بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 41
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۱﴾
ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کیے جائیں
اور انہیں ہم نے دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،
اور ہم نے انہیں ایسا پیشوا قرار دیا ہے جو (لوگوں کو) آتش (دوزخ) کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی۔
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعونیوں کا انجام ٭٭

فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:54] ‏‏‏‏ اس نے اپنی قوم کو بےعقل بنا کر ان سے اپنا دعویٰ منوا لیا اس نے ان کمینوں کو جمع کر کے ہانک لگائی کہ «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-26] ‏‏‏‏ ’ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے ‘، اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑ لیا اور دوسروں کے لیے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام سے ڈانٹ کر کہا «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ‏‏‏‏ کہ ’ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا ‘۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعویٰ انہیں منوا کر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو ایک پزاوہ (‏‏‏‏بھٹہ)‏‏‏‏‏‏‏‏ بنا اور اس میں اینٹیں پکوا اور میرے لیے ایک بلند و بالا مینار بنا کہ میں جا کر جھانکوں کہ واقعہ میں موسیٰ علیہ السلام کا کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں۔ گو مجھے اس کے دروغ گو ہونے کا علم تو ہے۔ مگر میں اس کا جھوٹ تم سب پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اسی کا بیان آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ» ۱؎ [40-غافر:36،37] ‏‏‏‏ میں بھی ہے۔

چنانچہ ایک بلند مینار بنایا گیا کہ اس سے اونچا دنیا میں نہیں بنایا گیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف دعویٰ رسالت میں ہی جھوٹ جانتا تھا بلکہ یہ تو واحد باری تعالیٰ کا قائل ہی نہ تھا۔ چنانچہ خود قرآن میں ہے «قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:23] ‏‏‏‏ کہ ’ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کہا «وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» رب العالمین ہے کیا؟ ‘ اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ «الَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:29] ‏‏‏‏’ اگر تو نے میرے سوا کسی کو اللہ جانا تو میں تجھے قید کردونگا ‘۔ اس آیت میں بھی ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے کہا میرے علم میں بجز میرے تمہارا اللہ کوئی اور نہیں۔ جب اس کی اور اس کی قوم کی طغیانی اور سرکشی حد سے گزر گئی۔ اللہ کے ملک میں ان کے فساد کی کوئی انتہا نہ رہی ان کے عقیدے کھوٹے پیسے جیسے ہو گئے۔ قیامت کے حساب کتاب کے بالکل منکر بن بیٹھے تو بالآخر اللہ کا عذاب ان پر برس پڑا اور رب نے انہیں تاک لیا اور بیج تک مٹا دیا۔ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ایک ہی دن ایک ہی وقت ایک ساتھ دریا برد کر دیا۔ ’ لوگو سوچ لو کہ ظالموں کا کیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے؟ ہم نے انہیں دوزخیوں کا امام بنا دیا ہے کہ یہ لوگوں کو ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جن سے وہ اللہ کے عذابوں میں جلیں ‘۔ جو بھی ان کی روش پر چلا اسے وہ جہنم میں لیے گئے جس نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کو نہ مانا وہ ان کی راہ پر ہے۔ قیامت کے دن بھی ان کی کچھ نہ چلیں گی کہیں سے انہیں کوئی امداد نہ پہنچے گی دونوں جہاں میں یہ نقصان اور گھاٹے میں رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے «اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ» ۱؎ [47-محمد:13] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں تہہ و بالا کر دیا اور کوئی ان کامددگار نہ ہوا ‘۔ دنیا میں بھی یہ ملعون ہوئے اللہ کی ان فرشتوں کی ان نبیوں کی اور تمام نیک بندوں کی ان پر لعنت ہے جو بھی بھلا آدمی ان کا نام سنے گا ان پر پھٹکار بھیجے گا دنیا میں بھی ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی قباحت والے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت «وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ» ۱؎ [11-ھود:99] ‏‏‏‏ ’ یہاں بھی پھٹکار وہاں بھی لعنت ‘۔

📖 احسن البیان

41-1یعنی جو بھی ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید یا اس کے وجود کے منکر ہوں گے، تو ان کا امام و پیشوا یہی فرعونی سمجھے جائیں گے جو جہنم کے داعی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 41) ➊ {وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ:اَىِٕمَّةً”إِمَامٌ“} کی جمع ہے، جس کی پیروی کی جائے، جیسا کہ نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرتا ہے۔ امامت نیکی میں بھی ہوتی ہے اور برائی میں بھی، جیسا کہ ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیھم السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا }» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۷۳ ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے۔“ برائی میں امامت کی مثال فرعون اور اس کے لشکر تھے۔ فرمایا، ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے، یعنی جب تک زندہ رہے کفر میں لوگوں کے پیشوا رہے اور اپنے قول و فعل سے انھیں کفر کی دعوت دیتے رہے، جس کا نتیجہ آگ ہے۔ اسی طرح یہ قیامت کے دن بھی امام اور پیشوا ہوں گے، مگر آگ کی طرف، فرمایا: «{ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ }» [ ھود: ۹۸ ] ”وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔“ ➋ { وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ:} یعنی یہاں کے لشکر وہاں کام نہ دیں گے، نہ کسی طرف سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →