بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 31
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَانُوۡا کَہَشِیۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ ﴿۳۱﴾
ہم نے اُن پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گئے
ہم نے ان پر ایک چیﺦ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس
بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی
ہم نے ان پر ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑہ کی طرح ہو کر رہ گئے۔
بے شک ہم نے ان پر ایک ہی چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کی کچلی، روندی ہوئی باڑ کی طرح ہو گئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭

ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔ جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏‏‏‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَّاحِدَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اعراف (۷۸) کی تفسیر۔ ➋ { فَكَانُوْا كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ: ”هَشَمَ يَهْشِمُ هَشْمًا“ (ض) ”اَلشَّيءَ“} کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کر دینا۔ {”هَشِيْمٌ“} روندی، کچلی ہوئی۔ {”حَظِيْرَةٌ“} باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور{” الْمُحْتَظِرِ “} باڑ بنانے والا۔باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور چورا بن جاتی ہیں انھیں {”هَشِيْمٌ“} کہا جاتا ہے۔ قومِ ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو باڑ سے گر کر جانوروں کے پاؤں میں آ کر چورا بن جاتے ہیں۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →