بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 23
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡیَنَ وَجَدَ عَلَیۡہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسۡقُوۡنَ ۬۫ وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امۡرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدٰنِ ۚ قَالَ مَا خَطۡبُکُمَا ؕ قَالَتَا لَا نَسۡقِیۡ حَتّٰی یُصۡدِرَ الرِّعَآءُ ٜ وَ اَبُوۡنَا شَیۡخٌ کَبِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰؑ نے اِن عورتوں سے پوچھا "تمہیں کیا پریشانی ہے؟" انہوں نے کہا "ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نکال کر نہ لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں"
مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے (جانوروں کو) روکتی ہوئی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، وه بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
اور جب مدین کے پانی پر آیا وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں، اور ان سے اس طرف دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں
اور جب وہ مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ایک مجمع پایا جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور ان لوگوں سے الگ دو عورتوں کو پایا کہ وہ (اپنے ریوڑ کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (یہ) چرواہے اپنے مویشیوں کو (پانی پلا کر) نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔
اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچا تو اس پر لوگوں کے ایک گروہ کو پایا جو پانی پلا رہے تھے اور ان کے ایک طرف دو عورتوں کو پایا کہ (اپنے جانور) ہٹا رہی تھیں۔ کہا تمھارا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا ہم پانی نہیں پلاتیں یہاں تک کہ چرواہے پلا کر واپس لے جائیں اور ہمارا والد بڑا بوڑھا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭

فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔

بکریوں کو پانی پلایا ٭٭

آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔‏‏‏‏“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔‏‏‏‏“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

23-1یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین یہ قبیلے کا نام تھا اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھا، جب کہ حضرت موسیٰ ؑ حضرت یعقوب ؑ کی نسل سے تھے جو حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے (حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے تھے۔ یوں اہل مدین اور موسیٰ کے درمیان نسبی تعلق بھی تھا (ایسرالتفاسیر) اور یہی حضرت شعیب ؑ کا مسکن مبعث بھی تھا۔ 23-2دو عورتوں کو اپنے جانور روکے، کھڑے دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں رحم آیا اور ان سے پوچھا، کیا بات ہے تم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاتیں؟۔ رعاء راع (چرواہا) کی جمع ہے۔ 23-3تاکہ مردوں سے ہمارا اختلاط نہ ہو۔ 23-4والد صاحب بوڑھے ہیں اس لئے وہ گھاٹ پر پانی پلانے کے لئے نہیں آسکتے

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ …:} یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے، جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین ایک قبیلے کا نام بھی ہے، جو مدین بن ابراہیم کی اولاد سے تھا۔ اس لحاظ سے موسیٰ علیہ السلام کا ان سے نسبی تعلق بھی تھا، کیونکہ وہ بھی ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ: ”ذَادَ يذُوْدُ ذَوْدًا“} ہٹانا۔ موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو عورتیں مردوں سے الگ ایک کنارے پر کھڑی ہیں اور اپنی بھیڑ بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے ہٹا رہی ہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لیے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور پھر گم ہو جائیں۔ اتنی قوت نہ تھی کہ مجمع کو ہٹا دیں یا خود بھاری ڈول نکال لیں۔ ➌ { قَالَ مَا خَطْبُكُمَا:} موسیٰ علیہ السلام کو ان کا حال دیکھ کر رحم آیا اور ان سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو، پانی کیوں نہیں پلاتی؟ ➍ { قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَآءُ:” الرِّعَآءُ”رَاعِيٌّ“} کی جمع ہے، چرواہے۔ {”أَصْدَرَ يُصْدِرُ“} پانی پلا کر واپس لے جانا۔ انھوں نے کہا، جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں، ہم پانی نہیں پلاتیں، کیونکہ ہمارا باپ بہت بوڑھا اور کمزور ہے، یہاں آنے کے قابل نہیں، نہ وہ پانی نکال سکتا ہے نہ ہم بھاری ڈول نکال سکتی ہیں، چرواہے چلے جائیں تو ان کا بچا کھچا پانی ہم پلا لیں گی، یا بعد میں ڈول میں تھوڑا تھوڑا پانی نکال کر انھیں پانی پلا لیں گی۔ ان عورتوں کا نام مفسرین نے ”صفورا“ اور ” لیا “ بیان کیا ہے، مگر یہ بات کسی معتبر ذریعے سے ثابت نہیں۔ ➎ { وَ اَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ:} ان خواتین کے والد کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ شعیب علیہ السلام تھے۔ اس کی بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مدین کی طرف شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ مدین کے وہ بزرگ جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی میزبانی کی وہ بھی شعیب علیہ السلام ہی تھے۔ علماء فرماتے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ موسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے کا ہے، کیونکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: «{ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ }» [ ھود: ۸۹ ] ”اور لوط کی قوم (بھی) ہر گز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔“ اور سب جانتے ہیں کہ لوط اور ابراہیم علیھما السلام ایک زمانے میں ہوئے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے صدیوں پہلے گزرے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”اس کی تائید کہ وہ بزرگ شعیب علیہ السلام نہیں تھے، اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اگر وہ شعیب علیہ السلام ہوتے تو غالب گمان یہی ہے کہ قرآن میں ان کا نام مذکور ہوتا۔ بعض احادیث میں موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے، مگر ان میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے۔“ (ابن کثیر) بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ”ثیرون“ آیا ہے، ایک جگہ ان کانام ”رعوائیل“ آیا، دوسری جگہ ”یترو“ آیا ہے اور ایک جگہ ”حوباب“ آیا ہے۔ علمائے اسلام میں سے بعض نے ان کا نام ”یثریٰ“ بیان کیا ہے، مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ بات ثابت شدہ خبر کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی، جو یہاںموجود نہیں۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →