بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 36
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 36
آیت نمبر: 36 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًی وَّ مَا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِیۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۶﴾
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادوگر اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنیں ہی نہیں
پس جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے دیے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وه کہنے لگے یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں کبھی یہ نہیں سنا
پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا
تو جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس کھلی ہوئی نشانیوں کے ساتھ آئے تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہے مگر گھڑا ہوا جادو اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ داداؤں کے زمانہ میں بھی نہیں سنیں۔
تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو ایک گھڑے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعونی قوم کا رویہ ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔

اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔‏‏‏‏“ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

36-1یعنی یہ دعوت کہ کائنات میں صرف ایک ہی اللہ اس کے لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ہمارے لئے بالکل نئی بات ہے۔ یہ ہم نے سنی ہے نہ ہمارے باپ دادا اس توحید سے واقف تھے مشرکین مکہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کہا تھا ' اس نے تو تمام معبودوں کو (ختم کر کے) ایک ہی معبود بنادیا ہے؟ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے '۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 36) {فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ …:} موسیٰ علیہ السلام یہ ذمہ داری لے کر وادی طویٰ سے واپس لوٹے۔ درمیان کی بات قرآن نے یہاں چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے گھر آئے۔ والدین اور بھائی بہنوں سے ملاقات کی، ہارون علیہ السلام کو نبوت عطا ہونے کا ماجرا سنایا، پھر دونوں بھائی فرعون اور اس کے سرداروں کو دعوت دینے کے لیے ان کے دربار میں پہنچے اور انھیں توحید الٰہی کی دعوت دی اور انھیں اللہ کی طرف سے اپنی رسالت کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا حکم سنایا۔ موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعوت سورۂ طٰہٰ (۴۷ تا ۵۴) اور شعراء (۱۶ تا۳۳) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ جب فرعون نے ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو انھوں نے اپنی رسالت کی دلیل کے طور پر عصا اور یدِ بیضا کا معجزہ پیش کیا۔ فرعون کے پاس ان معجزوں کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ دل سے موسیٰ علیہ السلام کے سچا نبی ہونے کو مان چکا تھا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۰۲) اور نمل (۱۴) مگر اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے دو باتیں کہیں، ایک یہ کہ تمھارا عصا اور ید بیضا سحر مفتری ہے، یعنی تمھارا گھڑا ہوا اور بنایا ہوا جادو ہے، حقیقت اس کی کچھ نہیں۔ سورۂ اعراف (۱۰۹ تا۱۲۶)، طٰہٰ (۵۵ تا ۷۶) اور شعراء (۳۴ تا ۵۱) میں اس کے جادوگر جمع کر کے ان معجزات کے مقابلے کا اور جادوگروں کے ناکام ہو کر مسلمان ہو جانے کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ ہم نے توحید کی یہ دعوت اپنے پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی۔ فرعون کی اس بات کی بنیاد محض آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو ان لوگوں کی دلیل ہوتی ہے جن کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اور وہ محض ہٹ دھرمی سے کسی غلط بات پر ڈٹ جائیں۔ بھلا یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ میں نے خسارے کا سودا کرنا ہی کرنا ہے، کیونکہ میرے باپ نے خسارے کا سودا کیا تھا۔ فرعون ہی نہیں تمام باطل پرستوں کے پاس حق کے انکار کا یہی بہانہ ہوتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰)۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے پہلے آباء میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اس سے پہلے مصر میں یوسف علیہ السلام گزر چکے تھے جو قید خانے میں بھی توحید کی دعوت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، جیسا کہ قریش مکہ کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے آباء میں یہ بات نہیں سنی، حالانکہ ان کے آبا و اجداد میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام تھے جو بتوں کو توڑنے والے تھے اور توحید الٰہی کے زبردست علمبردار تھے، مگر فرعون اور قریش مکہ نے صرف ان آباء کو دلیل بنایا جو عقل و ہدایت دونوں سے خالی تھے، فرمایا: «{ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ }» [ البقرۃ: ۱۷۰ ] ”کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔“
← پچھلی آیت (35) پوری سورۃ اگلی آیت (37) →