بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 24
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں
تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں
(یہ سن کر) موسیٰ نے (ان کے ریوڑ کو) پانی پلا دیا اور پھر وہاں سے ہٹ کر سایہ میں آگیا اور کہا اے میرے پروردگار! تو جو خیر (نعمت) بھی مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔
تواس نے ان کے لیے پانی پلا دیا، پھر پلٹ کر سائے کی طرف آگیا اور اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭

فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔

بکریوں کو پانی پلایا ٭٭

آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔‏‏‏‏“ اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔‏‏‏‏“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

24-1حضرت موسیٰ ؑ اتنا لمبا سفر کر کے مصر سے مدین پہنچے تھے، کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا، جب کہ سفر کی تھکان اور بھوک سے نڈھال تھے۔ چناچہ جانوروں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے تلے آ کر مصروف دعا ہوگئے۔ خیر کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، کھانے پر، امور خیر اور عبادت پر، قوت پر اور مال پر (ایسر التفاسیر) یہاں اس کا اطلاق کھانے پر ہوا ہے۔ یعنی میں اس وقت کھانے کا ضرورت مند ہوں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ { فَسَقٰى لَهُمَا:} پیغمبروں میں فطری طور پر ہمدردی کا بے پناہ جذبہ ہوتا ہے، جیسا کہ اُمّ المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: [كَلَّا، وَاللّٰهِ! مَا يُخْزِيْكَ اللّٰهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِي الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ ] [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي …: ۳ ] ”ہر گز (ایسا) نہیں (ہو گا)، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور بے روز گار کے لیے کام ڈھونڈھتے ہیں اور مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی طرف سے آنے والی مصیبتوں پر مدد کرتے ہیں۔“موسیٰ علیہ السلام تھکے ماندے اور بھوکے پیاسے تھے، اس کے باوجود انھوں نے ان کی بکریوں کو پلانی پلا دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں ابن ابی شیبہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام جب مدین کے پانی پر پہنچے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پایا جو پانی پلا رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہو گئے تو انھوں نے کنویں پر دوبارہ پتھر رکھ دیا، جسے دس آدمی ہی اٹھا سکتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو ہٹا رہی ہیں، ان سے پوچھا: ”تمھارا معاملہ کیا ہے؟“ انھوں نے اپنا ماجرا بیان کیا، تو آپ نے جا کر وہ پتھر اٹھایا اور ایک ہی ڈول نکالا تھا کہ بکریاں سیراب ہو گئیں۔“ [ ابن کثیر: 227/6 ] ابن کثیر نے فرمایا: ”اس کی سند صحیح ہے، حاکم نے بھی اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔“ ➋ { ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ:} بقاعی لکھتے ہیں: ”پھر جس طرف ان کا رخ تھا اس طرف پیٹھ کر کے سائے کی طرف چلے گئے، تاکہ وہاں آرام کر سکیں اور مخلوق کی خیر خواہی اور مدد کے بعد خالق کی طرف متوجہ ہوئے۔ {” الظِّلِّ “} کو معرفہ اس لیے ذکر فرمایا کہ جہاں لوگ کثرت سے آتے جاتے ہوں وہاں سائے کی موجودگی انوکھی نہیں، بلکہ جانی پہچانی بات ہے، خصوصاً جہاں پانی بھی ہو۔“ ➌ { فَقَالَ رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ:} اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام نے اس کی صفات میں سے صفت ”رب“ کے واسطے سے دعا کی، کیونکہ اس وقت ان کا حال صفت ربوبیت سے فریاد کا تقاضا کرتا تھا۔ بھوک اتنی کہ پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔ بے وطنی ایسی کہ کوئی واقفیت نہ کوئی مونس و غم خوار، کوئی گھر نہ ٹھکانا، دشمن کے تعاقب کا مسلسل خوف، غرض ہر لحاظ سے فقر ہی فقر۔ ایسی حالت میں انھوں نے کسی مخلوق کے ساتھ شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنے رب ہی کی جناب میں درخواست پیش کی کہ اے میرے پالنے والے! میں تو جو خیر بھی تو میری طرف نازل فرمائے اس کا محتاج ہوں۔ ”نازل فرمائے“ کا لفظ اس لیے بولا کہ آدمی کو جو کچھ ملتا ہے آسمان سے آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ }» [الذاریات: ۲۲ ] ”اور آسمان ہی میں تمھارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا نہایت جامع دعا ہے، دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں جو اس میں نہ آگئی ہو۔ طویل سفر کے بعد غربت اور فقر و فاقہ کی حالت میں عجزو انکسار سے بھری ہوئی یہ جامع دعا موسیٰ علیہ السلام کے لبوں سے نکلی تو ساتھ ہی قبولیت کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →