بهْزٌ ، حَمَّادٌ ، أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، ابنَا قُرَيْظَةَ
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، َأَخْبرَنِي أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ " عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ نَبتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ، وَمَنْ لَا، تُرِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں آگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23162]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كثير بن السائب، وقد اختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كثير بن السائب، وقد اختلف فيه