أَبو النَّضْرِ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، أَبيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَنْ عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: إِنَّ صُهَيْبا قَدِمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبزٌ، قَالَ: " ادْنُ فَكُلْ"، فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بعَيْنِكَ رَمَدًا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى، قَالَ: فَتَبسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن صفی (رح) کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چناچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23180]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين