بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23115
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23115
حدیث نمبر: 23115 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ ، أَبي حَصْبةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ أَبي حَصْبةَ ، أَوْ ابنِ حَصْبةَ، عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُب، فَقَالَ: " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوب؟"، قَالُوا: الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ، فَقَالَ:" الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا"، قَالَ:" تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ؟"، قَالُوا: الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ، قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الَّذِي لَهُ مَالٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا الصُّرَعَةُ؟"، قال: قَالُوا: الصَّرِيعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الرَّجُلُ يَغْضَب فَيَشْتَدُّ غَضَبهُ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، وَيَقْشَعِرُّ شَعَرُهُ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے وہ بھی حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ " رقوب " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ " کامل رقوب " کا لفظ دہرا کر فرمایا کہ یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو لیکن وہ اس حال میں فوت ہوجائے کہ ان میں سے کسی کو آگے نہ بھیجے پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ " صعلوک " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس کچھ بھی مال و دولت نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " کامل صعلوک " وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو لیکن وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجاہو پھر پوچھا کہ " صرعہ " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا وہ پہلوان جو کسی کو پچھاڑ دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " کامل صرعہ " یہ ہے کہ انسان کو غصہ آئے اور اس کا غصہ شدید ہو کر چہرہ کا رنگ سرخ ہوجائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23115]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
الحكم: صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
← پچھلی حدیث (23114) باب پر واپس اگلی حدیث (23116) →