بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 2 از 7
حدیث نمبر: 23082 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ثَوْرٌ الشَّامِيُّ ، حَرِيزِ بنِ عُثْمَانَ ، أَبي خِدَاشٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ الشَّامِيُّ ، عَنْ حَرِيزِ بنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبي خِدَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: في الْمَاءِ، وَالْكَلَإِ، وَالنَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان تین چیزوں میں مشترک ہیں پانی میں، گھاس میں اور آگ میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23083 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُهَيل بنَ أَبي صَالِح ، أَبيهِ ، رَجُل
حَدَثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيل بنَ أَبي صَالِح ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُل مِنْ أَسلَم، قَالَ: قَاَلَ النَبيُّ صَلَّى الَّلهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ لِرَجُل: " لو قُلتَ حِينَ أَمسَيتَ: أَعُوذُ بكَلِمَاتِ الله التَامَّات كلَّهنَّ من شرِّ ما خَلَقَ، لَم يَضُرَّك عَقْرَب حَتى تُصبح" ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف على سهيل بن أبى صالح فى صحابيه
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف على سهيل بن أبى صالح فى صحابيه
حدیث نمبر: 23084 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، بعْضِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ، ولَمْ يُحَرِّمْهُمَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبي وَيَسْقِينِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23085 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي صَالِحٍ ذَكْوَانَ , عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي، فَمُرْهُ فَلْيَبعْنِيهَا أَوْ لِيَهَبهَا لِي، قَالَ: فَأَبى الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلْ، وَلَكَ بهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَأَبى، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا أَبخَلُ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں آدمی کا ایک درخت میرے باغ میں ہے اسے کہہ دیجئے کہ یا تو وہ درخت مجھے بیچ دے یا ہبہ کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے یہاں تک فرمایا کہ تم ایسا کرلو اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا لیکن وہ پھر بھی نہ مانا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بخیل انسان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23086 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَشْعَثَ ، عَمَّتِهِ ، عَمِّهَا
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ: إِنِّي لَبسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، عَلَيَّ برْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبهَا، قَالَ: فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بمِخْصَرَةٍ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23086]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث
حدیث نمبر: 23087 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بنُ قُرْمٍ ، الْأَشْعَثِ ، رُهْمٍ ، عُبيْدَةَ بنِ خَلَفٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ قُرْمٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ ، عَنْ عُبيْدَةَ بنِ خَلَفٍ ، قَالَ: قدمت المدينة وَأَنَا شَاب مُتَأَزِّرٌ ببرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بمِخْصَرَةٍ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبكَ كَانَ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ برْدَةٌ مَلْحَاءُ، قَالَ:" وَإِنْ كَانَتْ برْدَةً مَلْحَاءَ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي؟" , فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ، فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23087]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وجهالة عمة الأشعث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وجهالة عمة الأشعث
حدیث نمبر: 23088 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ , عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا بلَالُ، أَرِحْنَا بالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23088]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن اختلف على سالم فى اسناده
الحكم: رجاله ثقات، لكن اختلف على سالم فى اسناده
حدیث نمبر: 23089 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبي خَلْدة ، أَبي الْعَالِيَةِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبي خَلْدة , عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں وضو کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23090 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابنُ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنَّا سِتَّ سِنِينَ عَلَيْنَا جُنَادَةُ بنُ أَبي أُمَيَّةَ، فَقَامَ فَخَطَبنَا، فَقَالَ: أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ، فَشَدَّدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ: " أَنْذَرْتُكُمْ الْمَسِيخ وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، قَالَ: أَحْسِبهُ قَالَ: الْيُسْرَى، يَسِيرُ مَعَهُ جِبالُ الْخُبزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبعِينَ صَباحًا، يَبلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ، لَا يَأْتِي أَرْبعَةَ مَسَاجِدَ: الْكَعْبةَ، وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ، وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى، وَالطُّورَ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ، فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بأَعْوَرَ" ، وَقَالَ ابنُ عَوْنٍ: وَأَحْسِبهُ قَدْ قَالَ:" يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کی ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، بہرحال! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23091 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، أَنْ بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ أَخْبرَهُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بيْعِ الثَّمَرِ بالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ" ، قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور '' عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1540
الحكم: إسناده صحيح، م: 1540
حدیث نمبر: 23092 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، رِدْفِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ، فَعَثَرَتْ بهِ دَابتُهُ، فَقَالَ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبلِ، وَيَقُولُ: بقُوَّتِي صَرَعْتُهُ، وَإِذَا قُلْتَ: بسْمِ اللَّهِ، تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23092]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن اختلف فى هذا الإسناد على أبى تميمة
الحكم: حديث صحيح، لكن اختلف فى هذا الإسناد على أبى تميمة
حدیث نمبر: 23093 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، أَبي الْعَالِيَةِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بهِ قَائِمٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبلٌ عَلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً، فَجَلَسْتُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قَامَ بكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " ذَاكَ جِبرِيلُ يُوصِينِي بالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23094 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ ، أَنَسٍ ، بعْضَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بعْضَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ، " مَرَّ بمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23095 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ عَمْرٍو ، عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَمْرِو بنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَمْرِو بنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ؟ قَالَ: " إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بطْنَ كُلِّ وَادٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ نماز عشاء کب پڑھا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات ہر وادی پر چھا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23095]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالعزيز ابن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالعزيز ابن عمرو
حدیث نمبر: 23096 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْمُغِيرَةِ بنِ أَبي برْدَةَ الْكِنَانِيِّ ، بعْضَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْمُغِيرَةِ بنِ أَبي برْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبرَهُ , أَنَّ بعْضَ بنِي مُدْلِجٍ أَخْبرَهُ , أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبحْرِ لِلصَّيْدِ، فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّفَهِ فَتُدْرِكُهُمْ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبحْرِ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بمَائِنَا عَطِشْنَا، وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بمَاءِ الْبحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا! فَقَالَ لَهُمْ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر اسے پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23096]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالله بن المغيرة
الحكم: صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالله بن المغيرة
حدیث نمبر: 23097 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، أَبي نَضْرَةَ ، أَبي سَعِيدٍ ، يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، أَبي الْعَالِيَةِ ، ثَلَاثُونَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بمَا يَجْهَرُ بهِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن نمازوں میں جہری قرأت فرماتے ہیں وہ تو ہمیں معلوم ہیں اور جن میں جہری قرأت نہیں فرماتے تھے انہیں جہری نمازوں پر قیاس نہیں کرسکتے لہٰذا کسی ایک رائے پر متفق ہوجاؤ تو ان میں سے دو آدمی بھی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اس بات میں اختلاف کیا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف مقدار کے برابر جبکہ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کی قرأت سے نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23097]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان، الأول: فيه المسعودي، وهو مختلط، ورواية يزيد بعد اختلاطه، وفيه زيد العمي ضعيف، والإسناد الثاني: فيه زيد العمي أيضا
الحكم: حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان، الأول: فيه المسعودي، وهو مختلط، ورواية يزيد بعد اختلاطه، وفيه زيد العمي ضعيف، والإسناد الثاني: فيه زيد العمي أيضا
حدیث نمبر: 23098 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ بنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، يَحْيَى بنِ وَثَّاب ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا سُفْيَانُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَى بنِ وَثَّاب ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَظُنُّهُ ابنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غالباً حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23099 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، جُرَيٍّ ، رَجُلَانِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ جُرَيٍّ ، قَالَ: الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبهِ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23099]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
الحكم: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23100 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي سَلَّامٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بخٍ بخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ"، قَالَ رَجُلٌ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبرُ، وَسُبحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبهُ وَالِدُهُ، خَمْسٌ مَنْ اتَّقَى اللَّهَ بهِنَّ مُسْتَيْقِنًا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَيْقَنَ بالْمَوْتِ، وَالْبعْثِ، وَالْحِسَاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں؟ لا الہ اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ جو شخص ان پانچ، چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو، آخرت کے دن پر، جنت اور جہنم پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام
حدیث نمبر: 23101 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سَلْمٌ ، عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، صَاحِب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَلْمٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِب لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي صَاحِبي: أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ:" تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ" مَاذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23101]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية