بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 35
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیۡکَ وَ نَجۡعَلُ لَکُمَا سُلۡطٰنًا فَلَا یَصِلُوۡنَ اِلَیۡکُمَا ۚۛ بِاٰیٰتِنَاۤ ۚۛ اَنۡتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَکُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۳۵﴾
فرمایا "ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہو گا"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے، بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے
فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے
ارشاد ہوا: ہم تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعہ سے مضبوط کریں گے اور ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے کہ وہ تم تک پہنچ بھی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی برکت سے تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب آئیں گے۔
کہا ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمھاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یاد ماضی ٭٭

یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے ”اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔‏‏‏‏“

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32] ‏‏‏‏ کہ ’ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں ‘۔ یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» ۱؎ [28-القصص:34] ‏‏‏‏ ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ’ آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے ‘۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔ جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ’ تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے ‘۔

جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» ۱؎ [ 20- طه: 36 ] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا ‘۔ اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] ‏‏‏‏ میں ہے ’ ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُ‌سُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏ ’ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51،52] ‏‏‏‏، ’ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

35-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی دعا قبول کرلی گئی اور ان کی سفارش پر حضرت ہارون ؑ کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ان کا ساتھی اور مددگار بنادیا گیا۔ 35-2یعنی ہم تمہاری حفاظت فرمائیں گے، فرعون اور اس کے حوالی موالی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ 35-3یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا مثلاً، (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) 5۔ المائدہ:68، (الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ۭوَكَفٰى باللّٰهِ حَسِيْبًا) 33۔ الاحزاب:39) (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58۔ المجادلہ:21) (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ 52؀) 40۔ غافر:52-51)

📖 القرآن الکریم

(آیت 35) ➊ { قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ …:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور تین باتوں کا وعدہ فرمایا، پہلا یہ کہ ہم ہارون کو نبی بنا کر تمھارا بازو ضرور مضبوط کریں گے (سین تاکید کے لیے ہے)، وہ تمھارے ساتھ فرعون کے دربار میں جائیں گے۔ بعض سلف نے فرمایا، کسی بھائی پر اس کے بھائی کا اتنا بڑا احسان نہیں جتنا بڑا احسان موسیٰ علیہ السلام کا ہارون علیہ السلام پر ہے کہ ان کی شفاعت سے انھیں نبوت مل گئی، اس سے اللہ تعالیٰ کے ہاں موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا }» [ الأحزاب: ۶۹ ] ”اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔“ ➋ { فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا بِاٰيٰتِنَاۤ:} دوسرا وعدہ یہ کہ فرعونیوں کے مقابلے میں تم دونوں کو ہم ایسا غلبہ اور دبدبہ عطا کریں گے کہ ہمارے معجزے تمھارے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ تم تک پہنچ نہیں پائیں گے اور نہ کسی قسم کی دست درازی کر سکیں گے۔ چنانچہ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کو تمام تر اسباب و وسائل اور اسلحہ و افواج کے باوجود کبھی اس بات کی جرأت و ہمت نہ ہو سکی کہ ان پر کسی طرح ہاتھ اٹھا سکیں۔ یہ تفسیر {” بِاٰيٰتِنَاۤ “} کو {” فَلَا يَصِلُوْنَ “} کے متعلق کرنے کی صورت میں ہے۔ ➌ {بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ:} یہ تیسرا وعدہ ہے کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی آخر کار غالب ہوں گے۔ {”بِاٰيٰتِنَاۤ “} کو{” الْغٰلِبُوْنَ “} کے متعلق کرنے سے معنی یہ ہوگا کہ تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی ہمارے معجزات کی بدولت غالب رہو گے۔ یہ مضمون کہ رسول اور ان کے پیروکار ہی آخر غالب ہوں گے، قرآن میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۵۱) اور مجادلہ (۲۱)۔
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →