بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 12
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَرَاضِعَ مِنۡ قَبۡلُ فَقَالَتۡ ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰۤی اَہۡلِ بَیۡتٍ یَّکۡفُلُوۡنَہٗ لَکُمۡ وَ ہُمۡ لَہٗ نٰصِحُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں (یہ حالت دیکھ کر) اُس لڑکی نے اُن سے کہا "میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟"
ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لیے پرورش کرے اور ہوں بھی وه اس بچے کے خیر خواه
اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں
اور ہم نے اس (بچہ) پر دائیوں کو پہلے سے حرام کر دیا تھا تو اس (بچہ کی بہن) نے کہا کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کرے؟ اور وہ اس کے خیرخواہ بھی ہوں؟
اور ہم نے اس پر پہلے سے تمام دودھ حرام کر دیے تو اس نے کہا کیا میں تمھیں ایک گھر والے بتلائوں جو تمھارے لیے اس کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔

لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔‏‏‏‏“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔

حدیث شریف میں ہے { جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے }۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے ‘۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔

📖 احسن البیان

12-1یعنی ہم نے اپنی قدرت اور تکوینی حکم کے ذریعے سے موسیٰ ؑ کو اپنی ماں کے علاوہ کسی اور انا کا دودھ پینے سے منع کردیا، چناچہ بسیار کوشش کے باوجود کوئی انا انھیں دودھ پلانے اور چپ کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ 12-2یہ سب منظر ان کی ہمشیرہ خاموشی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں، بالآخر بول پڑیں کہ میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لئے پرورش کرے۔ 12-3چناچہ انہوں نے ہمشیرہ موسیٰ ؑ سے کہا کہ جا اس عورت کو لے آ چناچہ وہ دوڑی دوڑی گئی اور اپنی ماں کو، جو موسیٰ ؑ کی بھی ماں تھی، ساتھ لے آئی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12) ➊ { وَ حَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ:” الْمَرَاضِعَ”مُرْضِعٌ“} کی جمع بھی ہو سکتی ہے، یعنی دودھ پلانے والیاں اور{” مَرْضَعٌ“} کی بھی جو ظرف مکان ہو تو مراد دودھ پلانے کی جگہ ہو گی، یعنی دودھ کی چھاتیاں اور اگر مصدر میمی ہو تو مراد تمام دودھ ہوں گے، یعنی ہم نے اپنی تقدیر میں طے شدہ حکم کے ذریعے سے موسیٰ علیہ السلام پر تمام دودھ پہلے ہی حرام کر دیے تھے، یعنی پینے سے منع کر دیا تھا۔ فرعون کی بیوی کو موسیٰ علیہ السلام سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی اور وہ ہر قیمت پر ان کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، مگر جو دایہ بھی لائی گئی، موسیٰ نے اس کا دودھ پینے سے انکار کر دیا۔ فرعون کی بیوی سخت فکر مند تھی کہ دودھ نہ پینے کی وجہ سے اتنا پیارا بچہ کہیں فوت نہ ہو جائے۔ ➋ { فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَيْتٍ يَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ …:} موسیٰ علیہ السلام کی بہن اجنبی بن کر یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو اس نے موقع پا کر کہا، کیا میں تمھیں ایک ایسے گھر والے بتاؤں جو تمھارے لیے اس کی کفالت کریں گے اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں گے۔ یہاں درمیان کی بات چھوڑ دی گئی ہے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے اس سے پوچھا کہ وہ گھر والے کون ہیں؟ اس نے کہا، میری ماں۔ انھوں نے کہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بچہ تمھارا ہے اور تم اس کے متعلق جانتی ہو۔ اس نے کہا، بلکہ ہم بادشاہ کے خیرخواہ اور مخلص محبت کرنے والے ہیں، اس لیے اس بچے کی خیر خواہی اور خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا، تمھاری اماں کے ہاں دودھ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا، میرا بھائی ہارون پچھلے سال پیدا ہوا ہے اور دودھ پی رہا ہے۔ غرض انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو بلوایا، کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ سلطنت کی ملکہ ہر حال میں اس کے لیے دودھ کا انتظام کرنا چاہتی تھی، جوں ہی ماں نے بچے کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی، بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →