بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 32
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۫ وَّ اضۡمُمۡ اِلَیۡکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہۡبِ فَذٰنِکَ بُرۡہَانٰنِ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں"
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
(اور) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی تکلیف (اور بیماری) کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور رفع خوف کیلئے اپنا بازو اپنی طرف سمیٹ لو یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے پیش کرنے کیلئے۔ بیشک وہ (بڑے) نافرمان لوگ ہیں۔
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اوراس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دس سال حق مہر ٭٭

پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔

جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44] ‏‏‏‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔ یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔ اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔

اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔ اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔

پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ ”اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔

📖 احسن البیان

32-1یہ ید بیضاء دوسرا معجزہ تھا جو انھیں عطا کیا گیا۔ 32-2لاٹھی کا اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ ؑ کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کرو یعنی بغل میں دبا لیا کرو جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہوجائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کی اقتداء میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 32-3یعنی فرعون اور اسکی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔ یہ لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اللہ کے دین کے مخالف ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32) ➊ {اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ …:} دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ» ‏‏‏‏ [النمل: 12] {”سِلْكٌ“} اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں موتی پروئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں دھاگا مہارت اور احتیاط سے داخل کیا جاتا ہے، یعنی کسی گھبراہٹ کے بغیر اطمینان کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ مزید دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۲۲)۔ ➋ { وَ اضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ:} موسیٰ علیہ السلام کو جس مقصد کے لیے بھیجا جا رہا تھا، اس میں کئی مقامات ایسے آنے والے تھے جن میں آدمی شدید خوف کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ دو عظیم الشان معجزوں کے ساتھ اس خوف کا علاج بھی بتا دیا کہ جب بھی تمھیں کوئی خوف محسوس ہو اپنا بازو پہلو کے ساتھ اچھی طرح ملا لو، اس سے تمھارا دل مضبوط ہو جائے گا اور خوف دور ہو جائے گا۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ خوف کے وقت کوئی شخص موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں یہ عمل کرے تو اس کا خوف ختم ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔ (ان شاء اللہ) ➌ { فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ …:} یعنی لاٹھی کا سانپ بننا اور ہاتھ کا سفید چمک دار ہو کر نکلنا صرف آج اسی موقع کے لیے نہیں بلکہ یہ دونوں معجزے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجتے ہوئے تمھیں نبوت کی دلیل اور سند کے طور پر عطا کیے گئے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔ انھیں دعوت دینے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ایسے ہی زبردست معجزوں کی ضرورت ہے۔ {”إِنَّ “} تعلیل کے لیے ہوتا ہے اور {”كَانَ“} میں ہمیشگی کا معنی پایا جاتا ہے۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →