بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 44
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ ﴿۴۴﴾
یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی جماعت ہیں جو غالب رہیںگے۔
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں، جو بدلہ لے کر رہنے والے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏‏‏‏ جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] ‏‏‏‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏‏‏‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

📖 احسن البیان

44۔ 1 تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ:} یہاں{” جَمِيْعٌ”كُلٌّ“} (تمام)کے معنی میں نہیں بلکہ ”یاء“ کے اضافے کے ساتھ {”جَمْعٌ“} کے معنی میں ہے، مضبوط جماعت۔ {”اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ اِنْتِصَارًا“} ظالم سے بچاؤ کرنا، دشمن سے انتقام لینا، مدِ مقابل پر غالب آنا۔ یا پھر ان کا کہنا یہ ہے کہ نہ ہم پہلوں سے بہتر ہیں اور نہ کسی کتاب میں ہمارے عذاب سے محفوظ رہنے کی کوئی بات موجود ہے، مگر ہم ایک مضبوط جماعت ہیں جو اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں، بدلا بھی لے سکتے ہیں اور مدِ مقابل پر غالب بھی آ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں کوئی خوف نہیں۔ آیت میں التفات ہے، یعنی پچھلی آیت {” اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ “} میں خطاب کا صیغہ ہے اور یہاں غائب کے صیغے کے ساتھ ان کا ذکر ہے، مراد ان کی تحقیر ہے کہ ایسی ڈینگیں مارنے والے خطاب کے قابل نہیں۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →