بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 43
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰی بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں
اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت ورحمت ہوکر آئی تھی تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
اور پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد بالیقین ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کیلئے بصیرتوں کا مجموعہ اور سراپا ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام کو تورات کا انعام ٭٭

اس آیت میں ایک لطیف بات یہ ہے کہ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد والی امتیں اس طرح عذاب آسمانی سے ہلاک نہیں ہوئیں بلکہ جس امت نے سرکشی کی اس کی سرکشی کا بدلہ اسی زمانے کے نیک لوگوں کے ہاتھوں اللہ نے اسے دلوایا۔ مومنین مشرکین سے جہاد کرتے رہے۔

جیسے فرمان باری ہے آیت «وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِ فَعَصَوْا رَ‌سُولَ رَ‌بِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّ‌ابِيَةً» [69-الحاقة:10-9] ‏‏‏‏، یعنی ’ فرعون اور جو امتیں اس سے پہلے ہوئیں اور الٹی ہوئی بستی کے رہنے والے یعنی قوم لوط یہ سب لوگ بڑے بڑے قصوروں کے مرتکب ہوئے اور اپنے زمانے کے رسولوں کی نافرمانیوں پر کمر کس لی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بھی بڑی سخت پکڑ سے پکڑ لیا ‘۔ اس گروہ کی ہلاکت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے انعام موسیٰ «الْكَلِيم عَلَيْهِ مِنْ رَبّه أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» پر نازل ہوتے رہے جن میں سے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر یہاں ہے کہ انہیں تورات ملی۔ اس تورات کے نازل ہونے کے بعد کسی قوم کو آسمان کے یا زمین کے عام عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا سوائے اس بستی کے چند مجرموں کے جنہوں نے اللہ کی حرمت کے خلاف ہفتے کے دن شکار کھیلا تھا اور اللہ نے انہیں سور اور بندر بنا دیا تھا۔ یہ واقعہ بیشک موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ جیسے کہ ابوسیعد خدری رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور اس کے بعد ہی آپ نے اپنے قول کی شہادت میں یہی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [28-القص:43] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [مسند بزار:2247:صحیح] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی قوم کو عذاب آسمانی یا زمینی سے ہلاک نہیں کیا۔ اسے عذاب جتنے آئے آپ علیہ السلام سے پہلے آئے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی }۔ پھر تورات کے اوصاف بیان ہور ہے ہیں کہ وہ کتاب کو اندھاپے سے گمراہی سے نکالنے والی تھی اور حق کی ہدات کرنے والی تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی رحمت سے تھی نیک اعمال کی ہادی تھی۔ تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور نصیحت بھی۔ اور راہ راست پر آجائیں۔

📖 احسن البیان

43-1یعنی فرعون اور اس کی قوم یا نوح و عاد وثمود وغیرہ قوم کی ہلاکت کے بعد موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) دی۔ 43-2جس سے وہ حق کو پہچان لیں اور اسے اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ 43-3یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کریں جو انھیں خیر و رشد اور فلاح حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا …:} یہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور اس پر اعتراضات کا جواب شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ ہم نے یہ بات پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی، جیسا کہ فرمایا: «{مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ}» [ صٓ: ۷ ] ”ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔“ زیر تفسیر آیت سے پہلے آیت (۳۶) میں گزرا ہے کہ یہی اعتراض فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام پر کیا تھا: «{وَ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ }» ”اور ہم نے یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنی۔“ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے پہلی نسلوں قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد جب ہر طرف گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی جو اس وقت کے لوگوں کے لیے ایسے دلائل لیے ہوئے تھی جن سے دل کی آنکھ روشن ہوتی ہے اور جو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں لانے والی اور عذاب سے بچا کر رحمت کا مستحق بنانے والی تھی۔ اور یہ اعتراض بے کار تھا کہ ہم نے اپنے پہلے باپ دادا میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اسی لیے تو موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا کہ مدت دراز تک رسول نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت اور روشنی کی ضرورت تھی۔ اسی طرح بنی اسماعیل میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بعد ہزاروں سال کا وقفہ واقع ہو جانے کی وجہ سے ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت تھی۔ بنی اسرائیل کی طرف آنے والے آخری رسول عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تاکہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا۔ یہی بات آگے آیت (۴۷) میں آرہی ہے اور اس سے پہلے سورۂ مائدہ میں بھی گزر چکی ہے، فرمایا: «{ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ }» [ المائدۃ: ۱۹ ] ”اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوش خبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمھارے پاس ایک خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →