بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 3 از 7
حدیث نمبر: 23102 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ ، أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَخْبرَنِي مَنْ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الثَّوْب الْوَاحِدِ، قَدْ خَالَفَ بيْنَ طَرَفَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23103 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، زَيْدٍ أَبي الْحَوَارِيِّ ، أَبي الصِّدِّيقِ ، أَصْحَاب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبي الْحَوَارِيِّ ، عَنْ أَبي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبلَ أَغْنِيَائِهِمْ بأَرْبعِ مِائَةِ عَامٍ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبعِينَ عَامًا، فَقَالَ: عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبعُ مِائَةِ عَامٍ، قَالَ:" حَتَّى يَقُولَ المؤمن الْغَنِيُّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِمْ لَنَا بأَسْمَائِهِمْ، قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ، بعِثُوا لَهُ، وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ، وَهُمْ الَّذِينَ يُحْجَبونَ عَنِ الْأَبوَاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین جنت میں مالداروں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے حتیٰ کہ مالدار مسلمان کہیں گے کاش! میں دنیا میں تنگدست رہتا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب پریشان کن حالات آئیں تو انہیں بھیج دیا جائے، اگر مال غنیمت آئے تو دوسروں کو بھیجا جائے اور انہیں، چھوڑ دیا جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے دروازوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23103]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف زيد أبى الحواري
الحكم: إسناده ضعيف الضعف زيد أبى الحواري
حدیث نمبر: 23104 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، غَالِبا الْقَطَّانَ ، رَجُلٍ ، أَبيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ غَالِبا الْقَطَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبيكَ السَّلَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواباً علیک وعلی ابیک السلام فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23104]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الرجل النميري، وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الرجل النميري، وأبيه
حدیث نمبر: 23105 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، خَالِدٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، ابنُ أَبي الْجَدْعَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابنُ أَبي الْجَدْعَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي، أَكْثَرُ مِنْ بنِي تَمِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23106 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، زُهَيْرِ بنِ الْأَقْمَرِ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زُهَيْرِ بنِ الْأَقْمَرِ ، قَالَ: بيْنَمَا الْحَسَنُ بنُ عَلِيٍّ يَخْطُب بعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبوَتِهِ، يَقُولُ: " مَنْ أَحَبنِي فَلْيُحِبهُ، فَلْيُبلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِب" ، وَلَوْلَا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23107 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، سَعِيدَ بنَ وَهْب ، خَمْسَةٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بنَ وَهْب ، قَالَ: نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23108 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ مَيْسَرَةَ ، كُرْدُوسٍ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ كُرْدُوسٍ ، قَالَ: كَانَ يَقُصُّ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بدْرٍ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أَجْلِسَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ، أَحَب إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبعَ رِقَاب" ، يَعْنِي الْقَصَصَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک بدری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھناچار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23108]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة كردوس بن قيس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة كردوس بن قيس
حدیث نمبر: 23109 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، مُحَمَّدِ بنِ أَبي يَعْقُوب ، شَقِيقَ بنَ حَيَّانَ ، مَسْعُودِ بنِ قَبيصَةَ ، شَاب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي يَعْقُوب ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بنَ حَيَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْعُودِ بنِ قَبيصَةَ ، أَوْ قَبيصَةَ بنِ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِب الصُّبحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ شَاب مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبهَا، وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن مسعود سے مروی ہے کہ مجاہدین کے ایک گروہ نے فجر کی نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان میں سے ایک نوجوان کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرق و مغرب فتح ہوجائیں گے لیکن اس کے عمال و گورنر جہنم میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23109]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة شقيق بن حيان ومسعود بن قبيصة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة شقيق بن حيان ومسعود بن قبيصة
حدیث نمبر: 23110 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، فُلَانٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُب: إِنِّي قَدْ بايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابنَ الزُّبيْرِ، وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ، قَالَ: افْتَدِ بمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ بالسَّيْفِ، فَقَالَ جُنْدُب: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَب، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟" قَالَ شُعْبةُ: وَأَحْسِبهُ قَالَ: فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ" ، قَالَ: فَقَالَ جُنْدُب: فَاتَّقِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23111 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبا عَقِيلٍ ، سَابقِ بنِ نَاجِيَةَ ، أَبي سَلَّامٍ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا عَقِيلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَابقِ بنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالُوا: هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنَا بمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بيْنَكُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبحُ: رَضِيتُ باللَّهِ رَبا، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23111]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 23112 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، أَبو عَقِيلٍ ، سَابقَ بنَ نَاجِيَةَ ، أَبي سَلَّامٍ الْبرَاءِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو عَقِيلٍ أَخْبرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ سَابقَ بنَ نَاجِيَةَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ الْبرَاءِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَقُولُ إِذَا أَصْبحَ وَإِذَا أَمْسَى: رَضِيتُ باللَّهِ رَبا، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبحَ، وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23112]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 23113 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدَ الْحَمِيدِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ برَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تَدَعُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری کھا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23114 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي مَسْعُودٍ ، حُمَيْدِ بنِ الْقَعْقَاعِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبي، وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي، وَبارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي" ، ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ، فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید بن قعقاع ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی دعاء میں یوں فرماتے تھے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما ذاتی طور پر مجھے کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما دوبارہ تاک لگا کر تحقیق کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر بھی یہی دعا کرتے ہوئے سنائی دیئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23114]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حميد، وقد اختلف فيه على شعبة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حميد، وقد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 23115 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ ، أَبي حَصْبةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ أَبي حَصْبةَ ، أَوْ ابنِ حَصْبةَ، عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُب، فَقَالَ: " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوب؟"، قَالُوا: الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ، فَقَالَ:" الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا"، قَالَ:" تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ؟"، قَالُوا: الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ، قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الَّذِي لَهُ مَالٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا الصُّرَعَةُ؟"، قال: قَالُوا: الصَّرِيعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الرَّجُلُ يَغْضَب فَيَشْتَدُّ غَضَبهُ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، وَيَقْشَعِرُّ شَعَرُهُ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے وہ بھی حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ " رقوب " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ " کامل رقوب " کا لفظ دہرا کر فرمایا کہ یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو لیکن وہ اس حال میں فوت ہوجائے کہ ان میں سے کسی کو آگے نہ بھیجے پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ " صعلوک " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس کچھ بھی مال و دولت نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " کامل صعلوک " وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو لیکن وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجاہو پھر پوچھا کہ " صرعہ " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا وہ پہلوان جو کسی کو پچھاڑ دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " کامل صرعہ " یہ ہے کہ انسان کو غصہ آئے اور اس کا غصہ شدید ہو کر چہرہ کا رنگ سرخ ہوجائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23115]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
الحكم: صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
حدیث نمبر: 23116 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سِمَاكِ بنِ حَرْب ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بنِي لَيْثٍ، قَالَ: أَسَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنتُ مَعَهُمْ، فَأَصَابوا غَنَمًا، فَانْتَهَبوهَا، فَطَبخُوهَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النُّهْبى، أَوْ النُّهْبةَ، لَا تَصْلُحُ، فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنولیث کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے قید کرلیا میں ان کے ساتھ ہی تھا کہ انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ ملا انہوں نے اس میں لوٹ مار کی اور اس کو پکانے لگے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوٹ مار تو صحیح نہیں ہے اس لئے اپنی ہانڈیاں الٹ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23116]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23117 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبةُ ، قَتَادَةَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْمِنْهَالِ ، عَمِّهِ ، حَجَّاجٌ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ أَبي الْمِنْهَالِ بنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْمِنْهَالِ ، أَوْ ابنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ . قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَبي الْمِنْهَالِ بنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْلَمَ: " صُومُوا الْيَوْمَ"، قَالُوا: إِنَّا قَدْ أَكَلْنَا، قَالَ:" صُومُوا بقِيَّةَ يَوْمِكُمْ" ، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالمنہال خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23117]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن المنهال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن المنهال
حدیث نمبر: 23118 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ ، عُمَارَةَ بنَ عُثْمَانَ بنِ حُنَيْفٍ ، الْقَيْسِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بنَ عُثْمَانَ بنِ حُنَيْفٍ ، حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ " فَبالَ، فَأَتَى بمَاءٍ، فَهَالَ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهَا مَرَّةً، وَعَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً، وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً بيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا" ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: الْتَفَّ إِصْبعُهُ الْإِبهَامُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیشاب کیا پھر پانی پیش کیا گیا جسے برتن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر بہایا اور اسے ایک مرتبہ دھویا ایک مرتبہ چہرہ دھویا ایک مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے ایک اور مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں دھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23118]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمارة بن عثمان، وهذا إسناد غير محفوظ
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمارة بن عثمان، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 23119 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، حَجَّاجَ بنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ ، أَبيهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجَ بنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ وَكَانَ إِمَامَهُمْ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبيهِ ، وَكَانَ يَحُجُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَجَّاجٌ: أُرَاهُ عَبدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23119]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج
حدیث نمبر: 23120 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عُبيْدٌ الْمُكْتِب ، أَبا عَمْرٍو الشَّيْبانِيَّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، أَخْبرَنِي عُبيْدٌ الْمُكْتِب ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا عَمْرٍو الشَّيْبانِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبةُ: أَوْ قَالَ: " أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھنا ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23121 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، الْأَزْرَقِ بنِ قَيْسٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ رَباحٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ رَباحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَاب أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْسَنَ ابنُ الْخَطَّاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی تو اس کے بعد ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ کیونکہ اس سے پہلے اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب نے عمدہ بات کہی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح