بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 8
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
مُّہۡطِعِیۡنَ اِلَی الدَّاعِ ؕ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَسِرٌ ﴿۸﴾
پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے
بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے،
(دہشت سے) گردنیں بڑھائے پکارنے والے کی طرف دوڑتے جا رہے ہوں گے (اس دن) کافر کہیں گے کہ یہ بڑا دشوار دن ہے۔
پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے، کافر کہیں گے یہ بڑا مشکل دن ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

معجزات بھی بےاثر ٭٭

رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏‏‏‏ [74-المدثر:9،10] ‏‏‏‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 8) ➊ {مُهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ …: ”أَهْطَعَ يُهْطِعُ“} (افعال) کسی چیز کی طرف ٹکٹکی باندھے یا گردن اٹھائے ہوئے تیزی سے دوڑنا۔ (دیکھیے ابراہیم: ۴۳) {” عَسِرٌ”عُسْرٌ“} سے صفت مشبّہ ہے، بہت مشکل۔ ➋ مفسر ابن عاشور نے فرمایا: {” يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ“} سے {” يَوْمٌ عَسِرٌ “} تک اس دن کی ہولناکی سات طرح سے ظاہر ہو رہی ہے: (1) {” يَدْعُ الدَّاعِ “} اسرافیل علیہ السلام کا بلانا ہی اتنا ہولناک ہے جو بیان میں نہیں آ سکتا۔ (2) {” اِلٰى شَيْءٍ “} میں{” شَيْءٍ “} پر تنوینِ تنکیر سے پیدا ہونے والی تعظیم اور ابہام اس ہول میں اضافہ کر رہے ہیں۔ (3) {” نُكُرٍ “} (4) {” خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ “} (5) {” جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ “} کے ساتھ تشبیہ۔ (6) {” مُهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ “} (7) اور ان کا کہنا {” هٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ “} ”کہ یہ بڑا مشکل دن ہے۔“
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →