بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 29
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ﴿۲۹﴾
آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا
انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی جس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں
تو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا تو اس نے لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیں
پس ان لوگوں (یہودیوں) نے اپنے ساتھی (قدار) کو پکارا پس اس نے (اونٹنی کو) پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں۔
تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭

ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏‏‏‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

29۔ 1 یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔ 29۔ 2 یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کردیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) {فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ:فَتَعَاطٰى”عَطَا يَعْطُوْ عَطْوًا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا۔ {”تَعَاطَي الشَّيْءَ“} کسی چیز کو پکڑنا اور {” تَعَاطَي الْأَمْرَ “} کسی کام کا ذمہ اٹھانا۔ ایک مدت تک یہ ایک دن کی باری کا سلسلہ جاری رہا۔ صالح علیہ السلام نے انھیں تنبیہ کی تھی کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا۔ ایمان نہ لانے کے باوجود دل سے وہ انھیں سچا جانتے تھے، اس لیے وہ اونٹنی کو نقصان پہنچانے سے خائف تھے، لیکن آخرکار صبر نہ کر سکے اور انھوں نے اس کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے ایک سردار کو ابھارا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا سب سے شقی آدمی قرار دیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا» [ الشمس: ۱۲ ] ”جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔“ چنانچہ سب نے مل کر اسے مدد کے لیے پکارا کہ تو بڑا بہادر اور جری ہے۔ اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ مزید دیکھیے سورۂ شمس (۱۱،۱۲) کی تفسیر۔ {” فَتَعَاطٰى “} کا مفعول محذوف ہے: {” أَيْ تَعَاطَي السَّيْفَ“} (اس نے تلوار پکڑی) {” أَوْ تَعَاطَي الْأَمْرَ“} (یا اس نے اس کام کا ذمہ اٹھایا)۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →