بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 5 از 7
حدیث نمبر: 23142 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبةُ ، عَبدُ الْحَمِيدِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي عَبدُ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّ السَّحُورَ برَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تَدَعُوهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری کھا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23143 مسند احمد
أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَبو إِسْرَائِيلَ ، الْحَكَمِ ، أَبي سَلْمَانَ ، زَيْدِ بنِ أَرْقَمَ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبي سَلْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: اسْتَشْهَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ" ، قَالَ: فَقَامَ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو سولہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23143]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسرائيل ليس بذاك القوي، وأبو سلمان مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسرائيل ليس بذاك القوي، وأبو سلمان مجهول
حدیث نمبر: 23144 مسند احمد
يَحْيَى ، إِبرَاهِيمُ يَعْنِي ابنَ نَافِعٍ ، ابنِ أَبي نَجِيحٍ ، أَبيهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبرَاهِيمُ يَعْنِي ابنَ نَافِعٍ ، عَنِ ابنِ أَبي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي بكْرٍ، قَالَ: " خَطَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا" ، قَالَ إِبرَاهِيمُ: وَلَا أَحْسِبهُ إِلَّا قَالَ: عِنْدَ الْجَمْرَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوبکر کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان منیٰ میں اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا جو جمرات کے قریب تھا اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آس پاس تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23145 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، زَكَرِيَّا بنَ سَلَّامٍ ، أَبيهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بنَ سَلَّامٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ، أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ" ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَهَا إِسْحَاقُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے اے لوگو! تم اپنے اوپر " جماعت " کو لازم پکڑو، تفرقہ اور اختلافات سے بچو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23145]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام
حدیث نمبر: 23146 مسند احمد
يَعْقُوب ، أَبي ، ابنِ إِسْحَاقَ ، عُمَرُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُرْوَةَ بنِ الزُّبيْرِ ، عُرْوَةَ ، عَمَّنْ
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ ابنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُرْوَةَ بنِ الزُّبيْرِ ، عَنْ جَدِّهِ عُرْوَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا، وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اپنے گھروں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23146]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23147 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبو عَوَانَةَ ، أَبي بشْرٍ ، سَلَامِ بنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، عَنْ سَلَامِ بنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِخْوَانُكُمْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ، وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبكُمْ، وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں تم ان کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو جن کاموں سے تم مغلوب ہوجاؤ ان میں ان سے مدد لیا کرو اور جن کاموں سے وہ مغلوب ہوجائیں تو تم ان کی مدد کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23147]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام بن عمرو
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام بن عمرو
حدیث نمبر: 23148 مسند احمد
مُحَمَدُ بنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبى بشْر ، سَلاَّم بنَ عَمْرٍو ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَدُ بنَ جَعْفَرٍ ، حَدَثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبى بشْر ، عَنْ سَلاَّم بنَ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ أَنَه قَاَلَ: " إِخْوَانُكُمْ أَحْسَنوا إِلَيْهِمْ أَو فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ، واسْتَعِينُوهُمْ عَلى مَا غَلَبكُمْ، وأَعِينُوهُمْ عَلَيَ مَا غَلَبهُمْ" ..
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام بن عمرو
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سلام بن عمرو
حدیث نمبر: 23149 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبو بشْرٍ ، حَسَّانَ بنَ بلَالٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا أَبو بشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَسَّانَ بنَ بلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِب، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ، يُبصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھ کر جب مدینہ منورہ کے کونے میں اپنے گھر کی طرف واپس ہوتے تو راستے میں اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23149]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قد خالف فيه شعبة غيره
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قد خالف فيه شعبة غيره
حدیث نمبر: 23150 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، زَاذَانَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: قَالَ شُعْبةُ: أَوْ قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَهُوَ يَقُولُ: " رَب اغْفِرْ لِي، قَالَ شُعْبةُ: أَوْ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَتُب عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّاب الْغَفُورُ"، مِائَةَ مَرَّةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں سو مرتبہ یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے میرے پروردگار! مجھے معاف فرما اور میری توبہ کو قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا بےانتہاء مغفرت کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23151 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، الْأَشْعَثِ بنِ سُلَيْمٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي إِمْرَةِ ابنِ الزُّبيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي سُوقِ عُكَاظٍ يَقُول:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا"، وَرَجُلٌ يَتْبعُهُ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَنْ آلِهَتِكُمْ، فَإِذَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبو جَهْلٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عکاظ کے میلے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ لو کامیاب ہوجاؤ گے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی یہ کہتا جا رہا ہے کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے بعد میں پتہ چلا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوجہل تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23152 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَعْوَرَ، يُقَالُ لَهُ: مَعْرُوفٌ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلِيمَةُ حَقٌّ، وَالْيَوْمُ الثَّانِي مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمُ الثَّالِثُ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف میں " معروف " نام کے ایک صاحب تھے جن کی ایک آنکھ کام نہیں کرتی تھی ان کا اصل نام زہیر بن عثمان تھا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولیمہ برحق ہے دوسرے دن کھلانا نیکی ہے اور تیسرے دن بھی کھلانا شہرت اور دکھاوے کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23152]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عثمان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عثمان
حدیث نمبر: 23153 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبي الزَّعْرَاءِ ، أَبي الْأَحْوَصِ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبي الْأَحْوَصِ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، بتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کا پتہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک ہلنے سے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23154 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ بنِ الْمُغِيرَةِ ، سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، صِهْرٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، ائْتِينِي بوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ، فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَاكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قُمْ يَا بلَالُ، فَأَرِحْنَا بالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ سسرالی رشتہ داروں میں " جو انصاری تھے " گیا نماز کا وقت ہوا تو میزبان نے کہا اے باندی! وضو کا پانی میرے پاس لاؤ تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اسے بلال! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت مہیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23154]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن اختلف فيه على سالم بن ابي الجعد
الحكم: رجاله ثقات لكن اختلف فيه على سالم بن ابي الجعد
حدیث نمبر: 23155 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابنَ مُحَمَّدٍ ، مُوسَى بنِ جُبيْرٍ ، أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اتْرُكُوا الْحَبشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبشَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک حبشی تمہیں چھوڑے رہیں تم انہیں چھوڑے رہو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشیوں میں سے ایک چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی نکالے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23155]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل موسي بن جبير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل موسي بن جبير
حدیث نمبر: 23156 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، ذَكْوَانَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بهِ جُرْحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوا لَهُ طَبيب بنِي فُلَانٍ"، قَالَ: فَدَعَوْهُ، فَجَاءَ، فَقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا؟ فَقَالَ: " سُبحَانَ اللَّهِ، وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو زخمی ہوگیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بنوفلاں کے طبیب کو بلا کر اسے دکھاؤ لوگوں نے اسے بلایا تو وہ آیا اور لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا علاج اسے کچھ فائدہ دے سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! اللہ نے زمین میں کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفاء نہ رکھی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23157 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، ذِي مِخْمَرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبا، فَيَقُولُ: غَلَب الصَّلِيب، فَيَغْضَب رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صیلب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23158 مسند احمد
أَبو عَامِرٍ عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي سُلَيْمَانَ ، مُعَاذُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ خُبيْب ، أَبيهِ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي سُلَيْمَانَ ، مَدِينِيٌّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ خُبيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَاكَ طَيِّب النَّفْسِ، قَالَ:" أَجَلْ"، قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بأْسَ بالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ، وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيب النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23158]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23159 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ ، أَيُّوب ، أَبي قِلَابةَ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوب ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بهِ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ بعْدِكُمْ الْكَذَّاب الْمُضِلَّ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بعْدِهِ حُبكٌ حُبكٌ حُبكٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبكُمْ، فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبنَا، لَكِنَّ رَبنَا اللَّهُ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبنَا، نَعُوذُ باللَّهِ مِنْ شَرِّكَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ یہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23160 مسند احمد
أَبو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، شَيْخًا
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بنِي سُلَيْمٍ بالْكُنَاسَةِ، فَحَدَّثَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي، قَالَ: " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23160]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
الحكم: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23161 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، قَالَ: بيْنَمَا أَطُوفُ بالْبيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: ألا أبشرك؟ قُلْتُ: بلَى، قَالَ: أَتَذْكُرُ إِذْ بعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ أَنْتَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا، فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبرْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَقَالَتِكَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ"، قَالَ: فَمَا أَنَا بشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّى لها .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف کہتے کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنوسلیم کا ایک آدمی مجھے ملا اور کہنے لگا کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ بخدا! انہوں نے اچھی بات کہی اور اچھی بات ہی سنائی جب میں واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ کے اس قول کے متعلق بتایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا اے اللہ! احنف کی مغفرت فرما یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس سے زیادہ پر امید کوئی چیز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23161]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد