بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 6
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّکُرٍ ۙ﴿۶﴾
پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
تو تم ان سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے رخ پھیر لیجئے جس دن ایک پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

معجزات بھی بےاثر ٭٭

رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» ‏‏‏‏ [74-المدثر:9،10] ‏‏‏‏ اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔

📖 احسن البیان

6۔ 1 یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ { فَتَوَلَّ عَنْهُمْ:} یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انھیں ان کے حال پر رہنے دیں۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا۔ ➋ {يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ:يَوْمَ “} منصوب بنزع الخافض ہے، یعنی اس سے پہلے حرفِ جار {”إِلٰي“} ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ (بغوی) آلوسی نے کہا: {” هٰذَا قَوْلُ الْحَسَنِ “} کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی {” فَتَوَلَّ عَنْهُمْ إِلٰی يَوْمٍ يَدْعُ الدَّاعِ فِيْهِ إِلٰی شَيْءٍ نُّكُرٍ “} ”سو ان سے منہ پھیر لے، اس دن تک جس میں پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔“ یا {” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُنْظُرْ“} کے ساتھ منصوب ہے، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب…۔“ پکارنے والے سے مراد اسرافیل علیہ السلام ہیں، جن کے نفخہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ {” يَدْعُ “} اصل میں {”يَدْعُوْ“} ہے، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحفِ عثمان میں لکھی نہیں گئی۔ {” الدَّاعِ “} اصل میں {”الدَّاعِيُ“} ہے، ”یاء“ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور {” شَيْءٍ نُّكُرٍ “} سے مراد حساب کتاب ہے {” نُكُرٍ “} بمعنی {” مُنْكِرٌ “} ہے، ناگوار، اجنبی، انوکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہو گی۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →