بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 27
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 27
آیت نمبر: 27 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾
ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے
بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے پس (اے صالح) توان کا منتظر ره اور صبر کر
ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو تو اے صا لح! تو راہ دیکھ اور صبر کر
ہم ایک (خاص) اونٹنی ان کی آزمائش کے لئے بھیج رہے ہیں پس تم (اے صالح(ع) انجامِ کار) انتظار کرو اور صبر کرو۔
بے شک ہم یہ اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے بھیجنے والے ہیں، سو ان کا انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭

ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏‏‏‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

27۔ 1 کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان ظاہر فرمائی تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 27){ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۴) اور سورۂ شعراء (۱۵۵) کی تفسیر۔ {” فَارْتَقِبْهُمْ”رَقَبَ يَرْقُبُ“} (ن) سے باب افتعال ہے۔ {” وَ اصْطَبِرْ”صَبَرَ يَصْبِرُ صَبْرًا“} (ض) سے باب افتعال ہے، ”تاء“ کو ”طاء“ سے بدل دیا۔ حروف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، ان کا حوصلے سے انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔ یعنی اس آزمائش میں یہ لوگ کیا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں حوصلے کے ساتھ اس کا انتظار کر اور بہت اچھے طریقے سے صبر کر۔ آزمائش اس لیے تھی کہ ان کا امتحان مقصود تھا کہ اس نشانی کو دیکھ کر وہ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں یا اسے نقصان پہنچا کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔
← پچھلی آیت (26) پوری سورۃ اگلی آیت (28) →