بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 31
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقۡبِلۡ وَ لَا تَخَفۡ ۟ اِنَّکَ مِنَ الۡاٰمِنِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے
اور یہ (بھی آواز آئی) کہ اپنی ﻻٹھی ڈال دے۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وه سانﭗ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن واﻻ ہے
اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے
اور یہ کہ تم اپنا عصا پھینک دو تو جب اسے دیکھا کہ اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے وہ سانپ ہے تو وہ منہ موڑ کر الٹے مڑے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (آواز آئی) اے موسیٰ! آگے آؤ۔ اور ڈرو نہیں تم (ہر طرح) امن میں ہو۔
اور یہ کہ اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیا اور پیچھے نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! آگے آ اور خوف نہ کر، یقینا تو امن والوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دس سال حق مہر ٭٭

پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔

جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] ‏‏‏‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔

اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔

پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔

📖 احسن البیان

31-1یہ موسیٰ ؑ کا وہ معجزہ ہے جو کوہ طور پر، نبوت سے سرفراز کئے جانے کے بعد ان کو ملا۔ چونکہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ظاہر ہوتا ہے کسی بھی انسان کے اختیار سے نہیں۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر اور نبی مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے جب موسیٰ ؑ کے اپنے ہاتھ کی لاٹھی، زمین پر پھینکنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پنکارتی سانپ بن گئی، تو حضرت موسیٰ ؑ بھی ڈر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو حضرت موسیٰ ؑ کا خوف دور ہوا اور یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کے لئے بطور دلیل یہ معجزہ انھیں عطا فرمایا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ { وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے کہ جب انھوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ یکلخت سانپ بن گئی۔ ➋ { فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ …:} تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے…۔ {” جَآنٌّ “} اور {” ثُعْبَانٌ “} کی تطبیق کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۱۰)۔ ➌ { وَلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ:} یعنی اتنے خوف زدہ ہوئے کہ ایک جانب کو نہیں بلکہ پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں وہ سانپ پیچھے نہ پہنچ جائے۔ ➍ { يٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ:} اللہ تعالیٰ نے آواز دی، اے موسیٰ! مڑ کر بھاگنے کے بجائے آگے آ، کیونکہ تو امن والوں سے ہے۔{ ”إِنَّ“ } علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ (۲۱) میں بتایا: ”اسے پکڑ اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔“ مزید فوائد کے لیے سورۂ طٰہٰ (۲۱) دیکھیے۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →