اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ۱؎ [16-النحل:1] یعنی ’ اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو ‘۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے }۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ ۱؎ [مسند بزار343/2]
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:116/2:حسن] مسند کی اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:338/5:صحیح] ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر { آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:223/3:صحیح] اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ { سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی }۔ [صحیح مسلم:2967]
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ } [صحیح بخاری:4825] اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ { اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے }۔ [صحیح مسلم:2802] بخاری میں ہے کہ { انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف } [صحیح بخاری:3285] ۔ مسند میں ہے { ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا }۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں }۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ }۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] { سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا }۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ’ اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ’ بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا ‘۔ ٖ
2۔ 1 یعنی قریش نے، ایمان لانے کی بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش جاری رکھی۔
عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر میں کیا قراء ت فرماتے تھے؟ “انھوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں {” قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ “} اور {” اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ “} کی قراءت فرمایا کرتے تھے۔“ [ مسلم، صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ بہ في صلاۃ العیدین: ۸۹۱ ] (آیت 1) ➊ { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ: ” اِقْتَرَبَتْ “ ”قَرُبَ يَقْرُبُ“} (ک،ع) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے، جیسے {”قَدَرَ“} اور {”اِقْتَدَرَ“} ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”قیامت بہت قریب آ گئی ہے۔“ ویسے تو ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے، مگر قیامت کو بہت قریب اس لیے فرمایا کہ دنیا پر گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں باقی رہنے والا وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اب اس کے فنا اور قیامت کے قیام کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں، بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: [بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ] [ مسلم، الفتن، باب قرب الساعۃ: ۲۹۵۰۔ بخاري،: ۶۵۰۳ ] ” مجھے اور قیامت کو ان دو (انگلیوں) کی طرح بھیجا گیا ہے۔“ ➋ { وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ:} یعنی چاند کا پھٹنا اس بات کی علامت ہے کہ قیامت، جس کی تمھیں خبر دی جاتی رہی ہے، بہت قریب آ گئی ہے، کیونکہ جب چاند جیسا عظیم کرہ پھٹ سکتا ہے توزمین و آسمان، سورج اور ستارے بھی پھٹ کر دوسری صورت اختیار کر سکتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [ إبراہیم: ۴۸ ] ”جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔“ ➌ قرآن مجید میں ماضی کے صیغے مستقبل کے معنی میں بھی آتے ہیں۔ مقصدیہ بتانا ہوتا ہے کہ ان کا واقع ہونا یقینی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ» [إبراہیم: ۲۲ ] ”اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔“ اس مقام پر بھی بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند پھٹ جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ یہاں ماضی کا معنی ہی مراد ہے اور آیت کا مطلب یہی ہے کہ چاند پھٹ گیا۔ ایک ہی آیت میں ایک فعل ماضی کا ترجمہ ماضی اور دوسرے فعل ماضی کا ترجمہ مستقبل کرنا ویسے ہی بے جوڑ لگتا ہے کہ کہا جائے ”قیامت بہت قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔“ پھر اگر مراد مستقبل میں چاند کا پھٹنا ہوتا تو الفاظ یہ ہونے چاہییں تھے: {”أَتَي السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ“} ”قیامت آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔“ پھر دونوں جگہ ماضی کا معنی مستقبل کرنا درست ہوتا۔ اس آیت سے بعد والی آیات سے بھی ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے، تفصیل آگے آئے گی۔ صحیح احادیث سے بھی چاند کا پھٹنا ثابت ہے اور یہ واقعہ اتنی کثیر سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اکثر محدثین و مفسرین اسے متواتر قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ” چاند پھٹنے کے واقعہ پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیران کن معجزات میں سے ایک تھا۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس مقام پر بہت سی احادیث نقل فرمائی ہیں، یہاں چند احادیث نقل کی جاتی ہیں: (1) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ اِنْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰي عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُوْنَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوْا ] [ بخاري، التفسیر، باب: «وانشق القمر…» : ۴۸۶۴ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا اور ایک ٹکڑا اس کی دوسری جانب۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ ہو جاؤ۔“ (2) ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ اِنْشَقَّ الْقَمَرُ فِيْ زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «وانشق القمر…» : ۴۸۶۶ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا۔“ (3) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «وانشق القمر…» : ۴۸۶۷ ] ”اہلِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چاند کا پھٹنا دکھایا۔ “ (4) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ اِنْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ حَتّٰی صَارَ فِرْقَتَيْنِ، فَقَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ أَهْلُ مَكَّةَ هٰذَا سِحْرٌ، يَسْحَرُكُمْ بِهِ ابْنُ أَبِيْ كَبْشَةَ، انْظُرُوا السُّفَّارَ، فَإِنْ كَانُوْا رَأَوْا مَا رَأَيْتُمْ فَقَدْ صَدَقَ وَ إِنْ كَانُوْا لَمْ يَرَوْا مِثْلَ مَا رَأَيْتُمْ فَهُوَ سِحْرٌ سَحَرَكُمْ بِهِ۔ قَالَ فَسُئِلَ السُّفَّارُ قَالَ وَ قَدِمُوْا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَقَالُوْا رَأَيْنَاهُ ] [ دلائل النبوۃ للبیہقي: ۲ /۲۶۶،۲۶۷، و سندہ صحیح ] ”مکہ میں چاند پھٹ گیا، یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو گیا تو مکہ والے کفارِ قریش کہنے لگے: ” یہ جادو ہے جو ابن ابی کبشہ نے تم پر کر دیا ہے، جو لوگ سفر میں گئے ہوئے ہیں ان کا انتظار کرو، اگر انھوں نے وہ دیکھا ہے جو تم نے دیکھا ہے تو اس نے واقعی سچ کہا ہے اور اگر انھوں نے وہ نہیں دیکھا جو تم نے دیکھا ہے تو یہ جادو ہے جو اس نے تم پر کر دیا ہے۔“ فرمایا: ” تو سفر سے آنے والوں سے پوچھا گیا جو ہر جانب سے آ رہے تھے تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے اسے دیکھا ہے۔“ تفسیر ابنِ کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس پر لکھا ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا: ”اسے ابن جریر نے بھی روایت کیا ہے اور یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: [ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ: «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ» ] ”یعنی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔“ ➍ بعض واعظ حضرات بیان کرتے ہیں کہ چاند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے ہوا، انگلی کے اشارے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی طرح بعض کا کہنا ہے کہ چاند کا ایک ٹکڑا آپ کے گریبان سے ہو کر نکل گیا، بالکل ہی لغو بات ہے۔ ➎ انشقاقِ قمر پر کیے جانے والے شبہات اور اعتراضات کے متعلق مفسر عبدالرحمن کیلانی کا کلام بہت عمدہ ہے، وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت اور انشقاقِ قمر کا باہمی تعلق یہ ہے کہ انشقاقِ قمر قربِ قیامت کی ایک نشانی ہے جو واقع ہو چکی ہے، لہٰذا اسے بس اب قریب ہی سمجھو۔ جب کفار نے اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ یا تو چاند پر جادو کر دیا گیا ہے یا ہماری نظروں پر جو ہمیں ایسا نظر آنے لگا ہے۔ اس حیرانی میں ایک شخص نے کہا کہ اگر ہماری نظر بند کر دی گئی ہے تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھ لو۔ چنانچہ آس پاس کے لوگوں نے اس کی تصدیق کر دی، مگر یہ کافر اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔ اس آیت پر منکرین معجزات کئی طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض معنی کی تاویل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں صیغۂ ماضی کا معنی استقبال میں لیا جائے گا اور معنی یہ ہو گا کہ ”جب قیامت قریب آ جائے گی اور چاند پھٹ جائے گا۔“ جیساکہ {” اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ “} اور اس جیسی دوسری آیات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تاویل اور دلیل اس لیے غلط ہے کہ جہاں قیامت کے حوادث کا ذکر آیا ہے، مثلاً آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے اور جھڑنے لگیں گے، زمین پر سخت زلزلے آئیں گے، پہاڑ اڑتے پھریں گے وغیرہ، وہاں ان باتوں کو کفار کے سحر کہنے کا کوئی تعلق نہیں اور نہ قرآن میں ایسی آیات کے ساتھ سحر کا ذکر آیا ہے۔ کافروں کا چاند کے پھٹنے کو جادو کہنا اور اس پر کفار کی تکرار ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ ایک حِسّی معجزہ تھا جو وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ فی الواقع ظہور میں آ چکا ہے تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ رات کا ہے، دن کا نہیں، جب اکثر لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھر اس وقت آدھی دنیا میں تو ویسے ہی سورج نکلا ہوا تھا جہاں یہ واقعہ نظر نہیں آ سکتا تھا اور باقی آدھی دنیا میں سے بھی صرف ان مقامات پر نظر آ سکتا تھا جو منیٰ کے مشرق میں واقع تھے۔ پھر اس واقعہ کا کوئی اعلان بھی نہیں ہوا تھا، جیسے آج کل جنتریوں اور اخباروں سے معلوم ہو جاتا ہے، یا رصد گاہوں کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے، لہٰذا لوگ کوئی اس بات کے منتظر بھی نہیں بیٹھے تھے کہ چاند پھٹے تو ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ چاند گرہن کئی گھنٹوں تک لگا رہتا ہے، لوگوں کو پہلے خبر بھی دی جا چکی ہوتی ہے لیکن لوگوں کی اکثریت چاند گرہن لگنے سے غافل ہوتی ہے اور یہ انشقاقِ قمر تو صرف ایک لمحہ کے لیے واقع ہوا تھا، اسے کون دیکھتا؟ اور آس پاس کے لوگوں نے شہادت دے ہی دی تھی۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ایسے اہم واقعہ کا تاریخ میں بھی ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اس اعتراض کے کئی جواب ہیں، پہلا یہ کہ سب سے زیادہ مستند تاریخ حدیث کی کتابوں سے ہی دستیاب ہو سکتی ہے اور ان میں یہ واقعہ موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ اس دور میں جیسی اور جتنی توجہ تاریخ نویسی پر دی جاتی تھی وہ سب کو معلوم ہے۔ تیسرا یہ کہ جب دنیا کے لوگوں کی اکثریت اور ایسے ہی تاریخ نویسوں نے اسے دیکھا ہی نہ ہو تو لکھیں کیا؟ اور چوتھا یہ کہ تاریخ بھی اس واقعہ کے اندارج سے یکسر خالی نہیں۔ تاریخ فرشتہ میں مذکور ہے، مالی بار کے مہاراجہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور بالآخر یہ واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا۔ چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ہیئت دانوں اور منجمین نے بھی اس واقعہ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چاند پھٹنے سے اس کی رفتار میں فرق آتا یا وہ اپنا مدار بدل لیتا یا مدار سے ہٹ کر چلنے لگتا تو یہ باتیں اس قابل تھیں کہ ہیئت دان اس کا ذکر کرتے، لیکن جب ان میں سے کوئی چیز بھی واقع نہ ہوئی تو وہ کیا ذکر کریں؟ اور پانچواں اعتراض یہ ہے کہ یہ واقعہ خرقِ عادت ہے اور ان کا دراصل سب سے اہم یہی اعتراض ہے جو انھیں تسلیم کرنے سے روکتا ہے اور وہ ادھر اُدھر ہاتھ مارتے اور مختلف قسم کے اعتراض اور شکوک پیدا کرتے ہیں اور حقیقتاً ان کا یہ انکار اللہ کی قدرتِ کاملہ کا انکار ہے۔ بہرحال یہ بات بھی آج بعید از عقل نہیں رہی۔ ہر سیارے کے پیٹ میں آتشیں مادے یا پگھلتی اور کھولتی ہوئی دھاتیں موجود ہیں جن کا درجہ حرارت ہزار ہا درجہ سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ یہ مہیب لاوے ان عظیم الجثہ کروں کو کسی وقت بھی دو لخت کر سکتے ہیں۔ پھر ان کی مرکزی مقناطیسی قوت، جسے آج کی زبان میں قوتِ ثقل کہتے ہیں وہ ان جدا شدہ ٹکڑوں کو ملا کر جوڑ بھی دیتی ہے اور ایسا عمل فضائے بسیط میں ہوتا رہتا ہے۔ یہ کہکشائیں اسی طرح وجود میں آئی ہیں اور آج بھی یہ عمل بند نہیں ہوابلکہ بدستور جاری ہے۔ علاوہ ازیں شہابِ ثاقب کسی سیارے کے اس طرح سے جدا شدہ ٹکڑے کا نام ہے جو کبھی علیحدہ ہو کر پھر جڑ جاتا ہے، کبھی فضا میں ہی گر کر گم ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار زمین پر بھی آ گرتا ہے۔ فضائے بسیط میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر انسان کو اس کا صحیح طور پر علم ہو جائے تو وہ انشقاقِ قمر کے واقعہ پر کبھی تعجب نہ کرے۔ انسان کو کیا معلوم کہ اللہ کی قدرتوں کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور وہ کس قدر حکمتِ بالغہ سے اس نظامِ کائنات کو چلا رہا ہے۔ “ (تیسیر القرآن) ➏ ایک اہم سوال یہاں یہ ہے کہ کفارِ مکہ جب اپنے سوال کے جواب میں اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو ان پر پہلی قوموں کی طرح عذاب آ جانا چاہیے تھا جو نبیوں کے معجزے دیکھ کر ایمان نہیں لائی تھیں۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ پہلی امتوں کو دکھائے جانے والے معجزات ان کے ایمان لانے کی شرط کے ساتھ مشروط مطالبے پر دکھائے گئے تھے، جبکہ ہماری امت میں ایمان لانے کی شرط کے ساتھ بطورِ عناد جس معجزے کا بھی مطالبہ کیا گیا ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا، بلکہ یہی کہنے کا حکم ہوا: «قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا» [ بني إسرائیل: ۹۳ ] ”تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سوا کچھ نہیں جو رسول ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۰تا۹۳) کی تفسیر۔ اس مقصد کے لیے آپ کو ایک ہی معجزہ پیش کرنے کا حکم تھا اور وہ ہے قرآن مجید کہ ہمت ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ۔ اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس معجزے یا کسی بھی معجزے پر ایمان نہ لانے والوں پر عذابِ استیصال یعنی ایسا عذاب نہیں آیا اور نہ آئے گا جو ان کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (51،50) کی تفسیر۔ البتہ اس شرط کے بغیر لوگوں کی درخواست پر بہت سے معجزے صادر ہوئے ہیں، مثلاً سورۂ بنی اسرائیل(۹۰ تا۹۳) میں جن معجزوں کا کفار نے بطورِ شرط مطالبہ کیا اور ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں، لیکن ایسی شرط کے بغیر یہ معجزہ متعدد بار واقع ہوا ہے جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے اور حدیبیہ کے موقع پر کنویں میں تیر ڈالنے سے پانی جاری ہونے کے واقعات جو سب جانتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ إِنَّكُمْ تَعُدُّوْنَ الْآيَاتِ عَذَابًا وَ إِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ قَالَ وَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيْهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَّ عَلَی الْوَضُوْءِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ حَتّٰی تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا ] [ترمذي، المناقب، باب فی قول علي في استقبال کل جبل و شجر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالتسلیم: ۳۶۳۳، و قال حسن صحیح و قال الألباني صحیح ] ”تم نشانیوں کو عذاب شمار کرتے ہو جبکہ ہم انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں برکت شمار کرتے تھے۔ چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کی تسبیح سن رہے ہوتے تھے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا تو پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بابرکت وضو کے پانی پر آ جاؤ اور برکت آسمان سے ہے۔“ یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا۔“ انشقاقِ قمر کامعجزہ بے شک اہلِ مکہ کے اس سوال کے جواب میں صادر ہوا کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائیں، مگر یہ ان کے اس مطالبے کے جواب میں نہیں ہوا کہ آپ ہمیں چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھائیں (جن روایتوں میں یہ بات ذکر ہوئی ہے وہ سب ضعیف ہیں) بلکہ انھیں ایک نشانی کے طور پر دکھایا گیا جسے انھوں نے جادو کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا، فرمایا: «وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ» [ القمر: ۲ ] ”اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے۔“ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اس امت میں بھی معجزات دیکھ کر ایمان نہ لانے والوں پر عذاب آیا، مگر اس کا طریقہ تبدیل کر دیا گیا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اب ایسے لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دینے کا فیصلہ فرمایا اور فی الواقع ایسے تمام منکروں کو بدر اور دوسرے مقامات پر ذلت آمیز عذاب سے دوچار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ (14) وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» [ التوبۃ: ۱۴، ۱۵ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔ اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ “
مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اگر کوئی معجزه دیکھتے ہیں تو منھ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو مستقل جادو ہے (جو پہلے سے چلا آرہا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ۱؎ [16-النحل:1] یعنی ’ اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو ‘۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے }۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ ۱؎ [مسند بزار343/2]
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:116/2:حسن] مسند کی اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:338/5:صحیح] ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر { آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:223/3:صحیح] اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ { سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی }۔ [صحیح مسلم:2967]
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ } [صحیح بخاری:4825] اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ { اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے }۔ [صحیح مسلم:2802] بخاری میں ہے کہ { انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف } [صحیح بخاری:3285] ۔ مسند میں ہے { ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا }۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں }۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ }۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] { سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا }۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ’ اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ’ بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا ‘۔ ٖ
3۔ 1 یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع کی تردید کے لئے فرمایا کہ ہر کام کی ایک انتہا ہوتی ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہور دنیا میں بھی ہوسکتا ہے اگر اللہ کی مشیت مقتضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔
(آیت 2) {وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا …: ”مَرَّ “} اور {” اِسْتَمَرَّ “} گزرنا۔ {” مُسْتَمِرٌّ “} گزر جانے والا۔ یعنی کفار کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ایمان لانے کے بجائے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک جادو ہے، جس طرح اور جادوگزر گئے ہیں یہ بھی گزر جانے والا ہے، یہ چاند بھی ہمیشہ پھٹا ہوا نہیں رہے گا۔ چنانچہ انھوں نے چاند پھٹنے کے عظیم الشان واقعہ کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جادو قرار دے کر ایمان لانے سے اعراض اختیار کیا۔
اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے (رسول(ص) کو) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے اور ثابت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام انجام کو پہنچنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ۱؎ [16-النحل:1] یعنی ’ اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو ‘۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے }۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ ۱؎ [مسند بزار343/2]
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:116/2:حسن] مسند کی اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:338/5:صحیح] ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر { آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:223/3:صحیح] اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ { سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی }۔ [صحیح مسلم:2967]
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ } [صحیح بخاری:4825] اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ { اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے }۔ [صحیح مسلم:2802] بخاری میں ہے کہ { انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف } [صحیح بخاری:3285] ۔ مسند میں ہے { ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا }۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں }۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ }۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] { سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا }۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ’ اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ’ بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا ‘۔ ٖ
قیامت قریب آگئی (1) اور چاند پھٹ گیا (2)۔
(آیت 3) ➊ {وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ:” اَهْوَآءَ“ ”هَوًي“} کی جمع ہے، خواہشات۔ یعنی کفار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے معجزات کو جھٹلانے کا باعث کوئی معقول بات نہ تھی، بلکہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی تھی۔ لفظ {”هَوًي“} (خواہش) اسمِ جنس ہے جو واحد پر صادق آتا ہے اور جمع پر بھی، مگر یہاں {” اَهْوَآءَ “} (جمع) اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ کفار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا باعث ان کی ایک خواہش نہ تھی بلکہ بہت سی خواہشیں تھیں جو انھیں آپ کے تابع فرمان ہونے سے روکتی تھیں۔ مثلاً سرداری کی خواہش، حسد، آباء کی پیروی کی خواہش، اپنے داتاؤں پر جمے رہنے کی خواہش، شتر بے مہار رہنے اور کسی کے تابع فرمان نہ ہونے کی خواہش وغیرہ۔ ➋ { وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ: ”قَرَّ يَقِرُّ“} (ض) قرار پکڑنا۔ {”اِسْتَقَرَّ“} میں مبالغہ ہے، یعنی جس طرح ہر چلنے والا آخر کار کہیں نہ کہیں جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ہر کام کا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا، کوئی نہ کوئی انجام ہوتا ہے، اسی طرح یہ مت سمجھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حق کی طرف بلاتے رہیں گے اور تم انھیں جھٹلاتے رہو گے اور آپ کا حق پر ہونا اور تمھارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہیں ہو گا، بلکہ ایک وقت آئے گا جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی اور ثابت ہو جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا اور جادوگر قرار دینا غلط تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۶۷): «لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ» کی تفسیر۔
اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ان کے پاس وه خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں جن میں کافی روک تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے پاس ایسی (سابقہ قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (سرکشی کرنے والوں کیلئے) کافی سامانِ عبرت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس کئی خبریںآئی ہیں، جن میں باز آنے کا سامان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ۱؎ [16-النحل:1] یعنی ’ اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو ‘۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے }۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ ۱؎ [مسند بزار343/2]
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:116/2:حسن] مسند کی اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:338/5:صحیح] ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر { آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:223/3:صحیح] اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ { سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی }۔ [صحیح مسلم:2967]
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ } [صحیح بخاری:4825] اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ { اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے }۔ [صحیح مسلم:2802] بخاری میں ہے کہ { انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف } [صحیح بخاری:3285] ۔ مسند میں ہے { ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا }۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں }۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ }۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] { سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا }۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ’ اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ’ بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا ‘۔ ٖ
4۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔
(آیت 4) {وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ …: ”نَبَأٌ“} کسی اہم خبر کو کہتے ہیں، {” الْاَنْۢبَآءِ “} اس کی جمع ہے۔ {” مُزْدَجَرٌ “ ”زَجَرَ يَزْجُرُ زَجْرًا“} (ن) (روکنا، منع کرنا، ڈانٹنا) سے بات افتعال کا مصدر میمی ہے، جس کا معنی ”باز آنا“ ہے۔ کہا جاتا ہے: {”زَجَرْتُهُ فَازْدَجَرَ“} ”میں نے اسے منع کیا تو وہ باز آ گیا۔“ یہ اصل میں {”مُزْتَجَرٌ“} (بروزن {مُفْتَعَلٌ}) تھا، ”زاء“ کی وجہ سے باب افتعال کی ”تاء“ کو دال سے بدل دیا تو {” مُزْدَجَرٌ “} ہو گیا۔ تنوین اس میں تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی قرآن کی صورت میں ان کے پاس رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کی خبروں میں سے ایسی اہم خبریں یقینا پہنچی ہیں جن میں آدمی کے لیے ہوائے نفس کی پیروی اور رسولوں کی تکذیب سے باز آنے کا مکمل سامان موجود ہے۔ اگلی آیات میں ان میں سے چند خبروں کا ذکر فرمایا ہے۔
اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا
احمد رضا خان بریلوی
انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی نہایت اعلیٰ حکمت اور دانشمندی مگر تنبیہات (ان کو) کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
عبدالسلام بن محمد
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ۱؎ [16-النحل:1] یعنی ’ اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو ‘۔ اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] یعنی ’ لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں ‘۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے { سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے }۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ ۱؎ [مسند بزار343/2]
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:116/2:حسن] مسند کی اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:338/5:صحیح] ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر { آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:223/3:صحیح] اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ { سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی }۔ [صحیح مسلم:2967]
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ } [صحیح بخاری:4825] اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ { اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے }۔ [صحیح مسلم:2802] بخاری میں ہے کہ { انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف } [صحیح بخاری:3285] ۔ مسند میں ہے { ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا }۔ [مسند احمد:81/4:صحیح] اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں }۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف] { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ }۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:] { سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا }۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل] کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ’ اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ’ بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا ‘۔ ٖ
5۔ 1 یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور یا اسے گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔
(آیت 5){ حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ: ” بَالِغَةٌ “} کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے، مراد انتہا اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے۔ {” النُّذُرُ “ ”نَذِيْرٌ“} کی جمع ہے، ڈرانے والی چیزیں۔ {”نَذِيْرٌ“} مصدر بھی ہو سکتا ہے، جس طرح {”نَكِيْرٌ“} ہے، یعنی تنبیہات، ڈراوے۔ {” حِكْمَةٌ “} پچھلی آیت میں مذکور {” مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ “} سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۱)۔
پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو تم ان سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے رخ پھیر لیجئے جس دن ایک پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
6۔ 1 یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔
(آیت 6) ➊ { فَتَوَلَّ عَنْهُمْ:} یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انھیں ان کے حال پر رہنے دیں۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا۔ ➋ {يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ: ” يَوْمَ “} منصوب بنزع الخافض ہے، یعنی اس سے پہلے حرفِ جار {”إِلٰي“} ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ (بغوی) آلوسی نے کہا: {” هٰذَا قَوْلُ الْحَسَنِ “} کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی {” فَتَوَلَّ عَنْهُمْ إِلٰی يَوْمٍ يَدْعُ الدَّاعِ فِيْهِ إِلٰی شَيْءٍ نُّكُرٍ “} ”سو ان سے منہ پھیر لے، اس دن تک جس میں پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔“ یا {” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُنْظُرْ“} کے ساتھ منصوب ہے، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب…۔“ پکارنے والے سے مراد اسرافیل علیہ السلام ہیں، جن کے نفخہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ {” يَدْعُ “} اصل میں {”يَدْعُوْ“} ہے، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحفِ عثمان میں لکھی نہیں گئی۔ {” الدَّاعِ “} اصل میں {”الدَّاعِيُ“} ہے، ”یاء“ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور {” شَيْءٍ نُّكُرٍ “} سے مراد حساب کتاب ہے {” نُكُرٍ “} بمعنی {” مُنْكِرٌ “} ہے، ناگوار، اجنبی، انوکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہو گی۔
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وه پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے
احمد رضا خان بریلوی
نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
(شدتِ خوف سے) آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے یوں نکل پڑیں گے کہ گویا بکھری ہوئی ہڈیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
7۔ 1 یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔
(آیت 7) {خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ …: ” خُشَّعًا “ ”خَاشِعٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”رَاكِعٌ“} کی جمع {”رُكَّعٌ“} ہے۔ یعنی ذلت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (دیکھیے شوریٰ: ۴۵) {”الْاَجْدَاثِ “ ”جَدَثٌ“} (دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، قبریں۔ {” جَرَادٌ “} اسم جمع ہے، اس کا واحد {”جَرَادَةٌ“} ہے، ٹڈیاں جو بے شمار تعداد میں زمین سے نکلتی ہیں اور ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ {” مُنْتَشِرٌ “} پھیلی ہوئی۔ قبروں سے نکلنے والوں کی حالت کو یہاں پھیلی ہوئی ٹڈیوں کے ساتھ اور سورۂ قارعہ میں{” كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ “} بکھرے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ دونوں ہی جب نکلتے ہیں تو بے شمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرد اڑتے، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں، پروانے آگ کی طرف اور ٹڈیاں اس طرف جدھر ان کا رخ ہو جائے۔ اسی طرح قبروں سے نکلنے والے تیزی کے ساتھ صُور کی آواز کی طرف بے شمار پھیلی ہوئی ٹڈیوں کی طرح گرتے پڑتے، چکر کھاتے، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بے اختیار دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے۔
پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(دہشت سے) گردنیں بڑھائے پکارنے والے کی طرف دوڑتے جا رہے ہوں گے (اس دن) کافر کہیں گے کہ یہ بڑا دشوار دن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے، کافر کہیں گے یہ بڑا مشکل دن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8) ➊ {مُهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ …: ”أَهْطَعَ يُهْطِعُ“} (افعال) کسی چیز کی طرف ٹکٹکی باندھے یا گردن اٹھائے ہوئے تیزی سے دوڑنا۔ (دیکھیے ابراہیم: ۴۳) {” عَسِرٌ “ ”عُسْرٌ“} سے صفت مشبّہ ہے، بہت مشکل۔ ➋ مفسر ابن عاشور نے فرمایا: {” يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ“} سے {” يَوْمٌ عَسِرٌ “} تک اس دن کی ہولناکی سات طرح سے ظاہر ہو رہی ہے: (1) {” يَدْعُ الدَّاعِ “} اسرافیل علیہ السلام کا بلانا ہی اتنا ہولناک ہے جو بیان میں نہیں آ سکتا۔ (2) {” اِلٰى شَيْءٍ “} میں{” شَيْءٍ “} پر تنوینِ تنکیر سے پیدا ہونے والی تعظیم اور ابہام اس ہول میں اضافہ کر رہے ہیں۔ (3) {” نُكُرٍ “} (4) {” خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ “} (5) {” جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ “} کے ساتھ تشبیہ۔ (6) {” مُهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ “} (7) اور ان کا کہنا {” هٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ “} ”کہ یہ بڑا مشکل دن ہے۔“
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے پہلے قومِ نوح(ع) نے جھٹلایا سو انہوں نے ہمارے بندۂ خاص کو جھٹلایا اور ان پر جھوٹا ہو نے کا الزام لگایا اور اسے جھڑکا بھی گیا۔
عبدالسلام بن محمد
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور انھوں نے کہا دیوانہ ہے اور جھڑک دیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ’ اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے ‘، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
9۔ 1 یعنی قوم نوح نے نوح ؑ کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔
(آیت 9) ➊ {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ …:} اس سے پہلے جو فرمایا تھا: «وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ» تو یہاں سے ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ان واقعات میں جھٹلانے والوں کے لیے عبرتیں ہیں جنھیں دیکھ کر اور سن کر وہ تکذیب سے باز آ سکتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کے لیے تسلی اور حوصلے کا سامان ہے۔ یعنی ان اہلِ مکہ سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے انھیں جھٹلایا۔ ➋ { وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ: ” مَجْنُوْنٌ “} جسے جنون ہو، پاگل، دیوانہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۲۵) کی تفسیر۔ ➌ { وَ ازْدُجِرَ:}يہ { ”زَجْرٌ“} (جھڑکنا) سے باب افتعال کا ماضی مجہول ہے، اصل میں {”اُزْتُجِرَ“} تھا، جس میں تائے افتعال مبالغہ کے لیے ہے، یعنی اسے سخت جھڑکا گیا۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نوح علیہ السلام کو سخت جھڑکا گیا، سب و شتم کی بوچھاڑ کی گئی، ان کا مذاق اڑایا گیا اور انھیں دھمکیاں دی گئیں۔ (دیکھیے اعراف: ۶۶۔ ہود: ۳۸۔ شعراء: ۱۱۶) دوسرا مطلب یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ یہ مجنون ہے اور اسے ہمارے معبودوں کی جھڑک پڑی ہوئی ہے، جس سے اس کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، جیسا کہ ہود علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: «اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ» [ ھود: ۵۴ ] ” ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔“
آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر
احمد رضا خان بریلوی
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،
علامہ محمد حسین نجفی
آخر کار اس (نوح(ع)) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں۔ لہٰذا تو (ان سے) بدلہلے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں، سو تو بدلہ لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ’ اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے ‘، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) {فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ:} نوح علیہ السلام نے یہ دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اطلاع دی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ نوح (27،26) کی تفسیر۔ {”اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ“} انتقام لینا۔
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور کے مینہ سے کھول دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور کے بہتے پانی سے
علامہ محمد حسین نجفی
پس ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے، ایسے پانی کے ساتھ جو زور سے برسنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ’ اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے ‘، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
11۔ 1 کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔
(آیت 11) {فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ:” مُنْهَمِرٍ “ ”اِنْهَمَرَ يَنْهَمِرُ“} (انفعال) سے اسم فاعل ہے، شدت اور کثرت کے ساتھ گرنے والا پانی۔
اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین چشمے کرکے بہا دی تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دئیے پس (دونوں) پانی آپس میں مل گئے ایک کام کیلئے جو مقدر ہو چکا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین کو چشموں کے ساتھ پھاڑ دیا، تو تمام پانی مل (کر ایک ہو) گیا، اس کام کے لیے جو طے ہو چکا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) ➊ {وَ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا:} یعنی ہم نے زمین کو پانی کے ساتھ اس طرح پھاڑا کہ وہ ساری کی ساری چشمے بن گئی۔ ➋ { فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ:} یعنی زمین اور آسمان کا پانی مل کر ایک ہو گیا، اس کام کے لیے جو طے کر دیا گیا تھا۔ مراد قومِ نوح کی ہلاکت ہے۔
اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر کہ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (نوح(ع)) کو تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) {وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ:” اَلْوَاحٍ “ ”لَوْحٌ“} کی جمع ہے، لکڑی وغیرہ کے تختے۔ {” دُسُرٍ “ ”دِسَارٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”كِتَابٌ“} کی جمع {”كُتُبٌ“} ہے، کیل یا میخیں خواہ لکڑی کی ہوں یا لوہے وغیرہ کی، جن کے ساتھ تختے جوڑے جاتے ہیں۔ مراد کشتی ہے جو نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طوفان آنے سے پہلے تیار کر لی تھی۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۳۷ تا ۴۱)کی تفسیر۔
جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی نا قدری کی گئی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
ہماری نگاہ کے روبرو بہتی اس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو ہماری آنکھوں کے سا منے (ہماری نگرانی میں) چلتی تھی اور (یہ سب کچھ) اس شخص (نوح(ع)) کا بدلہ لینے کیلئے کیا گیا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) ➊ { تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا:} جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہو گیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس کے نگران و محافظ ہم تھے، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔ ➋ { جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم نہیں کیا گیا۔ {” كُفِرَ “} کا دوسرا معنی ناشکری اور ناقدر شناسی ہے، یعنی نوح علیہ السلام اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انھوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہچانی گئی۔
اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اس نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اسکو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
15۔ 1 مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)
(آیت 15) ➊ { وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۴۴) اور سورۂ عنکبوت (۱۵) کی تفسیر۔ ➋ { فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ: ” مُدَّكِرٍ “ ” ذَكَرَ يَذْكُرُ “} میں سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اصل میں {”مُذْتَكِرٌ“} ہے، تائے افتعال کو دال سے بدل دیا گیا، اسی طرح ذال کو بھی دال سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا گیا، جیسا کہ سورۂ یوسف میں گزرا ہے: «وَ قَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ» [ یوسف: ۴۵ ] ”اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا۔“
دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
مولانا محمد جوناگڑھی
بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی رہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس(دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟
عبدالسلام بن محمد
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) {فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ: ” نُذُرِ “} فراء نے فرمایا: {”إِنْذَارٌ“} اور {”نُذُرٌ“} مصدر ہیں۔“(فتح القدیر) یہاں {” نُذُرِ “} اصل میں {” نُذُرِيْ“} (میرا ڈرانا) تھا، آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے ”یاء“ حذف ہو گئی، اس کی دلیل کے طورپر ”راء“ پر کسرہ باقی رہا۔
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان بنا دیا ہے سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ’ جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ ‘۔ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے }۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ { فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے }۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ’ ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ’۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ’ ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ { یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے }۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
17۔ 1 یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کردیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کرلی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کرلینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے
(آیت 17) ➊ { وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ …:} یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، اس کے الفاظ آسان ہیں، معنی بھی آسان ہے، نہ پڑھنے میں دقت ہے نہ سمجھنے میں، تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے اور نافرمانی سے باز آ جائے؟ اس میں قرآن مجید پڑھنے، پڑھانے، سمجھنے، سمجھانے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے لوگ وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں، یہ بڑے بڑے عالم و فاضل لوگوں کا کام ہے، جو چودہ یا اکیس علوم پڑھے ہوئے ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر متعدد مشکل سے مشکل علوم و فنون پڑھتے رہتے ہیں، مگر قرآن کے قریب نہیں جاتے، اپنے چودہ یا اکیس علوم پورے کرتے کرتے ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ کئی تو ایسے ظالم ہیں، جو کہتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے قرآن کا ترجمہ پڑھنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے گمراہی کا خطرہ ہے۔ حالانکہ قرآن مجید عربی مبین میں اترا اور لوگوں کی ہدایت کے لیے اترا، ہر عام و خاص اور عالم و جاہل عرب نے اسے سنا، سمجھا، اس پر عمل کیا اور آگے پہنچایا۔ ہماری زبان اردو میں قرآن مجید کے تقریباً ستر(۷۰) فیصد الفاظ موجود ہیں، تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جن لوگوں نے قرآن و حدیث کے مقابلے میں نیا دین بنا لیا اور توحید کے مقابلے میں شرک اور سنت کے مقابلے میں بدعت کو اختیار کر لیا ہے، ان کی پوری کوشش ہے کہ لوگ اصل قرآن مجید اور حدیث سے آگاہ نہ ہو جائیں، ورنہ وہ ان کے پنجے سے نکل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی طرف پلٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ➋ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسان کیے جانے کا ایک کرشمہ اور معجزہ یہ ہے کہ یہ سہولت کے ساتھ حفظ ہو جاتا ہے۔ دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کے ہزاروں لاکھوں حافظ ہر زمانے میں پائے گئے ہوں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا غیبی تصرف ہے کہ اس نے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں اس کے حفظ کا شوق رکھ دیا ہے، گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ قرآن کا حافظ بنے۔ کمیونسٹوں نے اپنے زیر تسلط ملکوں میں قرآن کو مٹانے کی کوشش جتنی کر سکتے تھے کی، مگر مسلمانوں نے اپنے گھروں کے تہ خانوں میں کمیونسٹ جاسوسوں سے چھپ کر حفظِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی برکت یہ ہوئی کہ کمیونسٹ قرآن کو مٹانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اس وقت بھی دنیا میں قرآن کے حافظ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ (والحمدللہ) مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۹) کی تفسیر۔
عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں
احمد رضا خان بریلوی
عاد نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرمان
علامہ محمد حسین نجفی
قومِ عاد نے بھی (اپنے نبی(ع) کو) جھٹلایا تو دیکھو کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے؟
عبدالسلام بن محمد
عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19،18){ كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورئہ حم السجدہ (۱۵، ۱۶) کی تفسیر۔
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان پر تیز و تند آندھی بھیجی دائمی نحوست والے دن میں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے ان پر ایک تند آندھی بھیجی، ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔
جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (آندھی) اس طرح آدمیوں کو اکھاڑ پھینکتی تھی کہ گویا وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
لوگوں کو اکھاڑ پھینکتی تھی، جیسے وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {تَنْزِعُ النَّاسَ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ: ”نَزِعَ يَنْزَعُ نَزْعًا“} (ع) {”اَلشَّيْءَ مِنْ مَّكَانِهٖ“} کسی چیز کو اس کی جگہ سے اکھاڑ پھینکنا۔ {” مُنْقَعِرٍ “ ” قَعْرٌ “} (گہرائی) سے ہے، اکھڑا ہوا۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ(۷) کی تفسیر۔
پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیسی رہی میری سزا اور میرا ڈرانا؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
بلاشبہ ہم نے نصیحت حاصل کرنے کیلئے قرآن کو آسان بنا دیا تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
قومِ ثمود نے ڈرانے والوں (پیغمبروں(ع)) کو جھٹلایا۔
عبدالسلام بن محمد
ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24،23) ➊ {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ …:} صالح علیہ السلام کی قوم ثمود نے اپنے رسول کو نہ ماننے کی تین وجہیں بیان کیں، ایک یہ کہ یہ بشر ہے (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۴)، دوسری یہ کہ بشر بھی ہم جیسا عام بشر، کوئی سردار یا سرمایہ دار نہیں (دیکھیے ص: ۸) اور تیسری یہ کہ یہ اکیلا آدمی ہے، اس کے ساتھ کوئی جتھا یا پارٹی نہیں ہے۔ ➋ { اِنَّاۤ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ: ” سُعُرٍ “} جنون، دیوانگی۔ {” ضَلٰلٍ “} اور {” سُعُرٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے اس لیے ترجمہ ”بڑی گمراہی اور بڑی دیوانگی“ کیا گیا ہے۔
اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہنے لگے کیا ہمیں میں سے ایک شخص کی ہم فرمانبرداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقیناً غلطی اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے شخص کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے؟ اس صو رت میں تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
24۔ 1 یعنی ایک بشر کو رسول مان لینا، ان کے نزدیک گمراہی اور دیوانگی تھی۔
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وه جھوٹا اور شیخی خور ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا ہم سب میں سے اس پر بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا (اور) شیخی باز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
25۔ 1 یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی پر وحی آنی تھی؟ یا اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصد تھا۔
(آیت 26،25) ➊ {ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ص (۸) کی تفسیر۔ ➋ { بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ: ” اَشِرٌ “ ”أَشَرَ يَأْشِرُ أَشْرًا“} (ض) سے اسم فاعل ہے، متکبر، اکڑنے والا۔
(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اب سب جان لیں گے کل کو کہ کون جھوٹا اور شیخی خور تھا؟
احمد رضا خان بریلوی
بہت جلد کل جان جائیں گے کون تھا بڑا جھوٹا اترونا (شیخی باز)
علامہ محمد حسین نجفی
انہیں بہت جلد کل کلاں معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا (اور) شیخی باز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبر کون ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
26۔ 1 یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح علیہ السلام، جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غَدًا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن یا دنیا میں ان کے لئے عذاب کا مقررہ دن۔
ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے پس (اے صالح) توان کا منتظر ره اور صبر کر
احمد رضا خان بریلوی
ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو تو اے صا لح! تو راہ دیکھ اور صبر کر
علامہ محمد حسین نجفی
ہم ایک (خاص) اونٹنی ان کی آزمائش کے لئے بھیج رہے ہیں پس تم (اے صالح(ع) انجامِ کار) انتظار کرو اور صبر کرو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم یہ اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے بھیجنے والے ہیں، سو ان کا انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
27۔ 1 کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان ظاہر فرمائی تھی۔
(آیت 27){ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۴) اور سورۂ شعراء (۱۵۵) کی تفسیر۔ {” فَارْتَقِبْهُمْ “ ”رَقَبَ يَرْقُبُ“} (ن) سے باب افتعال ہے۔ {” وَ اصْطَبِرْ “ ”صَبَرَ يَصْبِرُ صَبْرًا“} (ض) سے باب افتعال ہے، ”تاء“ کو ”طاء“ سے بدل دیا۔ حروف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، ان کا حوصلے سے انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔ یعنی اس آزمائش میں یہ لوگ کیا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں حوصلے کے ساتھ اس کا انتظار کر اور بہت اچھے طریقے سے صبر کر۔ آزمائش اس لیے تھی کہ ان کا امتحان مقصود تھا کہ اس نشانی کو دیکھ کر وہ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں یا اسے نقصان پہنچا کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔
اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں انہیں خبر کر دے کہ پانی ان میں تقسیم شده ہے، ہرایک اپنی باری پر حاضر ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں خبر دے دے کہ پانی ان میں حصوں سے ہے ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہیں آگاہ کر دو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگیا ہے اور ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں بتا دے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا، پینے کی ہر باری پر حاضر ہوا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
28۔ 1 یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے اور ایک دن قوم کے پانی پینے کے لئے۔ 28۔ 2 مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرَب حصہ آب۔
(آیت 28){ وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ …:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورئہ شعراء (۱۵۵) کی تفسیر۔
آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی جس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا تو اس نے لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان لوگوں (یہودیوں) نے اپنے ساتھی (قدار) کو پکارا پس اس نے (اونٹنی کو) پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
29۔ 1 یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔ 29۔ 2 یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کردیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی۔
(آیت 29) {فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ: ” فَتَعَاطٰى “ ”عَطَا يَعْطُوْ عَطْوًا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا۔ {”تَعَاطَي الشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا اور {” تَعَاطَي الْأَمْرَ “} کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح علیہ السلام نے انھیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انھیں سچا جانتے تھے، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خائف تھے، لیکن آخرکار صبر نہ کر سکے اور انھوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے، فرمایا: «اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا» [ الشمس: ۱۲ ] ”جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔“ چنانچہ سب نے مل کر اسے مدد کے لیے پکارا کہ تو بڑا بہادر اور جری ہے۔ اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ مزید دیکھیے سورۂ شمس (۱۱،۱۲) کی تفسیر۔ {” فَتَعَاطٰى “} کا مفعول محذوف ہے: {” أَيْ تَعَاطَي السَّيْفَ“} (اس نے تلوار پکڑی) {” أَوْ تَعَاطَي الْأَمْرَ“} (یا اس نے اس کام کا ذمہ اٹھایا)۔
پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیونکر ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا
احمد رضا خان بریلوی
پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان
علامہ محمد حسین نجفی
تو کیسا تھا میرا عذاب اورمیرے ڈراوے؟
عبدالسلام بن محمد
تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ہم نے اُن پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان پر ایک چیﺦ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان پر ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑہ کی طرح ہو کر رہ گئے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے ان پر ایک ہی چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کی کچلی، روندی ہوئی باڑ کی طرح ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔
(آیت 31) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَّاحِدَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اعراف (۷۸) کی تفسیر۔ ➋ { فَكَانُوْا كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ: ”هَشَمَ يَهْشِمُ هَشْمًا“ (ض) ”اَلشَّيءَ“} کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کر دینا۔ {”هَشِيْمٌ“} روندی، کچلی ہوئی۔ {”حَظِيْرَةٌ“} باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور{” الْمُحْتَظِرِ “} باڑ بنانے والا۔باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور چورا بن جاتی ہیں انھیں {”هَشِيْمٌ“} کہا جاتا ہے۔ قومِ ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو باڑ سے گر کر جانوروں کے پاؤں میں آ کر چورا بن جاتے ہیں۔
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے نصیحت حاصل کرنے کیلئے قرآن کو آسان بنا دیاتو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے ان پر پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں کے ہم نے انہیں پچھلے پہر بچالیا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی صرف آلِ لوط(ع) اس سے محفوظ رہے ہم نے سحر کے وقت ان کو نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں ہم نے صبح سے کچھ پہلے نجات دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
34۔ 1 یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی، یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا کردیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر، اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورة ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔
(آیت 34) ➊ {اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا:} قومِ لوط کی بستیاں الٹانے کے بعد ان پر پتھروں کی جو بارش ہوئی وہ مراد ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۸۳)۔ ➋ { اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ:} لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے ایک آدمی بھی ایمان نہیں لایا، حتیٰ کہ ان کی بیوی بھی کافر ہی رہی۔ (دیکھیے ذاریات: ۳۶۔ ہود: ۸۱) اس لیے یہاں ” آلِ لوط “ سے مراد صرف ان کی اولاد ہے، جن کے ساتھ وہ خود بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیغمبر کی آل اور اہل تسلیم نہیں کیاخواہ بیوی ہو، جیسے لوط علیہ السلام کی بیوی، یا بیٹا ہو جیسے نوح علیہ السلام کا بیٹا،اس کے بارے میں فرمایا: «اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ» [ ھود: ۴۶ ] ”بے شک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں۔“ ➌ { نَجَّيْنٰهُمْ بِسَحَرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۸۱) کی تفسیر۔
اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے احسان سے ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اپنے پاس کی نعمت فرماکر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے
علامہ محمد حسین نجفی
خاص اپنے فضل و کرم سے ہم اسی طرح شکر کرنے والے کو جزا دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اپنی طرف سے انعام کرتے ہوئے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
35۔ 1 یعنی ان کو عذاب سے بچانا، یہ ہماری رحمت اور احسان تھا جو ان پر ہوا۔
(آیت 35) {نِعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا......:} اس میں اپنی نعمت کی عظمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو اس عذاب سے بچانا ہماری خاص نعمت تھی۔ اس سے اگلے جملے { ”كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ شَكَرَ“ } سے ان کی اس نعمت کا اہل بننے کی وجہ بھی معلوم ہو رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے: اس لیے ہم نے انہیں اس عظیم نعمت سے نوازا، جیسا کہ فرمایا «لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ» [ابراہیم: ٧] ”بے شک اگر تم شکر کر و گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا“۔ اور صرف انہی کو نہیں بلکہ جو بھی ہماری نعمتوں کی قدر کرے ہم اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔
لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والوں کے بارے میں (شک وشبہ اور) جھگڑا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا
علامہ محمد حسین نجفی
بلاشبہ انہوں (لوط(ع)) نے انہیں سخت گرفت سے ڈرایا تھا مگر وہ ڈرانے کے بارے میں شک میں مبتلا رہے (اورجھگڑتے رہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اس نے انھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تو انھوں نے ڈرانے میں شک کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
36۔ 1 یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔ 36۔ 2 لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔
(آیت 36) {وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ: ”تَمَارٰي يَتَمَارٰي تَمَارِيًا“} (تفاعل) شک کرنا، جھگڑنا۔ ”لام“ اور {”قَدْ“} کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کی قوت رکھتی ہے، یعنی قسم ہے کہ لوط علیہ السلام نے انھیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، مگر انھوں نے اس ڈرانے پر یقین نہیں کیا، بلکہ شک میں پڑے رہے اور اس کے متعلق بحث اور جھگڑا ہی کرتے رہے۔
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دی (چوپٹ کردیں) فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں نے ان کے مہمانوں کے بارے میں برے ارادہ سے ان پر ڈول ڈالے تو ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں تو میرے عذاب اور ڈراوے کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
37۔ 1 یا بہلایا یا مانگا لوط ؑ سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط ؑ کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبرو نوجوان لوط ؑ کے ہاں آئے ہیں۔ (جو دراصل فرشتے تھے اور انکو عذاب دینے کے لیے آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔ (2) کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانو) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل ؑ نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط ؑ کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور صبح اس عذاب عام میں تباہ ہوگئے جو پوری قوم کے لئے آیا۔ (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 37) {وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ …: ” رَاوَدُوْهُ “} باب مفاعلہ سے ہے۔ {”مُرَاوَدَةٌ“} نرمی اور ملائمت سے باربار مطالبہ کرنا، پھسلانا، بہکانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے۔ {” ضَيْفِهٖ “} سے مراد فرشتے ہیں جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ قوم کو ان کے آنے کا علم ہوا تو انھوں نے لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ {” رَاوَدُوْهُ “} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ انھوں نے لوط علیہ السلام پر دھوکے، فریب، بہکانے، پھسلانے، دھونس اور دھاندلی کا ہر طریقہ آزمایا کہ کسی طرح ہی وہ دھوکے میں آ کر انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ جو اس مقصد کے لیے آئے تھے جب حد سے بڑھ گئے اور ان لڑکوں کو زبردستی چھیننے کے لیے گھر میں داخل ہونے لگے اور لوط علیہ السلام سخت گھبرا گئے تو فرشتوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ آپ تک کسی صورت نہیں پہنچ سکیں گے۔ (دیکھیے ہود: 81،80) اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، انھیں اندھا کر دیا کہ بڑا عذاب آنے سے پہلے میرے اس عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو۔
اور یقینی بات ہے کہ انہیں صبح سویرے ہی ایک جگہ پکڑنے والے مقرره عذاب نے غارت کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (پھر) صبح سویرے ان پر دائمی عذاب آپہنچا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا صبح سویرے ہی ان پر ایک نہ ٹلنے والے عذاب نے حملہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
38۔ 1 یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے
(آیت 38){ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۸۲، ۸۳) کی تفسیر۔
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40،39) {فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَ نُذُرِ …:} یہاں قوم نوح، عاد، ثمود اور قومِ لوط چاروں کے تذکرے میں یہ دونوں باتیں بار بار دہرائی ہیں، تاکہ متعدد مرتبہ ذکر کے دوران کسی بار ہی ان کی طرف توجہ ہو جائے۔سورۂ رحمن میں {” فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ “} اور سورۂ مرسلات میں {” وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ “} کو بار بار دہرانے میں بھی یہی حکمت ملحوظ ہے۔
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند ووعﻆ کے لیے آسان کر دیا ہے۔ پس کیا کوئی ہے نصحیت پکڑنے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کیلئے آسان بنا دیا ہے کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭
لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟
40۔ 1 قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کردینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیئے۔
اور بلاشبہ یقینا فرعون کی آل کے پاس ڈرانے والے آئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 41) {وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ:} آلِ فرعون کو ڈرانے اور خبردار کرنے والوں سے مراد ان کے پاس آنے والے پیغمبر موسیٰ اور ہارون علیھما السلام بھی ہیں اور ان کو دیے جانے والے نو (۹) معجزات بھی، جنھیں اللہ تعالیٰ نے {” تِسْعَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ “} قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱) کی تفسیر۔
مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے ہماری سب نشانیاں جھٹلائیں تو ہم نے ان پر گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں اس طرح پکڑا جس طرح کوئی زبردست اقتدار والا (طا قتور) پکڑتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلادیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
42۔ 1 وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا، یہ نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت 42) {كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ …: ” عَزِيْزٍ “} سب پر غالب، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ {” مُقْتَدِرٍ “”قَدَرَ يَقْدِرُ“} (ض) سے باب افتعال ہے، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے {” مُقْتَدِرٍ “} میں {” قَادِرٌ “} اور{” قَدِيْرٌ “} کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی طرح عاجز نہیں۔ آلِ فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۰۲)۔
کیا تمہارے کفار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں معافی کا پروانہ لکھا ہوا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
43۔ 1 یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لئے ہے، یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گذشتہ کافروں سے بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو
(آیت 43) ➊ { اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ:} یہ خطاب قریش کے لوگوں سے ہے کہ ان اقوام پر کفر و تکذیب کے نتیجے میں یہ عذاب آئے، اگر تم کفر اختیار کرو گے تو کیا تم میں سے کفر کرنے والے کسی بھی لحاظ سے ان سے بہتر ہیں کہ ان پر عذاب نہیں آئے گا؟ استفہام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں ہے۔ قریش کے علاوہ قیامت تک کے تمام لوگ بھی اس کے مخاطب ہیں، کیونکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت ہیں۔ ➋ {اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ:} یا پہلی آسمانی کتابوں میں تمھارے متعلق لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو، تم پر پہلی قوموں کی طرح عذاب نہیں آئیں گے؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں۔
یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی جماعت ہیں جو غالب رہیںگے۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں، جو بدلہ لے کر رہنے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
44۔ 1 تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
(آیت 44) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ:} یہاں{” جَمِيْعٌ “ ”كُلٌّ“} (تمام)کے معنی میں نہیں بلکہ ”یاء“ کے اضافے کے ساتھ {”جَمْعٌ“} کے معنی میں ہے، مضبوط جماعت۔ {”اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ اِنْتِصَارًا“} ظالم سے بچاؤ کرنا، دشمن سے انتقام لینا، مدِ مقابل پر غالب آنا۔ یا پھر ان کا کہنا یہ ہے کہ نہ ہم پہلوں سے بہتر ہیں اور نہ کسی کتاب میں ہمارے عذاب سے محفوظ رہنے کی کوئی بات موجود ہے، مگر ہم ایک مضبوط جماعت ہیں جو اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں، بدلا بھی لے سکتے ہیں اور مدِ مقابل پر غالب بھی آ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں کوئی خوف نہیں۔ آیت میں التفات ہے، یعنی پچھلی آیت {” اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ “} میں خطاب کا صیغہ ہے اور یہاں غائب کے صیغے کے ساتھ ان کا ذکر ہے، مراد ان کی تحقیر ہے کہ ایسی ڈینگیں مارنے والے خطاب کے قابل نہیں۔
عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی
احمد رضا خان بریلوی
اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیردیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
45۔ 1 جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چناچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے۔
(آیت 45) {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ: ” الْجَمْعُ “} پر الف لام عہد خارجی کا ہے، یعنی وہ جماعت جس کاپچھلی آیت کے لفظ {” جَمِيْعٌ “} میں ذکر ہے۔ اس لیے ترجمہ ”یہ جماعت“ کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ان کا یہ کہنا ہے تو یاد رکھیں کہ یہ جماعت اپنے خیال میں جتنی بھی زبردست ہو بہت جلد شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ {” الدُّبُرَ “} کا لفظ واحد ہے، مراد جنس ہے: {”أَيْ يُوَلِّيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ دُبُرَهُ“} ”یعنی ان میں سے ہر ایک پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔“ یہ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے ہے۔ یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں، جب مسلمان مظلوم و مقہور تھے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قریشِ مکہ جیسے قوت و شوکت والے لوگ بھی کسی وقت ان کمزور اور بے بس مسلمانوں سے شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ جن مسلمانوں میں سے کچھ جان بچا کر حبش میں پناہ لے چکے تھے، کچھ شعبِ ابی طالب میں محصور تھے اور قریش کے مقاطع اور محاصرے کی وجہ سے بھوکوں مر رہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وہ وقت آیا اور فی الواقع تھوڑے ہی عرصے میں بدر و احزاب اور دوسری جنگوں کے موقع پر یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ بدر کے موقع پر معرکہ برپا ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی، تب صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ وہ ہزیمت تھی جس کی وعید اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو سنائی تھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اَللّٰهُمَّ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ ] ”اے اللہ! میں تجھے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے (تو اس تھوڑی سی جمعیت کو مٹ جانے کے لیے بے یارومددگار چھوڑ دے، ورنہ اس کی ضرور مدد فرما)۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! بس کیجیے، آپ نے اپنے رب سے نہایت اصرار کے ساتھ دعا کی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زرہ پہنے ہوئے اچھلتے ہوئے نکلے اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے: «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ» ” عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: {سیھزم الجمع }: ۴۸۷۵ ]
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ان کے وعدہ کا اصل وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت (ہولناک) اور بڑی تلخ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭
فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔
پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
(آیت 46){ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ …: ”دَاهِيَةٌ“} بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور {” اَدْهٰى “} زیادہ بڑی مصیبت۔ {”مُرٌّ“} (میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ، کڑوا۔ {”مَرَّ يَمُرُّ مَرَارَةً“} (ن) کڑوا ہونا۔ {”اَمَرُّ“} اس سے اسم تفضیل ہے، زیادہ تلخ۔ یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں قتل، گرفتاری، غلامی، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر(۷۰) گنا زیادہ سخت ہے۔
یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک گناه گار گمراہی میں اور عذاب میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭
بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ’ ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ’ اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی ‘۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں } [صحیح مسلم:6696] بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ }۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں }۔
ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا }۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے }۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو }۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] { اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں }۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔“ [صحیح مسلم:2655] صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664]
{ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے }۔ [مسند احمد:293/1] { سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا }۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا }۔ [صحیح مسلم:2653] امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 47){ اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ:} مجرمین سے مراد مشرکین ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ» [ المطففین: ۲۹ ] ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے،ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [ الرحمٰن: ۴۳ ] ”یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔ “ یعنی مشرکین اپنی دانست میں بڑے دانا اور صحیح راستے پر چلنے والے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں۔
جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن وه اپنے منھ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اوران سے کہا جائے گا) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو
احمد رضا خان بریلوی
جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن یہ لوگ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) اب آگ کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭
بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ’ ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ’ اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی ‘۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں } [صحیح مسلم:6696] بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ }۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں }۔
ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا }۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے }۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو }۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] { اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں }۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔“ [صحیح مسلم:2655] صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664]
{ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے }۔ [مسند احمد:293/1] { سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا }۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا }۔ [صحیح مسلم:2653] امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔
48۔ 1 سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔
(آیت 48) {يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ …: ” سَقَرَ “} جہنم کا علم(نام) ہے اور مؤنث سماعی ہے، اس لیے غیر منصرف ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی۔ اشتقاق اس کا {”سَقَرَتْهُ النَّارُ“} (آگ نے اسے جھلس دیا) سے ہے، یعنی ان پر ان کی ضلالت اور دیوانگی اس دن واضح ہو گی جب انھیں ان کے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جہنم کے چھونے کا مزہ چکھو۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۳۴)۔
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے ہر چیز کو خاص اندازہ سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے جو بھی چیز ہے، ہم نے اسے ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭
بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ’ ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ’ اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی ‘۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں } [صحیح مسلم:6696] بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ }۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں }۔
ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا }۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے }۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو }۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] { اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں }۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔“ [صحیح مسلم:2655] صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664]
{ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے }۔ [مسند احمد:293/1] { سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا }۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا }۔ [صحیح مسلم:2653] امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) ➊ { اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ:” بِقَدَرٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی اگر انھیں شبہ ہے کہ قیامت ابھی واقع کیوں نہیں ہوتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو اپنے عظیم مستحکم اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہمیں گزشتہ کی طرح آئندہ کا بھی پورا علم ہے کہ کوئی بھی چیز کس طرح ہو گی، کتنی ہو گی اور کب ہو گی؟ غرض ہم نے اس کی شکل و صورت، زمان و مکاں، قوت و ضعف وغیرہ ہر چیز کا اندازہ طے کر دیا ہے، مثلاً جس کے قد کا اندازہ چھ فٹ طے کیا ہے وہ چھ فٹ ہی ہو گا، جسے سعید طے کر دیا ہے وہ سعید ہو گا اور جسے شقی طے کر دیا ہے وہ شقی ہو گا، جس کا جتنا وقت مقرر کیا ہے اس سے ایک لمحہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ چنانچہ ہم نے قیامت کا بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، نہ وہ اس سے پہلے آسکتی ہے نہ اس سے ایک لمحہ کی تاخیر ہو گی۔ تمھارے مطالبے کے مطابق اگر وہ ابھی واقع نہیں ہوتی تو یہ مت سمجھو کہ وہ واقع ہو گی ہی نہیں۔ اس آیت سے ملتی جلتی یہ آیت ہے: «وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ» [ الرعد: ۸ ] ”اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔ “ اور سورۂ مرسلات کی یہ آیت: «فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ» [ المرسلات: ۲۳] ”پس ہم نے اندازہ کیا تو ہم اچھے اندازہ کرنے والے ہیں۔“ ➋ { ”قَدَرٌ“} سے مراد تقدیر ہے جو ان چھ چیزوں میں شامل ہے جن پر ایمان کا دارومدار ہے۔ حدیثِ جبریل میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان الإیمان و الإسلام والإحسان …: ۸ ] ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور تقدیر اچھی یا بری، اس پر ایمان لائے۔“ یعنی اچھی تقدیر کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور بری کا بھی، مجوس کی طرح نہیں جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالقِ خیر اور ایک خالقِ شر۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [ كَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِيْرَ الْخَلاَئِقِ قَبْلَ أَنْ يَّخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِيْنَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ] [ مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۳ ] ”اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں۔“ فرمایا: ”اور (اس وقت)اس کا عرش پانی پر تھا۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ ] [مسلم، القدر، باب کل شيء بقدر: ۲۶۵۵ ] ”ہر چیز تقدیر سے ہے، حتیٰ کہ عاجزی اور ہو شیاری بھی۔“ یعنی بعض لوگ جو بے کار اور نکھٹو ہوتے ہیں اور بعض عقل مند اور ہو شیار، تو یہ بھی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔
اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آ جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہمارا حکم نہیں ہوتا مگر ایک جو آنکھ جھپکنے میں واقع ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭
بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ’ ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ’ اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی ‘۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں } [صحیح مسلم:6696] بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ }۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں }۔
ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا }۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے }۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو }۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] { اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں }۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔“ [صحیح مسلم:2655] صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664]
{ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے }۔ [مسند احمد:293/1] { سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا }۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا }۔ [صحیح مسلم:2653] امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 50) ➊ {وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ:} یعنی بے شک قیامت بہت بڑی چیز ہے، جس کی ہیبت سے آسمان و زمین لرزتے ہیں، جیساکہ فرمایا: «ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [ الأعراف: ۱۸۷ ] ”وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے۔“ مگر یہ مت سمجھو کہ ہمارے لیے اس کا قائم کرناکچھ دشوار ہے، یا ہم لانا چاہیں تو اس کے آنے میں دیر ہو جائے گی، ہمارا تو صرف ایک حکم ہوتا ہے اور آنکھ جھپکنے میں کام ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ یٰس: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۷۷)۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {” وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ “} کے بعد {”إِلَّا وَاحِدٌ“} ہونا چاہیے تھا، {” وَاحِدَةٌ “} کیوں فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد {”كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ“} ہے، یعنی ہمارا حکم صرف ایک کلمۂ {” كُنْ “} ہوتا ہے۔