مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سِمَاكِ بنِ حَرْب ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بنِي لَيْثٍ، قَالَ: أَسَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنتُ مَعَهُمْ، فَأَصَابوا غَنَمًا، فَانْتَهَبوهَا، فَطَبخُوهَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النُّهْبى، أَوْ النُّهْبةَ، لَا تَصْلُحُ، فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنولیث کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے قید کرلیا میں ان کے ساتھ ہی تھا کہ انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ ملا انہوں نے اس میں لوٹ مار کی اور اس کو پکانے لگے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوٹ مار تو صحیح نہیں ہے اس لئے اپنی ہانڈیاں الٹ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23116]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن