بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیض والی عورتوں کا اپنے شوہر کی کنگھی کر نے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حیض والی عورتوں کا اپنے شوہر کی کنگھی کر نے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 19
حدیث نمبر: 1094 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں حالت حیض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کی کنگھی کرتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1098] »
اس روایت کی سند صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [الموطا 104] ، [بخاري 295] ، [مسلم 297] ، [ابويعلی 4632] ، [ابن حبان 1359] و [الحميدي 184]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1095 سنن دارمی
خَالِدٌ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا الفاظ کی روایت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1099] »
اس روایت کی سند حسبِ سابق صحیح ہے۔
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1096 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: "كُنَّ جَوَارِي ابْنِ عُمَرَ يَغْسِلْنَ رِجْلَيْهِ وَهُنَّ حُيَّضٌ، وَيُعْطِينَهُ الْخُمْرَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی لونڈیاں بحالت حیض ان کے پیر دھوتی تھیں، اور ان کو مصلی (جائے نماز) پکڑا دیتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1100] »
یہ اثر صحیح ہے۔ دیکھئے: [الموطأ 90] ، [مصنف عبدالرزاق 1255] و [مصنف ابن أبى شيبه 202/1]
الحكم: أثر صحيح
حدیث نمبر: 1097 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أُوتَى بِالْإِنَاءِ فَأَضَعُ فَمِي فَأَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، "فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَهُ عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي وَضَعْتُ فَيَشْرَبُ، وَأُوتَى بِالْعَرْقِ فَأَنْتَهِسُ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي وَضَعْتُ فَيَنْتَهِسُ، ثُمَّ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكَانَ يُبَاشِرُنِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے پاس پانی کا پیالہ لایا جاتا اور میں حالت حیض میں اس سے منہ لگا کر پانی پیتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی جگہ دہن مبارک رکھتے اور پانی پیتے، اور کچھ گوشت نکالی ہوئی ہڈی میرے پاس لائی جاتی، میں دانتوں سے گوشت نوچتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے اور گوشت نکالتے، پھر آپ مجھے حکم فرماتے، میں ازار کس لیتی اور آپ مجھ سے مباشرت فرماتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1101] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 300] ، [أبوداؤد 259] ، [نسائي 70] ، [ابن ماجه 643] ، [مسند أبى يعلی 4771] ، [ابن حبان 1293] و [الحميدي 166]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1098 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "الْحَائِضُ لَيْسَتْ الْحِيضَةُ فِي يَدِهَا، تَغْسِلُ يَدَهَا وَتَعْجِنُ وَتَنْبِذُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ کہا جاتا تھا کہ حیض والی عورت کے ہاتھ میں حیض نہیں ہوتا، وہ ہاتھ دھو کر آٹا گوندھ سکتی، اور نبیذ بنا سکتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1102] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، مگر کہیں اور نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1099 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: "إِنَّ الْحَائِضَ حِيضَتُهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا"، وَكَانَ يَقُولُ:"الْحَائِضُ حُبُّ الْحَيِّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے: وہ فرماتے تھے کہ حائضہ کے ہاتھ میں حیض نہیں ہوتا، اور وہ کہتے تھے کہ حائض زندہ کی محبوبہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1103] »
اس روایت کی سند حسبِ سابق ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1100 سنن دارمی
حَمَّادٍ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُصَافَحَةِ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، وَالْمَجُوسِيِّ، وَالْحَائِضِ "فَلَمْ يَرَ فِيهِ وُضُوءًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد نے کہا: میں نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے یہودی، نصرانی، مجوسی اور حائضہ سے مصافحہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے وضو کرنے کا عندیہ نہیں دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1104] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 455]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1101 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، زَائِدَةُ ، إِسْمَاعِيل السُّدِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل السُّدِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: "نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا، وَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّهَا حَائِضٌ، فَقَالَ:"إِنَّ حِيضَتَهَا لَيْسَ فِي يَدِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ البہی نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، ایک لڑکی سے فرمایا: مجھے مصلی دے دو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بچھا کر نماز پڑھنا چاہا تو اس نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ وہ حائضہ ہے، فرمایا: اس کا حیض اس کے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1105] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1356] ، [موارد الظمآن 331] ۔ نیز اثر (1107)۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1102 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، سُلَيْمَانَ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَغْسِلُهُ"، يَعْنِي: وَهُوَ مُعْتَكِفٌ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بحالت اعتکاف مسجد سے میری طرف سر مبارک نکالتے اور میں اسے دھو دیتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1106] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 298] ۔ سلیمان: ابن مہران الاعمش ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1103 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ كَانَ: "لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ تُوَضِّئَ الْحَائِضُ الْمَرِيضَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہم نخعی رحمہ اللہ حائضہ عورت کے مریض کو وضو کرانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1107] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور مفصل طور پر (1107) میں آرہی ہے۔ ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1104 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں حالت حیض میں ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کو دھو دیتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل جعفر بن الحارث الواسطي، [مكتبه الشامله نمبر: 1108] »
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 301] ، [مسلم 297] ، [ابن حبان 3668]
الحكم: إسناده حسن من أجل جعفر بن الحارث الواسطي
حدیث نمبر: 1105 سنن دارمی
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "لَقَدْ كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ عَاكِفٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اعتکاف میں ہوتے اور میں حالت حیض میں، (پھر بھی) میں آپ کے سر مبارک کو دھو دیتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1109] »
یہ اثر صحیح ہے، اور (1102) میں تخریج گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1106 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبُو ظَبْيَانَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْحَائِضِ تُوَضِّئُ الْمَرِيضَ؟، قَالَ: "نَعَمْ، وَتُسْنِدُهُ"، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ لِلْمُغِيرَةِ: سَمِعْتَهُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَتُسْنِدُهُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ کو کہتے سنا کہ ابوظبیان نے امام ابراہیم رحمہ اللہ کے پاس قاصد بھیجا کہ حائضہ کے بارے میں دریافت کرے کہ وہ مریض کو وضو کرا سکتی ہے؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہاں، کہا: نماز میں اس کو سہارا بھی دے سکتی ہے؟ کہا: نہیں۔ شعبہ نے کہا: میں نے مغیرہ سے پوچھا: تم نے خود ابراہیم رحمہ اللہ سے سنا؟ کہا: نہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «وتسنده»: یعنی اس کو نماز میں سہارا دے سکتی ہے؟ (جس کا انہوں نے جواب دیا کہ نماز میں نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 1110] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 202/1] و [مصنف عبدالرزاق 1259]
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1107 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَخْبَرَنِي عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مصلّٰی (جائے نماز) دے دو، تو انہوں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (یعنی: حیض) تمہارے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1111] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 298] ، [أبوداؤد 261] ، [نسائي 272] ، [ترمذي 134] و [أبوعوانه 313/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1108 سنن دارمی
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ"أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ حَائِضٍ شَرِبَتْ مِنْ مَاءٍ، أَيُتَوَضَّأُ بِهِ؟ فَضَحِكَ، وَقَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: حائضہ عورت جو پانی پئے (پھر اس کے بچے ہوئے) سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ وہ ہنسے اور فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1112] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 34/1] و [مصنف عبدالرزاق 391، 393]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1109 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، قَالَ:"وَاكِلْهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1113] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 342/4، 293/5] ، [ترمذي 133] ، [ابن ماجة 651] ، [سنن أبى داؤد 212 وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 1093 سے 1109)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: تمام علماء کا یہی قول ہے کہ حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ... الخ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1110 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ جَارِيَتَهُ أَنْ تُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ، فَتَقُولُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَيَقُولُ: "إِنَّ حِيضَتَكِ لَيْسَتْ فِي كَفِّكِ فَتُنَاوِلُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی لونڈی سے کہتے کہ انہیں مسجد سے مصلّٰی اٹھا کر دے دے، وہ کہتی: میں حائضہ ہوں، وہ جواب دیتے: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تھوڑے ہی ہے، چنانچہ وہ مصلّٰی انہیں دے دیتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1114] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 360/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1111 سنن دارمی
مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَمِّهِ
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ بَعْضَ أَهْلِي لَحَائِضٌ، وَإِنَّا لَمُتَعَشُّونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ جَمِيعًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حرام بن حکیم سے مروی ہے کہ ان کے چچا (سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری کوئی بیوی حیض والی ہو گی اور ہم سب ان شاء الله ایک ساتھ شام کا کھانا کھائیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1115] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ «مؤاكلة الحائض» سے متعلق حدیث (1109) میں گذری ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1112 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ "لَا تَرَى بَأْسًا أَنْ تَمَسَّ الْحَائِضُ الْخُمْرَةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ کے مصلّٰی چھونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1116] »
یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقوف فعل ہے جو صحیح ہے۔ تفصیل و تخریج گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1109 سے 1112)
ان تمام احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ جس عورت کو حیض آ رہا ہو اس کے ساتھ کھانا پینا، بیٹھنا اٹھنا، مباشرت کرنا اور جیسا کہ کہا گیا ما فوق الازار سب کچھ جائز ہے۔
الحكم: إسناده صحيح