھے اور وہ قریش تھے، یا آپ کے زمانے کے دوسرے کفار، کیونکہ وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی کے منکر نہ تھے بلکہ اس سے پہلی نبوتوں کے بھی منکر تھے، وہ نہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا کر ان کے تابع دار بنے، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے زمانے کے کفار کا قول نقل فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ}» [ سبا: ۳۱ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے۔“ مطلب یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے جن معجزوں کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں ان معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ کب ایمان لائے تھے جو اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ خود کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی انھوں نے ان کو نبی مان کر ان کی پیروی کبھی قبول نہیں کی۔ ➍ { قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا:} یعنی قرآن اور تورات دونوں جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہی نقل فرمایا ہے۔ آسمانی کتابوں میں قرآن کے بعد سب سے عظیم الشان کتاب تورات ہے، موسیٰ علیہ السلام کے بعد تمام انبیاء بشمول عیسیٰ علیہ السلام اسی پر عمل پیرا رہے، اس لیے قرآن میں عموماً تورات اور قرآن کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ }» [ الأنعام:۹۱ ] ”کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی۔“ یہاں تورات کے نور اور ہدایت ہونے کا ذکر فرمایا، پھر قرآن کے متعلق فرمایا: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ }» [ الأنعام: ۹۲] ”اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے۔“ اسی سورۂ انعام کے آخر میں فرمایا: «{ ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيْۤ اَحْسَنَ }» [ الأنعام: ۱۵۴ ] ”پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لیے جس نے نیکی کی۔“ اور اس سے اگلی آیت میں قرآن کا ذکر فرمایا: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ }» [ الأنعام: ۱۵۵ ] ”اور یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
(اے نبیؐ،) ان سے کہو، "اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیاده ہدایت والی ہو میں اسی کی پیروی کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے! کہ تم سچے ہو تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں (توراۃ، قرآن) سے زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو میں اسی کی پیروی کروں گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو کہ میں اس کی پیروی کروں، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ’ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے ‘۔ بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» ۱؎ [10-يونس:78] ’ یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے ‘۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:48] ’ دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے ‘۔ یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔ مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ’ تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں ‘۔ تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے ‘۔ اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:154] ’ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30] کہ ’ انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ‘۔ ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» ۱؎ [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔ انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ’ ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں ‘۔ اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
49-1یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ قرآن مجید اور تورات دونوں جادو ہیں، تو تم کوئی اور کتاب الٰہی پیش کردو، جو ان سے زیادہ ہدایت والی ہو، میں اس کی پیروی کرونگا، کیونکہ میں ہدایت کا طالب اور پیرو ہوں۔
(آیت 49) { قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ …:} یعنی ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ میں اور موسیٰ جادو گر ہیں اور تورات اور قرآن جادو ہیں، تو تم کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو من گھڑت نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو، تو میں بلا تامل اس کی پیروی کروں گا، کیونکہ مجھے تو ہدایت سے سروکار ہے۔
اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ آپ کی یہ بات قبول نہ کریں تو پھر سمجھ لیں کہ وہ صرف اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے؟ بےشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تیری بات قبول نہ کریں تو جان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت کے لیئے معجزات ضروری نہیں ٭٭
پہلے بیان ہوا کہ ’ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے ‘۔ بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» ۱؎ [10-يونس:78] ’ یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے ‘۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:48] ’ دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے ‘۔
تو فرمایا کہ ’ ان کے بڑے جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھے انہوں نے خود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور ان معجزوں کو دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں بھائی آپس میں متفق ہو کر ہمیں زیر کرنے اور خود بڑا بننے کے لیے آئے ہیں تو ہم تو ان دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں ماننے کے ‘۔ یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔ مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
لیکن اس قرأت پر بھی ظاہری تورات و قرآن کے معنی ٹھیک ہیں کیونکہ اس کے بعد ہی فرمان اللہ ہے کہ ’ تم ہی ان دونوں سے زیادہ ہدایت کوئی کتاب اللہ کے ہاں سے لاؤ جس کی میں تابعداری کروں ‘۔ تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے ‘۔ اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:154] ’ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔ جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30] کہ ’ انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ‘۔ ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
اس کے بعد تورات شریف کا درجہ ہے جس میں ہدایت ونور تھا «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ» ۱؎ [5-المائدة:44] جس کے مطابق انیباء اور ان کے ماتحت حکم احکام جاری کرتے رہے۔ انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ’ ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں ‘۔ اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
50-1یعنی قرآن و تورات سے زیادہ ہدایت والی کتاب پیش نہ کرسکیں اور یقینا نہیں کرسکیں گے۔ 50-2یعنی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کی پیروی کرنا یہ سب سے بڑی گمراہی ہے اور اس لحاظ سے یہ قریش مکہ سب سے بڑے گمراہ ہیں جو ایسی حرکت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
(آیت 50) ➊ { فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ …:} پھر اگر وہ تمھارا یہ مطالبہ قبول نہ کریں تو جان لو کہ ان کے پاس کوئی دلیل یا حجت نہیں، بلکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہ مطالبہ قبول کر سکتے ہیں، بلکہ یہ بات ان کے عجز کے اظہار کے لیے کہی جا رہی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ایسی کتاب کہاں سے آ سکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «{ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ }» [ البقرۃ: ۲۴ ] ”پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور نہ کبھی کرو گے تو اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“ ➋ { وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ:} ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔“ اس آیت میں تقلید کا زبردست رد ہے، کیونکہ تقلید کی تعریف ہے: {” أَخْذُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلاَ دَلِيْلٍ“} کہ اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات کو بلا دلیل لے لینا۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت دلیل ہے، جو قرآن اور سنت ہے۔ اس کو چھوڑ کر جس کی بھی بات مانی جائے وہ خواہش کی پیروی ہے، جس سے بڑی گمراہی کوئی نہیں۔ رازی نے بھی اس آیت کو تقلید کے رد کی دلیل قرار دیا ہے۔ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یہ کہنے کے بجائے کہ اللہ ایسے لوگوں کو جو خواہش کی پیروی کریں، ہدایت نہیں دیتا، فرمایا، اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرنے والے ظالم ہیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا، کیونکہ وہ ظلمت میں رہنا پسند کرتے ہیں اور جو چیز جہاں رکھنی چاہیے وہاں رکھنے کے بجائے دوسری جگہ رکھتے ہیں (ظلم کا یہی معنی ہے) اور جو اندھیرے میں رہنے پر اصرار کرے اسے ہدایت کی روشنی کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔