بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 1 از 7
حدیث نمبر: 23062 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَنَسِ بنِ مَالِكٍ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِكٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَابهِ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " مَرَّ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبرِهِ" ، قَالَ يَحْيَى: قَائِمٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23063 مسند احمد
عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، أَبيهِ ، عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَدِيٍّ ، رَجُلَانِ
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبصَرَ وَخَفَضَهُ، فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا، وَلَا حَظَّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دو آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں صدقات و عطیات کی درخواست لے کر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور انہیں تندرست و توانا پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مالدار شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے طاقتور کا جو کمائی کرسکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23064 مسند احمد
عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، أَصْحَاب
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بعْضُهُمْ إِلَى نَبلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ، فَزِعَ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" مَا يُضْحِكُكُمْ؟"، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبلَ هَذَا، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں کئی صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سو گیا ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیاجب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگیا لوگ اس کی اس کیفیت پر ہنسنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی لوگوں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوفزدہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23065 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانَ يَعْنِي ابنَ حَكِيمٍ ، تَمِيمُ بنُ يَزِيدَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابنَ حَكِيمٍ ، أَخْبرَنِي تَمِيمُ بنُ يَزِيدَ مَوْلَى بنِي زَمْعَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تُخْبرْنَا مَا هُمَا، ثُمَّ قَالَ:" اثْنَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبشِّرُنَا، فَتَمْنَعُهُ؟! فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ، فَقَالَ: " ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بيْنَ رِجْلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا لوگو! دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اس پر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! وہ دونوں چیزیں ہمیں نہ بتائیے (کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان پر عمل نہ کرسکیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی اور اس انصاری نے پھر وہی بات کہی تیسری مرتبہ اس کے ساتھیوں نے اسے روک دیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں تم دیکھ بھی رہے ہو اور پھر بھی انہیں روک رہے ہو؟ اس نے کہا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ صرف اس پر ہی بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک تو وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور ایک وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23065]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تميم بن يزيد
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تميم بن يزيد
حدیث نمبر: 23066 مسند احمد
يَعْلَى بنُ عُبيْدٍ ، مُحَمَّدٌ ، يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بنُ عُبيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، قَالَ: " قُسِّمَتْ النَّارُ سَبعِينَ جُزْءًا، فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ، وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ کو ستر حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے ٦٩ حصے قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہیں اور ایک حصہ قتل کرنے والے کے لئے ہے اور اس کے لئے اتنا بھی کافی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23066]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعنعنة محمد بن اسحاق
الحكم: إسناده ضعيف لعنعنة محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 23067 مسند احمد
أَبو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبيهِ ، جَارٌ
حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بنْتِ خُوَيْلِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ:" أَيْ خَدِيجَةُ، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ اللَّاتَ أَبدًا، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ الْعُزَّى أَبدًا"، قَالَ: فَتَقُولُ خَدِيجَةُ حِلَّ الْعُزَّى، قَالَ:" كَانَتْ صَنَمَهُمْ الَّتِي يَعْبدُونَ، ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے خدیجہ! بخدا! میں لات کی عبادت کبھی نہیں کروں گا اللہ کی قسم میں عزیٰ کی عبادت کبھی نہیں کروں گا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ عزی وغیرہ کے حوالے سے اپنی قسم پوری کیجئے راوی کہتے ہیں کہ یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے پھر اپنے بستروں پر لیٹتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23068 مسند احمد
أَسْباطٌ ، هِشَامِ بنِ سَعْدٍ ، زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْبيْلَمَانِيِّ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا أَسْباطٌ ، عَنْ هِشَامِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْبيْلَمَانِيِّ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه و آله وسلم يقول: " مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بيَوْمٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرَ بهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بنِصْفِ يَوْمٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِيهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بضَحْوَةٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلًا آخَرَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب قَبلَ أَنْ يُغَرْغِرَ نَفَسُهُ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن بیلمانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہیں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر بندہ مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ پہلے نے جواب دیا جی ہاں! دوسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے صرف آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ تیسرے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ دوسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر تیسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے چوتھائی دن پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جب تک بندے پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23068]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن البيلماني و هشام بن سعد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن البيلماني و هشام بن سعد
حدیث نمبر: 23069 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ"، قَالَ: فَجَاءَ أَعْرَابيَّانِ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّا الْهِلَالَ بالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَأَفْطَرُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے ماہ رمضان کے ٣٠ ویں دن کا بھی روزہ رکھا ہوا تھا کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل رات انہوں نے عید کا چاند دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23070 مسند احمد
وَكِيعٌ ، قُرَّةُ بنُ خَالِدٍ ، يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، الْأَعْرَابيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے اور ہر مہینے تین روزے رکھنا سینے کے کینے کو دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23071 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، بعْضِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا" نَهَى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23072 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، شَبيب بن أَبي رَوْحٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ شَبيب بن أَبي رَوْحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، فَقَرَأَ فِيهِمَا، فَالْتُبسَ عَلَيْهِ فِي الْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " مَا بالُ رِجَالٍ يَحْضُرُونَ مَعَنَا الصَّلَاةَ بغَيْرِ طُهُورٍ! أُولَئِكَ الَّذِينَ يَلْبسُونَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا، مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ، فَلْيُحْسِنْ الطُّهُورَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23072]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23073 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسَ بنِ أَبي إِسْحَاقَ ، جُرَيَّ بنَ كُلَيْب النَّهْدِيَّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بنِ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بنَ كُلَيْب النَّهْدِيَّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ: " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23073]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
الحكم: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23074 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، أَبي قَتَادَةَ ، وأبى الدهماء ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبي قَتَادَةَ ، وأبى الدهماء , قَالَا: أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبادِيَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بدَّلَكَ اللَّهُ بهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقتادہ اور ابودھماء کہتے ہیں کہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس پہنچے اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے وہ باتیں سکھانا شروع کردیں جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں اور فرمایا تم جس چیز کو بھی اللہ کے خوف سے چھوڑ دو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر چیز عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23075 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَيْمَنُ بنُ نَابلٍ ، أَبي الزُّبيْرِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بنُ نَابلٍ ، عَنْ أَبي الزُّبيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جیسے قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23075]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبى الزبير. وصحابيه المبهم هو جابر بن عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبى الزبير. وصحابيه المبهم هو جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 23076 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ بنِ إِبرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَوْبانَ ، شَيْخٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بنِ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَوْبانَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ، وَالطِّيب، وَالسِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر تین چیزیں حق ہیں جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک، خوشبو لگانا بشرطیکہ اس کے پاس موجود بھی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23077 مسند احمد
وَكِيعٌ ، قُرَّةُ ، يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، أَعْرَابيٌّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: كُنَّا بهَذَا الْمِرْبدِ بالْبصْرَةِ، قَالَ: فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ، أَوْ قِطْعَةُ جِرَاب، فَقَالَ: هَذَا كِتَاب كَتَبهُ لِي النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبو الْعَلَاءِ: فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ، فَإِذَا فِيهِ:" بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَاب مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبنِي زُهَيْرِ بنِ أُقَيْشٍ: إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ، وَأَدَّيْتُمْ الزَّكَاةَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبيِّ وَالصَّفِيَّ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بأَمَانِ اللَّهِ، وَأَمَانِ رَسُولِهِ" . قَالَ: قُلْنَا: قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اونٹوں کی منڈی میں مطرف کے ساتھ تھا کہ ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا وہ کہنے لگا کہ تم میں سے کوئی شخص پڑھنا جانتا ہے؟ میں نے کہا ہاں! اور اس سے وہ چمڑے کا ٹکڑا لے لیا اس پر لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کے نام جو عکل کا ایک قبیلہ ہے وہ اگر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں مشرکین سے جدا ہوجاتے ہیں اور مال غنیمت میں خمس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حصے اور انتخاب کا اقرار کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہیں۔ " ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے سینے کا کینہ ختم ہوجائے تو اسے چاہئے کہ ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23078 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَاصِمٌ ، رَجَاءِ بنِ حَيْوَةَ ، أَبيهِ ، الرَّسُولِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ رَجَاءِ بنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: " لَا تَنْقَطِعُ مَا جُوهِدَ الْعَدُوُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک قاصد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تک دشمن سے قتال جاری رہے گا اس وقت تک ہجرت ختم نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23078]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عاصم ليس بذاك القوي، وجده: حيوة الكندي لم يوجد له ترجمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عاصم ليس بذاك القوي، وجده: حيوة الكندي لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 23079 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبةُ ، قَتَادَةَ ، نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ عَلَى أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاتَيْنِ،" فَقَبلَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں قبول اسلام کے لئے حاضر ہوئے تو یہ شرط لگائی کہ وہ صرف دو نمازیں پڑھیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی یہ شرط قبول کرلی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23079]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 23080 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، ابنِ الشِّخِّيرِ ، الْأَعْرَابيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ ابنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ أَنَّ " نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَخْصُوفَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ ہمیں ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جوتے چمڑے کے پیوند زدہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23080]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناده غير محفوظ، والمحفوظ: عن ابن الشخير عن أخيه مطرف بن عبدالله عن الأعرابي، أى بواسطة: عن أخيه
الحكم: حديث صحيح، إسناده غير محفوظ، والمحفوظ: عن ابن الشخير عن أخيه مطرف بن عبدالله عن الأعرابي، أى بواسطة: عن أخيه
حدیث نمبر: 23081 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي عَمْرَةَ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعُوا بيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی عمرہ (رح) کے چچا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نام اور کنیت کو اکٹھا نہ کیا کرو (کہ ایک ہی آدمی میرا نام بھی رکھ لے اور کنیت بھی) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح