بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 7
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 7
آیت نمبر: 7 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
خُشَّعًا اَبۡصَارُہُمۡ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ کَاَنَّہُمۡ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ ۙ﴿۷﴾
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وه پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے
نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی
(شدتِ خوف سے) آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے یوں نکل پڑیں گے کہ گویا بکھری ہوئی ہڈیاں ہیں۔
ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

معجزات بھی بےاثر ٭٭

رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏‏‏‏ [74-المدثر:9،10] ‏‏‏‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔

📖 احسن البیان

7۔ 1 یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 7) {خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ …: ” خُشَّعًا”خَاشِعٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”رَاكِعٌ“} کی جمع {”رُكَّعٌ“} ہے۔ یعنی ذلت کی وجہ سے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (دیکھیے شوریٰ: ۴۵) {”الْاَجْدَاثِ”جَدَثٌ“} (دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، قبریں۔ {” جَرَادٌ “} اسم جمع ہے، اس کا واحد {”جَرَادَةٌ“} ہے، ٹڈیاں جو بے شمار تعداد میں زمین سے نکلتی ہیں اور ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ {” مُنْتَشِرٌ “} پھیلی ہوئی۔ قبروں سے نکلنے والوں کی حالت کو یہاں پھیلی ہوئی ٹڈیوں کے ساتھ اور سورۂ قارعہ میں{” كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ “} بکھرے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ دونوں ہی جب نکلتے ہیں تو بے شمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرد اڑتے، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں، پروانے آگ کی طرف اور ٹڈیاں اس طرف جدھر ان کا رخ ہو جائے۔ اسی طرح قبروں سے نکلنے والے تیزی کے ساتھ صُور کی آواز کی طرف بے شمار پھیلی ہوئی ٹڈیوں کی طرح گرتے پڑتے، چکر کھاتے، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بے اختیار دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے۔
← پچھلی آیت (6) پوری سورۃ اگلی آیت (8) →