بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القمر — Surah Qamar
آیت نمبر 19
کل آیات: 55
قرآن کریم القمر آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ القمر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡ یَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّ ﴿ۙ۱۹﴾
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی
ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی
بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی
ہم نے ان پر تیز و تند آندھی بھیجی دائمی نحوست والے دن میں۔
بے شک ہم نے ان پر ایک تند آندھی بھیجی، ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفار کی بدترین روایات ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہوجاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہوگئے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →