بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 16
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ فَاغۡفِرۡ لِیۡ فَغَفَرَ لَہٗ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶﴾
پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے
پھر دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ﻇلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وه بخشش اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے
عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
کہا اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اسے بخش دیا۔ بےشک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
کہا اے میرے رب! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا، بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گھونسے سے موت ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا ‘۔ یعنی نبوت دی۔ ’ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں ‘، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کا رخ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

16-1یہ اتفاقیہ قتل اگرچہ کبیرہ گناہ نہیں تھا، کیونکہ کبیرہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی حفاطت فرماتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایسا گناہ نظر آتا تھا جس کے لئے بہت بخشش انہوں نے ضروری سمجھی۔ دوسرے، انھیں خطرہ تھا کہ فرعون کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے بدلے انھیں قتل نہ کر دے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 16) ➊ {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ …:} گو موسیٰ علیہ السلام نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے، ان کی شان کے لحاظ سے یہ بے احتیاطی بھی مناسب نہ تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اسے گناہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی، مگر موسیٰ علیہ السلام اس کے بعد بھی نادم رہے اور قیامت کے دن جب لوگ ان کے پاس جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کیجیے تو اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے: [ إِنِّيْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُوْمَرْ بِقَتْلِهَا ] [ مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۱۹۴ ] ”میں نے ایک شخص قتل کر دیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔“ ➋ قرآن کے بیان سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے یہ قتل نا دانستہ ہوا تھا، مگر بائبل موسیٰ علیہ السلام کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ چنانچہ اس کی روایت ہے کہ ”مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے، تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا۔“ (خروج: ۲: ۱۲) یہ یہود کی ان تحریفات میں سے ہے جن کی اصلاح قرآن نے فرمائی، جو پہلی تمام کتابوں پر مہیمن ہے۔ ➌ موسیٰ علیہ السلام کی دعا {” فَاغْفِرْ لِيْ “} میں بخشش کی درخواست کے ساتھ پردہ ڈالنے کی درخواست کا مفہوم بھی شامل ہے۔ {”مِغْفَرٌ “} اس خَود کو کہتے ہیں جس کے ساتھ جنگ میں سر ڈھانپتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو معاف فرما دیا اور اس واقعہ پر پردہ بھی ڈال دیا اور اگلے دن پیش آنے والے واقعہ تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ قتل کس نے کیا ہے۔
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →