سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، قَالَ: بيْنَمَا أَطُوفُ بالْبيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: ألا أبشرك؟ قُلْتُ: بلَى، قَالَ: أَتَذْكُرُ إِذْ بعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ أَنْتَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا، فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبرْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَقَالَتِكَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ"، قَالَ: فَمَا أَنَا بشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّى لها .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف کہتے کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنوسلیم کا ایک آدمی مجھے ملا اور کہنے لگا کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ بخدا! انہوں نے اچھی بات کہی اور اچھی بات ہی سنائی جب میں واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ کے اس قول کے متعلق بتایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا اے اللہ! احنف کی مغفرت فرما یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس سے زیادہ پر امید کوئی چیز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23161]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد