بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 46
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 46
آیت نمبر: 46 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ ﴿۴۶﴾
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے
بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی
بلکہ ان کے وعدہ کا اصل وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت (ہولناک) اور بڑی تلخ ہے۔
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏‏‏‏ جاری تھیں }۔ [صحیح بخاری:4877] ‏‏‏‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔ صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏‏‏‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏‏‏‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

📖 احسن البیان

46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 46){ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ …: ”دَاهِيَةٌ“} بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور {” اَدْهٰى “} زیادہ بڑی مصیبت۔ {”مُرٌّ“} (میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ، کڑوا۔ {”مَرَّ يَمُرُّ مَرَارَةً“} (ن) کڑوا ہونا۔ {”اَمَرُّ“} اس سے اسم تفضیل ہے، زیادہ تلخ۔ یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں قتل، گرفتاری، غلامی، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر(۷۰) گنا زیادہ سخت ہے۔
← پچھلی آیت (45) پوری سورۃ اگلی آیت (47) →