بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 6 از 7
حدیث نمبر: 23162 مسند احمد
بهْزٌ ، حَمَّادٌ ، أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، ابنَا قُرَيْظَةَ
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، َأَخْبرَنِي أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ " عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ نَبتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ، وَمَنْ لَا، تُرِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں آگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23162]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كثير بن السائب، وقد اختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كثير بن السائب، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 23163 مسند احمد
أَبو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ ، أَبيهِ ، الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، عَمٍّ
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي، وَأَقْلِلْ، لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَب"، فَعَادَ لَهُ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" لَا تَغْضَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے چچا زاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23164 مسند احمد
أَبو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، الْمُغِيرَةِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، وَالِدِي ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، قَالَ: غَدَوْتُ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بجَمَاعَةٍ فِي السُّوقِ، فَمِلْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ وَصْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصْفَ صِفَتِهِ، قَالَ: فَعَرَضْتُ لَهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ بيْنَ عَرَفَاتٍ وَمِنًى، فَرُفِعَ لِي فِي رَكْب، فَعَرَفْتُهُ بالصِّفَةِ، قَالَ: فَهَتَفَ بي رَجُلٌ: أَيُّهَا الرَّاكِب، خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَاب، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَرُوا الرَّاكِب فَأَرِب مَا لَهُ"، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بزِمَامِ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي، أَوْ خَبرْنِي بعَمَلٍ يُقَرِّبنِي من الْجَنَّةِ، وَيُباعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ:" أَوَذَلِكَ أَعْمَلَكَ، أَوْ أَنْصَبكَ؟!"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاعْقِلْ إِذًا، أَوْ افْهَمْ تَعْبدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبيْتَ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِب أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، وَتَكْرَهُ لِلنَّاسِ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ، أَوْ خِطَامَهَا" ، قَالَ أَبو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْهُ، أَوْ سَمِعْتَ مِنَ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ یشکری (رح) کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجۃ الوادع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک سواری کے قابل اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہوگیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جن ہم سے نجات کا سبب بن جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واہ واہ! میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23164]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله اليشكري
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله اليشكري
حدیث نمبر: 23165 مسند احمد
بهْزٌ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَبو عِمْرَانَ ، فُلَانًا
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبرَنَا أَبو عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُب: إِنِّي بايَعْتُ ابنَ الزُّبيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ: أَفْتَانِي جُنْدُب، َوَأَفْتَانِي جُنْدَب، قَالَ: قُلْتُ: مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي، قَالَ: افْتَدِ بمَالِكَ، قُلْتُ: إِنَّهُ لَا يُقْبلُ مِنِّي، قَالَ: إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا، وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بالْقَاتِلِ، فَيَقُولُ: يَا رَب، سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: فِي مُلْكِ فُلَانٍ" ، فَاتَّقِ اللَّهَ، لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23166 مسند احمد
أَبو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عِكْرِمَةَ بنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبيهِ ، عَمِّهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبيهِ ، أَوْ عَمِّهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبوكَ: " إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بهَا، فَلَا تَهْجُمُوا عَلَيْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بهَا وَأَنْتُمْ بهَا، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ کے دادا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23166]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عكرمة بن خالد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عكرمة بن خالد
حدیث نمبر: 23167 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، عَمْرَو بنَ أَوْسٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنِي ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بنَ أَوْسٍ أَخْبرَهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ: " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23168 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، أَبي الْخَيْرِ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبحَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للِرَجُلٍ: " أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي"، فَأَعَانَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے پہلو کے بل لٹایا تو ایک آدمی سے فرمایا کہ قربانی میں میرا ہاتھ بٹاؤ، چناچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23169 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ ، عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، رِجَالٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَالنَّبيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيب مِنَ الْمَقَامِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ، لَأُصَلِّيَنَّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبلًا مَعِي وَمُدْبرًا، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاهُنَا فَصَلِّ"، فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا فَصَلِّ"، ثُمَّ قَالَ الرَّابعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَب فَصَلِّ فِيهِ، فَوَالَّذِي بعَثَ مُحَمَّدًا بالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا، لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ پر فتح عطاء فرما دی تو میں بیت المقدس جا کر نماز پڑھوں گا مجھے شام کا ایک آدمی بھی مل گیا ہے جو یہاں قریش میں ہے وہ میرے ساتھ وہاں جائے گا اور واپس آئے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم وہ نماز یہیں پڑھ لو اس نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو، جب چوتھی مرتبہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھ آؤ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہیں نماز پڑھ لیتے تو بیت المقدس کی تمام نمازیں یہاں ادا ہوجاتیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23169]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
حدیث نمبر: 23170 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ ، عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ خَفِيرٌ لِي مُقْبلًا وَمُدْبرًا، فَقَالَ:" هَاهُنَا فَصَلِّ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23170]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
حدیث نمبر: 23171 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " لَا تَغْضَب" ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَب يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے توآپ نے غصہ نہ کرنے کی وصیت کی۔ روایت کرنے والے صحابی کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد جب میں نے غورکیاتوپتہ چلاکہ غصہ تمام برائیوں کا جامع ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23172 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبلُغُ الثَّدْيَ، وَمنها مَا يَبلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الدِّينُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دین۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23173 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابنِ طَاوُسٍ ، أَبي بكْرِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ عَمْرِو بنِ حَزْمٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ عَمْرِو بنِ حَزْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ، وَبارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" ، قَالَ ابنُ طَاوُسٍ: وَكَانَ أَبي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23173]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الصحابي مبهم إلا أن يكون أبا حميد الساعدي. وهذا اسناد منقطع، قد روي مالك الحديث عن عبدالله بن ابي بكر عن ابيه عن عمرو بن سليم انه قال: اخبرني ابو حميد الساعدي
الحكم: حديث صحيح، الصحابي مبهم إلا أن يكون أبا حميد الساعدي. وهذا اسناد منقطع، قد روي مالك الحديث عن عبدالله بن ابي بكر عن ابيه عن عمرو بن سليم انه قال: اخبرني ابو حميد الساعدي
حدیث نمبر: 23174 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، مَنْ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ برَجْمِ رَجُلٍ بيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَصَابتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَبلَغَ ذَلِكَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23174]
حکم دارالسلام
حسن لغيره غير أن قوله: بين مكة والمدينة، فيه نظر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالعزيز بن عبدالله، وقد اختلف على سماك باسمه
الحكم: حسن لغيره غير أن قوله: بين مكة والمدينة، فيه نظر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالعزيز بن عبدالله، وقد اختلف على سماك باسمه
حدیث نمبر: 23175 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهْب ، أَبيهِ ، فَنَّجُ ، الرَّجُلُ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا دَاوُدُ بنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهْب ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي فَنَّجُ ، قَالَ: كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَباذِ، وَأُعَالِجُ فِيهِ، فَقَدِمَ يَعْلَى بنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ، وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ، وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ، وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ، فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنَ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُهُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، هَلُمَّ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ: أَتَضْمَنُ لِي وَأَغْرِسُ مِنْ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ؟ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ: مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ: " مَنْ نَصَب شَجَرَةً، فَصَبرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَاب مِنْ ثَمَرِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ" ، فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ: آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ فَنَّجُ: فَأَنَا أَضْمَنُهَا، قال: فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَباذِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فنج کہتے ہیں کہ " دینباذ " (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا، اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے ان کے ساتھ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی آئے تھے ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضرورت کا خیال رکھتا رہے تاآنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے آخروٹ مشہور ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23175]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال فتج، وهذا حديث منكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال فتج، وهذا حديث منكر
حدیث نمبر: 23176 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، عُبيْدُ اللَّهِ بنُ أَبي يَزِيدَ ، عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ طَارِقِ بنِ عَلْقَمَةَ ، عَمِّهِ ، رَوْحٌ ، أَبيهِ ، ابنُ بكْرٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عُبيْدُ اللَّهِ بنُ أَبي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ طَارِقِ بنِ عَلْقَمَةَ أَخْبرَهُ , عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا" جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِبهُ عُبيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبلَ الْبيْتَ فَدَعَا" . قَالَ رَوْحٌ : عَنْ أَبيهِ . وَقَالَ ابنُ بكْرٍ : عَنْ أُمِّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن طارق (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی داریعلی سے کسی جگہ تشریف لے جاتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا ضرور فرماتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23176]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن طارق، وقد اضطرب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن طارق، وقد اضطرب
حدیث نمبر: 23177 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، وَقَالَ: " لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا"، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبلَةِ،" وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا"، وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبلَةِ،" ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ"، قَالَ: وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ وَهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" ارْمُوا الْجَمْرَةَ بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان منٰی میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا " اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا: پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی جس نے اہل منٰی کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سنائی دیتی رہے میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھکیری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23177]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف دون قوله: ارموا الجمرة بمثل حصى الخذفه فهو صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على حمد الأعرج
الحكم: إسناده ضعيف دون قوله: ارموا الجمرة بمثل حصى الخذفه فهو صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على حمد الأعرج
حدیث نمبر: 23178 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، أَبي ، حُمَيْدُ بنُ قَيْسٍ ، مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23178]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وقد اختلف فيه على حميد الأعرج
الحكم: إسناده ضعيف، وقد اختلف فيه على حميد الأعرج
حدیث نمبر: 23179 مسند احمد
أَبو النَّضْرِ ، الْأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ، فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبعِينَ عَامًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23180 مسند احمد
أَبو النَّضْرِ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، أَبيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَنْ عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: إِنَّ صُهَيْبا قَدِمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبزٌ، قَالَ: " ادْنُ فَكُلْ"، فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بعَيْنِكَ رَمَدًا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى، قَالَ: فَتَبسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن صفی (رح) کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چناچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23180]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23181 مسند احمد
زَيْدُ بنُ الْحُباب ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ الْحَضْرَمِيِّ ، مَنْ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ: أَخْبرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت (کے آخر) میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23181]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالرحمن بن الحضرمي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالرحمن بن الحضرمي